اظہارِ خيال کی آزادی کا ڈھونگ

کُفار تو ازل سے اسلام کے دُشمن ہيں اور رہيں گے ليکن وہ جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہيں ليکن مسلمانوں کے ردِ عمل کو کبھی جھوٹ کبھی منافقت اور کبھی انتہاء پسندی کہتے ہيں اور پھر بھی تسلی نہ ہو تو دہشتگرد قرار ديتے ہيں ۔ اگر حقائق اور اُن کے عمل پر غور کيا جائے تو وہ خود منافق ثابت ہو جاتے ہيں

فرنگيوں کے اظہارِ رائے کی آزادی کے دعووں کی قلعی حقيقی واقعات کی مثاليں دے کر چار پانچ سال قبل کھول چکا ہوں ليکن فرنگيوں کے اندھے پيروکاروں کو نہ سمجھ آئی ہے اور نہ سمجھ آنے کی توقع ہے کيونکہ سوئے ہوئے کو جگايا جا سکتا ہے مگر جاگتے کو نہيں

1 ۔ کرتے ہيں مجبور مجھے

2 ۔ آزادی اظہارِ خيال ہے کس مُلک ميں ؟

3 ۔ ہاتھی کے دانت ؟؟؟

4 ۔ تازہ ترين ثبوت

5 ۔ اظہارِ خيال کی آزادی کا بھانڈہ پھر پھوٹ گيا

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “اظہارِ خيال کی آزادی کا ڈھونگ

  1. arifkarim

    مغرب میں‌ کوئی آزادی خیال نہیں ہے۔ یہاں زبردستی کی جمہوریت ہے، زبردستی کی تعلیم اور مزدوری ہے۔

  2. میرا پاکستان

    یہ واقعی درست ہے۔ ان لوگوں میں‌سے کسی نے فیس بک کی بدعملی پر تنقید نہیں کی بلکہ اس کو دی گئی معمولی سی سزا کو غلط سمجھا ہے۔

  3. شازل

    آپ درست فرما رہے ہیں
    ہمارے بہت سے دوست خود کو ماڈریٹ ظاہر کرنے کے لیے ان لوگوں‌کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں‌ جو فیس بک کی پابندی کے حق میں ہیں
    میں‌مغرب کے رہرے معیار کا مخالف ہوں اگر ایک طرف وہ آزادی اظہار کا پرچار کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ کئی مفادات پر لکھے جانے کے خلاف ہیں
    اور یہ بھی دیکھیے کہ ننگے پن کو تو جائز سمجتھے ہیں لیکن حجاب اوڑھنے پر پابندی لگاتے ہیں
    سیدھی طرح‌کیوں‌نہیں‌کہتے کہ ہم مسلمانوں کے خلاف ہیں
    اگر وہ نہیں کہتے تو ہم سمجھ جائیں۔
    ہم سمجھ بھی رہے ہیں‌ لیکن پھر بھی ۔ ۔ ۔ :(

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شازل صاحب
    آپ نے ننگے اور حجاب کی بات کی ہے ۔ اُن کے ہاں ننز يعنی چرچ ميں کام کرنے والی عورتيں مکمل پردہ کرتی ہيں ۔ اس پر انہيں کوئی اعتراض نہيں ۔ خير وہ تو اسلام کے دشمن ہيں مگر يہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہيں اور نام مومناں کرتوت کافراں

  5. جاویداقبال

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    کیاکہہ سکتےہیں کہ مسلمان اب اتنےلبرل ہوچکےہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےنام پربھی فرقوں میں بٹ رہےہیں جبکہ صرف یہی توایک پہچان ہےمومن کی اورتمام مسلمان ان پراکٹھےہیں۔ اللہ تعالی سےدعاہےکہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ و بوجھ عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عثمان صاحب
    فرنگيوں کے اندھے پيروکار وہ لوگ ہيں جو فرنگيوں کے ظلم کو بھی اپنوں کا قصور ٹھہراتے ہيں اور اسلام کو چودہ سو سال پرانا دين کہہ کر اس ميں کيڑے نکالتے ہيں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)