Daily Archives: October 7, 2009

مہمان خانہ

میرے ہموطنوں بالخصوص شہروں میں بسنے والوں نے غیروں کی نقالی میں ایسی دوڑ لگائی کہ اپنی ثقافت سے بیگانہ ہو گئے ۔ ہماری دیرینہ ثقافت کے ایک جُزو سے متعلق ایک تحریر نظر پڑھی تو اسے آگے بڑھانے کا موقع ضائع کرنا اپنے آپ سے زیادتی محسوس ہوا ۔ میری خواہش ہے کہ جو کمی میں چھوڑ دوں اُسے دوسرے بلاگر یا قارئین پُر کریں

عنیقہ ناز صاحبہ کی ڈرائنگ روم کے حوالے سے تحریر میں اگر ڈرائنگ روم کی بجائے بیٹھک یا مہمان خانہ یا حجرہ مہماناں یا ڈیرہ لکھ دیا جاتا تو کچھ بات بنتی ۔ ڈرائنگ روم جن کی زبان کا لفظ ہے اُن کے ہاں تو ایسا الگ تھلگ کمرہ صرف ان کا ذاتی سونے کا کمرہ ہی ہوتا ہے ۔ اُنہی کی نقّالی کو ترقی کی نشانی سمجھتے ہوئے ميرے کئی ہموطنوں نے مہمان خانہ اور کھانے کا کمرہ ملا کر اس کا نام ڈائیننگ ڈرائینگ [Dining Drawing] رکھ دیا۔

عنيقہ ناز صاحبہ لکھتی ہیں “یہ حصہ ہمہ وقت صاف ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ آپکے حسن ذوق کا آئینہ دار بھی بن جائے”
اور ساتھ ہی لکھتی ہیں “گردش دوراں نے اسے کسی کی سماجی حیثیت کا آئینہ دار بنا دیا”

حسنِ ذوق کے دو حصے ہوتے ہیں
ايک ۔ سليقہ
دوسرا ۔ مادی
سلیقہ کیلئے مناسب تربیت ضروری ہے اور مادی حصہ کٰی تکمیل دولت کے بغیر ممکن نہیں ۔ میں تمام تر ذوقِ لطافت کے ہوتے ہوئے آج تک اپنے مہمان خانہ کو اپنے حُسنِ ذوق کا آئینہ دار نہ بنا سکا ۔ سبب صرف فالتو دولت کا نہ ہونا تھا

عنیقہ ناز صاحبہ مزید لکھتی ہیں
“اور ایسے ڈرائنگ روم وجود میں آگئے جہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نظر اٹھتے ہی ایسے نظاروں میں کھو جاتی ہے جو اپنے ساتھ احساس محرومی، احساس کمتری، احساس کمزوری، احساس دوری، احساس مجبوری اور اس جیسے بہت سے دوسرے احساسوں کو لیکر پلٹتی ہے”

یہ درست ہے کہ کچھ مہمان خانوں میں جا کر محسوس ہوتا ہے کہ کسی چھ ستاروں والی سرائے [Six Star Hotel] میں لگی نمائش میں آ گئے ہيں لیکن اپنے کو محروم سمجھنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ جس شخص کے پاس کئی کلو گرام سونا ہوتا ہے وہ بھی تو سب کی طرح گوشت سبزی اور دال ہی کھاتا ہے ۔ ویسے احساسِ کمتری اور اس کی ساری اقسام جن میں احساسِ برتری بھی شامل ہے فائل کے عمل سے زیادہ مفعول کی سوچ سے جنم ليتی ہیں

آخر میں عنیقہ ناز صاحبہ نے ایک اچھی ھدائت کی ہے “اپنے گھروں میں ایک سیدھا سادہ سا گوشہ ضرور رکھیں۔ جہاں آنے والاپاؤں پسارے یا آلتی پالتی مارے تعلقات کی دھونی جمائے بیٹھا رہے”

خیال تو اچھا ہے لیکن اس کیلئے بھی دولت ضروری ہے ۔ کم از کم پچھلے 50 سالوں میں شہروں میں تعمیر ہونے والے مکانات میں معدودے چند ایسے ہوں گے جن میں متذکرہ سہولت موجود ہو ۔ اس کی دو وجوہ ہیں اول ۔ دولت کی کمی اور ۔ دوم ۔ جدیدیت یعنی فرنگی کی نقالی

جس طرح کے کمرے کی خواہش کی گئی ہے ہماری ثقافت کا اہم جزو تھا ۔ گھر سے باہر مگر گھر سے منسلک یا گھر کے اندر صدر دروازہ کے ساتھ ایک کمرہ ہوا کرتا تھا جسے بیٹھک یا مہمان خانہ یا حجرہ [پورا لفظ حجرہ مہماناں ہے] یا ڈیرہ کہتے تھے ۔ یہ کمرہ ان مرد مہمانوں کیلئے ہوتا تھا جن سے گھر کی خواتین نے پردہ کرنا ہو ۔ اس کمرہ میں فرش بچھا ہوتا اور گاؤ تکئے لگے ہوتے تھے بعد میں جن کی جگہ کئی گھروں میں صوفے اور پلنگ یا پلنگ نما چیز نے لے لی ۔ مرد مہمان وہیں بیٹھتے اور استراحت کرتے ۔ فی زمانہ متذکرہ کمرہ جہاں موجود ہے اس علاقے کے مکینوں کو انتہاء پسند ۔ شدت پسند اور دہشتگرد کہہ کر ملیامیٹ کیا جا رہا ہے