<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ بُزدلی اور بہادری</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/comment-page-1/#comment-20880</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 11:25:25 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3571#comment-20880</guid>
		<description>احمد صاحب
آپ دوسرے کی بات ماننا بھی سيکھ ليں تو کوئی ہرج نہيں ۔ میں نے انجيئرنگ کا کورس لاہور ميں 1960ء ميں مکمل کيا تھا ۔ اب آپ بتايئے کہ آپ کس زمانہ کی بات کر رہے ہيں ؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>احمد صاحب<br />
آپ دوسرے کی بات ماننا بھی سيکھ ليں تو کوئی ہرج نہيں ۔ میں نے انجيئرنگ کا کورس لاہور ميں 1960ء ميں مکمل کيا تھا ۔ اب آپ بتايئے کہ آپ کس زمانہ کی بات کر رہے ہيں ؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: احمد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/comment-page-1/#comment-20879</link>
		<dc:creator>احمد</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 08:55:16 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3571#comment-20879</guid>
		<description>اجمل صاحب
آپکی بات ٹھیک ہوسکتی ہے۔ مگر بگاڑ تھا تو بلآخر بڑھتا گیا اور ناسور بن گیا
ہم نے اسکول سے لیکر کالج اور پھر یونیورسٹی تک جمیعت کے ساتھ وقت گزارا ہے
انجینرنگ کے بعد ملک چھوڑ گئے ( بخوشی نہیں (
ہم انکی ہر ترتیب کو جانتے ہیں، ساتھ کھایا پیا، کھیلے کودے اور جگہ جگہ ساتھ رہے مگر جو باتیں ہم نے پہلے تبصرے میں کی ہیں حرف با حرف درست ہیں
اللہ کے دین کا نام استعمال ہوتا ہے مگر زہن سازی دنیاوی ہوتی ہے، چیزوں پر ایمان بن رہا ہوتا ہے ۔صالح معاشرہ قائم کرنے والے لڑکیوں کہ چھیڑتے نظر آتے ہیں ، جعلی داخلے اور پتہ نہیں کیا کیا
اسی لیئے سابقہ جماعتی خاص کر صحافی بڑے بڑے فتنہ ور ثابت ہوئے ۔ جس طرح ہارون صاحب اور انکا مرشد اوٹ پٹانگ  کہتے رہتے ہیں۔ اس کالم پر بہت کچھھ کہنے کو دل کرتا ہے اور جس طرح کراچی میں رہ کر الطاف کے بارے میں بات کروتو چیلے سیخ پا ہوجاتے ہیں قوم و کراچی سب سے عاق کردیتے ہیں بلکہ بس چلتا ہے تو دنیا سے بھی چلتا کردیتے ہیں اسی طرح بلاگز پر جماعتیوں اور انکے محبوب بارے بات کرنا زمینی آفت ہے

ہمارا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعتی ٹکراؤ نورا کشتی تھی بس ایک اسے سیڑھی بنا کر اٹھا اور دوسرے اپنی بقا کی جنگ کراچی لڑ رہے تھے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اجمل صاحب<br />
آپکی بات ٹھیک ہوسکتی ہے۔ مگر بگاڑ تھا تو بلآخر بڑھتا گیا اور ناسور بن گیا<br />
ہم نے اسکول سے لیکر کالج اور پھر یونیورسٹی تک جمیعت کے ساتھ وقت گزارا ہے<br />
انجینرنگ کے بعد ملک چھوڑ گئے ( بخوشی نہیں (<br />
ہم انکی ہر ترتیب کو جانتے ہیں، ساتھ کھایا پیا، کھیلے کودے اور جگہ جگہ ساتھ رہے مگر جو باتیں ہم نے پہلے تبصرے میں کی ہیں حرف با حرف درست ہیں<br />
اللہ کے دین کا نام استعمال ہوتا ہے مگر زہن سازی دنیاوی ہوتی ہے، چیزوں پر ایمان بن رہا ہوتا ہے ۔صالح معاشرہ قائم کرنے والے لڑکیوں کہ چھیڑتے نظر آتے ہیں ، جعلی داخلے اور پتہ نہیں کیا کیا<br />
اسی لیئے سابقہ جماعتی خاص کر صحافی بڑے بڑے فتنہ ور ثابت ہوئے ۔ جس طرح ہارون صاحب اور انکا مرشد اوٹ پٹانگ  کہتے رہتے ہیں۔ اس کالم پر بہت کچھھ کہنے کو دل کرتا ہے اور جس طرح کراچی میں رہ کر الطاف کے بارے میں بات کروتو چیلے سیخ پا ہوجاتے ہیں قوم و کراچی سب سے عاق کردیتے ہیں بلکہ بس چلتا ہے تو دنیا سے بھی چلتا کردیتے ہیں اسی طرح بلاگز پر جماعتیوں اور انکے محبوب بارے بات کرنا زمینی آفت ہے</p>
<p>ہمارا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعتی ٹکراؤ نورا کشتی تھی بس ایک اسے سیڑھی بنا کر اٹھا اور دوسرے اپنی بقا کی جنگ کراچی لڑ رہے تھے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/comment-page-1/#comment-20873</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 05:47:27 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3571#comment-20873</guid>
		<description>احمد صاحب
ايک دو فرد نہيں پوری قوم ہی بدلی نظر آتی ہے ۔ جس زمانہ ميں ميں کالج ميں پڑھتا تھا اسلامی جميعتِ طلباء کے اراکين شرافت اور نيکی کی مثال ہوا کرتے تھے ۔ ميرا خيال ہے کہ میاں طفيل صاحب کے جماعت اسلامی کی امارت سے عليحدگی کے بعد اس ميں تبديلی شروع ہوئی ۔ ميں نے 1990ء کی دہائی ميں ايک انجيئر سے اس سلسلہ ميں سوال کيا تو کہنے لگے &quot;اجمل صاحب ۔ ميں کيا بتاؤں ۔ ان ميں بے شمار خودغرض شامل ہو چکے ہيں ۔ اسی لئے ميں پرے ہٹ گيا ہوں&quot;۔ يہ صاحب کالج يونيورسٹی کے زمانہ ميں اسلامی جميعتِ طلباء کے سرگرم رُکن تھے ۔ ہر کسی کی خدمت ان کا شعار تھا اور انجيئر بننے کے بعد جماعتِ اسلامی سے منسلک رہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ ان ميں اُس تنظيم کا اب نام عشرِ عشير بھی نہيں ہے جو اس جماعت کی نشانی ہوا کرتی تھی</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>احمد صاحب<br />
ايک دو فرد نہيں پوری قوم ہی بدلی نظر آتی ہے ۔ جس زمانہ ميں ميں کالج ميں پڑھتا تھا اسلامی جميعتِ طلباء کے اراکين شرافت اور نيکی کی مثال ہوا کرتے تھے ۔ ميرا خيال ہے کہ میاں طفيل صاحب کے جماعت اسلامی کی امارت سے عليحدگی کے بعد اس ميں تبديلی شروع ہوئی ۔ ميں نے 1990ء کی دہائی ميں ايک انجيئر سے اس سلسلہ ميں سوال کيا تو کہنے لگے &#8220;اجمل صاحب ۔ ميں کيا بتاؤں ۔ ان ميں بے شمار خودغرض شامل ہو چکے ہيں ۔ اسی لئے ميں پرے ہٹ گيا ہوں&#8221;۔ يہ صاحب کالج يونيورسٹی کے زمانہ ميں اسلامی جميعتِ طلباء کے سرگرم رُکن تھے ۔ ہر کسی کی خدمت ان کا شعار تھا اور انجيئر بننے کے بعد جماعتِ اسلامی سے منسلک رہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ ان ميں اُس تنظيم کا اب نام عشرِ عشير بھی نہيں ہے جو اس جماعت کی نشانی ہوا کرتی تھی</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/comment-page-1/#comment-20872</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 05:34:31 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3571#comment-20872</guid>
		<description>احمد صاحب
بات ايک آدمی کی نہيں قوم اکثريت کی ہے جسے اپنی انگلی ميں سوئی کی نوک چُبھنے کی بہت تکليف ہوتی ہے مگر دوسرے کا گلا کٹتے ديکھ کر خوشی ہوتی ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>احمد صاحب<br />
بات ايک آدمی کی نہيں قوم اکثريت کی ہے جسے اپنی انگلی ميں سوئی کی نوک چُبھنے کی بہت تکليف ہوتی ہے مگر دوسرے کا گلا کٹتے ديکھ کر خوشی ہوتی ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محمد ریاض شاہد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa%d9%8a%da%ba-%db%94-%d8%a8%d9%8f%d8%b2%d8%af%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c/comment-page-1/#comment-20871</link>
		<dc:creator>محمد ریاض شاہد</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Mar 2010 03:20:23 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3571#comment-20871</guid>
		<description>احمد شکریہ آپ نے ایک فکر انگیز کالم کی طرف نشاندہی کی ورنہ میں‌ ہارون صاحب کے اس کالم سے محروم رہتا ۔ بہت خوبصورت لکھا ہے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>احمد شکریہ آپ نے ایک فکر انگیز کالم کی طرف نشاندہی کی ورنہ میں‌ ہارون صاحب کے اس کالم سے محروم رہتا ۔ بہت خوبصورت لکھا ہے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

