اظہارِ خيال کيجئے

مندرجہ ذيل خبر پر حقائق اور مُستند اعداد و شمار کے ساتھ اظہارِ خيال کيجئے
انتباہ ۔ جوشيلی يا جذباتی تقارير سے پرہيز کيجئے کہ یہ بے سود ہوں گی

حقيقت ۔ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع کی ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے اور ان میں شامل مختلف روایات، منفرد انداز فکر اور ان کا اظہار بہتر مستقبل کے بیش قیمتی ذرائع بھی ختم ہو جاتے ہیں

خبر ۔ عالمی سطح پر بیشتر زبانوں کو لاحق خطرات میں یا تو اضافہ ہو رہا ہے یا وہ ناپید ہوچکی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی 36 فیصد مادری زبانوں کے خاتمے کا خطرہ ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پنجابی دنیا میں بولی جانے والی بارہویں اور اردو بيسویں بڑی زبان ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں چینی، ہسپانوی، انگریزی، عربی، ہندی اور بنگالی ہیں

مکمل مضمون يہاں پڑھيئے

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

15 thoughts on “اظہارِ خيال کيجئے

  1. عبداللہ

    ثابت یہ ہوا کہ پنجابی خاندانی منصوبہ بندی کو نہ ماننے والوں میں بارہویں نمبر پر ہیں :-P
    اب اسے لائٹ وے میں لینے کے بجائے پنجابی فوبیا میں نہ ڈال دیجیئے گا :)

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ نے ہمیشہ کی طرح گيدڑوں میں ہرن پہچان ليا ہے ۔ يہ خاندانی منصوبہے بندی کيوں آپ کے سر پر سوار ہو گئی ہے ؟ ميں نے جس جبر پر بحث کرنے کا کہا ہے وہ متنازيہ ہے ۔ عبارت ذرا غور سے پڑھيئے اور اپنے علمی خزانے سے مستفيد فرمايئے ۔ آپ کو احساس ہی نہيں ہوا کہ آپ کی اور ميری مادری زبان [اُردو] کے ساتھ زيادتی کی گئی ہے ۔ اس کا محرک کيا ہو سکتا ہے

  3. عبداللہ

    اس کا محرک یہی ہے کہ اردو بولنے والے انگریزی بول رہے ہیں،اور پنجابی بولنے والے اردو،آنکھوں دیکھا ھال ہے کہ ماں باپ اردو اسپیکنگ بچے انگلش اسپیکنگ اسی طرح ماں باپ پنجابی اسپیکنگ بچے اردو اسپیکنگ:)
    ویسے زبانوں میں کیا رکھا ہے بات کرنے کا ڈھنگ آنا چاہیئے:)

  4. خرم

    انکل جی اردو مادری زبان تو واقعتاً بہت کم آبادی کی ہے لیکن سمجھی زیادہ جاتی ہے۔ پاکستان میں اردو سمجھنے اور بولنے والے غالباَ 70 فی صد ہوں گے لیکن اردو مادری زبان شائد 5 فی صد کی بھی نہ ہو۔ یہی حال بھارت اور دیگر ممالک کا بھی ہوگا۔ سو یہی فرق غالباَ ملحوظ رکھا گیا ہے اس خبر میں جو قرین از حقیقت معلوم پڑتا ہے۔

  5. کنفیوز کامی

    یہ جس کو ہندی کہتے ہیں وہ تو ہندوستانیوں کو خود نہیں آتی اصل میں اردو ہی سب سے ذیادہ بولی جاتی ہے جس کا ثبوت یو اے ای ہے جہاں انڈیا کے ہر علاقے کا بندہ اردو بولتا اور سمجھتا ہے یہ رپورٹ سو فیصد درست نہیں ایسی گھٹیا رپورٹ کسی انڈین نے ہی بنائی ہو گی جیلسی کہیں کے ۔
    عبداللہ کبھی تو اپنی نہیں اپنے نام کی لاج رکھ لیا کرو ۔ :-P

  6. عبداللہ

    کنفیوز کامی اس میں نام کی لاج رکھنے والی کیا بات ہے :roll:
    آپ بھی کہہ دیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو نہ ماننے والوں میں اردو بولنے والے بیسویں نمبر پر ہیں،میں تو برا نہیں مانوں گا، 8)
    گوکہ اردو میری فادری ذبان ہے :-P

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    اللہ کا شکر ہے کہ آپ کے متعلق ايک بات تو معلوم ہوئی کہ آپ کی مادری زبان سندھی ہے اور ہاں ميں غلطی سے قومی زبان کی بجائے مادری زبان لکھ گيا تھا ۔ قومی زبان ميری اور آپ کی بلکہ ہر پاکستانی کی اُردو ہے ۔ اُميد ہے آپ نے ميری تحرير بعنوان ” پنجابی کوئی زبان نہيں ” پڑھا ہو گا ۔ اگر نہيں پڑھا یا پڑھا بھی تھا تو اسے اسے ايک بار پھر پڑھ ليجئے ۔ اس ربط پر ہے
    http://www.theajmals.com/blog/2009/11/05
    اپنے ای ميل کے پتہ کی تصديق بھی کر ديں تو جب کبھی آپ سے ايسی بات کرنا ہو جس کا صرف آپ سے تعلق ہو تو ای ميل بھيجی جا سکتی ہے
    اب آتے ہيں اس خبر کی طرف جس کا آپ نے ربط ديا ہے ۔ کوئی مرد بننا چاہے يا عورت بننا چاہے يا ہيجڑہ تو يہ اس کا انفرادی معاملہ ہے کسی کو اس پر اعتراض نہيں ہونا چاہيئے سوائے اس کے کہ وہ قانون کے خلاف یا مسلمان ہوتے ہوئے دين اسلام کے خلاف کوئی بات يا فعل کرے ۔ اس خبر میں قابل غور بات يہ ہے کہ عدالت سے کيوں اجازت مانگی ۔ اگر وہ قدرتی طور پر نامکمل عورت ہے اور جراحی سے عورت بن سکتی ہے تو اس کا فيصلہ جراح کرتا ہے ۔ اگر جراح کہتا ہے کہ ايسا نہيں ہو سکتا تو پھر وہ شخص کوئی غيرقانونی فعل کرنا چاہتا ہے جس کيلئے وہ ہيراپھيری سے قانونی تحفظ حاصل کر کے سب کيلئے اس غير قانونی اور غيرفطری فعل کو قانونی بنانا چاہتا ہے جيسے کہ يورپ اور امريکہ ميں ہے

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    ميں قومی کی بجائے غلطی سے مادری زبان لکھ گيا تھا ۔ اُردو پاکستان کے 95 فيصد لوگ سمجھتے ہيں اور ٹھيک نہيں تو ٹوٹی پھوٹی بول بھی ليتے ہيں ۔ اصل معاملہ يہ ہے کہ ہندی بذاتِ خود کوئی زبان نہيں ۔ بھارت کے ہندوؤں نے اُردو کو ہندی کا نام دے کر اتنا پروپيگنڈہ کيا ہے کہ ان کا جھوٹ سچ بن گيا ۔ ہماری بدقسمتی يہ ہے کہ نہ حکمران ملک و قوم کيلئے کچھ کرتے ہيں اور نہ قوم کے افراد ۔ جسے ديکھو وہ بھارتی مصنوعات خريد رہا ہے اور بھارتی فلمیں ديکھتا ہے جب کہ ہندو پاکستان کی کوئی چيز ديکھنا گوارہ نہيں کرتا سوائے غير ممالک سے بھارت واپس جاتے ہوئے کراچی سے سونا خريدنے کے

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    کامران صاحب
    آپ کنفيوز نہيں ہيں ۔ ہندی کوئی زبان نہيں ہے جسے ہندو ہندی کہتے ہيں وہ دراصل اُردو ہے جسے سنسکرت کا تڑکا لگانے کی کوشش ہوتی رہتی ہے

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    ذرا تشریح تو کيجئے کہ خاندانی منصوبہ بندی ہوتی کيا ہے ؟ اگر خاندانی منصوبہ بندی کا مطلب بچے کم پيدا کرنا ہے تو معاشرتی منصوبہ بندی کا مطلب معاشرت کی تباہی کرنا نہيں ہو گا ؟
    يہ فادری زبان کيا ہوتی ہے ؟
    کسی شخص کی مادری زبان وہ ہوتی ہے جس زبان مین وہ سب زبانوں سے زيادہ دسترس رکھتا ہو ۔ نہ کہ جو اس کی ماں کی زبان ہو

  11. محمد سعید پالن پوری

    یہ رپورٹ سو فیصد درست نہیں ایسی گھٹیا رپورٹ کسی انڈین نے ہی بنائی ہو گی جیلسی کہیں کے ۔۔ کنفیوز کامی

    کامی بھائی کچھ توہمارا خیال کیجئے :) بعض باتیں نجی محفل میں چل جاتی ہیں لیکن بین الاقوامی محفل پراگرانکا کہنا ناگزیرہوتوانتخاب الفاظ میں احتیاط سے کام لیا جاتا ہے

  12. محمد سعید پالن پوری

    افتخار اجمل صاحب!
    مادری زبان کا سروے وقت زبان کو بولنے اور سمجھنے کے ساتھ اس کے رسم الخط سے واقف ہونے کو بھی ماہرین شامل کرتے ہیں یا نہیں؟مجھے اس بارے میں معلوم نہیں۔اگر شامل کرتے ہوں تو پھر مجھے رپورٹ پر کوئی تعجب نہیں،کیونکہ میں ہندستان کی حد تک مسلمانوں ہی میں اکثریت ایسے لوگوں کی دیکھتا ہوں جو اردو بولتے سمجھتے ہیں مگر اس کے رسم الخط سے واقف نہیں ہوتے اور یہی لوگ ہندی رسم الخط سے واقف ہوتے ہیں۔ تو ایسے لوگ اردو کے خانے میں جائیںگے یا ہندی کے؟

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد سعید پالن پوری صاحب
    جب مادری زبان کہا جاتا ہے تو لکھنا پڑھنا شامل نہں ہوتا اس طرح تو اَن پڑھ لوگ شامل نہيں کئے جائيں گے ۔ اس کيلئے صرف سمجھنا اور بولنا ضروری ہوتا ہے

  14. محمد سعید پالن پوری

    جب مادری زبان کہا جاتا ہے تو لکھنا پڑھنا شامل نہں ہوتا اس طرح تو اَن پڑھ لوگ شامل نہيں کئے جائيں گے ۔ اس کيلئے صرف سمجھنا اور بولنا ضروری ہوتا ہے

    معلومات میں اضافہ کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سمجھ میں آیا کہ ہندی اتنے اوپر کیوں گئی کیونکہ یوہی بہارمیں مسلمانوں سمیت آپ جس سے بھی پوجھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چند ہزار کے استثناء کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ آپ کی مادری زبان کونسی ہے تو اس کا برجستہ اور پہلا جواب ہندی ہی ہوگا،اور یہ دونوں صوبے مل کر ہندی کا گراف کہیں سے کہیں پہنچھا دیں گے۔ اب چاہے ہم یہاں بیٹھ کریہ بحث کرتے رہیں کہ ہندی کوئی الگ زبان ہے یا اردو ہی کا بگڑا ہوا ورزن ہے،یا یہ کسی پروپیگنڈے کا اثر ہے یا کسی سازش کا،لیکن اس سے زمینی سطح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)