سیکولرزم کا ایک اور چھَکّا
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 02 Dec 2009
میں بہت پہلے سیکولر ہو نے کا دعوٰی کرنے والی دنیا کی منافقت کے کئی پہلو اُجاگر کر چکا ہوں ۔ میرے کچھ ہموطنوں کو میری تحاریر پر پریشانی ہوتی رہی ہے ۔ مختصر یہ کہ بھارت میں سیکولر حکومت اور عیسائیوں کے گرجے جلائے جاتے ہیں اور حکومت کے بڑوں کی اشیرباد سے مساجد جلائی اور گرائی جاتی ہیں ۔ داڑھی سکھ ہندو عیسائی يہودی اور دہریئے سب رکھتے ہیں بلکہ یہودی مذہبی پیشواؤں کی داڑھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسی افغانستان کے طالبان کی لیکن امریکا ہو یا یورپ داڑھی والا صرف مسلمان ہی بُرا سمجھا جاتا ہے ۔ سر پر رومال عیسائی یہودی اور دوسری عورتیں بھی باندھتی ہیں مگر مسلمان عورتیں اگر سر پر رومال باندھیں تو دنیا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور اُن کے ساتھ بدتمیزی بھی کی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ سکول کی بچیوں کو رومال باندھنے کی سزا کے نتیجہ میں سکول سے نکال دیا جاتا ہے
ان تمام حقائق کے باوجود سمجھا جاتا تھا اور میرا بھی خیال تھا کہ سوٹزرلینڈ ایک سیکولر ملک ہے ۔ وہاں پر کسی کے مذہب یا عقیدہ یا ذاتی زندگی پر اعتراض نہیں کیا جاتا مگر حکومت میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت کی ایماء پر ریفرینڈم اور اس کے نتیجہ میں مسجد کے مینار یا گُنبد بنانے پر پابندی نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ سیکولرزم ایک دھوکا ہے اور غیرمُسلم دنیا کی انسانیت پسندی کا دعوٰی منافقت کا ایک بہت بڑا ڈرامہ ہے ۔ کمال تو یہ ہے کہ عیسائیوں کے گرجاؤں کے مینار مسجد کے میناروں سے بھی اُونچے ہوتے ہیں مگر اُن پر کسی کو اعتراض نہیں
زمرہ : روز و شب, سیاست, منافقت | 19 تبصرے »


۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں

