جمہوری شہنشاہ

ماہ جون 1975ء کی دوپہر میرے علیگ ساتھی ابصار صدیقی سپرنٹنڈنگ انجینئر اسلام آباد دفتر سے گھر جارہے تھے راستے میں ان کی نظر معروف سیاسی لیڈر جناب غوث بخش بزنجو پر پڑی جو چلچلاتی دھوپ میں سڑک پر پیدل چلے جارہے تھے ابصارصدیقی نے اخلاقاً کار روک کر بزرگ رہنما سے کہا “سر ۔ میں آپ کو چھوڑ دوں؟” بزنجو صاحب شکریہ ادا کرکے گاڑی میں بیٹھ گئے ابصار صدیقی انہیں منزل پر پہنچا کر اپنے گھر چلے گئے ۔ اس سے پہلے نہ وہ کبھی بزنجو صاحب سے ملے نہ ان کے سیاسی معاملات سے کوئی واسطہ تھا ۔ اگلے روز دفتر پہنچے تو معطلی کا پروانہ میز پر رکھا تھا ۔ الزام یہ تھا کہ ” آپ رياست مخالف کاروائی [Anti State Activities] میں ملوث پائے گئے ہیں”۔ ابصار صدیقی کے پیرو ں تلے کی زمین نکل گئی نیکی برباد گناہ لازم ۔ ابصار صدیقی کے پاس جو ہمارے بھی ہمدم دیرینہ تھے چیف انجینئر محمدغیاث الدین صدیقی خود کراچی سے اسلام آباد گئے اور ابصار صدیقی کو سرکار کے عتاب سے بچا لائے

کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ خود انجنيئر غیاث الدین صدیقی [تمغہ پاکستان ۔ ستارہ پاکستان] بھی سلطان [ذوالفقار علی بھٹو] کے عتاب کا شکارہوگئے ۔ بقول شیخ سعدی ”خلاف رائے سلطاں رائے جستن بخون خویش باید دست شستن“ [سلطان کی رائے کے خلاف رائے رکھنا اپنے خون سے ہاتھ دھونا ہے]۔ غیاث الدین صدیقی ایک نہایت دیانتدار قابل انجینئر پورا کیریئر بے داغ بلکہ درخشاں سلطان کی جنبش قلم نے سب پر پانی پھیر دیا ۔ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے ساتھ پاسپورٹ کی ضبطی سلطان کے غیظ و غضب کی نشاندہی کرتی تھی ۔ ان ہی دنوں لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کو ایک قابل انجینئر کی ضرورت پڑی کسی نے معتوب صدیقی کا پتہ دیا ۔ خود چل کر پاکستان آیا پرائم منسٹر ذوالفقارعلی بھٹو سے ملا پاسپورٹ حاصل کیا اپنے ساتھ لیبیا لے گیا عزت عہدہ مرتبہ عطا کیا۔ سردار عبدالرب نشتر کا یہ شعرغیاث الدین صدیقی پر صادق آتاہے
بس اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
کہ ہم سے قافلے منزل پے لٹوائے نہیں جاتے

سردار عبدالرب نشتر نے یہ شعر کب اور کیوں کہا تھا ؟ ایک غمناک کہانی ہے ۔ گورنر جنرل غلام محمد نے جب خواجہ ناظم الدین جیسے شریف النفس یکے از رفیق قائداعظم پرائم منسٹر کو برخاست کرديا تو سردار عبدالرب نشتر نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے چند روز پہلے بجٹ منظور ہوا ہے ۔ خواجہ صاحب کی برخاستگی ناجائز غیرآئینی فعل ہے ۔ غلام محمد نے طیش میں آکر کابینہ ہی کو توڑ دیا ۔ جس میں سردار عبدالرب نشتر وزیرمواصلات تھے ۔ لیاقت علی خاں کی شہادت میں اپنائے وطن کی جس ہوس کا دخل تھا اور جو مستقبل کے سیاسی انتشار کی نشاندہی کرتا تھا اسی نے سردار عبدالرب نشتر جیسے پاکباز انسان کو بری طرح متاثر کیا۔ سردار عبدالرب نشتر انتہائی راسخ العقیدہ صوم و صلوٰة کے پابند انسان تھے۔ قائداعظم ، مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کی سرپرستی میں تربیت حاصل کئے تھے۔ اپنے سالار قائداعظم سے عقیدت مرشد کے مانند رکھتے تھے۔ شرافت نیک نفسی اور وضعداری کا مجسمہ تھے

تحریر ۔ سعيد صديقی

This entry was posted in تاریخ, سیاست on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “جمہوری شہنشاہ

  1. وھاج احمد

    سعید صدیقی صاحب نے کیا یاد دلادیا۔ نشتر کا معلوم تھا کہ شعر لکھتے ھیں لیکن شعر نھیں سنا تھا واقعی وہ ان پاکباز پہلے پاکستانی لیڈروں میں سے تھے اللہ انھیں غریق رحمت کرے
    بھائ اجمل صاحب در آسل بلاگ کے اوپر آپکا نام بطور مصنف درج ھوتا ھے اس لیئے لوگ دھوکا کھا جاتے ھیں مگرآپ کے پچھلے بلاگ–راجہ داہر والے– پر جو تبصرے پڑھے مجھے بھت تکلیف ہوئ
    سعید صاحب کی تحریر مین چوںکہ انجینءرون کا ذکر تھا اس لیئے یہی محسوس ھو رھا تھا کہ آپ کی لکھائ ھے لیکن جب آخر میں وہ کھتے ھیں “۔۔۔۔۔۔تربیت حاصل کیئے ھیں’ تو میں فورا” سمجھ گیا آپ نھیں لکھ رھے مجھے یہ “حیدرابادی سٹائل” اچھا لگتا ھے خدا کے لیئے کوئ یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ میں حیدرابادی اردو پہ تنقید کررھا ھوں

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھاج الدين احمد صاحب
    اصل مسئلہ يہ ہے کہ لوگ نظريہ پہلے بناتے ہيں اور تحرير بعد ميں پڑھتے ہيں ۔ ميں نے شروع ہی ميں دو سطری پيش لفظ ميں لکھا ہوا ہے “ميں اس کے متعلق ايک تاريخ دان کی تحرير نقل کرنے ہی والا تھا “۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)