What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے November 29th, 2009

دنیا کا بیمثال کنواں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Nov 2009

ہر سال لاکھوں لوگ حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اس کے علاوہ لاکھوں دوسرے دنوں میں عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ یہ سب آبِ زم زم خُوب پیتے ہیں اور اپنے عزیزوں کیلئے بھی لے کر اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں ۔ یہ آبِ زم زم کیا ہے ؟

جب سیّدنا ابراھیم علیہ السلام کو مکہ جا کر اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور چند ماہ کے بچے اسمٰعیل [علیہ السلام] کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کا حُکم اللہ کی طرف سے ملا تو اُنہوں نے تعمیل کی ۔ اُن کے واپس چلے جانے کے بعد حضرت ہاجرہ نے ننھے بچے کو وادی میں لٹا دیا اور صفا نامی چوٹی سے مروا نامی چوٹی تک جا جا کر پانی کی تلاش میں سرگرداں ہو گئیں ۔ جب وہ سات بار ایک چوٹی سے دوسری تک جا چکیں تو اُنہوں نے ديکھا کہ اس ننھے بچے نے جو بعد میں اللہ کے نبی سیّدنا اسمٰعیل بنے جہاں زمین پر ایڑیاں ماریں وہاں سے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے پانی کا چشمہ جاری کردیا ۔ یہ واقع آج سے 4000 سال سے زائد پہلے کا ہے

اُس دن سے آج تک یہ چشمہ جاری ہے اور لاکھوں آدمیوں کے اس پانی کو پينے کے باوجود کبھی خُشک نہیں ہوا ۔ اسی کو زم زم کا نام دیا گیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ہاجرہ نے کہا تھا “زم زم” جو اُس وقت بولی جانے والی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں رُک جا رُک جا

زم زم کا کنواں 13 میٹر گہرا ہے اور اس کا منہ ساڑھے پانچ میٹر لمبا اور سوا چار میٹر چوڑا ہے ۔ زم زم کا پانں پینے کیلئے دنیا کا بہترین پانی ہے ۔ اس کا ذائقہ کبھی تبدیل نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی اس میں کوئی چراثیم یا نباتی شے پیدا ہوئی ہے جب کہ ایسا دوسرے سب پانیوں میں ہوتا ہے ۔ حج کے دوران اس کنویں سے روزانہ بڑے بڑے پمپوں سے 8000 لٹر پانی فی سیکنڈ نکالا جاتا ہے ۔ پانی نکالنے کے بعد 15 منٹ میں یہ کنواں پھر بھر جاتا ہے ۔ سُبحان اللہ

زمرہ : معلومات | 10 تبصرے »