Daily Archives: March 28, 2010

بشر ۔ عتاب اور ڈرامہ باز

ابھی سے ہے يہ حال تو آگے جانے کيا ہوئے

دوتين ہفتوں سے ميرا يہ بلاگ ميری قوم کی طرح اپنی مرضی کا مالک بنا ہوا تھا ۔ کبھی کھُلتا کبھی نہ کھُلتا ۔ وجہ سمجھ نہيں آ رہی تھی ۔ پانچ چھ روز قبل سرور کے مالک سے رابطہ کيا ۔ اُس نے بتايا کہ يہ مسئلہ ڈی اين ايس رُوٹِنگ [DNS Routing ] کا ہے ۔ امريکا ميں سارے سرور اَپ گريڈ کر ديئے گئے ہيں اور تمام آئی ايس پيز نے ڈومين کے سلسلہ ميں کچھ اپ گريڈ کرنا تھا ۔ جنہوں نے نہيں کيا اُنہيں استعمال کرنے والوں کو يہ مسئلہ درپيش ہے ۔ بہرحال اُس کے بعد دو دن ميرا بلاگ کھُلتا رہا پھر وہی ہَٹ ۔ ميں نے بہت سے دوستوں کو ای ميل ميں مدد کی درخواست کی تھی جس سے يہ بات سامنے آئی ہے کہ جن کا آئی ايس پی ہے پی ٹی سی ايل يا وہ جو پی ٹی سی ايل سے روٹ ہوتی ہے مثال کے طور پر ورڈ کال۔ آج صبح 7 بجے نہيں کھُلا تو رابطہ کيا تو اُسی وقت چالو ہو گيا ۔ مگر ۔ ۔ ۔ بجلی کا آوا گوَن شروع ہو گيا

جمعہ اور ہفتہ کی درميانی رات سے لاہور پر عتاب نازل ہو چکا ہے ۔ پيپکو ہی بجلی بند کرنے کيلئے کم نہ تھی کہ مرکزی حکومت کا ايک ہتھيار نيشنل پاور کنٹرول سينٹر نے لاہور شہر کے 18 اور لاہور کے مضافات کے 9 گرڈ سٹيشنوں کو بجلی کی سپلائی باوجود پيپکو کے منع کرنے کے بند کر دی ہوئی ہے جس کے نتيجہ ميں لاہور شہر ميں 24 گھنٹوں میں سے 18 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے وجہ بجلی کی کمی بتائی گئی ہے جبکہ اسلام آباد ميں 24 گھنٹوں ميں صرف 5 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے ۔ حالت يہ ہے کہ ايک گھنٹہ بجلی ہوتی ہے جس کے بعد ايک يا 2 يا 3 يا 4 گھنٹے بجلی نہيں ہوتی

شايد اسی سے عوام کی نظر ہٹانے کيلئے پچھلے ہفتے  کو مشہور ڈرامہ بازوں نے ايک منظر پيش کيا کہ اٹھارہويں آئينی ترميم پيش کی جا رہی ہے اور صدر صاحب جائنٹ سيشن سے خطاب کريں گے ۔ اس پر نواز شريف نے پريس کانفرنس کر ڈالی اور تمام توپوں کا رُخ نواز شريف کی طرف ہو گيا ۔ بادل چھٹے ہيں تو معلوم ہوا کہ اٹھارويں ترميم تو ابھی تيار ہی نہيں ہوئی کيونکہ مختلف سياسی جماعتوں کی طرف سے اُٹھائے گئے نقاط کا ابھی فيصلہ ہونا باقی ہے ۔ اٹھارويں ترميم اسمبلی ميں پيش کرنے اور صدر کے خطاب کی سمری وزيراعظم نے صدر کو بھيجنا ہوتی ہے اور وزيراعظم نے ايسی کوئی سمری نہيں بھيجی تھی

ہم عوام صرف اتنا ہی صدر صاحب اور اُن باقی اداکاروں سے کہہ سکتے ہيں ” اس دل سے کھيلتے ہو بار بار کس لئے “