چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ فاتح
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 07 Feb 2010
انجنیئرنگ کالج لاہور میں ہمارا ہمجماعت ” ز ” تھا ۔ اُس کا خاندان 1947ء میں یوپی سے ہجرت کر کے آیا تھا اور کراچی میں رہائش اختیار کی تھی ۔ لڑکا شریف اور محنتی تھا ۔ اُس کے متعلق مشہور تھا کہ اُس سے بحث میں سب ہار جاتے ہیں
ہمارا آخری سال شروع ہونے والا تھا گرمیوں کی چھٹیاں گذار کر واپس ہوسٹل پہنچے تھے ۔ پڑھائی دو دن بعد شروع ہونا تھی ۔ میرے کمرے میں دس بارہ ہمجماعت کرسی میز اور چارپائی پر بیٹھے تھے اور خوش گپیاں ہو رہی تھیں
ایک بولا ” ‘ ز ‘ یار اب آخری سال شروع ہو رہا ہے ۔ راز تو بتاؤ تم سب کو بحث میں کیسے مات دیتے ہو ؟”
پھر کيا تھا سب باری باری مطالبہ کرنے لگے ۔ ایک ساتھی بولا ” یہ کراچی کی ٹریننگ ہے ”
آخر ” ز ” کہنے لگا ” سُنو ۔ اس کا کراچی سے کوئی تعلق نہیں ۔ تم سب بیوقوف ہو ”
اس پر شور مچ گیا ۔ میں نے سب کو چُپ کرایا اور کہا ” یار پوچھتے ہو تو پھر سُنو بھی ”
سب خاموش ہو گئے تو ” ز ” نے کہا ” میں یہ کہا چاہ رہا تھا کہ سب کو بیوقوف سمجھو اور بولتے جاؤ ۔ دوسرے کو بولنے کا موقع نہ دو ۔ اگر کوئی لاہور کی بات کرے کراچی کی بات کرو ۔ کراچی کی بات شروع کرے تو پشاور کی بات شروع کر دو ”
پچھلے دو تین ماہ سے مجھے ” ز ” بہت یاد آ رہا ہے ۔ کیسی پتے کی بات کی تھی اُس نے
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں



