Daily Archives: November 20, 2009

اُمید جو بر آنا ہے مُشکل

محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2003ء میں پاکستان کی آبادی کُل 20,374,970
خاندانوں پر مُشتمل تھی ۔ اس آبادی میں 50,000,000 نفوس کا اضافہ ہو چکا ہے پرانے تناسب سے دیکھا جائے تو اب کُل21,077,555 خاندان بنتے ہیں

نَیب نے جو فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق زرداری ۔ وزراء ۔ مشیرانِ خاص ۔ فیڈرل سیکرٹریز ۔ کارپوریشن کے چیئرمینوں اور دوسرے سرکاری ملازمین سمیت جن لوگوں کو این آر او کے بننے کے بعد معاف کیا گیا اُنہوں نے قوم کا 1000,000,000,000 روپیہ خُرد بُرد کیا جو بیک جُنبشِ قلم معاف ہو گیا ۔ اگر یہ لوٹی ہوئی دولت ان اعلٰی سطح کے لُٹیروں سے واپس لی جائے تو اپنے مُلک کے ہر خاندان کے حصے میں 47,444 روپے آتے ہیں

ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم 165,000,000,000 روپے باقاعدہ ثبوت کے بعد ان لوگوں سے واپس لئے جا سکتے ہیں ۔ اگر 165,000,000,000 روپے بھی واپس لے کر پورے مُلک میں تقسیم کئے جائیں تو ہر خاندان کے حصہ میں 7,828 روپے آتے ہیں

ایک جمہوریت کا سوال ہے بابا

امریکی صحافی سیمور ہرش کے طویل مضمون کے مطالعے سے پتہ چلتا ہےbeggar2 کہ پاکستان کی قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے کا آغاز فوجی آمر پرویز مشرف نے کیا جو امریکیوں سے کہتا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے ضرور کرو لیکن اپنے میزائلوں پر پاکستان ایئر فورس کے نشان چسپاں کردو تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ یہ حملے امریکہ کررہا ہے۔ کیا قوم کے ساتھ اس سے بڑا کوئی اور فراڈ، دغابازی اور مکاری ہو سکتی ہے؟

سیمور ہرش نے لکھا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اس سال مئی میں امریکہ کی خواہش پر سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن کا حکم دیا اور وزیرستان میں حالیہ آپریشن کا آغاز بھی دراصل اوبامہ انتظامیہ کی کامیابی ہے۔

ہرش نے جو کچھ لکھا ہے کہ اس کے بعد کون حقیقت پسند پاکستانی یہ تسلیم کرے گا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی نہیں بلکہ ہماری اپنی جنگ ہے۔ یہ مشرف کی شروع کردہ جنگ ہے جسے زرداری حکومت انتہائی بے ہنگم طریقے سے آگے بڑھا رہی ہے۔ اس جنگ نے ہم پاکستانیوں کو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ کردیا ہے اور درندہ نما انسان روزانہ بے گناہ انسانوں کو بم دھماکوں میں موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے مجھے چارسدہ اور پشاور میں کچھ ایسے مقامات پر عام لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا جہاں کار بم دھماکوں میں درجنوں نہیں سیکڑوں بے گناہ مارے گئے
بعض لوگ ان بم دھماکوں کو بلیک واٹر کے کھاتے میں ڈالتے رہے لیکن اکثریت کا خیال تھا کہ جب تک موجودہ حکومت مشرف دور کی پالیسیاں نہیں بدلتی پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا
فاروق اعظم چوک چارسدہ میں ایک تاجر نے مجھے کہا کہ مشرف نے ہمیں این آر او دیا اور این آر او نے ہمیں صدر زرداری دیا، کیا صدر زرداری میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کرکے مشرف کے بھوت سے چھٹکارا نہیں پاسکتے؟
پیپل منڈی پشاور میں دھماکے سے تباہ شدہ مسجد کے ملبے کے قریب کھڑے ایک بزرگ نے کہا کہ ایک طرف وزیراعظم گیلانی کہتے ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے دوسری طرف وہ بھارت سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے تو پھر بھارت کے ساتھ مذاکرات کیوں؟

وہ لوگ جنہوں نے حالیہ بم دھماکوں میں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں ان کی اکثریت بدستور اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھتی۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو پشاور یا چارسدہ کے کسی بھی چوراہے پرکھڑے ہوکر لوگوں سے بات کرلیں

عام لوگ بڑے سمجھدار ہیں وہ فساد کی جڑ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو سمجھتے ہیں۔ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی اس خطے میں امن قائم نہیں ہوگا

امریکی فوج کو اس خطے سے نکالنے کیلئے افغانستان اور پاکستان میں ایک پرامن عوامی تحریک کی ضرورت ہے اور ایسی تحریک کو امریکہ اور یورپ میں بھی پذیرائی ملے گی۔ جمہوریت جتنی بھی بُری ہو لیکن بُری جمہوریت میں بھی پرامن سیاسی تحریک چلانا آسان ہوتا ہے۔ بُری جمہوریت ایک لانگ مارچ پرمعزول ججوں کو بحال کردیتی ہے جبکہ فوجی آمر اپنوں کے سامنے جھکنے کے بجائے ایمرجنسی لگا دیتا ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ جمہوریت کو بہتر بنایاجائے اور امریکہ کی قید سے اسے رہائی دلوائی جائے لیکن جمہوریت کا خاتمہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ جمہوریت جتنی بھی بری ہو بھارت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتی اور آمریت جتنی بھی اچھی ہو بار بار بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالتی ہے۔ جمہوریت صرف اپنے عوام کے سامنے ہتھیار ڈالتی ہے

جنرل ایوب خان نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پانچ دریاؤں کا پانی بھارت کو بیچ دیا
جنرل یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کیا، اس آپریشن سے جنم لینے والی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا اور شکست کے بعد بنگلہ دیش نے جنم لیا
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھارت نے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کرلیا
جنرل پرویز مشرف نے گیارہ ستمبر 2001ء سے قبل ہی نہ صرف مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف میں یکطرفہ لچک پیدا کرنی شروع کردی بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پر بھی کاٹنے شروع کردیئے ۔ 2000ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرویز مشرف کے متعلق کہا تھا کہ یہ شخص اپنا اقتدار بچانے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگا سکتا ہے۔ پرویز مشرف نے لانگ رینج میزائل پروگرام کیلئے فنڈز بند کردیئے ہیں تاکہ امریکہ اس سے خوش ہوجائے۔ یہ واقعہ نو گیارہ سے پہلے کا ہے اور نو گیارہ کے بعد مشرف نے پاکستان کے قومی ہیرو کے ساتھ جو کچھ کیا وہ کوئی جمہوری حکومت کرتی تو اسے غدار قراردیا جاتا

حامد میر کے قلم کمان سے