سوتيلا بيٹا يا سوکن

بجلی کی ڈیمانڈ اورشارٹ فال کم ہونے کے باوجود لوڈ شيڈنگ کے دورانیہ میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں 11 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ۔ پیپکو کے اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی پیداوار 10 ہزار 3 سومیگا واٹ جبکہ موسم میں بہتری سے ڈیمانڈ کم ہوکر 14 ہزار 6 سو میگا واٹ پر آ گئی ہے اور شارٹ فال 4 ہزار 6 سومیگا واٹ ہوگیا ہے ۔ لاہور میں ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ آج 7 سے زائد گرڈ اسٹیشنز کو مرمت کے نام پر 10 گھنٹے سے زائد بند رکھا جا رہا ہے

Jang Online Updated at 1500 PST on April 19, 2010

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “سوتيلا بيٹا يا سوکن

  1. محمد ریاض شاہد

    ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ ‘واپڈا ” رکھتے تھے ۔
    آپ کا بلاگ کبھی کھولنے میں کامیاب ہو جاتا ہوں اور زیادہ تر محروم ہی رہتا ہوں ۔ کچھ اس کا علاج بحی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد رياض شاہد صاحب
    اگر مجھے درست ياد ہے تو آپ کے پاس پی ٹی سی ايل کا کنکشن ہے جو ميرے بلاگ کے ساتھ معاونت نہيں کرتا ۔ اگر ايک بار نہ کھلے تو کنٹرول اور ايف 5 اکٹھا دبايئے ۔
    آپ نے پی ٹی سی ايل والوں کو لکھا تھا اس کے متعلق ؟

  3. سعد

    جناب کنٹرول ایف بھی کام نہیں کرتا۔ میں نے گوگل ریڈر میں آپ کا بلاگ سبسکرائب کر رکھا ہے اور وہیں سے پڑھنے پر مجبور ہوں اور کمنٹ کرنے سے معذور۔

  4. محمد سعد

    السلام علیکم۔
    پی ٹی سی ایل کی طرف سے فراہم کی جانے والی ڈی این ایس سروس ہی بے کار ہے۔ اس کی جگہ گوگل یا اوپن ڈی این ایس کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں۔ باقی سب خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔
    روابط اگلے تبصرے میں آ رہے ہیں تاکہ سپیم میں جانے کی صورت میں معلوم ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)