سندھ کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ یوم عاشور پر بم دھماکے کے بعد لوٹ مار اور آگ لگانے والوں پر اگر پولیس یا رینجرز فائرنگ کرتی اور 6 لاشیں بھی گر جاتیں تو آج پورا پاکستان جل رہا ہوتا اور آج پورا پاکستان بند ہوتا‘
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ پولیس اور رینجرز کے اہلکار موجود تھے لیکن انہوں نے لوٹ مار کرنے اور آگ لگانے والے شرپسندوں کو گولی کیوں نہیں ماری؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ شرپسند بھی عزاداروں کی طرح کالے کپڑوں میں تھے اور کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں علم جیسی چیزیں تھیں‘ ایک طرف تو بم دھماکے میں لوگ شہید ہوگئے تھے دوسری طرف پولیس یا رینجرز کی گولیوں سے صرف چھ لاشیں بھی گرجاتیں تو صورتحال اور زیادہ خراب ہوجاتی
[خیال رہے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ بم دھماکے کے بعد آگ لگانے اور لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف اگر پولیس اور رینجر کاروائی کرتے تو نقصان سے بچا جا سکتا تھا ۔ اور عینی شاہدین کے مطابق بلوہ کرنے والے عزاداروں میں سے نہیں تھے]