مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 22 Nov 2009
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے حکومت نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کو کوئی تحفظ نہیں دیاجائیگا، اور اس حوالے سے عدالتی فیصلے کو من و عن تسلیم کیا جائیگا
کل تعداد ۔8041
سیاستدان ۔ 34
بیورو کریٹس ۔ 248
اہم ہستیاں
صدر آصف علی زرداری ۔ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین ۔ وزیرِ داخلہ رحمن ملک ۔ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار ۔ وفاقی وزیر فاروق ستار ۔ بابرغوری ۔ نصرت بھٹو ۔ سراج درانی ۔ بریگیڈیئر(ر) امتیاز احمد ۔ جہانگیر بدر ۔ آفتاب شیر پاؤ ۔ امریکا میں سفیر حسین حقانی ۔ برطانیہ میں سفیر واجد شمس الحسن ۔ ایران میں سفیر ایم بی عباسی
حصہ دار سیاستدانوں کی صوبائی تقسیم
صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ۔ 1
صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے ۔ 4
صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ۔ 17
صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ۔ 7793
حصہ داروں میں سے کچھ اہم نام
صوبہ بلوچستان ۔ سابق وفاقی وزیر میر باز محمد خان کھیتران
صوبہ سرحد ۔ سابق وزیراعلیٰ سرحد آفتاب احمد خان شیرپاؤ ۔ سابق صوبائی وزیر غنی الرحمن ۔ سابق سینیٹر حاجی گل شیر خان ۔ سابق صوبائی وزیر حبیب اللہ خان کنڈی
صوبہ پنجاب ۔ سابق رکن قومی اسمبلی محترمہ نصرت بھٹو، سابق چیئرمین ضلع کونسل چوہدری شوکت علی، سابق رکن قومی اسمبلی حاجی کبیر خان، سابق ایم پی اے چوہدری ذوالقفار علی، سابق وفاقی وزیر محمد جہانگیر بدر، سابق ایم پی اے ملک مشتاق احمد اعوان، سابق وزیر رانا نذیر احمد، سابق ایم پی اے میاں محمد رشید، سابق ایم پی اے طارق انیس، سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق میئر سرگودھا چوہدری عبدالحمید گجرات سے سابق ایم پی اے میاں طارق محمود، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی حاجی محمد نواز کھوکھر، سابق ایم این اے آصف علی زرداری، سابق ایم این اے نواب ایم یوسف تالپور، سابق وزیر انور سیف اللہ خان، سابق وزیر تجارت چوہدری احمد مختار اور سابق ایم این اے سردار منصور لغاری، صادق علی خان اور آغا سراج درانی
صوبہ سندھ ۔ ایم کیو ایم کے الطاف حسین [72 مقدمات]۔ ڈاکٹر فاروق ستار [23 مقدمات]۔ بابر خان غوری [5 مقدمات]۔ ڈاکٹر عشرت العباد [ایک مقدمہ]۔ نعمان سہگل [ایک مقدمہ]۔ ڈاکٹر عمران فاروق [18 مقدمات]۔ شعیب بخاری [21 مقدمات]۔ وسیم اختر [7 مقدمات]۔ سلیم شہزاد [6 مقدمات]۔ کنور خالد یونس [12 مقدمات]اور ڈاکٹر صفدر باقری [16مقدمات]
مُستفید بیورو کریٹس
سابق پرنسپل سیکرٹری محمد احمد صادق ۔ سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید احمد قریشی ۔ سعید مہدی ۔ رحمن ملک ۔ حسین حقانی ۔ بریگیڈیئر (ر) اسلم حیات قریشی ۔ اے آر صدیقی ۔ سلمان فاروقی ۔ پیر مکرم الحق ۔ بریگیڈیئر (ر) امتیاز احمد ۔ واجد شمس الحسن ۔ اے آر صدیقی
وزیر مملکت قانون و انصاف افضل سندھو نے بتایا کہ سندھ کی فہرست بہت طویل ہے۔ این آر او شق 2 کے تحت سندھ ریویو بورڈ سے جو مقدمات این آر او کے تحت استفادہ سے ختم ہوئے ان مقدمات کی تعداد 3230 ہے جس میں 7793 نامزد افراد نے این آر او کے تحت فائدہ اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، مملکت کے صدر ہیں ان کا احترام بطور صدر لازم ہے۔ ایک سوال پرا نہوں نے کہا کہ 28 نومبر کو این آر او کی میعاد ختم ہو جائے گی ۔ این آر او کے بارے میں روئیداد خان اور ڈاکٹر مبشر حسن کی درخواستیں سپریم کورٹ میں پہلے سے زیر سماعت ہیں ۔ عدالت عظمیٰ این آر او کے بارے میں جو بھی فیصلہ دے گی ہم اسے من و عن تسلیم کریں گے اور عدالتی فیصلہ کیخلاف ان لوگوں کو حکومت کوئی تحفظ نہیں دے گی
زمرہ : تاریخ, روز و شب | 11 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 22 Nov 2009
کراچی کے مختلف علاقوں میں 3 دن کی بہدف ہلاکتیں [Target Killing]
جمعرات کے دن اورنگی ٹاؤن کے علاقے اقبال مارکیٹ میں مسجد کے پیش امام مولانا غلام محمد جو مغرب کی نماز پڑھنے مسجدجارہے تھے کہ گلی میں پہلے سے گھات لگاکر بیٹھے ہوئے ملزمان نے فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کردیا
جمعہ کی شب تین ہٹی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے اہلسنت والجماعت کے جنرل سیکریٹری انجینئر الیاس زبیرکو ہلاک جبکہ ترجمان قاری شفیق الرحمان علوی کو شدید زخمی جو دوران علاج دم توڑ گئے
میٹھادر کاغذی بازار کے قریب مسلح افراد کی فائرنگ سے شاہنواز عرف شانو ہلاک اور فرید زخمی ہوگیا
آگرہ تاج کالونی میں 24 سالہ فیضان کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا
بہار کالونی میں علی عرف چیکو کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا
عثمان آباد کے علاقے چیل چوک گلی نمبر 1 میں 45 سالہ خلیل ولد اودے خان کو ہلاک کیاگیا
زمرہ : روز و شب | 12 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 22 Nov 2009
آج ہمارے ملک اور قوم کو مادی وسائل ، مالی امداد، قرضوں اور زرمبادلہ کے ذخائر سے کہیں بڑھ کر جس چیز کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے وہ غیرت کا جذبہ ہے اسی جذبہ سے کام لے کر ہم انفرادی اور اجتماعی خرابیوں اور ذلتوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں
غیرت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا شاید دنیا کی کسی زبان میں کوئی مترادف نہیں ۔ اردو میں بھی ہم یہ لفظ ایک محدود مفہوم ہی میں استعمال کرتے ہیں جبکہ عربی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ اس میں عزتِ نفس ۔ وقار ۔ بہادری اور اعلٰی ترین اقدار سے وابستگی اور ان اقدار کی خاطر ہر قربانی دینے کے تصورات شامل ہیں
غیرت وہ جذبہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے ۔ تعلیم و تربیت اور عملی مثالوں کے ذریعہ ہمارے بزرگ یہ جذبات اگلی نسلوں میں منتقل کرتے ہیں لیکن اگر کسی کو تعلیم یا ماحول سے یا اپنے خاندان سے یہ جذبہ نہ ملا ہو تو وہ محض عقلی دلائل سے اس کا قائل نہیں ہو سکتا ۔ یا تو کوئی فرد غیرت مند ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔ کچھ لوگ اس تحریر کو پڑھ کر شاید اس بات کی اہمیت کو سمجھنے میں مشکل محسوس کریں مگر بہت سے ایسے لوگ جن کی زندگی کی زندہ روایات ان اعلٰی اقدار کی حامل ہیں جو انہوں نے اپنے بڑوں سے ۔ اپنے اساتذہ سے اور مربیّوں سے اور دیگر قابلِ تقلید شخصیات سے حاصل کی ہیں ایسے لوگ یقینا اپنے قلب و روح میں ان خیالات کی صدائے بازگشت محسوس کریں گے
غیرت کا مطلب یہ نہیں کہ غیظ و غضب کا مظاہرہ کیا جائے یا غصہ کے ردِعمل میں غصہ اور طیش کا اظہار کیا جائے بلکہ غیرت ایک مثبت اور تعمیری جذبہ کا نام ہے ۔ اسی جذبہ سے کام لے کر انسان اپنے سفلی جذبات پر قابو پاتا ہے اور اپنے اعلٰی اور ارفع جذبات کو ابھارتا ہے ۔ اسی جذبہ کی مدد سے ہر انسان اور معاشرہ بیرونی خطرات کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جاتا ہے ۔ ایک معزز و باوقار اور ایک ذلیل و بے توقیر شخص کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ ایک غیرت مند اور دوسرا بے غیرت ہوتا ہے ۔ ایک طوائف اور پاکباز عورت میں اگر کوئی فرق ہے تو غیرت اور بے غیرتی کا ۔ ایک آزاد آدمی کسی قیمت پر اپنی آزادی کو قربان نہیں کرتا ۔ غلامانہ ذہنیت کا حامل شخص چند ٹکوں کے عوض آزادی سے دستبردار ہو جاتا ہے
جب غیرت کا جذبہ اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے تو پورا معاشرہ ۔ قوم اور ریاست دنیا میں عزت اور عروج حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس کام کو کرنے میں قوم کے قائدین ۔ رہنما ۔ اساتذہ ۔ شعراء ۔ مفکّرِین اور فلاسفہ اَن تھک محنت اور لا محدود کوشش کرتے ہیں لیکن بعض ناعاقبت اندیش رہنماؤں اور لالچی حکمرانوں کی بدولت معمولی لغزش اور غلطی برسوں کی قومی جدوجہد پر پانی پھیر دیتی ہے
پورا مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے
زمرہ : روز و شب | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »