بيوی ڈانٹتی ہے
1,155 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jul 27 2010
خواتين اسے پڑھيں تو اپنے اُوپر لينے کی بجائے اس کی ساخت پر غور کريں بالآخر يہ مذاح ہے
جس خاوند کو بيوی ڈانٹتی ہے وہ شريف مرد ہے
جو خاوند بيوی کو ڈانٹے وہ ظالم ہے
بيوی کے خاوند کو ڈانٹنے کا مطلب ہے کہ وہ خاوند سے پيار کرتی ہے
بيوی کے خاوند کو نہ ڈانٹنے کا مطلب ہے کہ خاوند بيوی سے پيار نہيں کرتا
عربی ميں مذکر کی جمع بھی مؤنث ہوتی ہے اسلئے حقوق صرف عورتوں کے ہوتے ہيں
مرد کا صرف ايک حق ہوتا ہے جو وہ نکاح کے وقت بيوی کے حوالے کر ديتا ہے

Jul 27 2010 بوقت 1:57 PM
نکاح کے وقت تو حق مہر دیا تھا۔اب تو ہر جانہ اور تاوان دے رہے ہیں۔
بعض اوقات لتروں سے بال بال بچا ہوں۔
اچھا ہوا بیوی کو اردو بلا گ پڑھنا نہیں سکھایا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شکایت کر نے ایک اور ڈانٹ پڑ جاتی
Jul 27 2010 بوقت 2:31 PM
افتخار جی کیا بات ہے اتنے عرصے کے بعد آپ کو گزری ہوئی باتیں یاد آ رہی ہیں ۔۔۔سب خیریت ہے نا ۔۔۔۔۔۔ویسے سچی باتوں بیوی کسی کی بھی ہو ہر حال میں خوش نہیں رہتی۔۔۔خدا کی بندی کبھی تو خوش ہو لیا کرو ۔ ہر موقع پر میاں بچارہ ہی مار کھاتا ہے ۔۔۔ لیکن یہ باتیں صرف اور صرف شریف میاوں کے لیے ہے ۔۔
Jul 27 2010 بوقت 3:01 PM
ياسر خواہ مخواہ پنجابی صاحب
بيگم صاحبہ کو سکھا ديا ہوتا تو شايد حالات خوشگوار ہو جاتے
Jul 27 2010 بوقت 3:07 PM
تانيہ رحمان صاحبہ
مجھ پر تو اللہ کی مہربانی ہے ۔ جھگڑتے ضرور ہيں مگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر مثال کے طور پر ميں دوپہر کو آرام کيوں نہيں کر رہا ۔ دھوپ ميں باہر گيا تو ٹوپی کيوں نہ پہنی گو مں کار پر گيا تھا وغيرہ ۔
Jul 27 2010 بوقت 6:47 PM
کیا خوب لکھا ہے
خواتین سے پنگا لینا کوئی اچھی علامت نہیں
Jul 28 2010 بوقت 8:32 AM
شازل صاحب
مسئلہ ہمارے معاشرے کا يہ ہے کہ مذاق کرنے والوں کی اکثريت مذاق پسند نہيں ہے ۔ جس معاشرے کا دم بھرا جاتا ہے وہاں اکثر لطيفے عورتوں کے متعلق ہوتے ہيں يا فوجيوں کے متعلق ۔ وہ معاشرہ فرنگی کا ہے جہاں عورت کی آزادی کا دعوٰی کيا جاتا ہے ليکن ان ميں خوبی ہے کہ وہ مذاق پسند بھی کرتے ہيں
Jul 28 2010 بوقت 12:44 PM
بہت خوب جناب نظم لکھ ماری ہے۔
لگتا ہے آپ متاثرین میںسے ہیں۔
اللہ آپ کو محفوظ رکھے۔
Jul 28 2010 بوقت 3:02 PM
منظور عباس نيازی صاحب
تشريف آوری کا شکريہ ۔ اللہ کا کرم ہے کہ ايسا ميرے گھر ميں نہيں ہوتا ۔ ہم لوگ ايک دوسرے کے فرائض اور حقوق سے واقف ہيں
Jul 28 2010 بوقت 5:05 PM
خوب
نکاح کے وقت وہ کون سا حق ہم دے دیتے ہیں؟
مجھے تو لگتا ہےمرد کے سارے ہی حق کسی نہ کسی حد تک مشکوک سے ہو جاتے ہیں
بلکہ مجھے تو یہ بھی سننا پڑتا ہے
‘جو کچھ میرا ہے وہ میرا ہے اور جو کچھ تمھارا ہے وہ بھی میرا ہے’
میں بیگم تو دکھا تو دون یہ بلاگ مگر ڈر ہے کہ وہ جو آپ نے لکھا ہے بیوی ڈاںٹتی ہے تو اس کا مطلب ہو وہ پیار کرتی ہے
یہ پڑھ کر ڈاںٹ میں’ ترقی’ نہ ہو جائے
ایک پرانا معین اختر کا سناتا چلوں
‘ایک صاحبہ میری آواز پسند کرتی تھیں–میں بولتا تھا وہ سنتی تھی-میں بولتاتھا وہ سنتی تھی
بات آگے بڑھی ہماری دوستی ہوئ–پھر وہ بولتی تھی میں سنتا تھا وہ بولتی تھی میں سنتا تھا وہ بولتی تھی میں سنتا تھا
بات اور آگے بڑھی- ہم دونوں کی شادی ہو گئ
اب ہم دونوں بولتے ہیں محلے والے سنتے ہیں’
Jul 28 2010 بوقت 5:20 PM
بھائی وھاج الدين احمد صحب
نکاح کے وقت اپنی مرضی کر
نے کا حق ختم ہو جاتا ہے
Jul 28 2010 بوقت 7:51 PM
محترم چچا جان۔ آپ ایک چیز بھول گئے۔
جس خاوند کو بیوی کہتی ہے کہ “تم میرے ہو” تو اس سے مراد صرف سر سے پیر تک نہیں بلکہ بنک بیلنس جائیداد اثاثہ جات سب کے ساتھ ۔۔۔
وغیرہ
Jul 29 2010 بوقت 10:17 AM
حيدرآبادی صاحب
ميرے اتنے اثاثے ہی نہيں اسلئے اس طرف خيال نہيں گيا ۔ اللہ کی کرم نوازی ہے کہ ميری بيوی اور بچے يعنی بيٹے بہويں اور بيٹی سب روپے پيسے کے لالچ سے آزاد ہيں ۔ يہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کيلئے ميں جتنا بھی اللہ کا شکر ادا کروں کم ہے
Jul 29 2010 بوقت 5:19 PM
تحریر سے ثابت ہوا کہ میں انتہائی شریف آدمی ہوں اور میری زوجہ مجھے انتہائی پیار کرتی ہیں ۔

مگر میں بلا کا ظالم بھی ہوں
وسلام
Jul 29 2010 بوقت 7:44 PM
طالوت صاحب
يہ سب کچھ اکٹھا ؟
Jul 30 2010 بوقت 2:58 PM
جی ہاں ۔ ہم میاں بیوی ادھار کے قائل نہیں ۔ البتہ میں بلا کا ظالم اسلئے کہ میری زوجہ شوہر کے مجازی خدا ہونے پر کسی قدر ایمان رکھتی ہیں مگر میرا ایسا کوئی ایمان نہیں
وسلام
Aug 01 2010 بوقت 7:25 PM
انکل آپکو بھی؟

میںسمجھا یہ صرف ہماری نسل کا مسئلہ ہے۔
Aug 02 2010 بوقت 7:49 AM
فيصل صاحب
اللہ کا کرم ہے کہ ميری بيوی اسلامی شريعت کی پابند ہے ليکن گھر ميں حکومت اُسی کی چلتی ہے
Aug 02 2010 بوقت 11:20 AM
اللہ خیر کرے
اور ایسی نوبت سے بچائے
پیار محبت اور تو تو میں میں سے آگے بات نا بڑھے
گھر جنت ہونا چاہیئے جہاں انسان آکر سکون سے رہ سکے
میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی ضروریات سمجھنے سے ایسے حالات کی نوبت نہیں آپاتی
Aug 02 2010 بوقت 11:48 AM
محم طارق راحيل صاحب
آپ نےبالکل درست کہا ۔ ميرا اور بيوی کا جھگڑا تو ہوتا ہی رہتا ہے ۔ بيوی کو مجھ سے شکائت رہتی ہے کہ ميں آرام نہيں کرتا ۔ بيمار ہوں تو بتاتا نہيں ۔ مجھے بيوی سےشکائت ہوتی ہے کہ وہ کم کھاتی ہے اور صحت کا خيال نہں رکھتی اور ان کی بناء پر جھگڑا ہوتا ہے