انعام نہيں نام
873 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Mar 01 2010
پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صوبائی صدر و رکن اسمبلی ثمینہ رزاق اور صوبائی وزیر غزالہ اشفاق گولہ نے رکشے میں پیدا ہونے والے نومولود بچے کے گھر جا کر اس کے والد مومن خان کو 5 لاکھ روپے کی امداد دی
بچے کے والد مومن خان نے بتایا ہے کہ ہم نے بچے کا نام ظفر خان رکھا تھا صوبائی وزیر نے کہا کہ صدر صاحب کی خواہش ہے کہ اس کا نام آصف خان رکھا جائے تو ہم نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے نام آصف خان رکھ دیا ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں 5 لاکھ رقم دے دی بعد میں ہم سے رقم لے لی کہ یہ ہم بینک میں رکھیں گے آپ کے پاس چوری ہو جائیں گے یا غلط خرچ کرلیں گے اور ہمیں 10 ہزار روپے دے کر باقی رقم وہ ساتھ لے گئیں ہیں
بشکريہ ۔ جنگ يکم مارچ 2010ء

Mar 01 2010 بوقت 12:54 PM
ابھی تو اور بھی بہت سی باتیں سامنے آئیں گی
Mar 01 2010 بوقت 1:18 PM
بڑے سیانے هیں جی اپنے زرداری صاحب ، پیسے کے معاملے میں
Mar 02 2010 بوقت 1:27 AM
کل کو خبر آئے گی بچے نہ یہ رقم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے وقف کردی :D
Mar 02 2010 بوقت 2:55 AM
ہاہاہا افتخار جی یہ پاکستانی قوم ہے کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ مومن خان مومن کو خدا کا شکرادا کرنا چاہے کہ خواتین بچہ ساتھ نہیں لے گیں یہ کہہ کر کہ اب اس کا نام آصف خان ہے ،ہمارے صدر کی خواہش ہے کہ یہ بچہ اسکے گھر میں بڑا ہو
Mar 02 2010 بوقت 9:56 AM
مزید یہ کہ وہ رقم سرکاری خزانے سے جاری کی گئی۔
Mar 02 2010 بوقت 1:41 PM
دس ہزار بھی زیادہ ہو گئے! ابھی وہ دوبارہ واپس آ کے یہ نہ کہہ دے کہ تم رکشے کا کرایہ رکھ لو اور باقی پیسے واپس کر دو۔
Mar 02 2010 بوقت 8:59 PM
اگر تو خبر یونہی ہے تو لعنت ہے ایسی حکومت پہ
Mar 02 2010 بوقت 9:06 PM
مرادر خور گدھ بھی جب پیٹ بھر لے تو مذید کھانے سے گریز کرتا ہے مگر پُرتعفن ذہنیت کا لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا۔غریب عوام کے پیسے کو مالِ مفت قرار دے کر بندر بانٹ کرتے ہوئے ایسے تماشوں میں اپنی تصویریں یا خبریں لگوانے والوں کا اسمیں جسقدر قصور ہے ۔ اس سے زیادہ پاکستانی اداروں ، زمہ داران اور عوام کا ہے کہ ایسے مردار خوروں کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔؟ مذید افسوس اس لئیے بھی کہ پوری قوم ہی بہ حیثیت اجتماعی بے حس ہوچکی۔
Mar 13 2010 بوقت 10:56 PM
ہی ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔ چلیں مفت میں 10 ہزار ہی مل گیا ۔