چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہندسے

عصرِ حاضر میں تعلیم بہت ترقی کر چکی ہے ۔ معیار کی ضمانت کا اصول ہے کہ پیداوار جتنی زیادہ ہو گی معیار اتنا ہی گِر جائے گا ۔ کسی حد تک یہ اصول عصرِ حاضر پر بھی لاگو ہوا ہے ۔ آجکل مضامین بہت ہیں اور لوگوں کو بہت کچھ معلوم ہے لیکن عام طور پر دیکھا گیا کہ معلومات زیادہ تر سطحی ہیں

آج سے چودہ صدیاں قبل یورپ اور ملحقہ علاقوں میں رومن ہندسے مروج تھے ۔ مسلمانوں نے عربی کے اُن ہندسوں کو رواج دیا جو آجکل انگریزی میں مستعمل ہیں اور ساری دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں [1 ۔ 2 ۔ 3 ۔ 4 ۔ 5 ۔ 6 ۔ 7 ۔ 8 ۔ 9]۔ اگر یہ ہندسے رواج نہ پاتےتو نہ الجبرا اور علمِ ہِندسہ [جیومیٹری] بنتے اور نہ ہی آج کمپیوٹر ہوتا ۔ نیچے رومن ہندسے اور عربی کے ہندسوں کا تقابلی جائزہ دیکھ کر میرے متذکرہ استدلال کی تصدیق کی جا سکتی ہے

عربی گنتی کی بنیاد اعشاری نظام تھا ۔ ان پر مزید کام کرتے ہوئے ایک معروف مُسلم سائنسدان ابو عبداللہ محمد ابن موسٰی الخوارزمی نے صفر کو بھی قیمت عطا کی ۔ اکائی کے حصے اعشاریہ کی صورت ميں کئے اور ریاضی کے دو ایسے نظام وضع کئے جنہيں ايلگورتھم [algorithm] اور لوگرتھم [logrithm] کے ناموں سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔ میں مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ اس وقت زیر نظر گنتی کے ہندسے ہیں

This entry was posted in تاریخ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہندسے

  1. arifkarim

    جناب یہ کام مسلمان عربیوں سے پہلے “ہمارے” جدی پشتی ہندوستانیوں نے کیا تھا۔ جسکو فارسی مسلمانوں نے تقویت دے کر مزید بہتر کیا:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Indian_mathematics
    مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ یورپ کے احیائے ثانیہ کا سارا کریڈٹ بار بار عرب مسلمانوں کے سر تھوپا جاتا ہے۔ گو کہ عربی اس زمانہ میں ایک اکثریت کی زبان تھی، مگر اس زمانہ میں سائنسی تحقیق کرنے والے ہر علاقہ سے تھے، جنمیں فارس و ہندوستان بھی شامل ہے۔
    پس اعشاریہ نظام جسکی بنیاد پر آجکا تمام جدید معاشیاتی و ریاضتی نظام کھڑا ہے۔ اسکو سب سے پہلے استعمال کرنے والے ہم یعنی “ہندوستانی” تھے۔ عربوں نے ہم سے سیکھ کر علم آگے یورپیوں تک پہنچایا اور بعد میں آرام کی نیند سو گئے۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عارف کريم صاحب
    ہند ميں جو ہندسے رائج ہوئے وہ عصرِ حاضر ميں عرب دنيا ميں زيرِ استعمال ہيں ۔ ميں لکھ رہا ہوں نمعلوم آپ انہيں ديکھ پائيں گے يا نہيں
    ١ ٢ ٣ ٤ ٥ ٦ ٧ ٨ ٩ ٠
    دراصل يہ سنسکرت کے ہندسے بھی نہيں بلکہ چينيوں نے بنائے تھے جو تھوڑی ترميم کے ساتھ ہند ميں رائج ہوئے اس کے بعد مزيد ترميم کے ساتھ عرب دنيا نے اپنا لئے ۔ ساری دنيا مانتی ہے کہ الوگرتھم اور الجبرا کا موجد خوارزم ہے ۔ الخوارزم کو ہی يورپ ميں الوگرتھم کہا گيا اور الجبرا بنا ہے الجبر و المقابلہ سے جو عربی کا لفظ ہے ۔ ميں نے بچپن [1945 تا 1947] ميں ہندی حساب پڑھا ہے اس ميں کوئی الجبرا يا جيوميٹری نہ تھی صرف سود اور تجارت کے سوالات تھے حتٰی کہ نسبت تناسب کے سوالات بھی ہند ميں مفرب سے آئے تھے ۔ خوارزم سے پہلے ابيکس چينيوں کے زيرِ استعمال تھا
    وکی پيڈيا مستند نہيں ہوتا پرانی تاریخ اور تحقيقات کا مطالعہ کيجئے

  3. ابن سعید

    ریاضی، فلکیات، کیمیا، ارضیات اور جانے کتنے دیگر علوم میں عربوں کی گراں قدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہی سب کچھ نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی دنیا کے دوسرے خطوں میں انھیں ادوار میں اور ان سے قبل اور بعد میں بھی ایسی کھوجیں ہوتی رہی ہیں۔ لہٰذا جانبدار ہونا بہر حال غیر منصفانہ ہے۔ ہندؤں میں رہبانیت کا رواج مسلمانوں کی بنسبت کہیں زیادہ رہا ہے لہٰذا جس قدر سوچنے کا موقع ان کو میسر رہا ہے اتنا شاید ہی کسی دوسری قوم کو۔ بس یہ اپنے علم کی تشہیر اور ترویج میں بہت کوتاہ دل تھے۔ آج کل جتنی شدت سے عربوں کے علوم کا چرچا کیا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ ویدک علوم کا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی غیر جانبداری کا ثبوت نہیں دیتا۔

    مثال کے طور پر صفر کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم ہندو ریاضی داں “آریہ بھٹ” کی کھوج ہے۔ نہ صرف صفر بلکہ لا محدود “infinite” کا سہرا بھی انھیں کے سر باندھا جاتا ہے۔ آریہ بھٹ کی کتاب “لیلا وتی” میں ایک لفظ ملتا ہے “کھہر” جس کا مطلب ہوتا ہے “zero in denominator” اور ہم جانتے ہیں کہ صفر بٹہ صفر کے علاوہ سارے کسر جو صفر سے منقسم ہوں وہ لا محدود ہوتے ہیں۔

    ہمیں ہائی اسکول میں ریاضی کی کتاب کے ساتھ ایک اضافی حصہ بھی پڑھایا گیا تھا جسے ویدک ریاضی کا نام دیا گیا تھا۔ اور اس میں ضرب، تقسیم، عاد اعظم مشترک، ذو اضعاف اقل مشترک، الجبرائی مرکبات پر ریاضیاتی عوامل کے ایسے ایسے دلچسپ طریقے دیئے ہوئے تھے جو نہ صرف یہ کہ عام طریقوں سے کافی مختلف تھے بلکہ سریع اور دلچسپ بھی تھے۔ بہت بڑے بڑے نمبروں کو پر ٹکڑوں میں عمل کرنا اور کسی بھی عدد کو بغیر 6، 7، 8 اور 9 ہندسوں کا استعمال کیئے لکھنا اور ان پر ریاضیاتی عوامل دہرانا جیسی چیزون ہمیں آج بھی یاد ہیں۔

    بہر کیف کوشش ہونی چاہئے کہ غیر جانبداری اور انصاف برتا جائے۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ابنِ سعيد صاحب
    ميں نے پہلی پانچ جماعتيں پاکستان بننے سے قبل ہندوؤں کے سکول ميں پڑی تھيں ۔ اس کے اساتذہ ميں صرف ايک مسلمان تھے جو صرف اُردو پڑھاتے تھے اور اُن کا سکول ميں کوئی اختيار نہيں تھا ۔ باقی سب ہندو تھے بلکہ کٹر ہندو تھے ۔ روزانہ صبح ہميں بندے ماترم پڑھايا جاتا تھا ۔ ہم مسلمان لڑکے منہ ہلاتے رہتے مگر بندے ماترم پڑھتے نہيں تھے ۔ اس کی بجائے دل ميں لب پہ آتی ہے دعا علامہ اقبال صاحب کی پڑھتے ۔ ہندو اُردو کو ہندی کہتے تھے ۔ ہم تين مسلمان ايک سکھ اور چند ہندو اُردو فارسی رسم الخط ميں لکھتےباقی ہندواردو کو سنسکرت رسم الخط ميں لکھ کر ہندی کہتے ۔ مزے کی بات ہے کہ اُنہيں ہر لفظ اور ہر حرف کی آواز اپنی ہندی ميں نہ ملتی تھی اور وہ پريشان ہوتے تھے ۔ سب سے بڑی بات يہ تھی کہ کوئی بھی سنسکرت پڑھ نہيں سکتا تھا

    ہميں پڑھايا گيا تھا کہ ١ ٢ ٣ ٤ ٥ ٦ ٧ ٨ ٩ ہندی کے ہندسے ہيں اور 1 2 3 4 5 6 7 8 9 انگريزی کے ہندسے ہيں ۔ آپ نے صفر کی بات کی ۔ صفر بطور ہندسہ ہندوؤں کی نہيں چينيوں کی ايجاد کہا جانا چاہيئے ۔ صفر کو قيمت دينا اور صفر ويسے لکھنا ميں فرق ہے ۔ اسی طرح ابيکس ہزاروں سال قبل چين ميں مستعمل تھا ۔ اسی سے گنتی اور جمع تفريق ضرب تقسيم کی جاتی تھی ۔ ابيکس ہی الخوارزم کی تحقيق کی بنياد بنا اور اُس نے اسے آگے بڑھا کر ايلوگرتھم اور الجبراء ايجاد کيا۔ چين کا عِلم عرب تاجروں کے ذريعہ نہ صرف عرب ميں پہنچا بلکہ يورپ ميں بھی پھيلا

    جس نصاب کی آپ بات کر رہے ہيں يہ دورِ حاضر کی پيدائش لگتا ہے ۔ جب يورپ والے دنيا ميں پھيل گئے تو اُنہوں نے جو کچھ عربی سے ترجمہ کر ليا وہ اپنے نام لکھ ليا اور تمام کُتب جلا ڈاليں ۔ يہی کچھ انگريزوں نے ہندوستان ميں کيا ۔ کم از کم 1940ء تک کوئی ہندو درزی ۔ لوہار ۔ بڑھئی [ترکھان] ۔ جولاہا نہيں ہوتا تھابلکہ ہندو کوئی ہُنر نہيں جانتا تھا يہاں تک کہ تنّور [تندور] ميں روٹياں بھی صرف مسلمان لگاتے تھے ۔ علمِ رياضی کی بات کريں تو ہندو صرف حساب ميں تيز ہوتے تھے جس ميں تجارت ۔ ملاوٹ ۔ سود اور نسبت تناسب کے سوال ہوا کرتے تھے ۔ الجبراء اور جيوميٹری ميں ہندو نالائق ہوتے تھے ۔ ہم مسلمان اس حساب سے بہت چڑتے تھے کہ ہميں سب ہيرا پھيری سکھائی جا رہی ہے

    کمال تو يہ ہے کہ ايک فيصد ہندو بھی سنسکرت نہيں جانتے اور جو جانتے تھے اُنہوں نے اپنی پرانی مذہبی کتابوں کے تراجم شايد جان بوجھ کر غلط کئے اور ايک نيا ہندو مت بنا ديا

  5. سعادت

    ۔۔۔ جسے لوگرتھم اور الو گرتھم کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔

    سر، جہاں تک میرے علم کا تعلق ہے، الخوارزمی کے نام سے اخذ کی جانے والی اصطلاح “ایلگورتھم” (algorithm) تھی، “لوگرتھم” نہیں، جیسا کہ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ جب میں نے ایلگورتھم کا نام سنا تھا تو میں اسے لوگرتھم ہی کا کوئی رشتہ دار سمجھا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ (ویسے لوگرتھم کا استعمال کبھی کبھار ایلگورتھمز کی پیچیدگی بیان کرنے کے لیے ضرور ہوتا ہے۔)

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سعادت صاحب
    آپ نے درست کہا ہے algorithm ہی ہے ميں اُردو ميں لکھنے ميں غلطی کر گيا ہوں ۔ دوسرا logrithm ہے وہ الگ چيز ہے اور اُس کا موجد بھی الخوارمی ہی ہے

  7. خرم

    الخوارزمی الجبرا کا موجد ہے اور یہ بات بالکل درست ہے۔ گنتی کے حروف کو تو عربی میں بھی ہندی اعداد کہا جاتا ہے غالباَ بالخصوص صفر کو۔ سو یہ کہنا کہ صفر کو الخوارزمی نے دریافت کیا غلط ہوگا لیکن اس سے خوارزمی کے علمی قدوقامت پر کوئی فرق نہیں‌پڑتا کہ انہوں نے پہلے سے معلوم کو استعمال کرتے ہوئے نئے علوم دریافت کئے۔ گنتی اور حساب کا ابتدائی علم مسلمانوں نے اہل ہند سے ہی سیکھا اور پھر اس میں‌ترقی کی۔ دونوں باتیں ہی درست ہیں‌اور انہیں اسی طرح ماننا بھی چاہئے۔ ویسے بھی جو ہند میں بستے تھے وہ ہمارے اجداد تھے اور اگر ان سے کوئی اچھا کام سرزد ہوا تھا تو اس کا اعتراف کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے :)

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    جہاں تک عرب ميں ہندسوں کو ہندی کہنے کا تعلق ہے ميں اين سعيد صاحب کے تبصرہ کے جواب ميں تفصيل لکھ چکا ہوں
    رہے ہند ميں ميرے اور آپ کے آباؤ اجداد تو اس کے متعلق آپ تحقيق کر ليں ۔ زيادہ احتمال يہی ہے کہ وہ افغان ۔ عراقی يا روسی ترکستانی ہوں گے
    :smile:

  9. arifkarim

    پس ثابت ہوا کہ افتخار بھائی کو ہندؤں سے چڑ ہے اسلئے انہوں نے یہ مضمون لکھا! :)

  10. ابن سعید

    @خرم: اقتباس
    ویسے بھی جو ہند میں بستے تھے وہ ہمارے اجداد تھے اور اگر ان سے کوئی اچھا کام سرزد ہوا تھا تو اس کا اعتراف کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔

    اگر وہ ہمارے اجداد نہ بھی ہوں “اور ان سے کوئی اچھا کام سرزد ہوا ہو” تو اس کا اعتراف کرنے میں ہمیں شرم نہیں کرنی چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)