کیری لوگر لاء ۔ ڈی ایچ اے اور غریب
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 Nov 2009
راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں کے کنارے پرویز مشرف دور میں قائم کی جانے والی ڈیفنس ہاؤسنگ سکیم جس میں صرف بڑے بڑے دولتمند ہی پلاٹ خرید کر سکتے ہیں اس میں امریکی امداد سے غریب بچوں کیلئے سکول اور غریبوں کیلئے ہسپتال بنانا ایک لطیفہ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے ۔ ایک حقیقت کا انکشاف
انہوں نے بتایاکہ کیری لوگر بل کے تحت ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی راولپنڈی میں غریبوں کے لئے اسکول اور اسپتال بنایا جائے گا تو اس میں آپ کو کیا اعتراض ہے؟
میں نے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ ہے؟
موصوف نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ سینیٹر جان کیری کے دوست شاہد احمد خان کا ہے جو بوسٹن میں رہتے ہیں اور انہوں نے کیری لوگر بل کی منظوری میں دن رات ایک کردیا۔
میں نے مسکراتے ہوئے کیری لوگر بل کے اس حامی سے پوچھا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں غریبوں کی خدمت کرنے کے لئے آپ غریب کہاں سے لائیں گے؟”
یہ سن کر وہ بھائی صاحب غصے میں آگئے اور کہنے لگے کہ شاہد احمد خان کروڑوں ڈالر راولپنڈی لارہا ہے اور آپ اس کا مذاق اڑارہے ہیں ۔ آپ دراصل پاکستانیوں کو قومی غیرت کے نام پرگمراہ کررہے ہیں اور ”غیرت لابی“ پاکستان کی سب سے بڑی دشمن ہے
میں نے جواب میں کہا کہ ”غیرت لابی“ کی مخالف تو کوئی ”بے غیرت لابی“ ہوسکتی ہے یہ بتایئے کہ آپ کون سی لابی میں شامل ہیں؟
یہ سن کر انہوں نے فتویٰ صادر کیا کہ ”غیرت لابی“ کی وجہ سے پاکستان بہت جلد ٹوٹ جائے گا اور یہ کہہ کر وہ انگریزی میں اول فول بکتے ہوئے میرے دفتر سے چلے گئے
مجھے شاہد احمد خان کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن وہ صرف جان کیری کے نہیں بلکہ صدر آصف علی زرداری کے بھی دوست ہیں لہٰذا انہیں احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیری لوگر بل کے ذریعہ پاکستان کو دیئے جانے والے فنڈز سے دور رہنا چاہئے تھا۔ اگر وہ یہ احتیاط نہیں کرسکتے تو پھر انہیں یا کیری لوگر بل کے فنڈز سے مستفید ہونے والی این جی اوز کو ”غیرت لابی“ اور ”بے غیرت لابی“ کی بحث نہیں چھیڑنی چاہیئے
مندرجہ بالا چند سطور ہیں ایک مضمون کی جو یہاں کلِک کر کے پڑھا جا سکتا ہے
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں



