سوچنے کی بات
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Dec 2009
محمد خُرم بشیر بھٹی صاحب نے ایک پُرمغز تحریر لکھی ہے جس کا بالخصوص مندرجہ ذیل حصہ دعوتِ فکر دیتا ہے
اب اولاد کی پرورش ایک بائی پراڈکٹ [byproduct] ہے۔ ایک ڈھول جو گلے میں پڑے تو بجانا ہی پڑتا ہے۔ ایک ایسا کام جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ہر کوئی ہر کام کرنا چاہتا ہے اور کوئی بھی اپنا کام نہیں کرنا چاہتا۔ اولاد کی پرورش وقت کا ضیاع ہے، اہلیت کا ضیاع ہے۔ ایک ماں ہونا۔ صرف ماں ہونا تو مانو ایک گالی ہے۔ کہ لوجی تمام عمر کچھ نہیں کیا؟؟ بچے پیدا کرنا بھی کوئی کمال ہے؟؟ سب کرتے ہیں اور پال بھی لیتے ہیں۔انسان کو اپنا کیریئر بنانا چاہئے۔ رہے بچے تو وہ پہلے تو دس بارہ برس ہونے ہی نہیں چاہئیں کہ یہی وقت ہوتا ہے کیرئیر بنانے کا۔ پھر جب ہو گئے تو کچھ عرصہ آیاؤں کے سپرد، پھر دو برس کے ہوئے تو سکول والوں کے سپرد اور بس۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ پل بھی جائیں گے، پڑھ بھی جائیں گے اور سیکھ بھی جائیں گے جو دنیا کا رواج ہے۔ ویسے بھی یہ سب انہی کے لئے تو ہے۔ ہم نے کونسا ساتھ لے جانا ہے؟ اور ویسے بھی بندہ محتاج نہیں ہوتا جب خود کماتا ہے۔ رُعب رہتا ہے سسرال میں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اور جہاں اتنی ساری “میں میں اور صرف میں” ہو وہاں تو کوئی بھی پرخلوص رشتہ پروان نہیں چڑھ سکتا چہ جائکہ ماں ایسا رشتہ جو تمام رشتوں میں سب سے مقدس کہ خالق نے جب مخلوق سے اپنی محبت کی مثا ل دینا چاہی تو ماں کی محبت کو پیمانہ بنایا۔
بات وہیں پر آ جاتی ہے جیسا شاعرِ مشرق اور مفکر علامہ اقبال نے کہا
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر
زمرہ : روز و شب | 16 تبصرے »
