بد ۔ ۔ ۔ معاش
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 04 Nov 2009
بدمعاش اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خلافِ اخلاق یا خلافِ قانون طریقوں سے اپنی روزی کمائے ۔ یعنی چور ۔ ڈاکو ۔ اٹھائی گیرہ ۔ بھتہ خور ۔ غاصب ۔ وغیرہ ۔ جب قوم کی اکثریت اس بُری راہ پر چل پڑے تو وہ تنزل کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اُس قوم کا کیا ہو جس کا جمہوری سربراہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول علی زرداری کے نام ایک کمپنی نے رواں سال مارچ میں اسلام آبادکی قیمتی2460 کنال زمین خرید کی ہے۔کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نرخوں کے مطابق اس زمین کی قیمت 2 ارب روپے سے زائد ہے لیکن اسے صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خرید کیا گیا ہے ۔ 1997ء میں مسٹر زرداری پر جس ڈیل کا الزام عائدکیا گیا تھا وہ بالآخر 15 سال بعد قانونی مقدمات کے پیچیدہ عمل سے گزرنے کے بعد، ایک ایسے شخص جسے اس وقت کی حکومت نے آصف علی زرداری کا اہم ترین ساتھی قرار دیا تھا، ایک اور شخص جسے صدر زرداری کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور ایک ایسی نجی کمپنی کے درمیان پوری ہوئی جس کے مالک مشترکہ طور پر آصف علی زرداری، ان کے صاحبزادے اور چند دیگر افراد ہیں
دی نیوزکے پاس دستیاب معاہدہٴ فروختگی، دستاویزات، قانونی کاغذات اور اسلام آباد کی پی سی او ہائی کورٹ کے فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کراچی کی ایک نجی کمپنی پارک لین اسٹیٹس پرائیوٹ لمیٹڈ نے فیصل سخی بٹ سے سنگ جانی کے قریب ڈھائی ہزارکنال زمین خرید کی۔ فیصل سخی بٹ نے یہ زمین ہیوسٹن (امریکا) میں مقیم ایک پاکستانی نژاد امریکی باشندے محمد ناصر خان سے صرف 62 ملین روپے میں خریدکی تھی۔ ناصر خان اس زمین کا حقیقی مالک تھا جس نے یہ زمین1994ء میں خریدکی تھی اور اسے1997ء میں دائرکردہ نیب ریفرنس میں زرداری کا فرنٹ مین قرار دیاگیا تھا۔ قیمتوں کے جائزے کیلئے سی ڈی اے کے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی جانب سے خریدکی جانے والی زمین سے ملحق زمین کی قیمت 8 لاکھ 50 ہزار روپے فی کنال ہے، اگر پارک لین کی زمین کی قیمت سی ڈی اے کے جائزے کے مطابق طے کی جائے تو اس زمین کی مجموعی قیمت2 ارب روپے بنتی ہے۔
مکمل تفصیل یہاں کلِک کر کے پڑھیئے ۔ متعلقہ دستاویزات کی فوٹو کاپیاں دی نیوز اخبار میں شائع کی گئی ہیں
متذکرہ بالا زمین کے قریب ہی انجنیئرز کوآپریٹِو ہاسنگ سوسائٹی اسلام آباد کی زمین ہے جس میں میرا بھی ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے ۔ قریب ہی مرگلہ ویو اور آرمی ویلفیر ٹرسٹ کی زمینیں ہیں ۔ اس وقت اس علاقہ میں فی کنال قیمت 14 سے 18 لاکھ روپے ہے ۔ اگر موجودہ اوسط قیمت لگائی جائے تو 2460 کنال کی قیمت 4 ارب روپے کے قریب بنتی ہے ۔ ایک اور بات سنگ جانی میں اتنا بڑا زمیندار کوئی نہیں تھا کہ جس کے پاس 100 کنال سے زیادہ زمین ہو بلکہ عام طور پر ایک شخص کی ملکیت 30 کنال سے زیادہ نہ تھی ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ 2460 کنال زمین اکٹھی کرنے کیلئے طاقتور سرکاری ہتھیار استعمال کیا گیا ہو گا
زمرہ : معاشرہ | 13 تبصرے »
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں



