عورت ۔ ۔ ۔ مرد کی زندگی میں
352 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Nov 11 2009
جب میں اس دنیا میں آیا تو عورت نے مجھے گود لیا ۔ ۔ ۔ میری ماں
جب میں اپنے پاؤں چلنے لگا تو عورت نے میرا خیال رکھا اور میرے ساتھ کھیلا ۔ ۔ ۔ میری بہن
جب میں پڑھنے لگا تو مجھے عورت نے پڑھنا سکھایا ۔ ۔ ۔ میری اُستاذہ
جب میں جوانی میں دُکھ کا شکار ہوا تو میرا غم عورت نے بانٹا ۔ ۔ ۔ میری بیوی
جب میں بڑھاپے میں چڑچڑا ہوا تو مجھے مسکراہٹ عورت نے دی ۔ ۔ ۔ میری بیٹی
جب میں مروں گا تو مجھے عورت ہی اپنی آغوش میں لے لے گی ۔ ۔ ۔ میرے وطن کی مٹی
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں




Nov 11 2009 بوقت 10:41 am
ہم مرد مکمل نہیں عورت کے بغیر
Nov 11 2009 بوقت 10:42 am
واہ کیا بات ہے ۔ بالکل سچی بات
Nov 11 2009 بوقت 11:00 am
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مرد عورت کے بغیر ایک دن بھی نہیں گزار سکتا
Nov 11 2009 بوقت 12:29 pm
کیا بات کی ہے.. بہترین..
Nov 11 2009 بوقت 6:15 pm
اب آپ نے یہ بات چھیڑ دی ھے تو عرض کروں
بطور معالج میرا واسطہ ایسے مریضوں سے زیادہ رہا جو معذوریوں میں مبتلا ہوتے
جیسے فالج یا پٹھوں کی کمزوری یعنی جب انسان چلنے پھرنے سے معذور ہوتا ھے
ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کےلیے کون دیکھا گیا–
ماں، بہن، بیوی’ گرل فرینڈ’ وہ بیویاں بھی جن کو طلاق دے دی تھی اور وہ اللہ کی بندیاں ایسے وقت مین آڑے آئیں
ابھی مجھے بواءے فرینڈ یا باپ (مگر صرف جب ماں بھی تھی) یا اور قسم کے مرد ساتھی نہیں نظر آءے
Nov 11 2009 بوقت 8:41 pm
ریحان صاحب
جناب میں تو مکمل ہوں
شعیب اور مکی صاحبان
حوصلہ افزائی کا شکریہ
موجو جی
وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاة ۔ تبصرہ کا شکریہ ۔ جناب میں نے بہت دن گذارے ہیں
بھائی وھاج الدین احمد صاحب
یہ بات مجھے 1967ء میں مجھے ایک برطانوی لڑکی نے بتائی تھی اور کہتی تھی کہ وہ اپنی بوڑھی ماں کا خیال رکھتی ہے اور اس کے اخراجات پورے کرتی ہے ۔ اس کا بھائی زیادہ کماتا ہے اور کچھ بھی نہیں کرتا
Nov 12 2009 بوقت 12:33 am
میرے ایک کرم فرما کہتے ہیں کہ بیوی کا رشتہ سب سے زیادہ قربت کا مگر رقابت کا رشتہ ہے ۔ دنیا میں بے غرض محبت صرف ماں کرتی ہے ۔ باقی رشتے ہو سکتاہے زندگی میں کبھی آپ سے اپنے احسانات کا معاوضہ کسی شکل میں طلب کریں
Nov 12 2009 بوقت 1:01 am
مُحترم اجمل انکل جی
السلامُ عليکُم
اُميد ہے انکل جی آپ بخير ہو ں گے، بہُت درُست بات کہی انکل آپ نے اور مُجھے وہاج انکل جی کی بات بھی بہُت اچھی لگی کہ جب کوئ نہيں ہوتا تو عورت ہی کام آتی ہے اکثر ديکھا گيا ہے کہ مياں بيوی کی عُمر ميں گو تھوڑا سا فرق ہوتا ہے ليکِن آخِر عُمر ميں بھی عُمر کے تھوڑے فرق کے باوجُود عورت ہی مرد کاخيال رکھ رہی ہوتی ہے ہر رُوپ ميں کبھی بہن ماں بيوی يا بيٹی جو بھی ہو شايد گُھٹی ميں اپنے ساتھ لا ئ ہوتی ہے يہ سب
اور وہاج انکل جی آپ کيسے ہيں؟ ٹھيک ہيں نا
Nov 12 2009 بوقت 9:33 am
محمد ریاض شاہد صاحب
ماں کا نعم البدل تو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے پیدا ہی نہیں کیا
Nov 12 2009 بوقت 12:16 pm
جب پرئشان ہو تو گانا سنتے ہیں – عورت گانے بجانے والی
Nov 12 2009 بوقت 2:19 pm
عورت صاحب
آپ عورت نہیں ہو سکتے ۔ یہ آپ کے اس جملہ سے عیاں ہے
Nov 12 2009 بوقت 3:30 pm
انکل جی کل رات کو يہاں ايک تبصرہ کيا تھا کہيں سپيم کی نزر تو نہيں ہو گيا؟
Nov 13 2009 بوقت 9:43 am
شاہدہ اکرم صاحبہ
بالکل ۔ شاید شیطان راستہ میں دبوچ کر لے گیا تھا ۔ وصول کر لیا ہے
Nov 15 2009 بوقت 5:26 pm
شاہدہ بیٹی اللہ کا فضل ھے خیریت سے ہوں