Daily Archives: October 19, 2009

انگریزی نہیں آتی

ایک جنگل میں یہ قانون منظور ہوگیا کہ آئندہ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کو نہیں کھائے گا۔ دوسرے دن جانوروں نے دیکھا کہ ایک خرگوش بھاگا چلا جارہا ہے ایک گیدڑ نے اس کو آواز دی اور پوچھا ” کیوں بھاگے چلے جارہے ہو ؟”
خرگوش نے کہا ” ایک بھیڑیا میری طرف آرہا ہے “

اس نے کہا۔”تم کو معلوم نہیں کہ قانون جاری ہوگیا ہے؟ اب کوئی جانور دوسرے جانور کو نہیں کھائے گا۔“
خرگوش بولا”ہاں قانون تو جاری ہوگیا ہے۔ لیکن بھیڑیئے کو پڑھنا نہیں آتا۔!!
اب خرگوش پریشان ہیں کہ قانون بن گیا ہے اور جو طاقتور ہیں اور با اثر ہیں ان کو پڑھنا نہیں آتا ایسے میں ہمارا کیا بنے گا……؟

کہتے ہیں کیری لوگر بل کے تخلیق کاروں کو کوئی سمجھا رہا تھا کہ ” لکھ دو ۔ جو مرضی لکھ دو ۔ پاکستانیوں کو انگلش نہیں آتی ۔“ واقعی پاکستانی لوگ انگلش تحریروں کو پڑھ بھی نہیں سکتے۔ اگر پڑھ سکتے تو 2005ء میں شائع ہونے والی کتاب کے مصنف کو اپنا سفیر مقرر کیوں کرتے ؟ اور پاکستان کے حکمرانوں کو بھی انگلش پڑھنی نہیں آتی۔ اگر آتی تو وہ امریکی شہریت کا وہ حلف نامہ تو پڑھ لیتے جس کے تحت حلف اٹھاکر جناب حسین حقانی امریکی شہری بنے تھے ۔ اس میں لکھا ہے

”میں حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں ہر حال میں امریکہ کا وفادار رہوں گا اور ہمیشہ ہر کام امریکہ کے مفاد میں کروں گا “

پورا مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے

آخر امریکہ نے ایسا کیوں کیا ؟

اُمید ہے کہ وہ قارئین مندرجہ ذیل خبر پڑھ کر اپنے رویّے پر نظرِ ثانی کریں گے جو نام نہاد پاکستانی طالبان کو غیرمُلکی حکومتوں کے ایجنٹ قرار دینے پر اسے سازشی قیاس آرائی [conspiracy theory] قرار دیتے یا اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ کسی نے مجھے اپنے خول میں بند کہا اور کسی نے کڑوی گولی نگل کر حقیقت [جو حقیقت نہیں تھی] کو مان لینے کا کہا

سرحد حکومت اور فوجی فیصلہ سازوں کے قریبی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن سے صرف 5 روز قبل امریکی فوج نے افغانستان میں وزیرستان سے ملحقہ سرحد پر اپنی 8 چوکیاں خالی کر دیں ۔ ان میں سے 4 وزیرستان کے قریب تھیں جن میں زمبالی اور نورخہ کی چوکیاں بھی شامل ہیں جبکہ 4 نورستان کے علاقے میں تھیں

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکا نے شمالی وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں بھی اپنی چوکیاں ختم کر دی ہیں جس سے خدشہ ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان میں داخل ہونے کے لئے حوصلہ ملے گا۔ اس امریکی اقدام سے پاکستان کی حکومت اور فوجی حلقوں نے سخت ناپسند کیا ہے۔ صوبہ سرحد میں بھی سول اور فوجی رہنما اس پر نہ صرف حیران ہیں بلکہ اس کے جنوبی وزیرستان آپریشن پر ممکنہ اثرات سے پریشان ہیں۔ سرحد حکومت نے اسلام آباد کے متعلقہ حلقوں کو اس صورتحال پر پہلے ہی الرٹ کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس معاملے کو امریکا کے سامنے اٹھایا ہے اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ بشکریہ ۔ جنگ

[تبصرہ ۔ اس اقدام سے واضح ہو گیا ہے کہ اصل امریکی صدف پاکستان کی فوجی قوت کو کمزور کرنا اور پاکستان کا اسلامی تشخّص ختم کرنا ہے اور نام نہاد پاکستانی طالبان دراصل امریکا کے مال پر پلنے والے کرائے کے قاتل [mercenaries] ہیں]