اور پیئو مِلک پَیک
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 06 Nov 2009
جب تازہ خالص دودھ ملنا بہت ہی مشکل ہو گیا تو ہم نے ولائتی طریقہ سے موٹے کاغذ کے ڈبے میں بند دودھ استعمال کرنا شروع کیا گو میرا دماغ کہتا تھا کہ پانی ملا دودھ ڈبے والے دودھ سے بہتر ہے کیونکہ جتنا دودھ ڈبوں میں بند کر کے بیچا جا رہا ہے اتنی ہمارے مُلک میں گائے بھینسیں نہیں ہیں ۔ میں اکیلا کیسے عقلمند ہو سکتا ہوں جب باقی سب ڈبے والے دودھ کے حق میں ہوں ۔ اور کئی تو اچھے خاصے پڑھے لکھے خواتین و حضرات نیسلے کا ایوری ڈے [Every Day] خالص اور عمدہ دودھ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور تعریفیں کرتے نہیں تھکتے حالانکہ ایوری ڈے میں دودھ ہوتا ہی نہیں
میرے عِلم میں ایک درخواست آئی ہے جو لاہور ہائیکورٹ میں داخل کی گئی تھی اور 2 نومبر 2009ءکو ہائیکورٹ نے متعلقہ سرکاری اہلکار کو 17 نومبر کو پیش ہونے کا حُکم دیا تھا ۔ داخل کی گئی درخواست میں مصدقہ اعداد و شمار دیئے گئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ گذشتہ 5 سال میں ڈبوں میں بند دودھ [نیسلے کا ملک پیک ۔ ہلّہ ۔ گُڈ ملک ۔ اولپر ۔ وغیرہ] کے 19718 نمونے حاصل کر کے ان کا معائینہ کیا گیا تو ان میں سے 17529 نمونوں کا دودھ مضرِ صحت تھا اور انسانوں کے پینے کے قابل نہ تھا ۔ یعنی 88 فیصد نمونوں میں مُضرِ صحت دودھ تھا ۔کئی نمونوں میں مُختلف کیمیائی [chemical] اجزاء اور دیگر زہریلی اشیاء کی ملاوٹ بھی پائی گئی تھی
ہمیں ڈبوں کا دودھ شروع کئے چار پانچ ماہ ہی ہوئے تھے لیکن اس کے ذائقہ سے ہم بد دِل ہو رہے تھے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ دوہفتے قبل ہمیں اچھا تازہ دودھ ملنا شروع ہوگیا ورنہ اس خبر پر ہمیں نجانے قے شروع ہو جاتیں یا اسہال
زمرہ : خبر, معاشرہ | 24 تبصرے »
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں



