پنجابی قوم نہیں

8,097 بار دیکھا گیا

یہاں کلِک کر کے پڑھیئے ”پنجابی کوئی زبان نہیں“

مسلمان ایک قوم ہیں اسلئے اس میں قومیں نہیں ہو سکتیں ۔ مسلمان قوم کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہیں اور شناخت کیلئے قبیلے ہوتے ہیں ۔ کسی عربی کو عجمی پر یا عجمی کو عربی پر فوقیت حاصل نہیں سوائے اس کے کہ وہ تقوٰی میں بہتر ہو ۔ جمہوریہ اسلامیہ پاکستان کی آبادی کی بھاری اکثریت مسلمان ہونے کی دعویدار ہے لیکن ان میں اکثر لوگوں نے ابھی تک ہندوؤں سے سیکھی ہوئی ذات پات اور علاقائیت کو سینوں سے چمٹا رکھا ہے ۔ کچھ جدیديت کا شکار لوگ تو اپنی قبیح عادات کو چھوڑنے کی بجائے ملک کے نام سے لفظ “اسلامی” ہی کو خارج کرنے کی تجویز دیتے ہیں ۔ کچھ مہربان ایسے ہیں جنہوں نے لفظ “پنجابی” کو گالی بنا کے رکھ دیا ہے ۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ پنجابی کسی قوم یا گروہ کا نام نہیں ہے

وہ علاقہ جس کا نام مغلوں نے پنجاب رکھا تھا دہلی ۔ دہرہ دون اور اس کا شمالی علاقہ اس میں شامل تھےاور اس کی سرحدیں مشرق میں سہارنپور ۔ مراد آباد اور علیگڑھ تک تھیں ۔ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد دہلی اور اس کے شمال و مشرق کا علاقہ اس میں سے نکال دیا اور مغرب میں میانوالی اس میں شامل کر دیا تھا ۔ بہر حال جس علاقے کو پنجاب کا نام دیا گیا اس میں نہ اس دور میں پنجابی نام کی کوئی قوم رہتی تھی اور نہ اب رہتی ہے بلکہ دوسرے صوبوں کی طرح اس میں بھی بہت سے قبیلے رہتے تھے اور اب اُس دور کی نسبت زیادہ قبیلے رہتے ہیں ۔ اگر پنجاب میں رہنے والا پنجابی ہے تو دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی پختون ۔ کشمیری ۔ بوہری ۔ میمن ۔ بلوچ اور اپنے آپ کو اُردو اِسپِیکِنگ کہنے والے بھی مستقل بنيادوں پر رہائش پذیر ہیں ۔ وہ بھی پنجابی ہوئے لیکن وہ ایسا نہیں سمجھتے ۔ ساتھ ہی اگر صوبہ سندھ کے باسیوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان میں بھی وہ تمام گروہ موجود ہیں جو پنجاب میں رہتے ہیں
ماضی میں سندھ اور پنجاب میں بہت سی قدرِ مشترک تھیں اور اب بھی ہیں لیکن “میں نہ مانوں” والی بات کا کوئی علاج کسی کے پاس نہیں ۔ میں نوجوانی کے زمانہ سے کہا کرتا ہوں “سوئے کو جگایا جا سکتا ہے جاگتے کو نہیں”

سب سے معروف بات کہ جس علاقہ کو پنجاب کہا گیا اس میں ایک قبیلہ بھُٹہ نام کا تھا اور ہے ۔ اس قبیلے کا ایک فرد پنجاب سے سندھ منتقل ہو گیا اور اس علاقے کی زبان کے لہجہ پر بھُٹو کہلایا ۔ اس کی آل اولاد میں سے ذوالفقار علی بھٹو پیدا ہوئے جو دسمبر 1971ء میں پاکستان کا صدر اور پہلا سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے ۔ اسی طرح پنجاب کا کھوسہ سندھ میں کھوسو بنا ۔ علٰی ھٰذالقیاس ۔ پھر جب پاکستان بنا تو پہلے چند سال کے اندر ہی حکومت نے سندھ کے صحراؤں کو کارآمد بنانے کا سوچا اور بہت سستے داموں پٹے [lease] پر غیرآباد زمینیں دینے کا اعلان کیا ۔ اس میں فیصل آباد جو اُن دنوں لائیلپور کہلاتا تھا کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر سندھ کی زمینوں کو آباد کیا ۔ ان کے علاوہ ملتان ۔ سیالکوٹ ۔ راولپنڈی اور دوسرے شہروں کے لوگوں نے جان ماری اور سندھ کے صحراؤں کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کیا ۔ اُسی زمانہ میں میرے والد صاحب نے بھی ایک اور شخص کے ساتھ مل کر سندھ میں زمین لی اور وہ دونوں اس کی آبادکاری کیلئے روانہ ہوئے ۔ ڈیڑھ دو ماہ بعد والد صاحب آئے تو پہچانے نہیں جاتے تھے رنگ سیاہ ہو گیا تھا اور بیمار لگ رہے تھے ۔ اُنہوں نے بتایا کہ ٹریکٹر کرایہ پر لے لیا تھا اور ایک ایک فٹ ریت زمین پر سے اُٹھانے کا کام شروع کر دیا تھا ۔ سارا سارا دن دھوپ میں کھڑے رہتے تھے ۔ دھول نے اُنہیں دمہ کی سی بیماری میں مبتلا کر دیا اور وہ اپنی زمین ساتھی کے نام کر کے واپس آ گئے ۔ ان کا ساتھی ڈٹا رہا اور چار پانچ سال کی محنت سے زمین کو پیداواری بنانے میں کامیاب ہو گیا ۔ یہ واقعہ میں نے ان لوگوں کی جانفشانی کے ایک ادنٰی نمونے کے طور پر لکھا ہے جنہوں نے پنجاب سے جا کر سندھ کے بے آب و گیاہ صحرا آباد کئے اور وہیں کے ہو گئے ۔ ان میں بھٹی اور کھوکھر نمایاں ہیں

انگریز حکمران بہت شاطر تھے ۔ اُنہوں نے ہندوستانی قوم کو لڑانے کیلئے پہلے تو زمین کی متنازعہ تقسیم کر کے صوبے بنائے پھر لوگوں میں نفاق کا بیج بویا انگریز کے جانے کے بعد ابھی ڈھائی دہائیاں گذری تھیں کہ نفاق کا پودا نمودار ہوا اور سندھ کے صحراؤں کو آباد کرنے والوں کو پنجابی کہہ کر دھمکیاں دی جانے لگیں کہ “فلاں تاریخ تک علاقہ خالی کر دو ورنہ ۔ ۔ ۔ ” مزید ڈیڑھ دہائی بعد بڑے شہروں میں لسانی گروہ نے یہی وطیرہ اختیار کیا اور آج تک اختیار کئے ہوئے ہے ۔ کچھ عرصہ سے بلوچستان میں بھی پنجابی کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے حالانکہ بلوچستان میں پہلی فوجی کاروائی ذوالفقار علی بھٹو کے زمانہ میں ہوئی اور دوسری پرویز مشرف کے زمانہ میں اور دونوں کا تعلق پنجاب سے نہ تھا ۔ مشرقی پاکستان میں بھی یہی پروپیگنڈہ کیا گیا تھا حالانکہ وہاں کاروبار ہندؤں اور بہار سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا ۔ اگر اس ساری صورتِ حال پر غور کیا جائے تو صرف ایک قدرِ مُشترک ہے کہ پنجاب آبادی اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ۔ بیسویں اور اکیسویں صدی پروپیگنڈہ اور مخفی معاندانہ کھیل کا زمانہ ہے ۔ کسی ملک کو طاقت سے فتح کرنے کی بجائے اس کے اندر نفاق کا بیج بو کر پھر نفاق کی افزائش کی جاتی ہے تاکہ وہ مُلک اپنی طاقت کھو بیٹھے اور خود ہی گھٹنے ٹیک دے ۔ اسی منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے دُشمن پچھلی 4 دہائیوں سے پنجاب کو اپنی سازش کا ہدف بنائے ہوئے ہیں

This entry was posted in تاریخ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

44 thoughts on “پنجابی قوم نہیں

  1. arifkarim

    مسلمان کوئی ایک قوم نہیں، کیا ساؤتھ امریکا میں رہنے والا مسلمان اور چینی مسلمان ایک ہو سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟
    مذہب کا ایک ہو جانے سے ایک قوم نہیں بنتی بلکہ یک قومییت کیلئے تہذیب و ثقافت کا آپس میں‌ ملنا بھی ضروری ہے!

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عارف کریم صاحب
    اسلام میں قوم کا تصور جغرافیائی نہیں ہے ورنہ اسلام صرف عرب کے کچھ حصہ میں محدود رہتا ۔
    آپ نے تہذیب اور ثقافت کی بات کی ہے ۔ آپ تشریح کریں گے کہ یہ کیا ہوتی ہیں ؟

  3. عبداللہ

    آپ صرف ایک سوال کا جواب دیں کہ پنجاب اتنا کم ریونیو دیتا ہے اور سب سے ذیادہ وسائل لے لیتا ہے اور اس کے غریبوں کی حالت پھر بھی نہیں سدھرتی،
    جبکہ سندھ سب سے ذیادہ ریونیو جمع کرتا ہے اور اسے برائے نام وفاق سے واپس ملتا ہے ،

  4. چوہدری حشمت

    سلام۔
    آپ نے موضوع تو اچھا چنا ہے لیکن مضمون کی طوالت کے باعث تاثیر کم ہوگئی، یا یوں لگتا ہے کہ آپ جو کہنا چاہ رہے تھے وہ کھول کر کہہ نہیں سکے۔
    اسلام کا فلسفہ تو حقیقتآ یہی ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جید صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اوراول دور کے مسلمانوں کو چھوڑکر ہم سب میں یہ عیب رچا بسا ہے، اور سچ کو تسلیم کرلینے میں کچھ ہرج نہیں۔ میرا پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹہان اورنیا سندھی ہونا برائی نہیں ، میری برائی اگر کچھ ہوسکتی ہے تووہ یہ ہے میں اپنی پہچان کو گروہی شکل دے کردوسروں کے حق صلب کرنے لوگوں۔
    آپکی یہ بات بہرحال درست ہے کہ
    “مشرقی پاکستان میں بھی یہی پروپیگنڈہ کیا گیا تھا حالانکہ وہاں کاروبار ہندؤں اور بہار سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا”
    ان آباد گاروں کے خلاف بھی وہاں کی مقامی آبادیوں میں دھیما دھیما تعصب تھا مگرحالات فوجی کاروائی کے بعد زیادہ تیزی سے بگڑے، اور کیونکہ فوج کے زیادہ بڑے حصے کا تعلق پنجاب سے تھا اس لیے پنجابی زیادہ بدنام ہوئے “ویسے کچھ نے ہاتھ بھی صاف کیے” اور یہ بھی حقیقت ہے۔
    توصاحب اچھے برے تو ہر مذہب اور ہرقوم میں ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسی ساتھ ساتھ آخرمیں میں آپکی بھی ایک کمزوری کی نشاندہی کروانا چاہوں گا اور وہ یہ کہ آپ بھی خاصے تنک مزاج ہیں۔ افضل صاحب کی طرح اب آپ بھی اپنے بلاک کو سب کے لیئے کھول دیں دیکھیں مزاح دوبالا ہوجائے گا۔ اختلاف رائے سنا اور برداشت کرنا ہی آزادی صحافت ہے اوریہ آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    جب ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے صوبائی خود مختاری کا مسؤدہ پیش کیا تھا تو پنجاب کی حکومت نے کہا تھا کہ جو مال پنجاب کا کراچی کے راستہ آتا جاتا ہے اُس پر محصولات پنجاب وصول کرے گا ۔ چنانچہ ایم کیو ایم نے پھر صوبائی خودمختاری پر زور نہیں دیا ۔ بات سمجھ میں آ گئی ہو گی ۔ مجیب الرحمٰن نے بھی اسی قسم کا پروپیگنڈہ کر کے بنگالیوں کو گمراہ کیا تھا ۔ بُرا ہو اُس وقت کے سیاستدانوں اور دوسرے حکام کا جنہوں نے سچ کی وضاحت نہ کی اور ملک دو ٹکڑے ہو گیا

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    چوہدری حشمت صاحب
    آپ نے سب کچھ درست کہا ہے لیکن تھوڑی سی وضاحت ضروری ہے ۔ میں نے یہ تحریر اسلامی نقطہ نظر واضح کرنے کیلئے نہیں لکھی بلکہ یہ بتانے کیلئے لکھی ہے کہ پنجابی یا سندھی کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ شخص پنجاب یا سندھ میں رہتا ہے ۔ قوم اگر مسلمان ہے تو صرف مسلم ہے اور دنیاوی لحاط سے اگر ہے تو پاکستانی ہے
    دیگر نمعلوم کیوں آپ کو یہ شک ہوا کہ میرا بلاگ سب کیلئے کھلا نہیں ہے ۔ میں نے تو کبھی ایسا تبصرہ بھی حذف نہیں کیا جس میں مجھے بُرا کہا گیا ہو ۔ البتہ جیسا کہ تبصرہ کے خانہ کے اوپر درج ہے لا تعلق اور کسی گروہ کے متعلق تحقیر آمیز تحریر میں حذف کر دیتا ہوں ۔ اور اگر کوئی شخص بار بار ایسی حرکت کرے تو اس کا تبصرہ میں دیکھے بغیر شائع نہیں ہونے دیتا ۔

  7. ممحمد ریاض شاہد

    اسلام علیکم
    کسی خاص خطے میں رہنے اور زبان بولنے سے کوی فرق نہیں پڑتا ۔ فرق پڑتا ہے تو اس بات سے کہ ایک خطہ زمین کے لوگ دوسروں کی طرف محبت اور حسن ظن سے کام لیتے ہیں یا انہیں حقیر سمجھتے ہیں ۔ مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں بھی انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رنگ ،نسل ،نسب،دولت اور زبان کی بنا پر حقیر سمجھا تاریخ نے انہیں ذلت کی گہرائیوں میں دھکیل دیا ۔ ذرا اسپین کے عیسائی محکمہ احتساب کی تصاویر نکال کر دیکھیں ۔ یہ مسلمان ان لوگوں کی اولاد تھے جو مندرجہ بالا اسباب کی بنا پر اپنے بھائیوں کے دشمن بنے اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی ۔ تاریخ نے انہیں عبرت کی تصویر بنا دیا ۔ اسپین میں بربر عربوں کے دشمن بن گئے کونکہ وہ انہیں غاصب سمجھتے تھے ۔ عرب اور بربر دونوں اسپینی نومسلم یا مولادی لوگوں کو دشمن سمجھتے لگے ۔ خود عربوں میں قیسی اور یمانی کی تفریق تھی اور اس بنا پر وہ اپنے بھائیوں سے سالوں خانہ جنگی میں مشغول رہتے تھے ۔
    اپنے مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی بسلسلہ ملازمت پاکستان کے تمام خطوں میں قیام پذیر رہے ۔ ہر جگہ ان کو محبت ہی نظر آئی ۔ اب ایسا حسن نظر پیدا کرنا شاید ہر ایک کا کام نہیں ۔

  8. اسماءپيرس

    زبانوں يہ سب چکر ختم کر کے صرف ايک زبان ہونی چائيے اردو باقی سب بين (بين يعنی کہ پابندی کہيں بھينس کے آگے والا بين نہ سمجھ ليجيے گا جو آپ نے ابھی بجايا ہے مگر بھينسوں پر اسکا اثر نہيں ہونے والا)

  9. خرم

    صوبے بنانا تو ایک انتظامی مجبوری ہوتی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ مختلف اقوام کا ہونا، مختلف ممالک کا ہونا بھی ایسی ہی ایک حقیقت ہے۔ یہ سب نظام اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ قرآن اور اسلام میں کہیں نہیں‌کہا گیا کہ مسلمانوں‌کا ایک ملک ہوگا یا ایک خلیفہ ہوگا۔ اللہ ایک، قرآن ایک، رسول ایک۔ بس اس سے زیادہ اسلام آپ کو کسی بات کا مکلف نہیں کرتا۔ ہاں اجتہادی معاملات میں جو چاہے ایک گروہ اسلام کے بنیادی قوانین کو نہ چھیڑتے ہوئے لائحہ عمل اختیار کرلے۔ پنجاب پر غاصب ہونے کاالزام لگتا ہے اور اس وقت لگتا رہے گا جب تک پاکستان میں معاشرتی انصاف مہیا نہیں ہوتا۔ اس الزام کی نہ تو کوئی تاریخی اہمیت ہے نہ ہی یہ قرین از حقیقت ہے لیکن ایک وڈیرے کے لئے آسان ہے ایک ہاری کو کہنا کہ اس کی تمام تر مشکلات کا ذمہ دار پنجاب ہے۔ اگر سچ بولے تو کہے گا کہ تمہاری تمام تر مصیبتوں کا ذمہ دار میں ‌ہوں لیکن اتنا کڑوا سچ بولنے کی ہمت اگر ان میں ہو تو اس سچ کے بولنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔ :mrgreen:

  10. arifkarim

    افتخار صاحب۔ تہذیب و ثقافت ایک خاص علاقہ کے رہنے والوں کی روز مرہ کی زندگی، عادات و سماج سے متعلق رسومات ہیں۔ جب بھی کوئی نیا مذہب ایک پرانی قوم میں داخل ہوتا ہے تو اس قوم کے پچھلے مذہب کے بعض تہوار یا اثرات اس نئے مذہب پر پڑتے جو اسکو بالآخر تبدیل کر ڈالتے ہیں۔ ہر مذہب کیساتھ یہی ہوا ہے۔ اسلام کا حال ہندوؤں سے ملاپ کے بعد ہم سب کے سامنے ہیں۔ یوں مسلمان ایک قوم نہیں ہیں، اور کبھی بھی نہیں تھے!

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فرحان دانش صاحب و اسماء صاحبہ
    ہمارا سب سے بڑا فضیحتہ [یہ لفظ آجکل استعمال نہیں ہوتا] يہي ہے کہ ہمیں ایک قوم بنانے والی بنیادی چیز ہمارا دین اسلام ہے اور اُس کے بعد ہماری قومی زبان اُردو ہم نے دونوں کو طلاق دے رکھی ہے ۔ ہم قوم پرست نہیں ہین بلکہ خود غرض پرست ہیں ۔ قوم پرست ہوتے تو پاکستانی ہوتے

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عارف کریم صاحب
    آپ نے تو سارا فلسفہ ہی پلٹ کے رکھ دیا ۔ اسلام کا حال نہیں ۔ دنیا کی حرص رکھنے والے نام کے مسلمانوں کا حال ہندوانہ روسوم سے اثر لیتا ہے ۔ مذہب یا دین تبدیل نہیں ہوتا بلکہ ابلیس کے نرغے میں آئے ہوئے اس کے نام لیوا بدل جاتے ہیں ۔ سیکولر [جسے میں لادین کہتا ہوں] نظریہ کے مطابق قوم جغرافیائی حدود میں رہنے والے سب لوگ ہوتے ہیں جبکہ دین اسلام کے مطابق اس دین کے تمام پيروکار ایک قوم ہیں ۔ اگر وہ ایک قوم نہیں ہوں گے تو وہ نہ ایک دوسرے کی بھلائی کا سوچیں گے نہ ایک دوسرے کی حفاظت کی خاطر اپنی جان یا مال پیش کریں گے ۔ یہ دونو عوامل ایک قوم کا فرد ہونے کیلئے اہم جُزو ہیں ۔
    آپ قوم کی بنیاد تہذیب و ثقافت بتا رہے ہیں تو پھر امریکہ کیسے ایک قوم ہے ؟ وہاں تو ہر ریاست کی تہذیب و ثقافت فرق فرق ہے ۔ اس بنیاد پر اپنے مُلک کو ہی پرکھ دیکھتے ہیں ۔ راولپنڈی شہر ۔ واہ اور ٹیکسلا پہلے ایک تحصیل تھے ۔ اب ٹیکسلا تحصیل ہے اور واہ اس میں شامل ہے ۔ اس پورے خطہ کی کُل لمبائی صرف 42 کلو میٹر ہے مگر ان تینوں کی تہذیب و ثقافت ایک دوسرے سے مختلف ہے اور زبان بھی فرق فرق بولی جاتی ہے ۔ واہ میں خواندہ لوگوں کا تناسب 95 فیصد سے زائد ہے ۔ بیشتر لوگ اعلٰی تعلیمیافتہ ہيں اور عام لوگ اُردو بولتے ہیں چاہے اُن کے آباؤ اجداد پختون تھے ۔ بلوچ تھے ۔ سندھی تھے ۔ کشمیری تھے یا پنجابی تھے ۔ ان کے رسم و رواج بھی باقی علاقہ سے مختلف ہیں ۔ شادی میں صرف بارات اور ولیمہ ہوتا ہے ۔ کوئی فوت ہو جائے تو جس تک خبر پہنچے وہ نماز جنازہ میں شریک ہو گا ۔ چالیسواں پسند نہیں کرتے ۔ سوئم پر قرآن خوانی کر کے چلے جاتے ہیں کھانے پينے کیلئے نہیں ٹھہرتے ۔ ٹیکسلا اور راولپنڈی کی تہذیب و ثقافت بالکل مختلف ہے ۔ ٹیکسلا کی تہذیب میں گو ایچ ایف ایف ۔ ایچ ایم سی اور ایچ آئی ٹی کی وجہ سے کچھ فرق پڑا ہے مگر پھر بھی راولپنڈی سے بہت فرق ہے یعنی زبان اور رسم و رواج دونوں فرق ہیں ۔ واہ کے ساتھ ٹیکسلا ہے ۔ واہ سے نکلتے ہی يوں لگتا ہے کہ کسی دوسری دنیا مین پہنچ گئے ہیں ۔ کراچی ہی کو لے لیں ۔ بوہری اور میمن کی ثقافت باقی کراچی والوں سے بالکل مختلف ہے ۔ وہاں پختون ۔ بلوچ ۔ پنجابی ۔ اندرون سندھ کے لوگ اور بھارت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی اولاد بھی بستی ہے ۔ ان سب کی تہذیب و ثقافت فرق فرق ہے
    تو کیا آپ کہیں گے کہ راولپنڈی میں تین قومیں آباد ہیں اور کراچی میں سات قومیں؟

  13. عبداللہ

    جناب اجمل صاحب یا تو آپ واقعی بہت سیدھے ہیں یا ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں!
    کہا ں صوبائی خود مختاری جیسا بڑا معاملہ اور کہاں محصولات کی بات،
    اور آپ کا یہ کہنا بھی بلکل غلط ہے کہ صوبائی خود مختاری کے معاملے پر متحدہ خاموش ہو کر بیٹھ گئی ہے وہ مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں اس وقت ملک کے حالات کی وجہ سے انہوں نے ان تمام اشوز پر ہاتھ ہولا رکھا ہوا ہے ورنہ نہ تو وہ صوبائی خود مختاری کے معاملے سے پیچھے ہٹے ہیں اور نہ ہی بہاریوں کی واپسی کے اشو سے،
    اس ملک کو باقی رہنا ہے تو اس کا واحد حل صوبائی خود مختاری ہی ہے اور اس بات پر تمام صوبے متحدہ کے ہم خیال ہیں،
    رہی خرم صاحب کی بات تو جناب آپکی ادھی بات صحیح ہے اور آدھی غلط صرف وڈیرے کے نیچے کام کرنے الے ہاری یہ سوچ نہیں ہے بقیہ تمام سوبوں اور ان کے شہری علاقوں سمیت پنجاب کے وہ حصے جو وسائل کی اتنی لوٹ مار کے باوجود بھی پسماندہ ہیں انکی بھی یہی سوچ ہے اگر حقیقت وہی ہے جو آپ حضرات فرماتے ہیں تو پنجاب مزید صوبے کیوں نہیں بنانے دیتا اور انہیں صوبائی خود محتاری کیوں نہیں دے دیتا تاکہ بقول اپ لوگوں کے اس کی اس بدنامی سے جان چھوٹ جائے!
    ویسے کل کے جنگ اخبار میں اسلم صافی کا ایک بہت زبردست مضمون چھپا تھا ،مینے کئی لوگوں کے ساتھ ساتھ آپ کو بھی اس کا لنک پوسٹ کیا تھا مگر آپنے اسے اپنے بلاگ پر لگانے کی ذحمت نہیں کی :)
    حالانکہ آپ تو اسلم صافی کو ایک اچھا صحافی سمجھتے ہیں!

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    میں کسی کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہیں کرتا ۔ اور پھر آپ جیسوں کو کیسے بنا سکتا ہوں جو اپنے تئیں عقلِ کُل ہیں ۔ پنجاب کی موجودہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر صوبائی خود مختاری دینا ہے تو پھر وسائل اور اخراجات کی بھی دینا ہو گی ۔ اس پر نہ مرکزی حکومت راضی ہے اور نہ ایم کیو ایم یہ کہتی ہے ۔ ویسے واحد حل صوبائی مختاری کہنا بچگانہ سی بات ہے ۔ اصل حل وسائل کی منصفانہ تقسیم اور کم ترقی یافتہ حصوں کو ترجیح دینا ہے ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ وزراء کی فوج ظفر موج کو کم کر کے اخراجات کو کم کرنا اشد ضروری ہے ۔ آپ کراچی کو جناح پور بناتے بناتے اب پنجاب کے ٹکڑے کرنے پر آ گئے ہیں ۔ آپ لوگوں کو ملک کے ٹکڑے کرنے کے سوا بھی کبھی کچھ سُجھا ہے ؟ آپ کی معصومیت پہ ٫يار آتا ہے آپ یہ نہیں جانتے کہ صوبے بنانے کیلئے آئین میں تبدیلی ضروری ہے اور آئین کے حوالے سے پنجاب حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ جو ربط آپ نے بھیجا تھا وہ اخباری مضمون کا پورا عکس تھا ۔ تبصرہ نہیں تھا اور اس سے بھی بڑھ کر کہ اس کا متعلقہ تحریر سے کوئی تعلو نہیں تھا ۔ آپ پرائمری کے بچوں کی طرح پڑھانا پڑتا ہے ۔ آپ کے تبصرے پر پابندی کی وجہ یہی ہے کہ آپ انٹ شنٹ ۔ لاتعلق اور ذاتی عناد پر مبنی لکھتے ہیں

  15. عبداللہ

    اجمل صاحب، میں اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہوں ایسا تو مینے کوئی دعوہ نہیں کیا البتہ آپ اکثر دبی زبان ایسے دعوے کرتے نظر آتے رہتے ہیں،:)
    اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف سب سے پہلے اپنے مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کی جو من گھڑت وجوہات بیان کر کے نئی نسل کو پچھلی نسل کی طرح گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اس پر بات کرتے ہیں،
    آج کے میڈیا دور میں جب کوئی بات زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی آپ نے پھر سے غلط بیانی کی ہے ،بنگالیوں کا بھی یہی بنیادی مسئلہ تھا صوبائی خود مختاری اور وسائل میں جائز حق ،بی بی سی پر ایوب خان کی جو ڈائری کے صفحات چھپے تھے اس میں صاف صاف لکھا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور ایوب خان بنگالیوں کی آزادانہ فطرت سے خوفزدہ تھے اور انہیں یہ ڈر تھا کہ یہ جراثیم کہیں دوسرے علاقوں میں بھی نہ پھیل جائیں اسی لیئے 1960 میں ہی اس بات کا فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ بنگال کو الگ کردیا جائے گا،
    اور جب بنگالیوں نے ایک طویل سیاسی جدو جہد اور اس میں فتح کے بعد اپنا حکومت بنانے کا حق مانگا تو پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ جوکہ جاگیرداروں اور فوج کے اعلی افسران جو کہیں نہ کہیں ان ہی جگیرداروں کے کچھ لگتے تھے پر مشتمل تھی نے سندھ کے وڈیروں کو ساتھ ملا کر انہیں ان کا حق دینے سے انکار کردیا اور نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ مجیب الرحمان آخر وقت تک اسٹیبلشمنٹ اور بھٹو سے مزاکرات کے لیئے کہتا رہا،
    اس کے علاوہ آپنے ایک بار پھر جناح پور بنانے کا الزام لگایا جبکہ آج یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ کس طرح آپ کے بھائی بندوں نے متحدہ کو ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لیئے یہ جھوٹے الزامات لگا کر بے گناہوں کا قتل عام کیا تھا،
    ملک کے ٹکڑے ہم نے نہیں آپنے اور اپ جیسوں نے کیئے ہیں اور اگر آپ لوگ اب بھی نہ باز آئے تو خدانخواستہ ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں،
    جو ربط مینے بھیجا تھا اس کا اس پوسٹ سے بہت بڑا تعلق تھا کہ جو کھیل پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ نے بنگلہ دیش اور کراچی میں کھیلا تھا وہی کھیل وہ خبیث لوگ ریٹائر ہو کر اب بھی صوبہ سرحد اور پنجاب میں کھیل رہے ہیں،

  16. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ بی بی سی سے پیار کیجئے کہ آپ کا مداوا وہیں ہے ۔ آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس مین 10 فیصد بھی سچائی نہیں ہے ۔ بنگالیوں کا بڑے پیمانے پر استحصال ہندو ساہوکاروں اور بہار سے آئے ہوئے مسلمانوں نے کیا ۔ انہی بہاریوں کی اولاد نے سندھ کے بڑے شہروں کو يرغمال بنا رکھا ہے ۔ جس اسٹیبلشمنٹ کو آپ پنجابی کا نام دے رہے ہیں اس میں اکثریت يوپی سی پی اور بہار سے آئے ہوئے آئی سی ایس افسروں کی تھی ۔ جو انگریز کے غلام تھے اور پاکستان بننے کے بعد کالے انگریز بن بیٹھے اور پاکستانیوں کے ساتھ انگریزوں سے بدتر سلوک کیا ۔ رہی فوج تو اس کے جرنیل بھی یا پٹھان تھے یا یوپی والے ۔ پنجابی اقلیت میں تھے ۔ ہاں مرنے کیلئے فوجی جو تھے ان میں اکثریت پنجابیوں کی تھی ۔ مجیب الرحمان کبھی بھی پاکستان سے مخلص نہ تھا بلکہ ایک غُنڈا تھا اسی لئے حسین شہید سہروردی نے اسے اپنے وقت میں دبائے رکھا ۔ مشرقی پاکستان کے خلاف سازش کے تین بڑے کردار تھے ۔ اندرا گاندھی ۔ مجیب الرحمان ۔ ذوالفقار علی بھٹو ۔ مُکتی باہنی دراصل بھارت کی تربیت یافتہ ملیشیا تھی ۔
    آپ دوسروں کو ناپاک الفاظ سے نوازنے کے عادی ہیں ۔ اور چیزوں کے علاوہ یہ بھی آپ کی تنگ نظری کا ثبوت ہے

  17. عبداللہ

    اجمل صاحب یہ ڈائری کے صفحات ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے بی بی سی والوں کو مہیا کیئے تھے جس کا انہوں نے حوالہ بھی دیا تھا اور اگر یہ جھوٹ تھا تو کوئی اس کے بارے میں کچھ بولا کیوں نہیں اب بھی وقت ہے اپنا یہ جھوٹا اور زہریلا پروپگینڈہ بند کر دیجیئے اور صرف زبان سے نہیں دل سے بھی اللہ کو ایک مانیئے اور خود کو اس کا بندہ اپنے نفس کو خدا نہیں،
    آپ فرماتے ہیں۔بنگالیوں کا بڑے پیمانے پر استحصال ہندو ساہوکاروں اور بہار سے ائے ہوئے مسلمانوں نے کیا،انہی بہاریوں کی اولادوں نے سندھ کے بڑے شہروں کو یرغمال بنارکھا ہے،کسی شہر میں کاروبار کو فروغ دینا اور وہاں ترقیاتی کام کروانا اگر یرغمال بنانا ہے تو اللہ پاکستان کے سارے شہروں کو یرغمال بنادے آج جو آپ عیش کی کھا رہے ہیں یہ انہی یر غمالیوں کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے
    آپ نے اپنی نسلی برتری کا ثبوت اس پوسٹ میں بھی جگہ جگہ دیا ہے،آپ مختلف قوموں کو پنجابی ثابت کررہے ہیں حالانکہ جو لوگ جہاں گئے انہوں نے کبھی اپنی شناخت نہیں بدلی میں کتنے ہی سندھیوں کو جانتا ہوں جو اج بھی اپنے نام کے ساتھ خان لکھتے ہیں حالانکہ ان کی کئی نسلیں سندھ میں مر کھپ گئیں اور اس سے کوئی فرق بھی نہین پڑتا کہ کون اپنے آپ کو کیا لکھتا ہے اسل مسئلہ اس نسلی تفاخر کا ہے جس کا آپ شکار ہیں،لیاقت علی خان سے بھی جناب کو اسی لیئے اتنی محبت ہے کہ آپ کو معلوم ہے کہ وہ ایک پنجابی تھے!
    پنجاب کے عام عوام بھی اپنے بڑوں کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے ہر جگہ عتاب کا نشانہ بنتے ہیں ،
    بیوروکریسی اور فوج میں موجود یوپی والوں یا اردو اسپیکنگ کو ایوب خان کے دور سے ہی نکالا جاتا رہا اور مزید کے آنے کا دروازہ اتنا محدود کردیا گیا کہ کوئی اکا دکا گیا ہو تو گیا ہو،اور مکمل پابندی بھٹو کے دور میں لگادی گئی،آپ کب تک حقائق کو جھٹلاتے رہیں گے
    رہی بات بی بی سی سے پیار کرنے کی تو یہ پیار تو جناب کا بھی خوب امڈتا ہے جب وہ متحدہ کے خلاف کوئی پوسٹ یا خبر شائع کرتے ہیں :)

  18. عبداللہ

    پنجاب کا تو صرف نام ہی بدنام ہے اصل فساد کی جڑ تو یہاں کے وہ جگیر دار ہیں جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ ہی اسی لیئے لیا تھا کہ وہ اپنی وہ جائدادیں آنے والی حکومت سے بچا سکیں جو انہیں انگریز سرکار نے اپنے لوگوں سے غداری کے صلے میں عطا کی تھیں کیونکہ کانگریس کے منشور میں جگیردارانہ نظام کا خاتمہ شامل تھا!

  19. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ نے حوالہ ایک ایسے شخص کا دیا ہے جس کا ماضی جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ میں نے آپ کو خوش نہیں کرنا بلکہ اس ہستی کی خوشنودی حاصل کرنا ہے جس نے کائنات کو پیدا کیا اور اس کا کاروبار چلا رہا ہے ۔ باقی آپ اپنی طرف توجہ کيجئے ۔ آپ کے خیالات کا معیار اس سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ مجھے عوام میں نہیں سمجھتے ۔ اور نہ آپ کو میرے متعلق کچھ معلومات ہیں ۔ میں آپ کیلئے دعا ہی کر سکتا ہوں دوا تو آپ نے خود ہی کرنا ہے

  20. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ کے ساتھ تو وہی ہوا “خود آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا” ۔ تو آپ آل انڈیا کانگریس کے دلدادہ ہیں ۔ اسی لئے تو آپ کے لیڈر نے بھارت میں جا کر کہا تھا کہ “پاکستان بنانا ہی بہت بڑی غلطی تھی” کیونکہ آپ کا لیڈر جو برطانیہ کی گود میں بیٹھا ہے قائد اعظم سے اپنے آپ کو زیادہ عقلمند سمجھتا ہے اور آپ بھی ہندوؤں کو مسلمانوں پر ترجیح دینے کیلئے کوشش میں ہوں گے

  21. عبداللہ

    اجمل صاحب بغض معاویہ میں اس حد تک نہ گر جائیں، اگر دشمن کی بھی کوئی اچھی بات ہو تو اسے تسلیم کرنا اعلی ظرفی کی نشانی ہوتی ہے ،مگر اپ کو کیا معلوم!
    میری کسی بات سے انکار کے لیئے آپکے پاس کوئی دلائل نہیں تو جناب ان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے،
    قائد اعظم پاکستان ہر گز نہ بناتے اگر کانگریس مسلمانوں کو صوبائی خود مختاری دینے پر راضی ہو جاتی اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے اپکے بڑے بھی جھٹلا نہیں سکتے!
    جی ہاں وہی صوبائی خود مختاری جو اب دیگر صوبے پنجاب سے حاصل کرنا چاہتے ہیں اپنے کیئے کا الزام دوسروں کو دینے کی پالیسی ترک کر دیجیئے،دنیا اب 60 اور 70 کی دہائی میں نہیں رہ رہی ہے اور نہ ہی 80 ،90 کی!

  22. عنیقہ ناز

    اتنے دنوں بعد کمپیوٹر پہ ہاتح رکحنے کا موقعہ ملا۔ اول تو میں یہ کبھی نہیں سمجھ سکی کہ جب آپ مسلمانوں کو ایک قوم سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان میں اتحاد ویگانگت پیدا ہو تو ہمیشہ ایسے متنازعہ موضوات پہ اتنی جانبدارانہ رائے کیوں یہ پیش کر دیتے ہیں۔ سب کرنے کے بعد آپ معصومیت سے یا اپنے زور میں یہ بھی کہنے سے دریغ نہیں کرتے کہ یہی صحیح ہے۔ حالانکہ ان باتوں پہ ان مضمونوں کے ماہرین بحی کچھ باتیں کہہ چکے ہوتے ہیں جنہیں سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔۔ لیکن آپ ان باتوں کو بھی کبھی خاطر میں نہیں لاتے۔
    ایک بات اور جو کہنا چاہونگی وہ یہ کہ جب مسلمانیت ہونا ایک قوم ہونے کی نشانی ہے تو صوبہ پنجاب کو انتظامی معاملات کے لئیے دو ٹکڑوں میں توڑا جائے یا دس اس سے آپ کیوں دہشت زدہ اور تکلیف کے عالم میں آجاتے ہیں۔ اس ساری چیز کو آپ سازش کیوں سمجھتے ہیں۔ کیا ان جغرافیائ حدوں کو جن میں پنجاب اسوقت قائم ہے کوئ غیر معمولی تقدس حاصل ہے کہ ایسا کرنا مءجب فساد ٹہرے گا۔

  23. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    محترمہ ۔ بات سمجھ کی ہے ۔ میں جب حقیقت لکھتا ہوں تو آپ کو متنازع لگتی ہے مگر آپ عام تحاریر میں بھی غيرمتعلق تنازع کھڑا کر دیتی ہیں ۔
    آپ اُردو دان ہیں شاید مجھ سے بہتر جانتی ہوں مگر پھر بھی مسلمانیت کی ایجاد میری سمجھ سے باہر ہے ۔ قوم مُسلم یا مسلمان ہو سکتی ہے یہ مسلمانیت کہاں سے آگئی ؟ کیا یہ بھی اُسی طرح ہے جس طرح آپ نے رسول اکرم سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور کو سیکولر قرار دیا تھا ؟
    محترمہ ان ماہرین کے نام لکھ دیتیں جن کی معزز تحقیق کے خلاف میں لکھتا ہوں تو بات کچھ سمجھ میں آ جاتی ۔ تخیلاتی محقق سے موازنہ ناممکن ہے ۔
    آپ نہ لکھا ہے “صوبہ پنجاب کو انتظامی معاملات کے لئیے دو ٹکڑوں میں توڑا جائے یا دس اس سے آپ کیوں دہشت زدہ اور تکلیف کے عالم میں آجاتے ہیں”۔
    مفروضہ گھڑ کر ان کی بنیاد پر دوسروں پر حملہ کرنا آپ کے نزدیک جائز اور عقلمندانہ فعل ہے تو میں آپ کی بہتری کیلئے دعا ہی کر سکتا ہوں ۔
    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پنجاب کے ٹکڑے کرنے میں آپ اور آپ کے ہمنواؤں کو کیوں دلچسپی ہے ۔ کیا آپ پنجاب کی حاکم یا کم از کم چیف سیکریٹری رہ چکی ہیں جو آپ پنجاب کے معاملات سے واقف ہیں ؟ آپ نے کچھ کرنا ہی ہے تو اپنے گھر سے ابتداء کیجئے اور جب وہ منصوبہ کامیاب ہو جائے تو حکومتِ پنجاب کو اس کی تجویز بھیج دیجئے گا ۔ مجھے کچھ بتانے کا کوئی فائدہ نہيں کہ میرا پنجاب کی حکومت کے ساتھ کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ۔
    ویسے اگر میں عنیقہ ناز ہوتا تو پوچھتا کہ آپ کے پاس کونسی ایڈمنسٹریشن کی اعلٰی ڈگری اور تجربہ ہے جس کے باعث یہ کہہ رہی ہیں ؟
    آپ لوگ اپنے ذہنوں سے رقابت اور عناد کا پردہ اگر اُتار دیں تو صاف نظر آ جائے گا کہ پنجاب میں کراچی سے بہتر نظام چل رہا ہے حالانکہ سندھ اور مرکز میں ایک ہی حکومت ہے اور اور پنجاب اور مرکز میں مخالف ۔

  24. عبداللہ

    تصحیح ،پنجاب کے صرف چند شہروں میں بہتر نظام چل رہا ہے مگر پھر بھی اس کا کراچی سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا!
    پنجاب بہت سے علاقوں کا حق مار کر بڑا صوبہ بنا بیٹھا ہے اور اسی لیئے اسمبلی میں بھی اس کی چلتی ہے اور وسائل کے بھی بڑے حصے پر وہ قابض ہے،سارے صوبوں کو کم و بیش برابر ہونا چاہیئے اس سے وسائل کی بھی منصفانہ تقسیم ہو گی اور ترقیاتی کام بھی برابری کی بنیاد پر ہوں گے!

  25. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    کوئی ثبوت پیش کیجئے ۔ بے پر کی اُڑاتے آپ کی کافی عمر گذر گئی ہے ۔ اللہ کا خوف ہر شخص کو دلاتے رہتے ہیں اس پر کبھی خود بھی عمل کیجئے ۔ آپ کو تو کل اور آج کی بھی خبر نہیں اور دور کی کوڑی لانے کے دعویدار ہیں

  26. عبداللہ

    نہیں آج کی خبر مجھے مل گئی ہے ،مگر پنجاب اگر وسائل کی تقسیم پر راضی ہوگیا ہے تو کوئی احسان نہیں کیا 62 سال وہ جس طرح قابض رہا ہے اس کے بعد آج بھی اگر اسے اتنا مجبور نہ کردیا جاتا تو یہ کام ہونے والا نہیں تھا ،میری باتوں کو بے پرکی کہہ کر آپ اپنے دل کو تسلی تو دے سکتے ہیں مگر انہین جھٹلا نہیں سکتے!:)

  27. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    یہ مجھے کیا پڑھوا رہے ہیں ۔ جائیں اور اس پر عمل کرائیں ۔ ایسے زمیندار سندھ ہی میں ہیں اور کچھ جنوبی پنجاب میں ۔ میرے پورے خاندان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے ۔ میری ملکیت تو صرف اُس مکان کا چوتھائی ہے جو وراثت میں ہم چار بھائیوں کو ملا تھا ۔ میں آپ کي طرح یا آپ کے لیڈر کی طرح ملک چھوڑ کر نہیں بھاگا اور اللہ کی دی ہوئی توفیق سے حالات کا مقابلہ کر رہا ہوں ۔ آپ پہلے اپنا کردار بنایئے پھر دوسروں کو نصیحت کیجئے

  28. عبداللہ

    اجمل صاحب ایک تو آپ بھڑک بہت جلدی اٹھتے ہیں وہ کہتے ہیں نا
    if you can’t bare the heat leave the kitchen:)
    اجی حضرت مینے کب آپکو جاگیر دار گردانا ہے یہ کالم تو اس لیئے جناب کو بھیجا تھا کہ آپ اس نظام کے بہت بڑے طرفدار ہیں اور مجھے تو ہندوؤں کا ایجینٹ بنادیا تھا لیکن اور کس کس کو آپ ہندوؤں کا ایجینٹ بناتے رہیں گے یہ لسٹ تو بہت طویل ہوجائے گی آپ نے مجھے یہ کالم سندھ کے جاگیر داروں کو پڑھوانے کا حکم صادر فرمایا ہے اصل میں جب علاقے کا سب سے بڑا غنڈہ غنڈہ گردی چھوڑ دیتا ہے یا اس سے چھڑوادی جاتی ہےتو چھوٹے موٹے بدمعاش خود ہی راہ راست پر آجاتے ہیں :)

  29. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    مجھے نہ بھڑکنے کی ضرورت ہے نہ بھڑکتا ہوں ۔ باورچی خانہ خواتیں کی میراث ہے مردوں کا وہاں کیا کام ؟ آپ لاتعلق تحاریر کے حوالے دے کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں اور مجھے پڑھنے کو بھی کہتے ہيں ۔ اس تحریر کے نتیجہ میں میں کیا کر سکتا ہوں ۔ ویسے آپ کی معلومات کیلئے لکھ دوں کہ موصوف نے قرآن شرف کی آیات کا غلط استعمال کیا ہے ۔ آپ ان خود ساختہ مفکروں کی بجائے عقلِ کُل کے ارشادات کی کتاب پر وقت صرف کیا کریں بہت فائدہ ہوگا ۔ آپ اپنے مفروضوں کی بجائے میری تحریر پر بحث کر دیا کریں تو آپ کی بڑی کرم نوازی ہو گی ۔ میں نے کب اور کس جگہ جاگیرانہ نظام کی حمائت کی ہے از راہِ کرم اس تحریر کا حوالہ تو دیجئے ۔ میں ہر اُس آدمی کو دُشمن کا ساتھی کہوں گا جو قائد اعظم کو غلط اور ہندوؤں یا اُں کی کانگرس کو درست کہے گا

  30. عبداللہ

    اجمل صاحب یہ کس قرآن اور حدیث میں لکھا ہے کہ باورچی خانہ خواتین کی میراث ہے اور وہاں مردوں کا کیا کام ! تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو باورچی خانے کے کاموں میں اپنے گھر والوں کی مدد کرواتے تھے وہ آپ کے خیال میں کیا تھے؟
    اس کے علاوہ باورچی خانے کو خواتین کی میراث بتاتے ہوئے آپ بھول گئے ہیں کہ اس لام کی رو سے خوتین اگر باورچی خانے میں نہ جانا چاہیں تو شوہر ان پر زبردستی نہیں کرسکتے بلکہ یہ انکی زمہ داری ہوگی کہ وہ ان کے اور گھر والوں کے لیئے کھانے کا انتظام کریں کس طرح یہ ان کی اپنی صوابدید پر ہے، ہاں اگر عورت اپنے شوہر کی آسانی کے لیئے باورچی خانے کا کام سنبھالتی ہے تو اسے اللہ کے یہاں اس کا بڑا اجر ملے گا اور یہ اس کا اپنے شوہر پر احسان ہوگا!
    اور اچھے شوہر جیسے مہر آپی کے میاں ہیں ان کے ہر کام پر انہیں جزاک اللہ کہتے ہیں:)
    اب بات آتی ہے قائد اعظم کو غلط کہنے کی تو وہ ایک عام انسان تھے اور انسان خطاؤں کا پتلا ہے !مگر وہ ایک اصولی اور ذہین انسان تھے تو جہاں وہ صحیح ہوں گے انہیں صحیح کہا جائے گا اور جہاں غلط ہوں گے غلط!
    رہی بات ہندوؤں یا کانگریس کو صحیح کہنے کی تو وہ تو میں کہ ہی چکا ہوں کہ دشمن کی اچھائی کو تسلیم کرنا اعلی ظرفی کی نشانی ہوتی ہے مگر جیسا کہ انیقہ نے کہا ،
    ذمیں جنبد نہ جنبد گل محمد :lol:

  31. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    کبھی تو آپ پانی کی سطح میں اُنگلی ڈبونے سے گریز کرتے ہیں اور کبھی کنویں کی تہہ میں چھلانگ لگا دیتے ہیں ۔ کیا میں نے لکھا تھا کہ باورچی خانہ دین کے لحاظ سے عورت کی میراث ہے ؟ کبھی تو تعصب کی بجائے عقل سے کام لیا کریں ۔ آپ شاید سیّدہ مہر افشاں کی بات کر رہے ہیں ۔ مجھے تو اُن سے دُور ہی رکھیئے ۔ ۔ مہربانی ہو گی ۔ آپ کی نوازش ہے کہ مجھے دینیات کا سبق پڑھا دیا ۔ اگر آپ دین اسلام کے پابند ہو جائیں تو میں آپ کے تبصروں پر لگی قدغن ختم کر دوں گا
    پہلے تو آپ نے اسلام کا سبق پڑھا دیا اور آخر میں ایسا محاورہ لکھ دیا جو اسلام کا مذاق اُڑانے والوں نے پاکستان بننے سے بہت پہلے مرتب کیا تھا

  32. عبداللہ

    جناب اجمل صاحب میراث کا تعین اسلام ہی نے کیا تھا اسی لیئے مینے بھی اسلام کا ہی حوالہ دیا!
    اور مہر آپی کو آپسے قریب کرنے کا گناہ کس ناہنجار نے کیا! مینے تو اپکو صرف ایک حوالہ دیا تھا ،کون کتنا اسلام کا پابند ہے اس کا فیصلہ تو اللہ کے یہاں ہوگا

  33. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آدمی کو بات کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیئے کہ یہ بات کہنے سے فائدہ کیا ہو گا کیونکہ نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔ آپ نے سیّدہ مہر افشاں کو ناہنجار کہہ دیا ہے

  34. عبداللہ

    میرا خیال ہے کہ اپ بھی جواب دینے میں جلدی کے بجائے تھوڑا اطمئنان سے پڑھ لیا کریں کہ دوسرے نے کیا لکھا ہے !
    اور آپ کا تبصرہ ہضم کرنے کا مرض دوبارہ زور پکڑ رہا ہے خیال کیجیئے:)

  35. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    جس تبصرہ کا میں جواب لکھتا ہوں وہ اطمینان اور تحمل کے ساتھ پڑھ لیتا ہوں اور اسی وقت جواب نہیں لکھتا بلکہ کچھ وقفہ کے بعد پھر پڑھ کر جواب لکھتا ہوں ۔ حالیہ تبصروں میں سے میں نے صرف وہ حصہ حذف کیا ہے جو آپ کے نام کے متعلق تھا ۔ زور پکڑنے والی کوئی بات نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)