<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: جشنِ عيد ميلادُالنبی کی تاریخ</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/comment-page-1/#comment-20926</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 13:03:56 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3574#comment-20926</guid>
		<description>محمد سعيد پالن پوری صاحب
ميں نے اس پر آج تک غور نہيں کيا ۔ ابھی کئی اور جھميلوں ميں پھنسا ہوں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محمد سعيد پالن پوری صاحب<br />
ميں نے اس پر آج تک غور نہيں کيا ۔ ابھی کئی اور جھميلوں ميں پھنسا ہوں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/comment-page-1/#comment-20924</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 12:48:28 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3574#comment-20924</guid>
		<description>محسود صاحب
آپ کا خيال درست ہيں ۔ آپ کی تحرير کا انتظار رہے گا</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>محسود صاحب<br />
آپ کا خيال درست ہيں ۔ آپ کی تحرير کا انتظار رہے گا</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: محسود</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/comment-page-1/#comment-20922</link>
		<dc:creator>محسود</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 14 Mar 2010 06:51:38 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3574#comment-20922</guid>
		<description>السلام علیکم!
میں انکل ٹام کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔
مزید یہ کہنا چاہوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا، &quot; آج کے دن میں نے دین مکمل کر دیا&quot;۔جس کے کچھ عرصہ بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
اس کا مطلب ہوا کہ ہمارا دین، دین اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے۔
اور بدعت ہر وہ عمل ہے جو کہ ثواب کی نیت سے دین کا حصہ سمجھ کر کیا جائے مگر دین کا حصہ نہ ہو، وہ دین کہ جس کو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے مکمل کر دیا ہو۔
اب اگر یہ سمجھا جائے کہ تمام لوگ اس کو ثواب کی نیت سے کرتے یا مناتے ہیں غلط ہو گا۔
بہت سے لوگ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے مناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بارے میں پھر کبھی وضاحت کروں گا، یہاں یا پھر اپنے بلاگ پر۔۔۔۔۔انشاءاللہ
 ابھی ذرا جلدی میں ہوں، 
فی امان اللہ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>السلام علیکم!<br />
میں انکل ٹام کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔<br />
مزید یہ کہنا چاہوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا، &#8221; آج کے دن میں نے دین مکمل کر دیا&#8221;۔جس کے کچھ عرصہ بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔<br />
اس کا مطلب ہوا کہ ہمارا دین، دین اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے۔<br />
اور بدعت ہر وہ عمل ہے جو کہ ثواب کی نیت سے دین کا حصہ سمجھ کر کیا جائے مگر دین کا حصہ نہ ہو، وہ دین کہ جس کو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے مکمل کر دیا ہو۔<br />
اب اگر یہ سمجھا جائے کہ تمام لوگ اس کو ثواب کی نیت سے کرتے یا مناتے ہیں غلط ہو گا۔<br />
بہت سے لوگ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے مناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br />
اس بارے میں پھر کبھی وضاحت کروں گا، یہاں یا پھر اپنے بلاگ پر۔۔۔۔۔انشاءاللہ<br />
 ابھی ذرا جلدی میں ہوں،<br />
فی امان اللہ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: انکل ٹام</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/comment-page-1/#comment-20919</link>
		<dc:creator>انکل ٹام</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Mar 2010 17:50:15 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3574#comment-20919</guid>
		<description>دین میں  ثواب کے لیے  ایجاد کی گئی ہر وہ چیز جس کی اصل خیر القرون میں نہ ہو بدعت کہلاتی ہے ، اور اس بدعت کے بارے میں‌ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں‌ لیجانے والی ہے ۔ &quot;جشن میلاد&quot; کی کوی بھی اصل خیر القرون میں نہیں ملتی ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>دین میں  ثواب کے لیے  ایجاد کی گئی ہر وہ چیز جس کی اصل خیر القرون میں نہ ہو بدعت کہلاتی ہے ، اور اس بدعت کے بارے میں‌ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمانا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں‌ لیجانے والی ہے ۔ &#8220;جشن میلاد&#8221; کی کوی بھی اصل خیر القرون میں نہیں ملتی ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: وھاج الدین احمد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2010/03/%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%b9%d9%8a%d8%af-%d9%85%d9%8a%d9%84%d8%a7%d8%af%d9%8f%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/comment-page-1/#comment-20918</link>
		<dc:creator>وھاج الدین احمد</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Mar 2010 17:45:03 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3574#comment-20918</guid>
		<description>جب ضروريات اسلام سے فراغت پا کر مسلمان اپنی حکومت اور اسلامی ترقيات سے بہرہ ور ہو کر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے اور غير اقوام کے ميل جول نے ان کو اس عمل کی طرف مجبور کيا کہ جس طرح وہ لوگ اپنے اسلاف کی يادگاريں قائم کرتے ہيں اسی طرح ان کے دوش بدوش مسلمان بھی اسلامی شان و شوکت کا اظہار کريں

محترم رقم طراز صاحب کی اس بات سے تو مجھے اتفاق ھے کہ غیر اقوام کے میل جول نے اس عمل کی طرف مجبور کیا
مگر &quot;آرام کی زندگی&quot; والی بات سے اتفاق نھیں۔ مسلمان اپنی روایات کھو بیٹھے اور ترقی علوم سے غافل ہو گیے اور طرح طرح کے نئےاسلامی تہوار نکالے اور اس مین وقت کے ساتھ ساتھ غلو بڑھتا گیا ہے حال ھی میں علامہ اقبال رح کا یہ شعر نظر سے گزرا
تو معنیء والنجم نہ سمجھا تو عجب کیا-- ہے مد و جزر تیرا ابھی چاںد کا محتاج
ھم دوسروں کی تفسیرون اور تا ویلوں پر توجہ رکھتے ھیں خود سوچنا چھوڑ دیا ھے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جب ضروريات اسلام سے فراغت پا کر مسلمان اپنی حکومت اور اسلامی ترقيات سے بہرہ ور ہو کر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے اور غير اقوام کے ميل جول نے ان کو اس عمل کی طرف مجبور کيا کہ جس طرح وہ لوگ اپنے اسلاف کی يادگاريں قائم کرتے ہيں اسی طرح ان کے دوش بدوش مسلمان بھی اسلامی شان و شوکت کا اظہار کريں</p>
<p>محترم رقم طراز صاحب کی اس بات سے تو مجھے اتفاق ھے کہ غیر اقوام کے میل جول نے اس عمل کی طرف مجبور کیا<br />
مگر &#8220;آرام کی زندگی&#8221; والی بات سے اتفاق نھیں۔ مسلمان اپنی روایات کھو بیٹھے اور ترقی علوم سے غافل ہو گیے اور طرح طرح کے نئےاسلامی تہوار نکالے اور اس مین وقت کے ساتھ ساتھ غلو بڑھتا گیا ہے حال ھی میں علامہ اقبال رح کا یہ شعر نظر سے گزرا<br />
تو معنیء والنجم نہ سمجھا تو عجب کیا&#8211; ہے مد و جزر تیرا ابھی چاںد کا محتاج<br />
ھم دوسروں کی تفسیرون اور تا ویلوں پر توجہ رکھتے ھیں خود سوچنا چھوڑ دیا ھے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

