<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: دریائے سندھ ۔ کچھ حقائق</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: گم نام</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/comment-page-1/#comment-20101</link>
		<dc:creator>گم نام</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 02 Jan 2010 08:58:05 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3085#comment-20101</guid>
		<description>پی ایچ ڈی کرکے لوگ پتا نہیں‌خود کو عقل کل کیوں سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ مجھے عطاالرحمن صاحب سے زبردست ہمدردی محسوس ہورہی ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>پی ایچ ڈی کرکے لوگ پتا نہیں‌خود کو عقل کل کیوں سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ مجھے عطاالرحمن صاحب سے زبردست ہمدردی محسوس ہورہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/comment-page-1/#comment-19807</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Dec 2009 02:09:10 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3085#comment-19807</guid>
		<description>میں عنیقہ کے تبصرے سے اتفاق کرونگا کہ آپ کی تحاریر آجکل ہر موضوع میں ایک ہی موضوع گھسیٹ لاتی ہیں۔ اور جب کوئی آپ کی توجہ آپ کے تعصبات کا حقائق سے گڈ مڈ کرنے کے روئے کی طرف دلاتا ہے تو آپ جھنجھلا جاتے ہیں۔ 

جنرل ضیاء اور نوازشریف کے دور میں پاکستان میں ذخیرہ آب کے کتنے منصوبے شروع ہوئے؟‌</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں عنیقہ کے تبصرے سے اتفاق کرونگا کہ آپ کی تحاریر آجکل ہر موضوع میں ایک ہی موضوع گھسیٹ لاتی ہیں۔ اور جب کوئی آپ کی توجہ آپ کے تعصبات کا حقائق سے گڈ مڈ کرنے کے روئے کی طرف دلاتا ہے تو آپ جھنجھلا جاتے ہیں۔ </p>
<p>جنرل ضیاء اور نوازشریف کے دور میں پاکستان میں ذخیرہ آب کے کتنے منصوبے شروع ہوئے؟‌</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: احمد</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/comment-page-1/#comment-19801</link>
		<dc:creator>احمد</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Dec 2009 10:50:37 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3085#comment-19801</guid>
		<description>عتیقہ ناز صاحبہ

تفصیلی بات تو پھر کبھی مگر ایک بات کی نشاندہی ترنا تھی کہ دیکھ لیں خلق خدا کہتی ہے آپکو غائبانہ کیا
آپ نے سنجیدہ اور حقائق بر سوالات کی جگہ آئیں بائیں کرکے برا بھلا کہا اور سمجھیں آپ نے بہتریں تقیہ کردیا اور پھر آپ کے ڈیڈی صاحب تو حد سے گری جبان درازی پر اتر آئے اب کیا کریں جب روزانہ تبراء بازی ان کی عبادت ہو تو اور کیا منہ سے جھڑے گا؟۔
آپ کے بارے میں اجمل صاحب کی رائے بلکل ٹھیک ہے کہ دماغ میں کچھھ بھرا ہوا ہے ، اسکو خالی کرکے دل کو ایمان سے بھر لیں
اور یہ کہ آپ شدید کمتری کا شکار ہیں ، بس یا رکھ لیں، ظالم، ظالم کا ساتھی اور منافقیں کے ہمدرد اس کیفیت کے شکار پائے جاتے ہیں اسی لیئے انجام بھی برا ہوتا ہے اور زندگی بھر کی مصیبت الگ

اسلام قبول کرلیں اسلام وہی ہے جو اللہ کا نبی لایا اور اسکے صحابہ نے عمل کرکے دکھایا
اسی میں بھلائی ہے

مخلص</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>عتیقہ ناز صاحبہ</p>
<p>تفصیلی بات تو پھر کبھی مگر ایک بات کی نشاندہی ترنا تھی کہ دیکھ لیں خلق خدا کہتی ہے آپکو غائبانہ کیا<br />
آپ نے سنجیدہ اور حقائق بر سوالات کی جگہ آئیں بائیں کرکے برا بھلا کہا اور سمجھیں آپ نے بہتریں تقیہ کردیا اور پھر آپ کے ڈیڈی صاحب تو حد سے گری جبان درازی پر اتر آئے اب کیا کریں جب روزانہ تبراء بازی ان کی عبادت ہو تو اور کیا منہ سے جھڑے گا؟۔<br />
آپ کے بارے میں اجمل صاحب کی رائے بلکل ٹھیک ہے کہ دماغ میں کچھھ بھرا ہوا ہے ، اسکو خالی کرکے دل کو ایمان سے بھر لیں<br />
اور یہ کہ آپ شدید کمتری کا شکار ہیں ، بس یا رکھ لیں، ظالم، ظالم کا ساتھی اور منافقیں کے ہمدرد اس کیفیت کے شکار پائے جاتے ہیں اسی لیئے انجام بھی برا ہوتا ہے اور زندگی بھر کی مصیبت الگ</p>
<p>اسلام قبول کرلیں اسلام وہی ہے جو اللہ کا نبی لایا اور اسکے صحابہ نے عمل کرکے دکھایا<br />
اسی میں بھلائی ہے</p>
<p>مخلص</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/comment-page-1/#comment-19798</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Dec 2009 07:24:24 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3085#comment-19798</guid>
		<description>عنیقہ ناز صاحبہ
 مختلف جگہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے میری ذات کے متعلق سخت باتیں لکھیں مگر ان کا مجھ پر کوئی بُرا اثر نہ ہوا لیکن آج کی تحریر پڑھ کر دُکھ ہوا ہے کہ آپ اتنا پڑھ لکھ کر بھی احساسِ محرومی کا شکار ہیں ۔ ایک بچی کا باپ ہونا بھی میرے لئے اچھی بات ہے اگر یقین نہ ہو تو اسی بلاگ پر مندرجہ ذیل ربط پر میری ساڑھے چار سال پرانی تحریر پڑھ لیجئے
http://www.theajmals.com/blog/2005/06/08
لیکن ایک بچی کی ماں ہونا قابلِ احترام ہے 
ذاتی اور غیر ذاتی کا آپ نے ذکر کیا ۔ جو کچھ میری طرف سے آج تک تجاوز ہوا اُس کیلئے میں معذرت خواہ ہوں آئیندہ اِن شاء اللہ اس کا پورا خیال رکھوں گا ۔
رہی پنجاب کے دفاع کی بات تو میں پنجاب کا دفاع نہیں کر رہا اور نہ سندھ یا کسی اور صوبے کی مخالفت کر رہا ہوں ۔ میں صرف حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن جو لوگ معاندانہ پروپیگنڈہ کا شکار ہیں اُنہیں یہ پنجاب کا دفاع محسوس ہوتا ہے ۔ 
دریاؤں کے پانی کے مسئلہ پر میں نے جون 2005ء میں اُس وقت لکھا تھا جب پرویز مشرف کے سی بی ایمز نے رنگ لانا شروع کیا تھا جو آپ اُوپر &quot;تحریک آزادی جموں کشمیر&quot; پر کلِک کر کے پڑھ سکتی ہیں ۔ اُنہی دنوں اس کے متعلق میرا خط دی نیوز اور ڈان میں بھی چھپا تھا ۔ سوموجودہ تحریر کوئی نئی بات نہیں تھی</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>عنیقہ ناز صاحبہ<br />
 مختلف جگہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے میری ذات کے متعلق سخت باتیں لکھیں مگر ان کا مجھ پر کوئی بُرا اثر نہ ہوا لیکن آج کی تحریر پڑھ کر دُکھ ہوا ہے کہ آپ اتنا پڑھ لکھ کر بھی احساسِ محرومی کا شکار ہیں ۔ ایک بچی کا باپ ہونا بھی میرے لئے اچھی بات ہے اگر یقین نہ ہو تو اسی بلاگ پر مندرجہ ذیل ربط پر میری ساڑھے چار سال پرانی تحریر پڑھ لیجئے<br />
<a href="http://www.theajmals.com/blog/2005/06/08" rel="nofollow">http://www.theajmals.com/blog/2005/06/08</a><br />
لیکن ایک بچی کی ماں ہونا قابلِ احترام ہے<br />
ذاتی اور غیر ذاتی کا آپ نے ذکر کیا ۔ جو کچھ میری طرف سے آج تک تجاوز ہوا اُس کیلئے میں معذرت خواہ ہوں آئیندہ اِن شاء اللہ اس کا پورا خیال رکھوں گا ۔<br />
رہی پنجاب کے دفاع کی بات تو میں پنجاب کا دفاع نہیں کر رہا اور نہ سندھ یا کسی اور صوبے کی مخالفت کر رہا ہوں ۔ میں صرف حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن جو لوگ معاندانہ پروپیگنڈہ کا شکار ہیں اُنہیں یہ پنجاب کا دفاع محسوس ہوتا ہے ۔<br />
دریاؤں کے پانی کے مسئلہ پر میں نے جون 2005ء میں اُس وقت لکھا تھا جب پرویز مشرف کے سی بی ایمز نے رنگ لانا شروع کیا تھا جو آپ اُوپر &#8220;تحریک آزادی جموں کشمیر&#8221; پر کلِک کر کے پڑھ سکتی ہیں ۔ اُنہی دنوں اس کے متعلق میرا خط دی نیوز اور ڈان میں بھی چھپا تھا ۔ سوموجودہ تحریر کوئی نئی بات نہیں تھی</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: عنیقہ ناز</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/12/%d8%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%94-%da%a9%da%86%da%be-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82/comment-page-1/#comment-19797</link>
		<dc:creator>عنیقہ ناز</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Dec 2009 06:30:16 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=3085#comment-19797</guid>
		<description>اجمل صاحب، میرے خیال میں اب سب کو پانی کے مسئلے سے زیادہ یہ جگت بازی اچھی لگ رہی ہوگی۔ میں نے آپ سے آپکی ساری عمر کی کاردگی نہ پوچھی اور نہ  اپنی اب تک کی بتانی چاہی۔ یہ ایک تقابل ہے پچھلے سات مہینوں کا جب سے میں نے بلاگنگ شروع کی۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ کوئ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ شاید اس دوران زیادہ تر پڑھنے والون نے محسوس کیا ہے کہ آپ موضوع سخن کچھ بھی ہو ان دو موضوعات کو لے آتے ہیں۔
میں بلاگنگ کو کسی قسم کا کھیل نہیں سمجھتی کہ ہار یا جیت کی بات کروں۔ یہ ایک ڈایئلاگ کا ذریعہ ہے اور بس۔ اسی بہانے ہمیں بھی ایسی چیزوں کی چھان پھٹک کے مواقع ملتے ہیں جو پہلے اتنی تفصیل سے نہیں دیکھیں یا مدتوں پہلے دیکھی تھیں اور اب ذہن سے محو ہو گئیں۔ جیسی کہ میں نے ابھی ایک فاش غلطی کی ابو شامل کے بلاگ پہ اور خرم صاحب نے میری توجہ اس طرف کرائ۔ ہاں ایک بات اور آپ اپنے موقف پہ اپنے پڑھنے والوں کو رکھنا چاہیں گے اور میں یہ چاہونگی کہ مدتوں سے چلتی ہوئ باتوں میں جو نئ تبدیلیاں آرہی ہیں انہیں لائووں۔
جی آپ نے میری درست تعریف فرمائ کہ میں ہوں ایک بچی کی ماں، باپ نہیں۔ ورنہ باپ تو آپ بھی کئ بچوں کے ہیں اور ماشاءاللہ سے ایک پوتی کے دادا بھی۔ کیا اپکو کئ بچوں کے باپ ہونے پہ کوئ شرمندگی ہے یا آپ اسے اپنے لئے حقیر جانتے ہیں یا آپ کسی بحث میں اپنے لئے سننا پسند کرتے ہیں۔ ایک بچی کی ماں تو وہ اسرائیلی عورت بھی تھی جس کا آپ نے اپنی ایک پوسٹ میں حوالہ دیا۔ 
میرے عزیز بزرگ، آپ جھنجھلاہٹ میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ذاتی اور غیر ذاتی کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ جیساکہ میں نے کسی اور جگہ بھی یہ بات کہی کہ مجھے اپنے عورت ہونے پہ کوئ شرمندگی نہیں۔ یہ میرے لئے فخر کا باعث تو ہو سکتا ہے کہ میں انسان کے متعلق وہ جانتی ہوں جو آپ مرد ہو کر نہیں جانتے۔ اور اس حوالے سے زندگی کے حقیقی اور بہترین تجربے میرے پاس ہیں آپکے پاس نہیں، چاہے آپ  یا کوئ بھی مرد جتنے تحقیقی مقالات لکھ لے۔تو یہ کوئ شرمندگی نہیں ہے۔ حتی کہ اگر خدا بھی اپنی مخلوقات میں اپنی کسی تخلیق کو فخر سے دیکھتا ہوگا تو وہ کوئ ماں ہی ہوگی۔
اس آخری سوال پہ میں کیا کہوں کہ آپ نے یہ واقعی دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی فرسودگی پہ لکھا تھا یا پانی کی کمی پہ یا سندھیوں کی عصبیت پہ یا ایم کیو ایم اور مشرف کی نالائقی پہ۔ یا پنجاب کو ہر چیز سے بری الذمہ قرار دینے پہ لکھا تھا۔ یہاں بلاگنگ کی دنیا میں بہت سارے بلاگرز پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ اتنا زیادہ دفاع کرتے ہیں کہ انکے کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہ جاتا۔ ان کو بھی تو آواز نکالنے کا موقع دیں۔ ورنہ وہ بیچارے فارم ویلا پہ گیمز ہی کھیلتے رہیں گے۔  مجھے معلوم ہے تبدیلی کی چابی انہی کے پاس ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اجمل صاحب، میرے خیال میں اب سب کو پانی کے مسئلے سے زیادہ یہ جگت بازی اچھی لگ رہی ہوگی۔ میں نے آپ سے آپکی ساری عمر کی کاردگی نہ پوچھی اور نہ  اپنی اب تک کی بتانی چاہی۔ یہ ایک تقابل ہے پچھلے سات مہینوں کا جب سے میں نے بلاگنگ شروع کی۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ کوئ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ شاید اس دوران زیادہ تر پڑھنے والون نے محسوس کیا ہے کہ آپ موضوع سخن کچھ بھی ہو ان دو موضوعات کو لے آتے ہیں۔<br />
میں بلاگنگ کو کسی قسم کا کھیل نہیں سمجھتی کہ ہار یا جیت کی بات کروں۔ یہ ایک ڈایئلاگ کا ذریعہ ہے اور بس۔ اسی بہانے ہمیں بھی ایسی چیزوں کی چھان پھٹک کے مواقع ملتے ہیں جو پہلے اتنی تفصیل سے نہیں دیکھیں یا مدتوں پہلے دیکھی تھیں اور اب ذہن سے محو ہو گئیں۔ جیسی کہ میں نے ابھی ایک فاش غلطی کی ابو شامل کے بلاگ پہ اور خرم صاحب نے میری توجہ اس طرف کرائ۔ ہاں ایک بات اور آپ اپنے موقف پہ اپنے پڑھنے والوں کو رکھنا چاہیں گے اور میں یہ چاہونگی کہ مدتوں سے چلتی ہوئ باتوں میں جو نئ تبدیلیاں آرہی ہیں انہیں لائووں۔<br />
جی آپ نے میری درست تعریف فرمائ کہ میں ہوں ایک بچی کی ماں، باپ نہیں۔ ورنہ باپ تو آپ بھی کئ بچوں کے ہیں اور ماشاءاللہ سے ایک پوتی کے دادا بھی۔ کیا اپکو کئ بچوں کے باپ ہونے پہ کوئ شرمندگی ہے یا آپ اسے اپنے لئے حقیر جانتے ہیں یا آپ کسی بحث میں اپنے لئے سننا پسند کرتے ہیں۔ ایک بچی کی ماں تو وہ اسرائیلی عورت بھی تھی جس کا آپ نے اپنی ایک پوسٹ میں حوالہ دیا۔<br />
میرے عزیز بزرگ، آپ جھنجھلاہٹ میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ذاتی اور غیر ذاتی کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ جیساکہ میں نے کسی اور جگہ بھی یہ بات کہی کہ مجھے اپنے عورت ہونے پہ کوئ شرمندگی نہیں۔ یہ میرے لئے فخر کا باعث تو ہو سکتا ہے کہ میں انسان کے متعلق وہ جانتی ہوں جو آپ مرد ہو کر نہیں جانتے۔ اور اس حوالے سے زندگی کے حقیقی اور بہترین تجربے میرے پاس ہیں آپکے پاس نہیں، چاہے آپ  یا کوئ بھی مرد جتنے تحقیقی مقالات لکھ لے۔تو یہ کوئ شرمندگی نہیں ہے۔ حتی کہ اگر خدا بھی اپنی مخلوقات میں اپنی کسی تخلیق کو فخر سے دیکھتا ہوگا تو وہ کوئ ماں ہی ہوگی۔<br />
اس آخری سوال پہ میں کیا کہوں کہ آپ نے یہ واقعی دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی فرسودگی پہ لکھا تھا یا پانی کی کمی پہ یا سندھیوں کی عصبیت پہ یا ایم کیو ایم اور مشرف کی نالائقی پہ۔ یا پنجاب کو ہر چیز سے بری الذمہ قرار دینے پہ لکھا تھا۔ یہاں بلاگنگ کی دنیا میں بہت سارے بلاگرز پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ اتنا زیادہ دفاع کرتے ہیں کہ انکے کہنے کو کچھ باقی ہی نہیں رہ جاتا۔ ان کو بھی تو آواز نکالنے کا موقع دیں۔ ورنہ وہ بیچارے فارم ویلا پہ گیمز ہی کھیلتے رہیں گے۔  مجھے معلوم ہے تبدیلی کی چابی انہی کے پاس ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

