What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے December 28th, 2009

صرف کراچی میں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 28 Dec 2009

ملک میں دھماکے روز کا معمول بن چکے ہیں ۔ جب کہیں دھماکہ ہوتا ہے مقامی لوگ دھماکے کی جگہ پہنچ جاتے ہیں کچھ نظارہ کرتے ہیں اور کچھ متاءثرین کی امداد شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتے

آج کراچی میں دھماکا ہوا ہے صوبائی وزیر ڈاکٹر صغیر کے مطابق20افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور 45 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ بہت دکھ کی بات ہے لیکن کراچی کے لوگوں کا طرزِعمل نرالا ہے

کراچی میں دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے شدید ہنگامہ آرائی کی ہے اور متعدد گاڑیاں نذر آتش کر دی ہیں جبکہ ایم اے جناح روڈ پر واقع لائٹ ہاؤس مارکیٹ کے لنڈا بازار کونذرآتش کر دیا ہے ۔ سٹی کورٹ کے اطراف کھڑی متعددگاڑیوں کو مشتعل افراد نے آگ لگا دی ہے ۔ نذر آتش کی جانے والی ایک عمارت میں لوگ بھی پھنس گئے ہیں ۔ نمائش،ملیر،جعفر طیار سوسائٹی، ایم اے جناح روڈ پر جلاؤ گھیراؤ کی اطلاعات ہیں ۔ نامعلوم افراد کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور465 دکانیں 68 گاڑیاں اور مختلف املاک کو نذرآتش کردیا گیا جلائی جانے والی گاڑیوں میں ایدھی ایمبولینس،کے ای ایس سی اور پولیس موبائل بھی شامل ہیں

زمرہ : خبر | 23 تبصرے »

انوکھا بِیج

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 28 Dec 2009

ایک تاجر اپنی محنت سے کامیاب ہوا اور ایک بہت بڑے ادارے کا مالک بن گیا ۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اُس نے ادارے کے ڈائریکٹروں میں سے کسی کو اپنا کام سونپنے کی دلچسپ ترکیب نکالی ۔ اُس نے ادارے کے تمام ڈائریکٹروں کا اجلاس طلب کیا اور کہا “میری صحت مجھے زیادہ دیر تک اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی اجازت نہیں دیتی اسلئے میں آپ میں سے ایک کو اپنی ذمہ داریاں سونپنا چاہتا ہوں ۔ میں آپ سب کو ایک ایک بِیج دوں گا ۔ اسے بَونے کے ایک سال بعد آپ اس کی صورتِ حال سے مطلع کریں گے جس کی بنیاد پر میں اپنی ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کروں گا”

کچھ عرصہ بعد سب ڈائریکٹر اپنے بیج سے اُگنے والے پودوں کی تعریفیں کرنے لگے سوائے زید کے جو پریشان تھا ۔ وہ خاموش رہتا اور اپنی خِفت کو مٹانے کیلئے مزید محنت سے دفتر کا کام کرتا رہا ۔ دراصل زید نے نیا گملا خرید کر اس میں نئی مٹی ڈال کر بہترین کھاد ڈالی تھی اور روزانہ پانی بھی دیتا رہا تھا مگر اس کے بیج میں سے پودا نہ نکلا

ایک سال بعد ادارے کے سربراہ نے پھر سب ڈائریکٹرز کا اجلاس بلایا اور کہا کہ سب وہ گملے لے کر آئیں جن میں انہوں نے بیج بویا تھا ۔ سب خوبصورت پودوں والے گملوں کے ساتھ اجلاس میں پہنچے مگر زید جس کا بیج اُگا نہیں تھا وہ خالی ہاتھ ہی اجلاس میں شامل ہوا اور ادارے کے سربراہ سے دُور والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ اجلاس شروع ہوا تو سب نے اپنے بیج اور پودے کے ساتھ کی گئی محنت کا حال سنایا اس اُمید سے کہ اسے ہی سربراہ بنایا جائے

سب کی تقاریر سننے کے بعد سربراہ نے کہا “ایک آدمی کم لگ رہا ہے”۔ اس پر زید جو ایک اور ڈائریکٹر کے پیچھے چھُپا بیٹھا تھا کھڑا ہو کر سر جھکائے بولا “جناب ۔ مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں نے کیا مگر میرے والا بیج نہیں اُگا”۔ اس پر کچھ ساتھی ہنسے اور کچھ نے زید کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا

چائے کے بعد ادارے کے سربراہ نے اعلان کیا کہ اس کے بعد زید ادارے کا سربراہ ہو گا ۔ اس پر کئی حاضرین مجلس کی حیرانی سے چیخ نکل گئی ۔ ادارے کے سربراہ نے کہا “اس ادارے کو میں نے بہت محنت اور دیانتداری سے اس مقام پر پہنچایا ہے اور میرے بعد بھی ایسا ہی آدمی ہونا چاہیئے اور وہ زید ہے جو محنتی ہونے کے ساتھ دیانتدار بھی ہے ۔ میں نے آپ سب کو اُبلے ہوئے بیج دیئے تھے جو اُگ نہیں سکتے ۔ سوائے زید کے آپ سب نے بیج تبدیل کر دیئے”

اے بندے ۔ مت بھول کہ جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا تو پیدا کرنے والا دیکھ رہا ہوتا اسلئے دیانت کا دامن نہ چھوڑ

زمرہ : سبق | 11 تبصرے »