اگر يہ حقيقت ہے ۔ ۔ ۔

بينظير بھٹو نے 24 ستمبر 1990ء کو ايک خط امريکی سنيٹر پیٹر گلبرائتھ کو بھيجا تھا جس کا اُردو ترجمہ اور عکس پيشِ خدمت ہے

عزیز پیٹر گلبرائتھ

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کے اُن احسانات کا کس طرح شکریہ ادا کروں جو آپ نے مجھ پر اور میرے خاندان پر کرے ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ میری حکومت کی برطرفی کے احکامات جی ایچ کیو میں لکھے گئے اور میرے لئے فوج سے ٹکر لینا ممکن نہیں تھا تو وہ میری حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو گئے

میں پہلے ہی کانگریس میں موجود دوستوں بالخصوص اسٹیفن سولاران سے درخواست کر چکی ہوں کہ وہ صدر بش کہ ذریعے صدر اسحاق اور پاکستانی فوج پر بھرپور دباؤ ڈلوائیں کہ وہ لوگ مجھے نا اہل قرار نہ دیں کیونکہ یہ بہت ناانصافی ہو گی بلکہ جمہوری اُصولوں کی بھی منافی ہو گا جن کے لئۓ ہم نے بہت جدوجہد کری ہے

جب تک میں حکومت میں تھی تو میں نے نیوکلیَر ہھتیاروں پر کڑی نظر رکھی پر اب مجھے اس حکومت کے ارادوں کا اندازہ نہیں

یہ بہت بہتر ہو گا کہ پاکستان کو دی جانے والی دفاعی اور معاشی امداد روک دی جائے اور تمام عالمی ادارے جیسے ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف کو ہدایت دی جائے کہ پاکستانی حکومت کو ہر طرف سے ڈرایا جائے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کو دی جانے والی تمام امداد روک دی جائے تاکہ عام پاکستانی کی زندگی مکمل طور پر رُک جائے

ایف ۔ 16 طیاروں اور اُن کے فاضل پرزہ جات کی رسد کی روک تھام بھی فوج کی عقل ٹھکانے لے آئے گی

عزیز پیٹر بھارتی وزیرِ اعظم پر بھی اپنا اثر استعمال کر کے پاکستانی فوج کو سرحد پر پھنسانے کی کوشش کریں تاکہ فوج میرے راستے میں رکاوٹ نہ ڈال سکے ۔ کاش راجیو گاندھی بھارت کے وزیرِاعظم ہوتے تو بہت سے کام آسان ہو جاتے

شکريہ ۔ پُرشوق تسليمات کے ساتھ

آپ کی مخلص

بے نظیر بھٹو

This entry was posted in سیاست, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

22 thoughts on “اگر يہ حقيقت ہے ۔ ۔ ۔

  1. ریحان

    یوتھ میٹنگ میں اس خظ کو لیکر بات ہوی تھی

    اس خط کے شچے یا جھوٹے پونے کا پتا نہیں ۔۔ مگر اتنا پتا سچ ہے یہ پاکستانی موجودہ پولیٹکس کچھ ایسی ہی ہے

  2. جاویداقبال

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    آپ نےتوسچ کوسرعام کردیاہے۔ اب آپ کی خیرنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :lol: لیکن ہمارےلوگوں پرافسوس ہےکہ اتناکچھ ہونےکےبعدبھی وہ ابھی بھی خواب غفلت سےنہیں اٹھےپتہ نہیں پاکستانی غیورقوم کب اٹھےگی اوران اونچےایوانوں میں تہلکا مچائے گی اورکب وہ دورآئےگاکہ تمام غداروں کوسرعام سزائيں دی جائیں گی۔ انشاء اللہ وہ دورضرورآئےگا۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  3. فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    اس تھريڈ ميں بينظیر بھٹو کے حوالے سے جو خط شائع کيا گيا ہے، يہ پہلے بھی کئ بار منظر عام پر آ چکا ہے۔ قريب ڈھائ برس قبل امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ترجمان کی حيثيت سے ميں نے مختلف فورمز پر امريکی حکومت کا موقف اس خط کے حوالے سے واضح کيا تھا۔ يہ خط محض ايک پراپيگينڈہ ہے اور اس کا حقيقت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ بدقسمتی سے سياستدان ايک دوسرے کے خلاف اس طرح کا بےبنياد اور منفی پراپيگينڈا کرتے رہتے ہيں جس کا مقصد محض ووٹرز کو دھوکا دينا ہوتا ہے۔

    جہاں تک مزکورہ خط کا تعلق ہے تو اس حوالے سے پيٹر گيلبريتھ خود اس خط کی ترديد کر چکے ہيں۔ يہ خط جب آج سے کئ برس قبل منظرعام پر آيا تھا تو اسی وقت اس کی ترديد کر دی گئی تھی۔

    اگر آپ اس خط کو غور سے پڑھيں تو اس ميں ايسی بہت سی غلطياں نظر آئيں گی جس سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ يہ خط محض ايک پراپيگينڈہ ہے۔

    سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ جن صاحب کے نام يہ خط لکھا گيا ہے ان کے نام کے حروف تہجہی غلط ہيں۔ کيا ايک سابق وزير اعظم جو کے خط کے متن کے حساب سے پيٹر گيلبريتھ کو اچھی طرح سے جانتی ہيں ان کے نام کے غلط حروف تہجی استعمال کريں گی؟ اس کے علاوہ خط میں مخاطب کے ليے غير متوازن انداز گفتگو اور غير سرکاری انداز بيان سے اس تاثر کی نفی ہوتی ہے کہ بے نظير بھٹو اپنے انتہائ قريبی دوست سے سياسی مدد اور حمايت کے لیے ذاتی حيثيت میں درخواست کر رہی تھيں۔

    اس کے علاوہ 1990 ميں پيٹر گيلبريتھ سينيٹ کی خارجہ پاليسی کميٹی کے رکن تھے نہ کے امريکی سينيٹر۔ بلکہ وہ کسی بھی موقع پر امريکی سينيٹر نہيں رہے۔ اور نہ ہی اين – ڈی – آئ کے رکن تھے جيسا کے خط کے متن سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ اس خط ميں اسٹيفن سولارز کے حروف تہجی بھی غلط ہيں جو کہ اس وقت کانگريس کے ايک نامور رکن تھے۔ کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ اس خط ميں دو اشخاض کے حروف تہجی غلط ہونا محض اتفاق ہے؟ اس کے علاوہ يہ بات بھی غور طلب ہے کہ کيا سينيٹ کی خارجہ پاليسی کميٹی کے رکن کی حيثيت سے پيٹر گيلبريتھ اتنا اثر و رسوخ رکھتے تھے کہ بھارتی حکومت کو اپنی فوج سرحدوں پر بيجھنے کے ليے دباؤ ڈال سکيں۔

    اس خط کی وضاحت کے بعد يہ بات غور طلب ہے کہ وہ کون سے عناصر ہيں جو اس قسم کے منفی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہيں؟ کيا يہ عوام کے خير خواہ ہو سکتے ہيں؟

    يہ بات واضع رہے کہ بہت سی ويب سائٹس، بلاگز اور فورمز پر يہ پراپيگينڈہ معمول کی بات ہے کہ امريکی حکومت پاکستان کے سياسی معاملات پر اثرانداز ہوتی رہتی ہے اور اسی حوالے سے يہ خط شائع کر کے يہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کچھ سياسی ليڈر پاکستان ميں “امريکی ايجنٹ” ہيں يا رہے ہیں۔

    اس حوالے سے امريکی حکومت کی پاليسی بالکل واضح ہے کہ پاکستان کے سياسی مستقبل کا فيصلہ پاکستان کے عوام کے ہاتھ ميں ہے۔ اگر آپ پاکستان کی سیاسی تاريخ پر نظر ڈاليں تو يہ واضح ہے کہ امريکی حکومت کبھی بھی پاکستان کے انتخابآت پر اثر انداز نہيں ہوئ۔ پچھلے 20 سالوں ميں ہونے والے 5 اليکشنز ميں ہر جماعت اور ہر سوچ رکھنے والی قيادت حکومت ميں آئ ہے اس ليے يہ الزام لگانا کہ پاکستان ميں اليکشن امريکی حکومت کے ذير اثر ہوتے ہيں سراسر غلط ہے۔ پاکستان کے عوام اپنی سياسی تقدير کے حوالے سے خودمختار ہيں اور اس طرح کے جعلی ھتکنڈوں سے انہيں بےوقوف نہيں بنايا جا سکتا۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فواد صاحب
    ميں نے متذکرہ خط کو درست قرار نہيں ديا ۔ آپ نے ملازم ہونے کی حيثيت سے اپنا فرض ادا کر ديا ہے ۔ يہاں تشريف لانے کا شکريہ ۔ آپ نےجو دعوے کئے ہيں ضروری نہيں کہ وہ درست ہوں ۔ کوئی حکومت اپنی غلط کاروائيوں کا بر سرِعام اقرار نہيں کرتی

  5. وھاج الدین احمد

    فواد صاحب کے تبصرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات ٹھیک لکھ رھے ہیں لیکن آخری پیراگراف “اس حوالے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” میں ان کی باتوں میں شک محسوس ہونے لگتا ہے جیسے وہ امریکی گورنمنٹ کے ایجینٹ ہیں
    خط واقعی بھت عجیب ہے
    ٹاءپ کیا ہوا اور ہاتھ سے لکھا ہوا حصہ سمجھ نہیں آتا پھر اوپر کے کونے میں اور بینظیر کے دستخطوں مین غلطی ہے
    مسز بینطیر بھٹو انگریزی حساب سے غلط ہے مسز بینظیر ذرداری درست ہوگا یا صرف- بینظیر بھٹو
    پھر نیچے تاریخ امریکی طریقے سے لکھی ہے حالاںکہ خط کا کاغذ واشنگٹن کا پتہ دے رہا ہے اور خط کے مخاطب امریکی صاحب ہیں لکھنے والے کو
    9۔24۔90 لکھنا چاہیے تھا نہ کہ 24۔9۔90
    مگر اب میں بینظیر کے متعلق کیا لکھ سکتا ہون سواءے اس کے کہ دعا کروں کہ اللہ تعالےا اس کے گناہوں کو بخش دیں اور مغفرت عطا فرمائیں
    ریحان صحب سے اتفاق ھے “پاکستانی پولٹکس کچھ ایسی ہی ہے”

  6. راشد کامران

    اجمل صاحب اگر‌آپ کو بھی اس خط کی درستگی کے بارے میں شک و شبہات ہیں بلکہ آپ اسے درست قرار نہیں دے رہے تو پھر اس کو شائع کرنے کی کیا وجہ ہے؟

  7. وھاج احمد

    مجھے غلطی لگی
    خط واشنگٹن کی طرف بلاول ھاءوس سے لکھا گیا اور اس طرح تاریخ درست ہوگی
    خیر باقی باتیں وہی ہیں

  8. یاسر خوامخواہ جاپانی

    اجمل صاحب یہ خط کئی سال پہلے فراڈ قرار دیا جا چکا تھا۔فواد صاحب امریکی ایجنٹ نہیں امریکی سرکار کے تنخواہ دار ہیں۔شاید امریکی بھی ہیں۔مجھے تو انکی تحریر میں کوئی فراڈ یا پروپاگنڈا نظر نہیں آیاْ :roll:

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    آپ کو يہ سوال کرنے کی بجائے ميری کوشش کو سراہنا چاہيئے تھا کہ ميں نے کتنے لطيف طريقہ سے ثابت کر ديا ہے کہ ہر ويب سائٹ بشمول بلاگز امريکی اہلکار پڑھتے ہيں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کو منظور ہوا تو کسی دن يہ بھی ثابت کروں گا کہ تمام ای ميلز بھی امريکی اہلکار پڑھتے ہيں ۔ شايد اسی لئے ميرے کچھ ہموطن اپنی تحارير اور دوسرے بلاگز کے تبصروں ميں امريکی مؤقف کا خيال رکھتے ہيں
    اس کے علاوہ ويزہ کيلئے درخواست دينے کے صرف 6 دن بعد زيادہ سے زيادہ لوگوں کو انٹرويو کيلئے بلا کر صرف 5 سے 10 فيصد کو ويزہ ديا جاتا ہے باقی لوگوں سے 15400 روپيہ فی کس لے کر اُن کی 10 انگليوں کے نشان حاصل کئے جاتے ہيں ۔ روزانہ پانچ چھ سو افراد کا انترويو ليا جاتا ہے ۔ اس طرح امريکی سفارت خانہ کو روزانہ 77 لاکھ سے 92 لاکھ روپيہ صرف پاکستان ميں ويزہ فيس سے آمدن ہوتی ہے ۔ اور ميرے ہموطن امريکہ کے گُن گاتے ہيں

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھاج الدين احمد و یاسر خوامخواہ جاپانی صاحبان
    اگر ميری تمام تحارير کا سرسری جائزہ ليا جائے تو ميری متذکرہ تحرير کچھ عجيب سی لگے گی يا دوسرے الفاظ ميں ميرے عمل اور گفتار ميں تفاوت کا اشارہ دے گی ۔ ميری اس تحرير کا ايک مقصد تھا جو ميں نے راشد کامران صاحب کے تبصرہ کے جواب ميں نمبر 9 پر لکھ ديا ہے

  11. پھپھے کٹنی

    اچھا تو امريکی ميرا بلاگ بھی پڑھتے ہوں گے ميں کيا تجربہ کروں کہ مجھے پتہ چلے؟ آپکا تجربہ کيا دستا ہے اس بارے ميں

  12. پھپھے کٹنی

    يہ تو شکر ہے فواد صاحب نام سے پاکستانی معلوم ہوتے ہيں ورنہ سوچتی ہوں خالص امريکی جعفر کا بلاگ پڑھ ليں تو کيا ہو

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اسماء بتول صاحبہ
    نام سے نہيں مطلب ہوتا ہے کام سے ۔ ويسے کوئی عجب نہيں کہ فواد نے ہيلو ہائے اے او اے والا کام کيا ہو ليکن يہ حقيقت ہے کہ تمام ويب سائٹس بشمول بلاگز اور جتنی ای ميلز لکھی جاتی ہيں سب امريکی اہلکار يا اُن کے ايجنٹ پڑھتے ہيں ۔ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہيں ہے اور نہ جعفر صاحب کو کيونکہ آپ لوگ صرف مزاح لکھتے ہيں ۔ ويسے بھی اللہ پر بھروسہ سب سے بڑا حصار ہے

  14. فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

    ميں يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کے ليے کام کرتا ہوں۔ ميں نے اس سے کبھی انکار نہيں کيا بلکہ اپنی پوسٹ کے شروع ميں اپنی وابستگی واضح کی ہے۔ ميرا مقصد آپ کو اندھا دھند امريکہ کی حمايت کے ليے آمادہ کرنا نہيں ہے بلکہ انٹرنيٹ پر موجود قياس آرائيوں اور افواہوں سے ہٹ کرمختلف موضوعات پر امريکی حکومت کا موقف آپ تک پہنچانا ہے۔ ميں آپ سے کبھی بھی امريکہ کی تعريف کرنے کو نہيں کہوں گا ليکن انصاف کا تقاضا يہی ہے کہ کسی بھی ايشو پر اپنی راۓ قائم کرنے سے پہلے ہر نقطہ نظر کے حوالے سے دلائل اور ثبوت ديکھيں۔ يہی ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے قيام کا مقصد ہے۔

    انٹرنيٹ پر ميری موجودگی کے دو مقاصد ہيں۔ يہ درست ہے کہ ميں مختلف ايشوز کے حوالے سے امريکی حکومت کا نقطہ نظر اور درست پاليسی بيان کرتا ہوں ليکن اس کے ساتھ ميں مختلف موضوعات پر عام پاکستانيوں کے جذبات، ان کی راۓ اور تحفظات بھی جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے منسلک امريکی اہلکاروں سے اپنی ملاقاتوں ميں آپ لوگوں کے جذبات اور آراء سے سب کو آگاہ کرتا ہوں۔

    مختلف پاکستانی فورمز پر آراء کے تبادلے سے مجھے فورمز کے ممبران کے خيالات اور عمومی تاثر سے بھی آگاہی حاصل ہوتی ہے جو ميں اپنی ہفتہ وار رپورٹس، ميٹنگز اور مختلف تھنک ٹينکس کے سيمينار اور کانفرنسز ميں اجاگر کرتا رہتا ہوں۔

    اس ميں کوئ شک نہيں کہ ماضی ميں امريکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے مابين تعلقات مختلف مواقعوں پر ناہموار رہے ہيں۔ اس بات کا اظہار تو خود صدر اوبامہ نے بھی اپنی تقرير ميں کيا تھا۔

    “ماضی میں ہم نے اکثر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک تنگ زاویے سے دیکھا ہے ۔ وہ دِن ختم ہو چکے ہیں۔ آگے کی طرف بڑھتے ہوئے، ہم نے پاکستان کے ساتھ ایسی شراکت داری کا عہد کیا ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے کے مفاد، باہم احترام اور باہم اعتماد پر قائم ہے”۔

    موجودہ امريکی انتظاميہ کی جانب سے عوام کی سطح پر رابطے ميں وسعت کی اہميت اور ضرورت کے حوالے سے جس ارادے اور عزم کا اظہار کيا گيا ہے اس کی بہترين مثال سيکرٹری کلنٹن کا حاليہ دورہ پاکستان تھا۔ امريکہ کا سخت ترين نقاد بھی يہ تسليم کرے گا کہ پاکستان کی عوام سے رابطے کے ضمن ميں ان کی کاوشوں کی مثال ماضی ميں نہيں ملتی۔ انھوں نے ٹی وی چينلز کو براہراست انٹرويو بھی ديے۔ انھوں نے ٹی وی اينکرز، نيوز ميکرز اور تجزيہ نگاروں کے ساتھ بے تکلف گفتگو بھی کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے ٹاؤن ہال ميٹنگز ميں بھی شرکت کی اور تمام تر سيکورٹی خطرات اور اطلاعات کے باوجود طالب علموں کے اجتماعات سے بھی خطاب کيا۔

    ان تمام تر اقدامات کا مقصد دونوں ممالک کے مابين رابطے کے فقدان کو کم کرنا تھا تاکہ طويل المدت تعلقات کی بنياد رکھی جا سکے۔ ماضی ميں رابطوں اور درست معلومات بروقت ميسر نہ ہونے سے جو خلا پيدا ہوتا رہا ہے اس کو اکثر اوقات ڈس انفارميشن، شکوک وشبہات، خدشات اور بے بنياد سازشی کہانيوں کے ذريعے پر کيا جاتا رہا ہے۔

    امريکہ کی موجودہ حکومت نے پاکستان کی عوام تک رسائ کی اہميت کو تسليم کيا ہے۔ اس ضمن ميں کاوشوں کی تکميل کے لیے 32 ملين ڈالرز کی رقم مختص کی گئ ہے جس کا مقصد پاکستان ميں امريکہ اور اس کی پاليسيوں کی وضاحت کرنا ہے۔ اس منصوبے ميں بات چيت کے فروغ اور تعليم کے بہتر مواقع فراہم کرنا شامل ہے جس کے نتيجے ميں امريکہ اور پاکستان کے عوام کو درپيش مشترکہ چيلنجز کے حوالے سے ايک صحت مند بحث ممکن ہو سکے گي۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov

  15. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عمر صاحب
    بينظير بھٹو کا خط ميرے نام 1990ء ميں آيا تھا ۔ اُس وقت ميں سرکاری ملازم تھا ليکن اس ميں تحرير غيرقانونی حُکم پر عمل نہيں کيا تھا ۔ اب تو ميں آزاد ہوں ۔ آنے ديں جس کا خط آتا ہے

  16. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اسماء بتول صاحبہ
    آپ بينظير والے خط کا کہہ رہی ہيں تو ميں اُن دنوں جنرل منيجر ايم آئی ايس تھا ۔ اُس خط کا جواب ميں نے لکھا تھا کہ قوانين کے مطابق ميں ان دو حضرات کو بتائی گئی اساميوں پر بھرتی کرنے سے قاصر ہوں ۔ اس جواب کے ساتھ وہ خط دفتر کی فائل ميں لگا ديا تھا ۔ معلوم نہ تھا کہ حالات اتنے بگڑ جائيں گے ورنہ فوٹو کاپی اپنے پاس رکھ ليتا

  17. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ کے رکن فواد صاحب! کی خدمت میں چند گزارشات۔

    فواد صاحب!

    آۓ ہے بے کسئ عشق پہ رونا غالب
    کس کے گھر جاۓ گا سیلابِ بلا میرے بعد

    اگر بات حقیقت ہے جیسے آپ نے بیان کی ہے کہ آپ یو ایس اے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ملازم ہیں-اور ہفتہ وارانہ میٹنگز میں کسی نہ کسی لیول پہ آپ اپنی گزارشات و تجاویز سے امریکی حکومت اور سیاستدانوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں تو اس ضمن میں ایک گزارش ہے کہ ایک عام پاکستانی ہونے کے ناطے امریکہ سے ہمارے تحفظات تو بہت سے ہیں مگر چند ایک بہت اہم ہیں۔ اور امید ہے کہ آپ بھی ان پہ ہمدردانہ غور فکر کرتے ہوئے ان سے امریکی حکومت اور سیاستدانوں کو آگاہ کرتے ہوئے ان سے پاکستان کے لئیے جائز طور پہ منصفانہ اور ہمدردانہ اور بہتر رویے کی کوشش کریں گے۔

    آپ ان الفاظ میں رقم طراز ہیں۔ “۔۔۔۔ماضی میں ہم نے اکثر پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک تنگ زاویے سے دیکھا ہے ۔ وہ دِن ختم ہو چکے ہیں۔ آگے کی طرف بڑھتے ہوئے، ہم نے پاکستان کے ساتھ ایسی شراکت داری کا عہد کیا ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے کے مفاد، باہم احترام اور باہم اعتماد پر قائم ہے”۔۔۔ اور کم و بیش کچھ ایسے الفاظ میں موجودہ امریکہ حکومت کے کچھ دوسرے عہدیدران بھی ایسے بیان دے چکے ہیں۔یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے اور مسئلہ یہ ہے انیس سو سنتالئیس میں پاکستان کے وجود میں آنے سے لیکر آج تک پاکستان کی حکومتوں اور اداروں پہ امریکہ کی گہری چھاپ رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ امریکہ کے لئیے پاکستان کی اسقدر قربانیوں کے صلے میں امریکہ پاکستان کی ہر قسم کی مدد کرتا اور اسے خود کفالت کی راہ پہ گامزن کرنے کے لئیے ہر ممکنہ سہولت مہیاء کرتا۔ جبکہ چند سال پہلے تک امریکن وزیر خارجہ نے سینٹ کے سامنے انتہائی ھتک آمیز انداز میں اعلانیہ اور بر ملا پاکستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسی بیان کے بارے فرما چکی ہیں کہ پاکستان کو (خرگوش کی طرح) کبھی کھانے کے لئیے گاجر کا لاچ دیا جائے گا (اور سرکشی کرنے پہ) اسے چھڑی سے چھڑی سے ٹھکائی کی جائے گی۔” پاکستان لاکھ غریب سہی مگر وہ دنیا کے چند ایک بڑے ممالک کی ہر تعریف پہ پورا اترتا ہے اور جوہر طاقت ہے۔ جب امریکہ کی پالیسیز پاکستان کے بارے میں، امریکہ کے مفادات پہ مبنی اور اسقدر توہین آمیز ہونگے اور یہ تسلسل پچھلے باسٹھ سال سے پاکستان کے بارے میں متوار جاری و ساری رکھا جائے تو پاکستان ہی کیا کسی بھی ملک عوام اپنے ملک کے مستقبل اور سلامتی کے بارے خصوصی طور پہ حساس ہوجاتے ہیں۔ تو ایسے میں امریکہ کے بارے میں پاکستان کے عوام کی اکثریت کے جذبات کو سمجھنے والے کے لئیے عالمی امور میں پہ عبور رکھنا ضروری نہیں۔ یہ جذبات کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ امریکہ کے لئیے اسقدر پاکستان کی اسقدر فرمانبرداری اور قربانیوں کے صلے میں پاکستان کی مدد کی جاتی یا کم از کم پاکستان کی خود کفالت کی کوششوں میں امریکہ صلے کے طور پہ اس کی مدد کرتااور پاکستان اپنے عوام کے لئیے روز مرہ کی بنیاد پہ اٹھنے والے مسائل کو حال کرنے کے لئیے اپنی توانائیاں خرچ کرتااور کچھ نہیں تو کم از کم پچھلے باسٹھ سالوں سے امریکہ پاکستان کی ان کوششوں کو سبوتاژ نہ کرتا۔ یہ حقیقت ہے اور آپ بھی اوپر اعتراف کر چکے ہیں۔ امریکی حکومت کے ذمہ دار عہدیدار بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں امریکہ کے وسیع تر مفاد کے لئیے پاکستان کی سیاسی ، جانی، مالی قربانیوں کا صلہ دینے کی بجائے پاکستان اور پاکستان کی حکومتوں کو امریکہ کے مفاد کے خلاف پالیسیز پہ منشیات کے پھیلاؤ۔ چائلڈ لیبر، ایٹمی پھیلاؤ، دہشت گردی اور پتہ نہیں کون کون سے “پھیلاؤ” کے نام پہ پہلے سے بنے بنائے سانچوں سے کس کر پاکستان کے جمہور اور عوام کے خواہشات کے بر عکس ریاست پاکستان میں متواتر باسٹھ سال بیگار میں مشقت لی گئی۔ بدلے میں پاکستان کے حصے میں کیا آیا۔؟ غربت۔ افلاس۔ مایوسی۔ احساس محرومی جہالت۔ جبر۔ آمریت۔ بے روزگاری۔ بے حمیتی۔ عالمی تنہائی۔ جنگ۔ ھتک آمیز رویہ۔ اندھی کرپشن۔ ملک و قوم کو لوٹنے والے حکمران اور انکے خاندانوں کی بے جا حمایت۔پاکستان کے عوام نہ صرف حساس ہیں بلکہ وہ سوچتے ہیں کہ پاکستان اور عوام کو بدلے میں کیا ملا۔؟ اور یہ وہ نکتہ ہے جہاں پہنچ کر عام عوام میں امریکہ کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوتا ہے۔ آپ اس ردعمل کو غیر حقیقی یا غیر فطری۔ امریکہ مخالف پروپگنڈہ۔ یا کوئی وجہ بیان کر سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے ہر نئے دن کے ساتھ پہلے کی نسبت زیادہ پاکستان کے عوام میں یہ سوچ راسخ ہوتی چلی گئی ہے اور متواتر ہورہی ہے کہ انکے بیشتر مسائل کی وجہ امریکہ کی “نظر نوازی” ہے۔ معاشرتی مسائل پہ نظر رکھنے والے کسی بھی ماہر کو اس سے اختلاف نہیں۔

    پاکستان کے شمال میں نسبتاََ ایک چھوٹے سے دریا “ہنزہ” پہ اس سال جنوری کے شروع میں پہاڑ کے کچھ حصے کےگرنے سے بننے والی حادثاتی جھیل کی وجہ سے پانی کے نکاس کے رکنے سے دریا کی پشت پہ پانی کا بے بہا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے۔ دریائے ھنزہ پہ بنے قدرتی اور حادثاتی بند پہ پانی کے نکاس اور جھیل کو خالی کروانے اور دریائے ھنزہ کو سابقہ حالت پہ لانے کے لئیے ایک طرح کا اسپل وے یا “چوبچہ” بنایاگیا ہے۔ آبادیوں کو خالی کروانے ، ہر ممکن انسانی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود عوام اور حکومت کے متعلقہ اداروں کی نییندیں حرام ہیں کہ پتہ نہیں ۔۔کس کےگھر جائےگا سیلابِ بلا میرے بعد۔۔ آپ اس کو پاکستان کے پس منظر میں دیکھیں کہ پاکستان کے عوام یہ سوچتے ہیں کہ روز مرہ کے مسائل کو جائز طور پہ حل ہونے کو۔ انکی جائز خواہشات کو ۔ اور دنیا کی ایک بڑی ریاست کے شہری ہوتے ہوئے ۔ اور ملک میں ہر قسم کے وسائل دستیاب ہونے کے باوجود امریکہ نے پچھلے باسٹھ سالوں سے انکے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے جائز بہاؤ پہ حیلے بہانے سے بند باندھے ہیں۔عوام کو دور دور تک جبر کے اس بند پہ کوئی ایسا “اسپل وے” نظر نہیں آتا جہاں سے خواہشات اور جذبات کا رساؤ ممکن ہو۔

    مایوسی کی انتہائی صورت میں اٹھارہ کروڑ عوام کا غصہ اور جزبات کیا شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اسے جاننے کے لئیے دانشور ہونا ضروری نہیں۔ حیرت اس بات کی ہوتی ہے کہ امریکہ میں سب ذمہ دار کار پرداز اس صورت حال کو سمجھنے سے کیوں عاری ہیں۔ جب کہ انہی ذمہ داران کے مطالبات پاکستان سے روز بروز بڑھتے جارہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان حسب سابق بیگار میں پہلے سے ذیادہ خدمات ادا کرے۔ پاکستان کے عوام کے انگنت نقصان کے بدلے میں جو معمولی سا معاوضہ اسے خیرات کیا جاتا ہے۔ اسے عوام تک پہنچنے میں بھی وہی لوگ حائل ہیں جن کی پشت پناہی اور انھیں حکمران بنانے کا الزام امریکہ پہ لگایا جاتا ہے۔حالات اسطرح ہیں کہ پاکستان کو اس جنگ میں بہت سا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ امریکہ کا حلیف ہونے کے ناطے اور مسابقت کے اس دور میں سب سے یکساں سلوک کے سنہری تجارتی اصول کے تحت پاکستانی مصنوعات کی رسائی امریکن اور اسکے اتحادی ممالک کی منڈیوں تک ایک عام سی بات ہونی چاہئیے تھی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ماضی کی طرح ابھی بھی امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ٹیکسٹائل کی مصنوعات کی امریکہ سمیت ان منڈیوں میں مانگ ہونے کے باوجود ان منڈیوں تک ان مصنوعات کی رسائی میں حیلے بہانے سے روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ کچھ ایسا حال دوسری مصنوعات کے ساتھ بھی درپیش ہے۔جبکہ پاکستان توپ تلوار اور ہوائی جہاز سے لیکر بعد از فروخت انکے پُرزے تک بھی امریکہ سے لیتا ہے۔ بعض اوقات انکی بھاری قیمت چکانے کے بعد بھی امریکہ سودا دینے میں لیت و لعل سے کام لیتا ہے۔ہیں۔ساری دنیا کے علم میں ہے کہ بھارت پاکستان کا دیرینہ دشمن ہے ۔ پاکستان کی سرحدوں پہ کسی بھی نازک وقت پہ امریکہ ان اشیاء کی ترسیل پاکستان کو روک دیتا ہے۔ جبکہ بھاری قیمت پہ خرید کی گئیں اسطرح کی اشیاء دنیامیں مسلمہ اصول کے تحت نازک وقت میں ریاست کے دفاع کے لئیے استعمال کی جاتی ہیں۔ محض انکی نمائش کے لئیے کوئی بھی ملک اسقدر بھاری سرمایہ خرچ نہ کرے۔پاکستان بھارت دشمنی کو بنیاد پہ بھی امریکہ نے ہمیشہ پاکستان اطاعت گزاری کروائی ہے۔ جب کہ پہلے خفیہ طریقے سے اور اب بیانگ دہل امریکہ بھارت کو دوست ہی نہیں پارٹنر بھی کہتا ہے اور اسے علاقے میں منی پاور کے طور پہ کردار ادا کرنے کے لئیے جلد تیار کرنے کے لئیے بے چین ہے، بھارت سلامی کونسل کا ممبر بننا چاہتا ہے۔ جب تک بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر منصفانہ طریقے سے حل نہیں کرتا۔ کم از کم پاکستان کے عوام بھارت کو اپنا دوست نہیں سمجھ سکتے تو ایسے میں امریکہ کی بھارت کے ساتھ دوستی کے رشتے اور پاکستان کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں عالمی تعاون کے معائدے۔ منصوبے اور پاکستان کو محض وعدہِ فردا پہ ٹرخا دینا جبکہ پاکستان توانائی کی کمی کے شدید بحران کا شکار ہے اور پاکستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہےاور اس طرح کے دیگر عوامل کے باوجود امریکہ کے بھارت اور پاکستان کے ساتھ یکساں دوستی کے دعوؤں کو پاکستانی عوام سچ نہیں مانتے۔

    فواد صاحب! اس ساری لمبی تہمید کا مطلب محض اتنا سا ہے کہ اس ساری صورت حال کو سمجھنے اور حل کرنے کی سنجیدہ کو ششیں کی جائیں محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ صدر اوبامہ کو ماضی میں پاکستان کے ساتھ کی گئیں زیادتیوں کا ادراک ہے۔ کیونکہ پاکستان کے عوام امریکہ کو بہ حیثیت ایک ریاست کے دیکھتے ہیں۔ ایسی ریاست جس نے عام کی نظر میں انکی ترقی کے قومی دھارے کے سامنے جبر کے بند باندھے ہیں اگر صدر اوبامہ اور موجودہ امریکی حکومت اس بات کا ادارک کر چکی ہے تو وہ پچھلے باسٹھ سالوں سے جاری زیادتیوں اور ناانصافیوں کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے مندرجہ بالا تحفظات کے درست حل کے لئیے ٹھوس بنیادوں پہ ایک لائحمہ عمل ترتیب دیں جو عمل ہوتا ہوا نظر آئے اور جس کے نتائج پاکستانی عام عوام کو بھی نظر آئیں۔

    امریکہ پاکستان کو محض چند ارب ڈالر کی مالی مدد کی بجائے (مدد جسے عام آدمی حکمران طبقے کے لئیے رشوت سمجھتا ہے) پاکستان کے ساتھ مضبوط زرعی، صنعتی، علمی ، انتقال ٹیکنالوجی، توانائی اور جوہری تعاون کرے۔ جس سے پاکستان اپنے پاؤں پہ کھڑا ہوسکے۔ اور ملک کے اندر پھیلے ہوئے کرپشن کے عفریت کو واپس بوتل میں بند کرنے کے لئیے پاکستان اور پاکستانی اداروں کی مدد کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان نزاع کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کو منصفانہ طور پہ حل کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اور کچھ اسطرح کے دیگر اقدامات کرنے سے جہاں عوام کے دلوں میں امریکہ کے خلاف شدید جزبات دوستی میں بدلیں گے۔دہشت گردی اور ہر قسم کے جرائم کے لئیے ، غربت۔ احساس محرومی اور جہالت کے ہاتھوں ہر انتہائی قدم کے لئیے تیار مایوس نوجوان روزگار اور تعلیم عام ہونے سے منفی کی بجائے تعمیری سوچ اپنائیں گے۔

    چونکہ یہ مسائل پاکستان اور عوام کے ہیں اور انہیں ہی حل کرنے ہیں اور امریکہ اسطرح کی مدد سے اگر معذرت کرتا ہے تو کم از کم وہ اسطرح کے اقدام بھی نہ کرے جو وہ پاکستان کے عوام کی نظر میں پاکستان کے خلاف ماضی میں کرتا آیا ہے۔

    بے نظیر کے خط بارے اس نکتے سے اتفاق ہے کہ بہت ممکنہ طور پہ یہ خط جعلی ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی سیاستدان اسطرح کی تحریر لکھ کر اپنی ہی پیروں پہ کلہاڑی نہیں مار سکتا۔ خواہ اندرون خانہ اسکے ساتھ پاکستان کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا کتنا ہی پکا وعدہ نہ کیا گیا ہو۔ کیونکہ اسطرح کی تحریر طشت ازبام ہونے کی وجہ سے اس کا سیاسی مسقبل داؤ پہ لگ سکتا ہے۔ جبکہ حکومت کی ایجنسیاں بھی اس پہ نظر رکھے ہوئے ہوں۔تو اسکا بھانڈہ بیچ چوراہے میں پھوڑے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسلئے اس خط کی صحت مشکوک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)