What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

اللہ کے بندے

494 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Nov 09 2009

ساڑھے 21 سال قبل ہمارا ایک خاندان سے تعارف ہوا اور چند ہی سالوں میں وہ لوگ ہم سے گھُل مِل گئے ۔ عظیم الدین صاحب کی وفات کا سُن کر جب ہم ان کے گھر پہنچے تو وہاں کسی کے رونے کی آواز نہیں آ رہی تھی اور گھر میں سب قرآن شریف کی تلاوت کر رہے تھے ۔ اُن کے بیٹے انعام الحسن سے گلے مل کر میں نے دکھ کا اظہار کیا تو اُس نے کہا ” اللہ کی مرضی ہے ۔ بس آپ دعا کیجئے”۔ بعد میں بھی جب ملاقات ہوئی تو ان کے گھر کے ہر فرد نے یہی کہا “دعا کیجئے”۔

عظیم الدین صاحب اول درجہ کے شریف اور قناعت پسند شخص تھے اور ویسا ہی میں نے ان کے بچوں کو پایا ۔ عظیم الدین صاحب تبلیغِ دین کے رسیا تھے اور اُن کے بعد یہ کام اُن کے بیٹے انعام الحسن نے اپنا فرض سمجھا

انعام الحسن میرے بڑے بیٹے زکریا کا سکول کے زمانہ میں بارہویں تک ہمجماعت تھا [اب بال بچے دار ہے] ۔ وہ بہت ذہین اور محنتی طالب علم تھا ۔ انعام الحسن کے والد عظیم الدین صاحب جن سے بچوں کی وجہ سے میری علیک سلیک ہو چکی تھی 1988ء میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کے دو دن بعد فوت ہو گئے ۔ عظیم الدین صاحب بھارت کے صوبہ بہار سے 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور اُن کا بیوی بچوں کے علاوہ پاکستان میں کوئی رشتہ دار نہ تھا اور نہ کوئی جائیداد تھی ۔ انعام الحسن بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے اور جب اس کے والد فوت ہوئے تو ابھی اس کا بارہویں جماعت کا نتیجہ نہیں آیا تھا ۔ والد کی تنخواہ کے علاوہ اُن کے خاندان کا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا ۔ وہ سرکاری گھر میں رہتے تھے جو انہیں 6 ماہ بعد خالی کرنا تھا

ایسی صورتِ حال میں بظاہر چاروں طرف اندھیرا تھا لیکن اس خاندان نے اللہ پر بھروسہ رکھا اور ہمت باندھ کر محنت کی ۔ خاص کر انعام الحسن کا کردار بہت عمدہ رہا ۔ اللہ کی مہربانی سے یہ گھرانہ مثالی ثابت ہوا اور ظاہر ہے کہ اللہ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اللہ پر یقین رکھیں اور اپنی مدد آپ کریں ۔ انعام الحسن کی تین بہنیں اور ایک بھائی ہے ۔ دو بہنیں ڈاکٹر ہیں جن میں سے ایک سپیشلسٹ ہے ۔ ایک بہن ایم ایس سی ہے ۔ بھائی نے بی سی ایس کیا اور خود انعام الحسن ایم ایس سی انجنیئرنگ ہے ۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا ؟ یہ سمجھ آنا تو مشکل ہے ہی ۔ اس کی تفصیل بیان کرنا بھی مشکل ہے ۔ علامہ اقبال صاحب کے شعر کو مروڑ کر میرا دسویں جماعت میں بنایا ہوا شعر شاید کچھ اشارہ دے سکے

یقینِ مُحکم عملِ پَیہم پائے راسخ چاہئیں
اِستقامت دل میں ہو لب پر خدا کا نام ہو

2 تبصرے to “اللہ کے بندے”

  1. MyAvatars 0.2 خرم کا کہنا ہے کہ:

    و من یتوکل علی اللہ فھو حسبہ

  2. MyAvatars 0.2 محمد ریاض شاہد کا کہنا ہے کہ:

    اسلام کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں خدا کی رسی ہر طرح کے حالات میں تھامنے کی مہیا کی ہے۔ ہم اس کی زات باری تعالی کے شکر گذار ہیں ۔ خدا ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

اہم اطلاع :- غیر متعلق اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے ۔ مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق ۔رکھتا ہے ۔ مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

:!: :wink: :evil: :cry: 8) 8-O :) :oops: :twisted: :-? :-o :-D :( :-P :-| :lol: :-x :roll: :mrgreen: :idea: :?: :arrow: more »