پھر نتھی کر دیا گیا
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 26 Oct 2009
میں راشد کامران صاحب کے بلاگ پر کسی اور کام سے گیا تھا اور وہاں اپنے آپ کو بندھا ہوا پایا
سوال ۔ 1 ۔ انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
جواب ۔ کچھ مقرر نہیں ۔ صفر سے لے کر 8 گھنٹے تک لیکن لگاتار نہیں اور اس کا انحصار مہیاء وقت اور ضرورت پر ہے ۔ مطلب ہے کہ کوئی اور کام ہو تو پھر کمپیوٹر میرے انتظار میں چلتا رہتا ہے ۔ اسی لئے کئی حضرات کو شکائت ہے کہ میں ان کی بات کا جواب نہیں دیتا
سوال ۔2 ۔ انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
جواب ۔ وہی چالِ بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ۔ بقول کچھ جوانوں کے میں جدید دنیا میں نہ آ سکا ہوں نہ اسے سمجھ سکا ہوں ۔ یہ الگ بات ہے کہ جب میں نے کپيوٹر پر کام شروع کیا اور میراتھان قسم کے پروگرام ڈویلوپ کئے [1985ء تا 1988ء] اس وقت وہ لوگ بوتل میں دودھ پیتے ہوں گے یا پرائمری سکول میں پڑھتے ہوں گے ۔ جو جوان امریکہ کینڈا یا یورپ میں ہیں ان کی بات نہیں کر رہا کیونکہ وہ مجھے عرصہ سے جانتے ہیں ۔ خیال رہے کہ سب سے پہلے اسلام آباد میں انٹر نیٹ شروع ہوا تھا اور میں پہلے چند دنوں میں یہ سہولت حاصل کرنے والوں میں تھا ۔ مین ان سب سے پہلے چند پاکستانیوں میں تھا جنہوں نے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعہ صوتی پیغام بھیجے
فائدے یہ ہوئے
میرا بڑا بیٹا زکریا اعلٰی تعلیم کیلئے ستمبر 1997ء میں امریکا چلا گیا ۔ تو ای میل کے ذریعہ جلد خیر خیریت معلوم ہو جاتے تھی ۔ لیکن تسلی نہ ہوتی تھی ۔ اسلئے ٹیلیفون کرتے تھے اور فی کال 700 سے 1050 روپے ادا کرتے تھے جس میں کبھی کبھار آٹھ نو منٹ بات ہوتی تھی عام طور پر آپریٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے تین منٹ بات ہوتی تھی ۔ اب تو مسئلہ نہیں رہا ۔ کمپیوٹر پر ٹیلیفون سے بہتر آواز میں بات ہوتی ہے پہلے خط لکھ کر ڈاکخانے کے ذریعہ بھیجتے اور پھر ہفتوں انتظار کرتے جواب کا ۔ اب فٹا فٹ ہو جاتا ہے ۔
پہلے کتابیں ڈھونے اور صفحے اُلٹنے میں کافی وقت ضائع ہوتا تھا ۔ پھر ہاتھ سے لکھنا پڑتا تھا ۔ اب چند منٹوں میں سب کچھ ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ عِلم حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ بلاگر اور قاری مجھ سے پریشان رہتے ہیں
سوال ۔ 3 ۔ کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
جواب ۔ میری سماجی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ سماجی سرگرمیاں جاری ہیں البتہ چند سالوں سے باہر کا ماحول بدلنے کی وجہ سے کم ہو گئی ہوئی ہیں ۔ میں بم دھماکوں کی نہیں قوم کے افراد کے رویے کی بات کر رہا ہوں جو میرے جیسے انسان کو پسند نہیں کرتے
گھر میں صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ میری بیگم مجھے اور عزیز و اقارب کو کہتی رہتی ہیں ” ہر وقت کمپیوٹر پر بیٹھے رہتے ہیں “۔ میں کہتا ہوں ” مجھ سے قسم کرا لو جو میں کبھی کمپیوٹر پر بیٹھا ہوں ”
سوال ۔ 4 ۔ اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
جواب ۔ میں نے اپنی زندگی میں صرف ایک علت پالی تھی ” چائے ” اور اُس سے میں نے اُس وقت پیچھا چھُڑا لیا جب میں گیارہویں جماعت میں پڑھتا تھا
سوال ۔ 5 ۔ کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
جواب ۔ کھیلیں تو میری انٹر نیٹ پاکستان میں آنے سے بہت پہلے بند ہو گئی تھیں کیونکہ کھیلنے کی بجائے کھلانے کے دن شروع ہو گئے تھے
زمرہ : روز و شب | 11 تبصرے »
