What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے November 2nd, 2009

ایم کيو ایم اور اے این پی کا امتحان

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 02 Nov 2009

عوام کا خیر خواہ ہونے کی سب سے زیادہ دعویدار سیاسی جماعتیں بتدریج مندرجہ ذیل ہیں

1 ۔ الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ
2 ۔ زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی
3 ۔ اسفند یار کی عوامی نیشنل پارٹی

امتحان ماضی میں بھی آتے رہے مگر میں ماضی کو بھُول کر حال بلکہ نومبر 2009ء کے پہلے پندرواڑے کی بات کروں گا ۔ بات ہے ضابطہ قومی موافقت [National Reconciliation Ordinance] کی جو آج شام قومی اسمبلی میں پیش ہونے کی توقع ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو کچھ ہے وہ سب نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کا دعوٰی ہے کہ ان کی جماعت درمیانے درجے کے اعلٰی مدارج تک پڑھے لکھے لوگوں پر مُشتمل ہے ہمیشہ کم دولت والے عوام کیلئے محنت کرتی ہے اور وہ رُتبے یا دولت کیلئے کام نہیں کرتی

عوامی نیشل پارٹی کے رہنماؤں کا دعوٰی ہے کہ عوامی نیشل پارٹی غریب عوام کی جماعت ہے اور مساوات پر یقین رکھتی ہے

متذکرہ بالا دعوؤں کے باوجود متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشل پارٹی دونوں حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حلیف جماعتیں ہیں ۔ امتحان اگلے دس پندرہ دن میں ہو جائے گا کہ یہ جماعتیں سچ کہتی ہیں یا جھوٹ

ضابطہ قومی موافقت عوام دُشمن ۔ تعلیم دُشمن ۔ قوم دُشمن اور اسلام دُشمن ہے کیونکہ اس ضابطے نے قومی دولت لُوٹنے والوں اور قاتلوں کو تحفظ دیا ہے ۔ ایسے لوگوں کو تحفظ جنہوں نے مُلک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ اس ضابطہ سے کسی درمیانے یا نچلے درجے کے آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ یہ بیچارے مہنگائی کی چکی میں پِس رہے ہیں

امتحان ۔ جس جماعت کے ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ نے ۔ ۔ ۔

*** ضابطہ قومی موافقت کے خلاف ووٹ دیئے ۔ وہ جماعت اپنے قول میں سچی ثابت ہو گی

*** ضابطہ قومی موافقت کے حق میں ووٹ دیئے ۔ وہ جماعت عوام دُشمن قوم دُشمن خود غرض منافق جھوٹے لوگوں کا ٹولہ ثابت ہو گی

*** ضابطہ قومی موافقت کے نہ حق میں ووٹ دیئے اور نہ مخالفت میں ۔ وہ جماعت خود غرض منافق جھوٹے لوگوں کا ٹولہ ثابت ہو گی

وہ بلاگر یا قارئین جو ایم کیو ایم یا اے این پی میں شامل ہیں یا ان جماعتوں کے حامی ہیں وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟

زمرہ : روز و شب, سیاست | 19 تبصرے »