پنجابی طالبان کيسے ؟

کیی قارئین نی بتایا تھا کہ پنجابی طالبان کیسے نہیں پڑھی جاتی . اب اسی دوبارہ اسی لئے شایع کیا ہے

اگر جنوبی وزيرستان کو بھارتی بيرونی فوجی چوکی جس ميں مذہبی رنگ ميں مُکتی باہنی موجود ہے کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ يہ قياس ہوائی يا مجذوب کی بڑ نہيں ہے بلکہ اطلاعات کی چھوٹی چھوٹی سينکڑوں کڑيوں سے ترتيب پاتی ہوئی حقيقت ہے جو پچھلے سالوں ميں مختلف انٹيليجنس ايجنسوں کو حاصل ہوئی ہيں

پورا مضمون يہاں کلک کر کے پڑھيئے

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “پنجابی طالبان کيسے ؟

  1. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شيپر صاحب
    مطلع کرنے کا شکريہ
    پچھلے ايک ہفتہ ميں ڈومين سرور نے خاصا پريشان کئے رکھا ۔ اب کچھ ٹھيک چل رہا ہے ۔ اللہ کرے درست رہے اور چلتا رہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)