صاحبِ عِلم کی مدد درکار ہے
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 14 Oct 2009
میں کسی کا امتحان نہیں لے رہا بلکہ ایک معاشرتی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ اسلئے مندرجہ ذیل معلومات فراہم کردیں تو نوازش ہو گی خواہ اس کے لئے مطالع کرنا پڑے یا کسی عالِم کی مدد لینا پڑے ۔ میں اپنے گھر اسلام آباد میں ہوتا تو شاید یہ اشتہار نہ دینا پڑتا
سوال ۔ 1 ۔ اگر مندرجہ ذیل کے علاوہ کوئی اور مستند مجموعات حدیث اُردو ترجمہ کے ساتھ ہیں تو ان کے نام اور ان کے مصنفین کے نام بتایئے اور اگر انٹرنیٹ پرچاہے انگریزی میں ہوں تو ربط دے دیجئے
1 ۔ صحیح بخاری
2 ۔ صحیح مُسلم
3 ۔ سُنن ابو داؤد
4 ۔ سنن ترمذی
5 ۔ سنن ابنِ ماجہ
6 ۔ موطاء عبدالمالک
سوال ۔ 2 ۔ میرے علم کے مطابق اگر فرض نماز شروع ہو جائے یا فرض نماز کی تکبیر اقامت شروع ہو جائے تو پھر کسی اور نماز یعنی نفل یا سُنت کی نیّت کرنا منع ہے ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ اگر 4 رکعت سُنّت نماز شروع کر لی ہو اور تکبیر اقامت شروع ہو جائے تو 2 رکعت مکمل کر کے سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو جانا چاہیئے ۔ کیا یہ شرط فجر کی نماز پر لاگو نہیں ہوتی ؟ اگر لاگو نہیں ہوتی تو مستند حدیث کا حوالہ دیجئے ۔ اگر انٹرنیٹ پرچاہے انگریزی میں ہو تو ربط دے دیجئے
زمرہ : دین, گذارش | 29 تبصرے »
