کیسا صنم
2,364 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Oct 09 2009
قارئین میری خُشک تحاریر پڑھ پڑھ کر مکھن کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے ۔ سوچا کہ کچھ تَری کا بندوبست کیا جائے ۔ میں صرف اپنے خاندان و برادری ہی میں نہیں اساتذہ ۔ ہم جماعت لڑکوں اور دوسرے ساتھیوں میں خوش مزاح اور ہنس مُکھ جانا جاتا تھا ۔ پچھلے آٹھ سالوں کے مُلکی حالات نے میری حِسِ مزاح اتنی مجروح کر دی ہے کہ ہلکا پھُلکا سُوجھنا ہی مُشکل ہو گیا ہے ۔ کچھ دن قبل ایک پرانے ساتھی کے یاد دِلانے پر ایک سکول کے زمانہ کی چیز یاد آئی
سُنا ہے صنم کی کمر ہی نہیں ہے
نہ جانے وہ دھوتی کہاں باندھتی ہے
میری صنم کی نزاکت تو دیکھو
چھَپَر پہ بیٹھی جُوئیں نکالتی ہے
کیوں نہ ہوں میری صنم پر مکھیاں فدا
کھاتی ہے ریوڑیوں اورگَچَک بہت زیادہ
ملنے جائیں ہم صنم سے کیسے
کہ اُس کی گلی کا کُتا کاٹتا ہے
کریں ٹیلیفون ہم صنم کو
اُس کا ابا ہمیں ڈانٹتا ہے

Oct 09 2009 بوقت 9:38 AM
آپ بزرگی میں جوان ہوگئے، ہوسکتا ہے جوانی میں بزرگ تھے ۔
Oct 09 2009 بوقت 12:05 PM
دیکھتا ہوں ہوتا ہے کہ نہیں ۔
Oct 09 2009 بوقت 12:22 PM
شعیب صاحب
یہ نہ بزرگی میں جوانی ہے نہ جوانی کی باتیں ۔ یہ میرے لڑکپن کے زمانے کی باتیں ہیں یعنی دسویں پاس کرنے سے پہلے کی اور آپ جوانوں کیلئے لکھا ہے
Oct 09 2009 بوقت 1:22 PM
کيا بات ہے جی آج تو انکل جی بڑے موڈ ميں ہيں ريوڑيوں والا بڑے مزے کا ہے
Oct 09 2009 بوقت 1:25 PM
انکل جی اگر يہ جوانوں کے ليے لکھا ہے تو ُآپ جوانوں ` کا لفظ آپ نے يقينا بلاگروں کے ليے لکھا ہے تو آپ تو بڑی غلط فہمی کا شکار ہيں يہ سارے تو بڈھے ہيں ہاں البتہ مجھے اور عنيقہ ناز کو کہا ہے تو پھر آپکی بات درست ہے
Oct 09 2009 بوقت 3:20 PM
اسماء صاحبہ
ہا ہائے ۔ یہ کیا لکھ دیا آپ نے ؟
بقول بنگلور والے شعیب صاحب کہ میں پہلے بوڑھا تھا اور اب جوان ہو گیا ہوں
:smile:
Oct 09 2009 بوقت 4:15 PM
انکل جی کیا با ت ہے یعنی کہ سکول کے زمانے سے ہی آپ شروع بلکہ رواں ہو گئے تھے. میرا مطلب ہے شاعری میں.
Oct 09 2009 بوقت 5:27 PM
نازیہ صاحبہ
تبصرہ کیلئے مشکور ہوں ۔ ارے بی بی ۔ میں چالو مال نہیں ہوں :smile: ۔ شاعری تو وہ ہوتی ہے جو علامہ اقبال الطاف حسین حالی ۔ مرزا اسد اللہ غالب یا خوشی محمد ناظر صاحبان نے کی ۔ یہ تو الفاظ کا تروڑ مروڑ ہے
Oct 09 2009 بوقت 5:38 PM
اسماء صاحبہ
ریوڑیاں تو سب پسند کرتے ہیں کیا بچے کیا بوڑھے اور کیا آپ اور عنیقہ ناز صاحبہ یعنی نوجوان :smile:
Oct 10 2009 بوقت 2:31 PM
یہ آپ کی اپنی شاعری ہے؟؟؟؟
Oct 10 2009 بوقت 5:11 PM
بلو صاحب
یہ اجتمائی شاعری ہے یعنی دو تین ہمجماعت بیٹھے ہیں تو مل جل کر شعر بنا لئے
Oct 11 2009 بوقت 10:10 AM
ہاہاہاہا۔۔۔
یہ شاعری استاد مام دین گجراتی سے کافی متاثرہ ہے۔۔
Oct 11 2009 بوقت 7:15 PM
you can update my blog’s url if you like
Oct 12 2009 بوقت 9:02 AM
قدیر احمد صاحب
خوش آمدید ۔ میں نے پڑھ لیا ہے ۔ یہاں کچھ ماہ رہے تو میں اپنے بلاگ پر ربط درست کر لوں گا
Oct 12 2009 بوقت 7:33 PM
شکریہ
Oct 12 2009 بوقت 7:34 PM
میرے پاس سے آپ کا ای میل ایڈریس ڈیلیٹ ہو گیا ہے۔ اگر عنایت ہو جائے تو۔۔
Oct 12 2009 بوقت 7:35 PM
میرا نیا ای میل ایڈریس اس تبصرے میں آگیا ہوگا۔ اس پر ای میل کر دیجیے۔ شکریہ
Oct 13 2009 بوقت 8:46 AM
جعفر صاحب
اُستاد امام دین تو بڑي پائے کے شاعر تھے ۔ یہ تو ايسے ہی جوڑ توڑ ہے