مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 03 Feb 2010
تین دن سے جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد گذشتہ رات رینجرز کو کراچی کے 26 تھانوں کی حدود میں کارروائی کااختیار دیا گیا تھا ۔ کچھ دیر قبل رینجرز کو پورے کراچی میں کارروائی کے اختیار دے دیئے گئے ہیں جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ یہ اختیار ملنے کے بعد رینجرز پولیس کے طرح ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کرسکے گی ۔ مزید براں کراچی میں دفعہ144نافذ کرکے اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی بھی عائد کردی گئی ہے ۔ بمطابق جنگ اس سے قبل تیس سال پہلے رینجرز کو اس طرح اختیارات دئیے گئے تھے
زمرہ : خبر | 2 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 03 Feb 2010
ہاں ۔ ایک ٹیلیفون کال جو میں آج تک نہیں بھُلا سکا ۔ محمد خُرم بشیر بھٹی صاحب نے پردیسی کی روداد بیان کی ۔ غیر ملک میں ایک پاکستانی کی کیفیت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے
یہ واقعہ ہے 1983ء یا 1984ء کا ہم لبیا سے واپس آ چکے تھے اور راولپنڈی سیٹیلائیٹ ٹاؤن اپنے گھر میں رہائش پذیر تھے ۔ میں روزانہ راولپنڈی سے واہ نوکری پر جاتا اور آتا تھا کیونکہ واہ میں ابھی سرکاری رہائشگاہ نہ ملی تھی ۔ عید کا دن تھا ۔ نماز پڑھ کر واپس آیا ہی تھا کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ ٹیلیفون اُٹھا کر السلام علیکم کہا تو آواز آئی “میں بہت دیر سے لاہور ٹیلیفون کر رہا ہوں”
میں نے بات کاٹ کر کہا “یہ تو راولپنڈی ۔۔۔”
ابھی میرا فقرہ پورا نہ ہوا تھا کہ اس نے منت کے لہجہ میں کہا ” ٹیلیفون بند نہ کریں ۔ میں امریکہ سے بول رہا ہوں ۔ میرا گھر لاہور میں ہے ۔ آج عید ہے میرا بہت دل چاہا کہ اپنے شہر کے کسی آدمی سے بات کروں ۔ کئی گھنٹے کوشش کے باوجود کسی سے بات نہ ہو سکی پھر میں نے یونہی یہ نمبر ملایا تو مل گیا ۔ بس آپ باتیں کیجئے اور مجھے میرے وطن اور میرے شہر کا بتایئے”
میں اس کے ساتھ کافی دیر باتیں کرتا رہا ۔ بالآخر میں نے اُسے کہا ” مجھے لاہور اپنے گھر کا ٹیلیفون نمبر یا پتہ لکھا دیں ۔ میں آپ کے گھر والوں کو آپ کا سلام اور عید مبارک پہنچا دوں گا ”
وہ کہنے لگا ” میرے والدین اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور میرا کوئی سگا بہن بھائی نہیں ۔ میں کس کو پیغام بھیجوں ؟ اپنے شہر کے کسی آدمی سے باتیں کرنا چاہتا تھا ۔ آپ سے باتیں کر کے میرے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے اور میرے وطن کو بھی سلامت رکھے”
زمرہ : آپ بيتی, مجبوری, یادیں | 9 تبصرے »