Monthly Archives: May 2010

امريکا کا پالتو دہشتگر

2,446 بار دیکھا گیا

کہاں ہيں انسانيت کا پرچار کرنے والے ۔ کيا امريکا اسی لئے ہر سال 3 ارب ڈالر اسرائيل کو ديتا ہے ؟

فرحان دانش کی تحرير پڑھ کر ميں اس امداد کی کاميابی کی دعا تو کر رہا تھا مگر ميرا دل کہہ رہا تھا ” يا اللہ خير ۔ ان لوگوں کے ساتھ اسرائيل صرف اتنی رعائت کر دے کہ انہيں واپس بھيج دے يا قيد کر لے”

نائين اليون کا بہانہ بنا کر امريکا اور اس کے حواريوں نے عراق اور افغانستان ميں لاکھوں بے قصور انسانوں کو بھون ديا اور مزيد بھون رہے ہيں اور اس کا دائرہ پاکستان تک بڑھا ديا ہوا ہے مگر امريکا اور برطانيہ کا ناجائز بچہ اسرائيل 1948ء سے متواتر دہشتگردی کر رہا ہے اور اس کے خلاف مذمت کی قرارداد بھی اسلئے منظور نہيں ہو سکتی کہ امريکا اُسے وِيٹو کر ديتا ہے ۔ اس ناجائز بچے کے پُشت پناہ امريکا برطانيہ روس اور يورپ کے کئی ممالک ہيں ۔ اور بدقستی ہے ہماری قوم کی کہ کچھ اپنے ہموطن بھی اسرائيل کی تعريف کئے بغير نہيں رہ سکتے

اب غزہ ميں محصور خوراک سے محروم فلسطينيوں کيلئے انسانی ہمدردی کے تحت امداد لانے والوں کو بھی اسرائيل نے اپنی دہشتگردی کا نشانہ بنا ديا ہے

اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لانے والے ” آزادی بیڑے” میں شامل کشتیوں پر غزہ کے ساحل سے نزدیک سمندر میں حملہ کردیا۔ اسرائیلی فوجیوں کی ایک بڑی تعدادنے ہیلی کاپٹروں سے کشتیوں پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران جھڑپوں میں 16 امدادی کارکن ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ اسرائیل نے اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔کشتیوں میں سوارکارکنوں اور میڈیا اہلکاروں کو حراست میں لے کر اسرائیلی بحریہ نے امدادی کارکنوں کو آگاہ کیا کہ ان کے پاس واحد آپشن اسدود کی بندرگاہ کا رُخ کرنا ہے تاکہ 10ہزار ٹن امدادی سامان میں سے کچھ کو اسرائیلی حکام غزہ منتقل کرسکیں ۔

صبح چار بجے ہونے والی اس کارروائی کا حکم اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے دیا۔قافلے میں ترکی اور یونانی سمیت چھ کشتیاں شامل ہیں ۔ اسرائیلی کارروائی کے بعد ترکی نے انقرہ میں اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا جب کہ مشتعل افراد نے استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے پر دھاوا بولنے کی بھی کوشش کی

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اِن شَاء اللہ

2,603 بار دیکھا گیا

اِن شَاء اللہ کا مطلب ہے اگر اللہ نے چاہا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ صرف اچھی بات چاہتا ہے ۔ ہمارے ہاں گفتگو ميں اِن شَاء اللہ کا استعمال کرتے ہوئے اس حقيقت کو بالکل فراموش کر ديا جاتا ہے

کچھ لوگ کسی کو بد دعا ديتے ہوئے يا بُرا کہتے ہوئے بھی ساتھ اِن شَاء اللہ کہتے ہيں ۔ يہیں بس نہيں ايسا کام يا عمل کرنے سے پہلے جو کہ گناہ ہے اِن شَاء اللہ کہا جاتا ہے جيسے کسی فلم ميں ناچنے والی اپنی کاميابی کيلئے اِن شَاء اللہ کا استعمال کرے

کچھ لوگ ايسے بھی ہيں جو اُس کام کيلئے اِن شَاء اللہ استعمال کرتے ہيں جسے کرنے کا اُن کا ارادہ نہيں ہوتا ۔ اس کے برعکس کوئی کہے “اِن شاء اللہ ميں آؤں گا يا يہ کام کر دوں گا” تو کہا جاتا ہے کہ “تم نے نہيں کرنا”۔ ايک بار ميرے ساتھ ايسا ہوا تو ميں نے پوچھا “آپ کيسے کہہ سکتے ہيں کہ ميں نہيں آؤں گا ؟” جواب ملا “جو کام نہيں کرنا ہوتا اُس کے ساتھ اِن شَاء اللہ لگا ديا جاتا ہے”

اللہ ہميں دين کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفيق عطا فرمائے

اِک نئی مصيبت

4,992 بار دیکھا گیا

آج لاہور ماڈل ٹاؤن میں دہشتگرد قادیانیوں کی عبادت گاہ میں داخل ہو گئے اور لوگوں کو محصور بنا لیا ۔ پنجاب کی پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 5 حملہ آور ہلاک ہوئے اور ایک کو زندہ گرفتار کر کے اُس کی خودکش جیکٹ کو ناکارہ بنا دیا گيا۔ حملہ آوروں کی فائرنگ سے 5 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے ۔ پولیس حکام اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

اسی طرح کا حملہ گڑھی شاہو میں بھی ہوا ہے جس ميں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ پولیس کے جوانوں نے قریبی عمارتوں پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ بکتر بند گاڑی کے ذریعے عبادت خانے کے قریب جانے کی کوشش کی جارہی ہے

کھری کھری سُنا ديں

2,534 بار دیکھا گیا

دس بارہ سال قبل جو حالت تھی عوام اُس سے بھی خوش نہ تھے مگر اُس کے مقابلے ميں آج جو حالت ہے اُس کا اندازہ ميں اس سے لگاتا ہوں کہ 1999ء ميں چکی کا آٹا يعنی مکمل گندم چھوٹی چکی پر پِسی ہوئی 10 روپے فی کلو گرام اور ايک سال پرانے چاول سُپر باسمتی 25 روپے فی کلو گرام خريدتا تھا ۔ اب وہی آٹا 35 روپے اور وہی چاول 90 سے 110 روپے ميں خريدتا ہوں

چاروں طرف شور مچا ہے “حُکمران چور ۔ حُکمران کھا گئے ۔ حُکمران کچھ نہيں کرتے”۔ اس شور کو سُن کر مجھے يہ کہانی ياد آتی ہے جو کسی بزرگ نے تين دہائياں قبل سنائی تھی

ہمارے لوگوں کا شغف ہے کہ حکومت کو جب تک بُرا نہ کہا جائے حُب الوطنی اور ذہانت ثابت نہيں ہوتی ۔ ايک محفل ميں اسی طرح حکومت کو باری باری کوسا جا رہا تھا کہ آخر ميں چوہدری صاحب بولے “ميں نے تو ڈی سی کو کھری کھری سُنا ديں”

سب انگشت بدنداں رہ گئے ۔ ايک شخص جو خاموش بيٹھا سب کی باتيں سُن رہا تھا بولا “چوہدری صاحب ۔ اگر آپ پھر کبھی ڈی سی کے پاس جائيں تو مجھے ضرور بتائيں”

اگلے ماہ چوہدری صاحب نے اُسے بتايا اور وہ وقت مقررہ پر چوہدری صاحب کے گھر پہنچ گيا ۔ چوہدری صاحب اُسے ساتھ لے کر ڈی سی کے دفتر کے پچھلی طرف پہنچے ۔ شام کے چھ بجے تھے وہاں کوئی آدم زاد نہ تھا ۔ چوہدری صاحب نے ڈی سی پر لعن طعن شروع کی حتٰی کہ گالی گلوچ تک پہنچ گئے ۔ وہ شخص حيران و پريشان ديکھتا رہا ۔ جب چوہدری صاحب تھک گئے تو اُس شخص سے کہنے لگے “چلو چليں”
اُس شخص نے کہا “چوہدری صاحب ۔ يہاں تو کوئی بندہ ہے نہ بندے کی ذات ۔ آپ نے گالياں کس کو دی ہيں ؟”
چوہدری صاحب جھٹ سے بولے ” کيا تم چاہتے ہو کے ميں ڈی سی کو اُس کے سامنے گالياں دوں ؟ مجھے اندر کروانا ہے ؟”

طالبان کا نالائق شاگرد

2,364 بار دیکھا گیا

اگر بیگم کلنٹن کے فرمان کے مطابق فیصل شہزاد واقعی طالبان کا شاگرد ہے تو ایسے نالائق شاگرد کو عاق کرنے میں طالبان کو دیر نہیں کرنی چاہیے۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ایسا کچا کام کرنے والا نوجوان اگر واقعی طالبان کا تربیت یافتہ ہے تو افغانستان میں امریکیوں کے چھکے چھڑادینے والے مزاحمت کاروں کے نام پر بی بی کلنٹن کا یہ ہم وطن یقینا ایک بدنما داغ ہے

فیصل شہزاد کی کہانی نے چند سال پہلے لندن ٹیرر پلاٹ کے نام سے سامنے آنے والی ایک اور بودی کہانی یاد دلادی ہے۔ یہ 10 اگست 2006ء کی بات ہے جب دنیابھر کے ٹی وی چینل چیخ اٹھے تھے کہ لندن سے امریکا جانے والی بیک وقت 10 سے زائد پروازوں کو میک اپ کے سامان میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے ذریعے فضا میں تباہ کردینے کا خوفناک منصوبہ پکڑا گیا ہے جو اگر عمل میں آجاتا تو نائن الیون سے بھی زیادہ جانی نقصان ہوتا۔ پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان راشد رؤف کو اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا۔ پھر شیر خوار بچوں کی ماؤں سمیت 24 افراد اس منصوبے میں بحیثیت خود کش حملہ آور شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ۔ ان میں سے بیشتر پاکستانی تھے ۔ اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ جان ریڈ نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کو عمل میں لانے کے لیے تیار کیے گئے اصل افراد تک قانون کا ہاتھ پہنچ گیا ہے اور وہ حکومت کی تحویل میں ہیں۔ صدر بش نے فرمایا کہ ہمارا مقابلہ اسلامی فسطائیوں سے ہے

لیکن بہت جلد یہ حقائق سامنے آئے کہ جن لوگوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ” وہ دوچار دن کے اندر امریکا جانے والے طیاروں کو دوران پرواز تباہ کرنے والے ہیں”، ان میں سے کسی کے پاس کسی ایئرلائن کا ٹکٹ نہیں ہے جبکہ کئی لوگوں نے پاسپورٹ بھی نہیں بنوا رکھے ہیں۔ انصاف پسند مغربی ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ایسا کوئی منصوبہ کسی بھی درجے میں قابل عمل ہی نہیں ہے اور اس کی حیثیت شیخ چلی کے خیالی پلاوٴ سے زیادہ نہیں۔ اس کے بعد راشد رؤف پر پاکستان میں اور چند دوسرے ملزمان پر برطانیہ کی عدالتوں میں مقدمات چلتے رہے۔ بالآخر راشد رؤف کو مفرور قرار دے دیا گیا اور 22 نومبر 2008ء کو شمالی وزیرستان کے ایک گھر پر ڈرون حملے میں اس کے جاں بحق ہوجانے کی خبر جاری ہوگئی جبکہ برطانوی عدالت میں چلنے والے اس مقدمے کے فیصلے سے متعلق نیویارک ٹائمز میں 8 ستمبر 2008ء کو شائع ہونے والی خبر کی سرخی کے الفاظ یہ تھے:
“No One Convicted of Terror Plot to Bomb Planes”

افغانستان اور عراق میں سامراجی مُہم جُوئی کے لیے جو جھوٹ گھڑے گئے، اب دنیا کے بہت سے لوگ ان سے باخبر ہیں۔ عراق کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے الزام کا جھوٹ ہونا تو خود امریکی حکمران بھی تسلیم کرچکے ہیں اور برطانیہ میں ٹونی بلیئر کو اس پر چلکاٹ انکوائری میں نمائشی جوابدہی بھی کرنا پڑی ہے۔ تاہم افغانستان کے خلاف گھڑے گئے جھوٹ کو اب تک دہرایا جا رہا ہے۔ چنانچہ بیگم کلنٹن نے یہ دلچسپ دعویٰ کرتے ہوئے کہ بعض پاکستانی حکام بن لادن اور ملا عمر کے ٹھکانوں سے واقف ہیں مگر امریکا کو پوری بات نہیں بتاتے، پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے پاکستان کو مزید تعاون کرنا ہوگا

امریکی حکمران نائن الیون کا ذمہ دار افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اس دھڑلے سے قرار دیتے ہیں گویا وہ اپنا یہ دعویٰ ثابت کرچکے ہیں جبکہ حقیقتاً اس دعوے کا کوئی واقعاتی ثبوت آج تک دنیا کے سامنے نہیں لایا جاسکا ہے۔ اس کے برعکس اس امر کے ناقابل تردید واقعاتی اور دستاویزی ثبوت ریکارڈ پر ہیں کہ نائن الیون سے بہت پہلے تیل کے کاروبار سے وابستہ امریکا کے قائدین کیسپین کے تیل کے ذخائر تک افغانستان کے راستے پہنچنے کے منصوبے بنا رہے تھے اور ان کالموں میں بھی یہ حقائق بارہا مکمل حوالوں کے ساتھ پیش کیے جاچکے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے بہت سے ملک اپنے مفادات کی خاطر نیٹو کی شکل میں افغانستان کے خلاف جارحیت میں امریکا کے اتحادی ہیں جبکہ مسلم دنیا کے حکمراں اپنی مصلحتوں اور بزدلی کی بناء پر اس جھوٹ کا پردہ چاک کرنے سے گریزاں ہیں

تاہم دنیا کے کئی سابق اور موجودہ حکمران اس حوالے سے اپنی گواہی ریکارڈ کراچکے ہیں۔ ان میں اٹلی کے سابق صدر فرانسسکو کوسیگا کی جانب سے ایک انٹرویو میں کہے گئے یہ الفاظ نہایت اہم ہیں کہ” اگرچہ فرض کیا جاتا ہے کہ بن لادن نے نائن الیون کے موقع پر ٹریڈ ٹاورز پر حملے کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے مگر امریکا اور یورپ کی تمام خفیہ ایجنسیاں اب بخوبی جانتی ہیں کہ ان تباہ کن حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل در آمد کاکام امریکی سی آئی اے اور موساد نے صہیونی دنیا کی مدد سے انجام دیا تاکہ عرب ملکوں پر اس کا الزام تھوپا جاسکے اور مغربی طاقتوں کو عراق اور افغانستان میں مداخلت کا موقع مل سکے“۔ کوسیگا کا یہ انٹرویو 30 نومبر2007ء کو اٹلی کے سب سے بڑے اور مؤقر اخبار کوریئر ڈیلا سیرا میں شائع ہوا تھا

مسلم حکمرانوں میں صدر احمدی نژاد واحد شخص ہیں جنہوں نے نائن الیون حملوں میں افغانستان کو ملوث کرنے کو برملا فریب قرار دیا ہے ۔ ابھی چند ہفتے پہلے مارچ کے اوائل میں ایرانی صدر نے گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا پر دہشت گردوں کے حملے کو ایک بڑا جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جھوٹ اس لیے گھڑا گیا تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان پر حملے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ ایرانی صدر کے بقول ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہوائی جہازوں سے حملہ امریکی انٹلیجنس سروسز کی درپردہ کارروائی کا نتیجہ تھا

جاپان کے رکن پارلیمنٹ یوکی ہی سا فوجیتا جن کی پارٹی اب حکومت میں ہے، اپنی پارلیمنٹ میں دوسال سے بار بار نائن الیون کی جھوٹی سرکاری امریکی کہانی کا نہایت مہارت اور خوبصورتی سے پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اس موضوع پر جاپانی زبان میں امریکی پروفیسر ڈیوڈ رے گریفن کے اشتراک سے باقاعدہ مفصل کتاب لکھ چکے ہیں۔ ڈیوڈ رے گریفن نے اپنی کتاب ”ڈی بنکنگ نائن الیون ڈی بنکنگ“ میں اپنی حکومت کی فریب دہی کو اس طرح بے نقاب کیا ہے کہ اس کا جواب دینا امریکی قیادت کے لیے ممکن نہیں

اس سب کے باوجود امریکی حکمران اپنے جھوٹ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور افغانستان اور عراق کے بعد امکانی طور پر پاکستان میں براہ راست فوجی مداخلت کے لیے نیویارک سازش کیس جیسی بے سروپا کہانیاں گھڑ رہے ہیں۔ بظاہر امریکی شہری فیصل شہزاد کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے تاہم اس نااہل نوجوان کو بم سازی میں طالبان کا شاگرد قرار دے کر ایک طرف انہوں نے اپنے عقلی دیوالیہ پن کا دلچسپ مظاہرہ کیا ہے تودوسری طرف یہ طالبان کی توہین کے مترادف ہے جس پر طالبان قیادت احتجاج کا پورا حق رکھتی ہے

تحرير : ثروت جمال اصمعی

صيہونی بمقابلہ نازی

2,299 بار دیکھا گیا

نام نہاد ہالوکاسٹ کا راگ الاپنے والے صيہونیوں نے نازيوں سے بچ نکلنے کے بعد جن اولادوں کو جنم ديا اُنہوں نے فلسطينيوں کے ساتھ پچھلے 62 سال سے جو ظُلم روا رکھا ہے اگر آج ہٹلر دوبارہ پيدا ہو جائے تو يہ مناظر ديکھ کر اپنا سر پيٹے کہ اس قوم کی وہ نسل کُشی کر ہی ديتا تو دنيا امن و سکون سے رہتی
اسرائيل کا ظُلم فلسطينيوں پر ۔ ۔ ۔ نازيوں کا ظُلم يورپی يہوديوں پر

نيچے بائيں طرف کی تصوير ميں يہوديوں نے دکھايا ہے کہ نازی بچہ يہوديوں کا مذاق اُڑاتا تھا جبکہ داہنی تصوير ميں يہودی اسرائيلی بچوں کو دعوت دی گئی کہ وہ فلسطينيوں پر چلائے جانے کيلئے تيار گولوں پر اپنے پيغامات لکھيں

نيچے کی دو تصاوير ميں بائيں طرف والی ايک ہی تصوير ہے ۔ يہ تصوير پورے امريکہ اور کئی يورپی ممالک کی تاريخ کی کتابوں ۔ انسائيکلوپيڈيا ۔ لائبريريوں اور عجائب گھروں ميں ديکھنے کو ملتی ہے کہ نازيوں نے يہودی بچے کو بھی ہينڈز اَپ کرايا ۔ اس ايک تصوير کے مقابلہ ميں داہنی طرف دو مختلف فلسطينی بچوں کی تصاوير ہيں جن ميں اسرائيل کا گھناؤنا کردار واضح ہے

آزادی اظہارِ خيال کے پروانوں کے نام

2,119 بار دیکھا گیا

ميرے ہموطنوں ميں سے کچھ بڑے زور شور سے آزادی اظہارِ خيال کا راگ الاپ رہے ہيں اور گستاخ خاکوں پر احتجاج کرنے والوں کو طرح طرح کے القاب سے نواز رہے ہيں يہاں تک کہ اُن ميں اعلٰی تعليميافتہ افراد کی موجودگی کے باوجود اُنہيں جاہل اور انتہاء پسند کہا گيا ہے ۔ فرنگيوں کے ممالک ميں اظہارِ خيال کی جتنی آزادی ہے اُس کی چند مثالوں کا حوالہ 23 مئی 2010ء کو ديا تھا ۔ آج ايک تحرير پر نظر پڑ گئی جس ميں صرف سن 2010ء کے 3 ماہ ميں فرنگی حکومتوں جن ميں امريکہ ۔ کينيڈا اور يورپ کے کئی ممالک شامل ہيں نے يہوديوں کے خلاف اظہارِ خيال کرنے کے 21 واقعات ميں 24 افراد کو سزائيں ديں ۔ ان ميں 7 پندرہ سے 17 سال کی عمر کے بچے ۔ ايک پادری ۔ ايک 83 سالہ شخص اور ايک سياستدان ہے ۔ 3 ٹی وی چينل اور ايک اخبار بند کئے گئے اور ايک سياسی جماعت غيرقانونی قرار دی گئی ۔ ملاحظہ ہو مکمل تحرير


تحرير ۔ اوريا مقبول جان بتاريخ 22 مئی 2010ء ۔ بشکريہ ۔ ايکسپريس