پتھر دل سفّاک

ایک محاورہ سکول کے زمانہ میں پڑھا تھا ۔ ” آنکھ کے اندھے نام نَین سُکھ ” ۔ دورِ حاضر میں جس طرح باقی چیزوں کی تجدید ہو رہی ہے اس محاورہ کی تجدید بھی ضروری ہے چنانچہ اس کا ہمزاد کچھ اس طرح ہونا چاہيئے ” پتھر دل سفّاک ۔ نام روشن خيال” ۔ غزہ میں ايک سکول پر اسرائیل نے حملہ کیا جس میں فاسفورس بم استعمال کئے گئے ۔ نیچے اس کی چند تصاویر ہیں

جولائی 2007ء میں اسلام آباد کی مرکزی جامعہ مسجد المعروف لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ پر اپنے ہی ملک کے بدبخت سربراہ کے حکم پر اپنی ہی فوج نے فاسفورس بم برسائے تھے جس کے نتیجہ میں سینکڑوں بے قصور کم سِن بچیاں جل کر کوئلہ ہو گئی تھیں ۔ ان یتیم اور لاوارث بچیوں کا رونے والا بھی کوئی نہ تھا ۔ غزہ میں تو اقوامِ متحدہ کے مددگار موجود تھے اُنہوں نے اُن کے جلے جسموں کو صحیح طرح دفنا دیا ہو گا ۔ جامعہ حفصہ کی معصوموں کے قتل عام کی کاروائی کے بعد ان معصوموں کے جسموں کا جو کچھ بچا تھا رات کے اندھیرے میں لَوڈروں [Loaders] کے ذریعہ ڈَمپروں [Dumpers] میں بھر کر اسلام آباد کے قریبی جنگلوں میں دبا دیا گیا تھا اور جلی ہوئی جامعہ حفصہ کی عمارت کو گِرا کر ملبہ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا تاکہ اصل صورتِ حال عوام کے علم میں نہ آ سکے ۔ سِتم ظریفی یہ کہ اس بہیمانہ کاروائی کے دوران کراچی بلکہ لندن سے اسلام آباد تک ہمہ وقت اپنے حقوق کا رونا رونے والے دھاڑ رہے تھے “مار دو انہیں ۔ ختم کر دو انہیں”

داغے گئے سفید فاسفورس والے دو گولے
MIDEAST-ISRAEL-GAZA-CONFLICT-UN
گولے گر چکے ہیں
MIDEAST-ISRAEL-PALESTINIAN-CONFLICT-GAZA
گولے پھٹنے کا منظر
CORRECTION-MIDEAST-ISRAEL-GAZA-CONFLICT-UN
فاسفورس بم کی تباہ کاری ۔ بچے مکمل طور پر جل کر کوئلہ ہو چکے ہیں اور سب فرنیچر بھی راکھ ہو چکا ہے
AK00000001
MIDEAST-ISRAEL-GAZA-CONFLICT-UN
MIDEAST-PALESTINIAN-ISRAEL-GAZA
AK00000001

This entry was posted in روز و شب, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “پتھر دل سفّاک

  1. خرم

    انکل یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ فاسفورس کے ہی گولے تھے اور پھر ان کا اثر اس کیمرہ مین پر اور ان لوگوں پر کیوں نہ ہوا جو ان تصاویر میں‌ نظر آرہے ہیں؟
    جامعہ حفصہ کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا۔ ابھی پچھلے دنوں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس جامعہ میں لڑنے والے ازبک جنگجو طاہر یلداشیو کے آدمی تھے۔ سب لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا کہ کئی روز تک بچوں بچیوں کو موقع دیا گیا کہ وہ باہر آجائیں اور بہت سے بچے بچیاں باہر آئے بھی۔ جو رہ گئے وہ “مجاہد”‌بھائیوں کا ساتھ دینے کے لئے رہ گئے تھے۔ یقیناً دل بہت کپکپاتا ہے یہ لکھتے ہوئے کہ پھر انہیں جنگجوؤں سے الگ کرکے کیسے دیکھا جاتا لیکن حقیقت تو یہی ہے۔ وہ لوگ مغوی نہیں تھے بلکہ بہ رضا و رغبت ان “مفسدین” کی حمایت و اعانت کے لئے وہاں‌موجود تھے۔ ہم نے کس طرح اپنی نسل نو کو اس “فلسفہ فساد” کا آلہ کار بنایا یہ تو ایک الگ موضوع ہے لیکن جامعہ حفصہ میں جو ایکشن ہوا اس کی ذمہ دار حکومت یا فوج نہیں بلکہ ہمارا معاشرہ ہے جو مولوی کو چندہ دے کر یہ پوچھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ چندہ کہاں گیا اور نہ ہی اپنے جگر کے ٹکڑے ان کے حوالے کرکے یہ سوال کرتا ہے کہ انہیں تعلیم کیا دی جارہی ہے۔ باقی جہاں تک بات ہے کوئی خاص قسم کا بم استعمال کرنے کی، فتح کی ہر قیمت سستی ہوتی ہے۔ یہ اصول تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

  2. احمد

    لگتا ہے ابھی تک ابن سبائیوں کے دل کے ارمان پورے نہیں ہوئے۔ اور آگ استعمال کرکے تو آسانی کے ساتھ انکو موت دے دی گئی بہتر تھا کہ زندہ بوٹی بوٹی کیئے جاتے اور پھر جلا دیئے جاتے مگر کیا یقیں کہ پھر بھی کچھ ارمان رہ جاتے ، وہ تو بغداد جیسے سانحات 2 بار بار کروائے مگر خون کی پیاس نہیں بجھی۔

    بطورمکھن انکل کہو یا چچا یا ابا ، چاہے کوئی بھی حشیش دو جاننے والے جانتے ہیں بس فکر اور غم صرف یہ ہے کہ وہ بات تو پہچانتے ہیں مگر بات والے کو نہیں ، تقیہ ایجاد کرنے والے کی عقل کو داد دیئے بنا رہا نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔۔شیطانیت کے رنگ کے کیا کہنے

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خرم صاحب
    قبلہ آپ ایسے کیجئے کہ ایکسپلوسِوز کا ایک کورس پڑھائی کا کر لیجئے یا کم از کم ٫پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ایکسپلوسِوز فیکٹری میں انٹرنشپ کر لیجئے اور وہاں لوگوں سے یہ سب سوال پوچھیئے گا ۔
    یہ بے پر کی خبریں “ازبک جنگجو اور مجاہد بھائیوں کا ساتھ دینے کیلئے رہ گئے تھے” سب روشن خیالوں کی اُڑائی ہوئی ہیں ۔ جامعہ حفصہ مین نہیں ۔ لال مسجد میں ايک دس بارہ سالہ ازبک لڑکا تھا جو نماز پڑھنے گیا تھا اور وہیں پھنس کر ہلاک ہو گیا تھا ۔ لڑکیاں باہر نہیں جاتی تھیں کہ اُن کی اُستاذہ [پرنسپل] ان کو بھیجتی تھیں تو وہ اُستاذہ کو چھوڑ کے جانا نہیں چاہتی تھیں لیکن کچھ لڑکیاں باہر آ گئیںاور اُنہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا تھا ۔ جب اندر حالات بہت خراب ہوئے تو اُستاذہ نے کہا چلو سب باہر چلیں ۔ پھر بھی وہ لڑکیاں باہر نہ آئیں جن کے گھر والے 2005ء کے زلزلہ میں ہلاک ہو چکے تھے ۔ ان کے علاوہ وہ لڑکیاں بھی باہر نہ آئیں جو لاوارث تھیں یا جن کے والدين انتہائی غریب تھے اور وہ اُنہیں پرورش کی خاطر چھوڑ گئے تھے ۔ ان ہلاک ہونے والی لڑکیون کی تعداد چھ سو کے قریب تھی

    عقلمند آدمی کسی کو مفسد کہنے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے ۔ جس بات کا ذاتی علم نہ ہو اسے پورے وثوق کے ساتھ کہنا کوئی اچھی روائت نہیں ہے
    کیا آپ نے کسی مولوی سے تعليم حاصل کی ہے ؟ اگر ہاں تو آپ نے کبھی اس سے پوچھا ہے کہ جو پیسے آپ نے اُسے دیئے تھے وہ کہاں گئے یوں کہیئے کہ جس سکول مین آپ نے تعلیم حاصل کی کبھی ان لوگوں سے پوچھا کہ آپ کی دولت کا اُنہوں نے کیا کیا ؟
    آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کا باقاعدہ آڈٹ ہوتا تھا ۔ اور یہ لوگ یا ان کے نمائندے کبھی کسی کے گھر چندہ مانگنے نہیں گئے

    آپ کس فتح کی بات کر رہے ہیں ؟ کیا کشمیر فتح کیا ہے آپ نے ؟ مسلمان کم سن بے سہارہ يتیم بچیون کے قتل کو آپ فتح کہہ رہے ہیں ۔ اللہ آپ کو عقلِ سلیم عطا کرے ۔ میں صرف دعا ہی کر سکتا ہوں آپ کیلئے

  4. احمد

    اللہ آپکو جزا دے اجمل صاحب آپ نے بہترین جواب دیا خرم صاحب کو

    اجمل صاحب انہوں نے صرف فتح ہی کہا ہے ورنہ ان کی محفلوں میں جاکر دیکھیں تو لفظ فتح کم تر لگتا ہے

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    آپ میں اور اُن لوگوں میں کیا فرق ہے جنہیں آپ جاہل ابنِ جاہل کہہ رہے ہیں ؟ ذرا وضاحت کر دیجئے سائنٹِفِک اور لوجِیکل دلائل کے ساتھ جذبات کو ریفریخریٹر میں رکھنے کے بعد

  6. راشد کامران

    بڑا بنیادی فرق ہے۔ میں اپنے خیالات کا پرچار کرتا ہوں لیکن انہیں تھوپتا نہیں۔ اور اختلاف کرنے والے کو مکمل حق دیتا ہوں کہ وہ میری بات سے اختلاف کرے اور زندگی کا اسی طرح مزہ لے جیسے میں لیتا ہوں۔۔ یہاں میں سے مراد لغوی معنوں میں “میں” نہیں۔ اس کے برخلاف طالبان کا نعرہ ہے۔۔ جو نا مانے وہ کافر اور کافر کو ہلاک کرنا گویا جنت کی کنجی۔ اس پر لا محالہ آپ ڈیورنڈ لائن کا حوالہ اور ختنے اور کتے بلی کا گوشت کھانے کی مثال لا سکتے ہیں۔

    اور جس اسرائیلی جارحیت کو آپ نے روشن خیالی سے منسلک کیا ہے کتنی عجیب بات ہے کہ وہ اُس جانب کے انتہا پسند ہی ہیں جنہیں مذہبی قدامت پرست بھی کہا جاتا ہے؛ یہودی طالبان کہہ لیں تو بھی مضائقہ نہیں۔ غور کریں تو دنیا میں ایک دوسرے سے پنجہ لڑائے زیادہ تر لوگ صرف مذہبی شدت پسند ہی ہیں جو اپنے اپنے خداؤں کی برتری کے لیے خوب انسانی خون کی بلی دیے جارہے ہیں۔ امریکہ میں انہیں‌ رائٹ ونگ نٹس کہتے ہیں جو آج کل امریکی طالبان کے نام سے بھی شہرت پار رہے ہیں؛ اور ہمارے یہاں محض طالبان اور وہاں اسرائیل میں‌دائیں بازو کا انتہا پسند یہودی طبقہ۔ اور ان سب کی جان صرف ایک طبقے سے جاتی ہے جو مذہبی آزادی کی بات کرتا ہے اور اس کے لیے ان سب نے مل کر ایک نعرہ نکالا “روشن خیال”۔ لیکن یہ بھول گئے کہ ایک مسلمان اگر روشن خیال نہیں تو کیا مسلمانی۔

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    میں نے عرض کیا تھا کہ سائنٹِفِک اور لوجِیکل دلائل دیجئے ۔ آپ کے پاس سوائے معاندانہ پروپیگنڈہ کے اس کا کیا ثبوت ہے کہ ” طالبان کا نعرہ ہے۔ جو نا مانے وہ کافر اور کافر کو ہلاک کرنا گویا جنت کی کنجی”

    آپ نے اسرائیل کے بارے میں کہا ہے “جس اسرائیلی جارحیت کو آپ نے روشن خیالی سے منسلک کیا ہے کتنی عجیب بات ہے کہ وہ اُس جانب کے انتہا پسند ہی ہیں جنہیں مذہبی قدامت پرست بھی کہا جاتا ہے؛ یہودی طالبان کہہ لیں تو بھی مضائقہ نہیں”
    محترم ۔ یہ سفّاکانہ کاروائیاں کرنے والے قدامت پسند یہودی نہیں ہیں ۔ قدامت پسند یہودی تو اسرائیل کی ان کاروائیوں کی کئی بار کھُلم کھُلا مخالفت کر چکے ہیں اور ان کے خلاف جلوس نکال چکے ہیں جن میں اسرائیل کا معروف صحافی شمیر بھی شامل ہے جو اسرائیل میں ہی رہتا ہے ۔ جو لوگ یہ سفّاکانہ کاروائیاں کر رہے ہیں وہ صیہونی ہیں جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتے ہیں اور جن کی امداد امریکی حکومت کرتی ہے جو صرف اسلام دشمنی کی وجہ سے عراق اور افغانستان پر حملہ آور ہوئی اور اب پاکستان کے قبائلی علاقوں کو تباہ کر رہی ہے اور کروا رہی ہے ۔

    دین اسلام کے اصول واضح ہیں اور اُن پر عمل ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ عمل کرے تو مسلمان ہے اور نہ عمل کرے تو گنہگار ۔ کسی کی مرضی نہیں چل سکتی کہ اپنی مرضی کا آزاد خیال اسلام بنا لے ۔ تحریف کرے تو مُشرک یا منافق یا دونوں البتٰہ سب سے زیادہ روشن خیال طریقہ حیات دین اسلام کا ہے ۔ ویسے تو فلمی اداکار اور اداکارائیں بھی کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔
    “مذہبی آزادی” سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور روشن خیالی کیا ہوتی ہے ؟

  8. راشد کامران

    نہیں صاحب۔۔ یہ نئی بستیاں بسانے والے یہودی جنہیں آپ روشن خیال تصور کرتے ہیں وہ انتہا پسند یہودی مانے جاتے ہیں اور ماڈریٹ یہودی اس معاملے میں چاہتے ہیں‌ پیچھے ہٹ کر فلسطینیوں سے امن قائم کیا جائے لیکن دائیں بازو کے اسرائیلی سیاست دان ہمیشہ سخت رویہ اپناتے ہیں اور یہی حال ہماری طرف سے ہے چناچہ امن کا خواب مشکل پورا ہو۔

    باقی پروپینگڈہ کی آپ نے خوب کہی حالانکہ ابھی صوفی صاحب کے بیانات اتنے ماضی بعید بھی نہیں ہوئے جو روزانہ کی بنیاد پر اجتماعی فتاوٰی کفر جاری کیا کرتے تھے۔

  9. ریحان

    اس ملک کے نظام کا بس اللہ ہی حافظ ہے

    نیک انسانوں کی دعاوں سے چل رہاے ہے ملک .۔

    اپنی زمین کو بچانے ۔۔ اپنی خودمختاری کو بچانے جو نکلے وہ طالبان پہلے امریکہ کے دوست تو اب دشمن ۔۔ امریکن سلجھی عوام اپنی حکومت کے دوگلے پن سے خود کنفیوز ہے ۔۔ وہ دوگلا پن جس نے میڈیا کی مدد سے آج ایک مسلان کو بس تخریب کار ہی ثابت کیا ہوا ہے ۔

    لال مسجد میں جو ہوا ۔۔ وہاں جو بھی تھے ۔۔ آرمی کو قتعاّ وہاں کاروائی نہیں کرنی چاہیے ۔۔ لال مسجد والے چاہے جتنی مزاہمت کرتے چاہے جو بھی کرتے ۔۔ آرمی کو مسجد کی حرمت کا خیال رکھنا چاہیے تھا ۔ ہماری آرمی کو بس فاس فورس بم چلانے آتے ہیں یا امداد کے طور پر فائیٹر پلین لینے آتے ہیں بعد میں چلانے چاہے آئے نا آئیں ۔۔ آدھے ملک کا پیسا آرمی کے خرچے پورے کرنے میں چلا جاتا ہے جن سے انڈیا کے دو فائیٹر پلینز مداخلت پر روکے نہیں گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.