What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے December 19th, 2009

دو چَوں کے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Dec 2009

میں نے چَوکے کو غلط نہیں لکھا ۔ یہ چَوں کے ہی ہیں یعنی چونکا دینے والے واقعات

پاکستان
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی مخدوم جاویدہاشمی کی سربراہی میں قائم خصوصی کمیٹی کو ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ
ڈرون حملوں میں پاکستان بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شامل ہے
امریکی لیزر گائیڈڈ میزائل پاکستان کے دو ہوائی اڈوں سے آپریٹ ہو رہے ہیں

قائمہ کمیٹی نے چکلالہ ایئر بیس راولپنڈی پر امریکی اور دیگر چارٹرڈ طیارے اترنے اور بغیر ویزے کے پاکستان آنے والے غیر ملکیوں کو بغیر نمبر پلیٹ کے امریکی سفارت خانے میں پہنچانے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی کو تحقیقات کاٹاسک دیدیا ہے

بھارت
ممبئی حملوں کے ملزم اجمل قصاب نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں بیان دیا کہ
میں شدت پسند نہیں ہوں
مجھے پولیس نے ممبئی حملوں سے 20 دن قبل جوبو چوپاٹی سے گرفتار کیا اور تشدد کرکے اعترافی بیان لیا تھا

ممبئی حملوں کی خصوصی عدالت میں اجمل قصاب نے اپنے اقبالیہ بیانات سے انحراف کرتے ہوئے کہا کہ
مجسٹریٹ کے سامنے انہیں مار پیٹ کر بیان لیا گیا تھا

جج ایم ایل تہیلیانی نے ملزم قصاب سے گواہان کے ریکارڈ کئے گئے بیانات کی بنیاد پر ان سے سوالات شروع کئے لیکن قصاب نے کہا کہ
وہ ان حملوں میں شامل نہیں
وہ سی ایس ٹی اسٹیشن پر کبھی نہیں گیا
اور نہ ہی کسی ابو اسماعیل کو جانتاہے

سفید کرتے پاجامے میں ملبوس اجمل قصاب نے عدالت کو اس وقت چونکا دیا جب اس نے کہا کہ
پولیس حراست میں ان سے ملاقات کیلئے 4 غیر ملکی افراد آئے تھے جو اس سے تفتیش کر رہے تھے
اور ان میں ڈیوڈ ہیڈلی بھی شامل تھا
جج نے اس پر قصاب کی سرزنش کی کہ ان سے جتنا پوچھا جائے اتنا ہی جواب دے

زمرہ : خبر | 2 تبصرے »

دریائے سندھ ۔ تعصب اور حقیقت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Dec 2009

میری تحریر “دریائے سندھ ۔ کچھ حقائق” پر ایک دو تبصرہ نگاروں نے تحریر کے مندرجات سے قطع نظر کرتے ہوئے مجھ پر تعصب کا سرنامہ [label] چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مجھے اس غلط کوشش کا رنج نہیں مگر دُکھ اس بات کا ہے کہ ہماری جوان نسل جس نے مستبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنا ہے وہ اپنی تاریخ کے علم اور حقائق کے ادراک سے محروم ہے ۔ میں وہیں جواب لکھ چکا تھا مگر خیال آیا کہ بات تاریخ اور حقائق کی ہے اسلئے سرِ ورق لکھی جائے تاکہ ایک طرف جو قارئين کسی وجہ سے اس بارے میں علم نہیں رکھتے اُن تک بات پہنچے اور دوسری طرف باعِلم لوگوں کی نظر سے یہ تحریر گذرے تو وہ میرے عِلم میں اضافہ کا باعث بنیں

بات پاکستان میں بہنے والے دریاؤں کے پانی کی ہو رہی تھی لیکن سوال پانی کے ذخیروں کا بنا دیا گیا ۔ جب دریاؤں میں پانی ہی نہیں ہو گا تو ذخیرہ کرنے کیلئے جھیل بنا کر کیا کریں گے ؟ جہاں تک پانی کے ذخیروں کی بات ہے پہلا پانی کا ذخیرہ واسک میں ایوب خان کے دور سے قبل بنا دوسرا منگلا میں ایوب خان کے دور میں اور تیسرا تربیلہ میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ۔ پہلے ذخیرہ کی منصوبہ بندی ایوب خان کے دور سے قبل ہوئی تھی دوسرے اور تیسرے ذخیروں کی منصوبہ بندی ایوب خان کے دور میں ہوئی تھی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان انجنیئرنگ کانگریس کی مخالفت کے باوجود ذخیرہ کالا باغ کی بجائے تربیلہ میں بنایا جس کے نتیجہ میں دس ارب روپيہ زیادہ بعد کی مرمتوں پر خرچ ہوا ۔ تربیلا کے بعد آج تک کوئی ذخیرہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی

دس بارہ سال قبل تک پاکستان میں موجود پانی کے ذخیرہ کیلئے بنائی گئی یہ تین جھیلیں نہ صرف بھری رہتی تھیں بلکہ فالتو پانی دریاؤں میں چھوڑنا پڑتا تھا ۔ پچھلے کئی سالوں سے یہ حال ہے کہ سال میں دو بار منگلا اور تربیلہ کی جھیلیں تقریباً خالی ہو جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں بجلی کا بحران ملک کو گھیرے ہوئے ہے

کراچی کا کچھ حصہ پاکستان بننے سے قبل بھی سطح سمندر سے نیچا تھا ۔ عبداللہ غازی کے مزار اور بارہ دری سے سمندر کی طرف ایک ڈیڑھ کلو میٹر اندر پتھر کا بند نمعلوم کس زمانہ سے بنا ہوا تھا پھر بھی مد ہوتا تو سمندر کا پانی کسی جگہ سے میٹروپول ہوٹل سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے تک پہنچ جاتا تھا ۔ جب جزر ہوتا تو پانی واپس چلا جاتا جس کی وجہ سے میٹروپول ہوٹل اور کلفٹن کے درمیان کچھ حصہ میں ایک دلدل ہوا کرتی تھی جس میں سے مردہ مچھلیوں کی بدبُو آیا کرتی تھی ۔ بعد میں ایک کافی اُونچا اور پہلے بند سے آگے سمندر کے اندر بند بنا کر زمین کی طرف بھرائی کی گئی ۔ جس جگہ آجکل فن لینڈ ہے یہ سمندر تھا ۔ بند باندھ کر اسے فن لینڈ بنایا گیا

میں سُنی سنائی باتیں نہیں لکھ رہا یہ سب کچھ میں نے خود دیکھا ہوا ہے ۔ نہ کراچی میرے لئے اجنبی ہے اور نہ میں کراچی کیلئے

میری تحریر میں سمندر کی سطح بلند ہونے کا حوالہ بھی تھا جس کا مذاق اُڑانے اور اسے بھی میرے تعصب کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ۔ ایک منٹ بعد کیا ہونے والا ہے صرف اللہ ہی جانتا ہے تو میں کیسے بتا سکتا ہوں ؟ ایسے اندیشے اور پیشگوئیاں سائنسدان کرتے رہتے ہیں اور آج دورِ حاضر کے لوگ من و عن تسلیم کرتے ہیں لیکن میں نے نقل کیا تو تعصب بن گیا

سمندر کا پانی سندھ ڈیلٹا المعروف کیٹی بندر میں داخل ہونے کی بڑی وجہ سطح سمندر کی بلندی ہے اور یہ عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ درست کہ پچھلے پانچ دس سالوں سے سندھ میں بہت کم پانی بہہ رہا ہے اور اس کی وجوہات میں نے متذکرہ بالا تحریر میں لکھی ہیں

تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو کراچی کے علاوہ ہالینڈ کا ساحلی شہر راٹرڈیم بھی سطح سمندر سے نیچے ہے ۔ آج ہالینڈ کے ساحل سمندر پر بنے بند کو ٹوڑ دیا جائے تو راٹرڈیم سمندری پانی میں ڈوب جائے گا ۔ کراچی کے ساحلِ سمندر کے کنارے جو ڈیم بنایا گیا ہے اُسے گرا دیا جائے تو سمندر کا پانی میٹرو پول ہوٹل اور سینٹرل ہوٹل تک پہنچ جائے گا اور دوسری طرف آدھا ڈی ایچ اے سمندری پانی میں ڈوب جائے گا

زمرہ : تاریخ, روز و شب, معاشرہ | 2 تبصرے »