پاکستان امریکی گیم پلان کے شکنجے میں

ڈاکٹر شیریں مزاری کا یہ مضمون اُن گھمبیر حقائق سے پردہ اُٹھاتا ہے جو عوام کے عِلم میں نہیں ہیں اور جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکام کس قدر قوم دُشمن واقع ہوئے ہیں

پاکستان کے اندر اور اردگرد جس تواتر کے ساتھ واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں جب تک ہم اس وسیع تر منظر کو دیکھیں گے نہیں ۔ ہم اس کا شکار ہوسکتے ہیں اور امریکہ جیسے ہمارے بدخواہ ایٹمی صلاحیت رکھنے والے اس ملک کیخلاف اپنا ایجنڈا پورا کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ اس امریکی ایجنڈے کی جڑیں مشرف کی جانب سے امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف جنگ کو انتہائی جلد بازی میں گلے لگانے سے جا ملتی ہیں

اُس وقت جس بات کا ادراک نہیں کیاگیا وہ یہ تھی کہ نائن الیون کے نتیجے میں امریکہ نفسیاتی ٹراما میں جاچکا تھا جس نے عالم اسلام کے بارے میں امریکہ کے پہلے سے شُبہات پر مبنی امریکی نقطہ نظر کو مزید تقویت دی تھی۔ بلاشبہ بعض نرم خُو مسلم رہنمائوں کو قدرے پس و پیش کے بعد اتحادی بننا پڑا لیکن قوم پرست مسلم رہنماؤں اور ملکوں کے ساتھ تعلقات کو امریکیوں نے کبھی اطمینان بخش محسوس نہیں کیا۔ اگر یہ قومیں فوجی اور اقتصادی طور پر زیادہ مضبوط نہیں تو امریکہ نے ان کے ساتھ تعلقات میں کہیں زیادہ بے اطمینانی محسوس کی

اس حوالے سے مہاتیر کا ملائیشیا انقلابی ایران اور ایٹمی پاکستان یقینی طور پر کسی ایک یا دوسری طرح امریکی راستے میں رکاوٹ بنے
رہے ہیں لہٰذا جب نائن الیون کا واقعہ ہوا تو اگرچہ اس واقعہ میں سعودی شہری ملوث تھے لیکن پاکستان کو مرکزی طور پر نشانہ بنایا گیا اور امریکہ نے دیکھا کہ پاکستان کو توڑنے اور بالآخر اس کے ایٹمی اثاثوں پر تنقید کرنے کا سنہری موقع ہے ۔ مشرف نے ابتداء میں ہی جس طرح بڑھ چڑھ کر امریکہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا وہ خود بُش انتظامیہ کیلئے حیران کن بات تھی تاہم انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ حربی سطح پر مطالبات ماننے کے حوالے سے مشرف کی بعض حدود ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج عموماً پاکستان کیلئے امریکی ایجنڈے کے راستے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے لہٰذا پاک فوج اور اسکے انٹیلی جنس ادارے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں خصوصاً ایک بار تو سی آئی اے دو سال قبل آئی ایس آئی سے اس بات پر الجھ پڑی کہ فاٹا میں کس کو نشانہ بنایا جائے

آخر پاکستان کیلئے بدشگونی پر مبنی امریکی ایجنڈا ہے کیا؟ امریکی فوج کے جریدے میں ’’بلڈ بارڈوز‘‘ کے عنوان سے چند سال قبل ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں اس کا وسیع خاکہ پیش کیاگیا تھا اس میں شامل اہم عناصر کی اب اس طرح نشاندہی کی جاسکتی ہے

1۔ پاکستان اور اسکے ریاستی اداروں کی امریکی خواہشات کے مطابق تشکیل نو کی جائے
2 ۔ ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول حاصل کیاجائے تا وقتیکہ یہ یقینی طور پر باہرنہ لے جائے جا سکیں
3 ۔ پاکستان کو خطے میں بھارتی بالادستی تسلیم کرنے اور چین کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنر شپ ختم کرنے پر مجبور کیا جائے

اس ایجنڈے پر عملدرآمد کی حکمت عملی کیا ہے؟
یہ کہ پاکستان میں اسقدر تشدد اور افراتفری پھیلائی جائے کہ پاکستان میں آنے اور اس کے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول کا جواز پیدا ہوسکے ۔ ملک کیلئے ایک نئے ٹیسٹ ماڈل کی تشکیل کی جائے جس میں اسے بھارتی بالادستی کے تحت لانا بھی شامل ہے ۔ اس امریکی ایجنڈے پر کس طرح عملدرآمد کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے جنگ کا مرکز افغانستان سے پاکستان منتقل کیاجائے گا ۔ یہ مختلف دلچسپ حربوں کے ذریعے بالآخر مکمل کرلیا گیا ہے ۔ اس کا آغاز تورا بورا پربمباری کے دوران القاعدہ اور طالبان کو بچ نکلنے کا راستہ دے کر کیا گیا اس کے بعد پاکستان کو داخلی طور پر غیر مستحکم کرنے کیلئے ڈرون حملے شروع کئے گئے ۔ ان حملوں کے باعث فاٹا کی انتہائی محب وطن آبادی بتدریج سٹیٹ کیخلاف ہوتی گئی خصوصی طور پر ایسا اس وقت ہوا جب امریکہ نے دباؤ ڈال کر فوج کو اس علاقے میں جانے پر مجبور کیا ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کو افغانستان میں آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ۔ اس طرح افغانستان سے دہشت گردوں کیلئے بلوچستان فاٹا اور صوبہ سرحد میں سرمائے اور ہتھیاروں کی آمد شروع ہوگئی

مزید برآں اپنے پُرتشدد ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ایک نئی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نام سے وجود میں آئی جسے واضح طور پر سرحد پار سے بڑی تعداد میں ہتھیار فراہم کئے گئے اوران میں سے بعض امریکی ساختہ تھے ۔ اس دوران امریکہ پاکستان میں اپنی خفیہ موجودگی میں بتدریج اضافہ کرتارہا جس کا آغاز اس نے تربیلامیں نام نہاد ٹرینرز اور پرائیویٹ امریکی سکیورٹی ایجنسیوں سے کیا جو عراق جیسے علاقوں میں امریکی حکومت کیلئے کرائے کے فوجیوں کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں

بلوچستان میں بھی امریکی موجودگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے خصوصاً جبکہ امریکہ اس صوبے کے ذریعے ایران کیخلاف اپنے خفیہ آپریشنز پر عملدرآمد کرنا چاہتا ہے جبکہ مشرف نے بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اڈے امریکہ کے حوالے کردیئے تھے ۔ ان میں بغداد میں ایئربیس بھی شامل ہے جو خاران سے 78 کلو میٹر کے علاقے میں ہے اسے شَمسی نہیں شِمسی ایئربیس کہا جاتا ہے اور بدوالبندین کے قریب ایرانی سرحد پر واقع ہے جہاں سے ڈرون پروازیں کر رہے ہیں یہ واحد ہوائی اڈہ ہے جو سول ایوی ایشن کے زیرکنٹرول فہرست میں شامل نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ امریکہ سفارتی اور سیاسی سطح پر ” ڈو مور” کی گردان جاری رکھے ہوئے ہے اور فوج کی ساکھ کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف لڑنے کے اسکے عزم کے حوالے سے نقصان پہنچا رہا ہے۔ آئی ایس آئی کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کیلئے چنا گیا ہے جبکہ امریکی میڈیا کے ذریعے ایٹمی اثاثوں کو وقتاً فوقتاً نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ افغانستان میں امریکہ کو جس قدر ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے کہ کسی قدر وہ اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے سر تھونپنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ لوگ یہ سوچنے لگیں کہ یہ وجہ تھی جس نے امریکہ کو یہ جنگ پاکستان منتقل کرنے پر مجبور کردیا ہے

مشرف امریکہ اتحاد جاری رہتا لیکن انصاف اور آزادی کیلئے پاکستانی عوام کی خواہش نے مشرف کی جانب سے عدلیہ کا ہاتھ مروڑنے پر جوڈیشل تحریک کو متحرک کیا لیکن قوم ایک بار پھر کسی تبدیلی سے محروم رہی کیونکہ امریکہ نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ این آر او کے ذریعے اپنا ایک نیا پارٹنر تلاش کرلیا ۔ زرداری کی صورت میں انہیں ایک زیادہ تعاون کرنے والا رہنما مل گیا جس کے پاس جمہوری سند بھی ہے ۔ اگر مشرف نے امریکہ کو کھُلی رسائی دینے کا آغاز کیا تھا تو دوسری طرف زرداری حکومت تمام حدود کو پار کر گئی ہے

اب امریکی حکمت عملی پر عملدرآمد کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جو یہ ہے کہ انتہائی تربیت یافتہ اور جدید ہتھیاروں سے مسلح تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپوں کے ذریعے پاکستانی شہروں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ کرکے پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کیا جائے جبکہ کیری لوگر بل میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ فوج کو پہلے سوات اوراب جنوبی وزیرستان میں آپریشنوں میں الجھا دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ہمسایہ ملکوں سے الگ تھلک کرنا بھی ضروری ہے ۔ اس مقصد کیلئے پاکستانی بلوچوں سے ملحقہ ایرانی صوبے تفتان میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملے کرائے گئے تاکہ ایران پاکستان تعلقات تباہ کئے جائیں ۔ چین کے بعد ایران پاکستان کا واحد ہمسایہ دوست ہے

پاکستان میں امریکہ کی پوشیدہ موجودگی اب ایک جال کی شکل اختیار کر گئی ہے جو جنوب میں سندھ اور بلوچستان اور جنوب مغرب میں پنجاب سے اسلام آباد اور پشاور تک پھیلا ہوا ہے ۔ اب امریکہ کے خفیہ مسلح لوگ امریکی میرینز کے ساتھ مل کر پاکستانیوں اور ان کے ایٹمی اثاثوں کو گھیرے میں لے رہے ہیں۔ کیری لوگر ایکٹ اس بات کو محض رسمی طور پر تسلیم کرنا ہے جو عملی طور پر پہلے ہی وقوع پذیر ہو چکی ہے یعنی امریکی حُکم کے سامنے سر تسلیم خم کرکے اب امریکی ایجنڈے کے آخری مرحلے پر عملدرآمد ہونا ہے لیکن یہ بہت مشکل ہوگا ۔ اس مرحلے میں کوئٹہ جنوبی پنجاب اور مریدکے کو ہدف بنانے کی دھمکیوں سے ملک کو خانہ جنگی جیسی صورتحال میں دھکیلنا ہے

پہلے فوج پر سوات میں آپریشن کیلئے دبائو ڈالا گیا اور اب فوج جنوبی وزیرستان میں آپریشن کر رہی ہے جبکہ نئے اقدام کیلئے فوج نے جنوبی پنجاب کی جانب پہلے ہی پیشقدمی شروع کردی ہے ۔ مقصود فوج کو پھیلا کر اور سول، ملٹری اختلافات پیدا کرکے ملک کومکمل طور پر غیر مستحکم کرنا ہے ۔ جب ملک میں مکمل افراتفری پھیل جائے گی تو امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر دبائو ڈالے گا کہ اسے پاکستان کے ایٹمی اثاثے کنٹرول میں لینے کی اجازت دی جائے جسے شائستہ زبان میں ” بین الاقوامی کنٹرول‘‘ میں دینا کہا جاتا ہے لیکن اب بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدارکی راہداریوں میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے روشنی کو دیکھنا شروع کردیا ہے جبکہ اس مہلک امریکی ایجنڈے کیخلاف پاکستانی عوام بھی بیدار ہوگئے ہیں جب تک ہم امریکہ کی اس پوری گیم پلان کو نہیں دیکھیں گے اور تمام نقطوں کونہیں ملائیں گے ہمارے اس تباہ کن منصوبے کا شکار بننے کا سلسلہ جاری رہے گا

ڈاکٹر شیریں مزاری جو سابق سربراہ ۔ انسٹیٹیوٹ کا ڈیفَینس اینڈ سٹریٹیجِک پلاننگ ۔ قائد اعظم يونیورسٹی ہیں اپنے مضمون کی ماہر ترین پاکستانی سمجھی جاتی ہیں ۔ ان کا یہ مضمون جمعہ 23 اکتوبر 2009ء کو نوائے وقت میں شائع ہوا

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

19 thoughts on “پاکستان امریکی گیم پلان کے شکنجے میں

  1. arifkarim

    پاکستان تو پہلے ہی تباہ ہے۔ اور کیا بچا ہے تباہ کرنے کیلئے۔

  2. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    ہمارے ہاں ایک سوچ یا عام رائے یہ بھی ہے کہ ُ ُہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبے گے،، ۔ یعنی اگر امریکہ نے پاکستان پہ چڑھائی کی تو امریکہ کو بھی دیکھ لیں گے۔امریکہ افغانستان سے جان چھڑوا لے تو بڑی بات ہے۔ نیز اسے پاکستان میں عوامی سطح پہ شدید مذاحمت کا سامنا ہوگا۔

    ایسی سوچ درست نہیں، کیونکہ اگر خدانخواستہ امریکہ پاکستان پہ نیٹو افواج کے ساتھ مل کر چڑھائی کرتا ہے اور مانا کہ ہم اسکا رستہ روک لیں گے۔ شدید مزاحمت کرتے ہوئے آٹھ دس سال میں اسے پیچھے دھکیل دیں۔ مگر اس دوران ہمارے اس استحکام کا جو پہلے ھی ناپید ہے۔ اسکا جو حشر ہوگا۔ اسکے سامنے عراق وغیرہ کی مثال نہیں دی جاسکتی کیونکہ عراق وغیرہ تاریخی طور پہ ھزاروں سال کا ماضی رکھنے والی قومیں ہیں اور ماضی میں بھی اسطرح کی صورتحال سے زندہ سلامت برآمد ہوتی رہیں ہیں۔ اور انکے ہمسائے میں بھارت جیسا کمینہ ہمسایہ نہیں رہتا۔ جبکہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ قدرے پیچیدہ ہے۔ ہماری تاریخ بہ حیثیت پاکستانی قوم بہت تھوڑی ہے۔ جس کی وجہ سے ہم ہر وقت ڈگمگائے رہتے ہیں۔

    پاکستان میں ایسے شُتر مرغ سوچ رکھنے والے لوگ پاکستان کے اثاثی ذرائع پہ قابض ہیں جو ہر بات کو ہیر پھیر کر اسی بات پہ زور دیتے ہیں کہ موت کا خطرہ سامنے دیکھ کر، سر ریت میں دبا کر دُم اٹھا لی جائے۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے گھر میں لگی آگ کو بجھانے کی تدابیر کی جائئیں۔

    امریکہ سے عرض ہے،مہاراج بہت ہوچکا اب آپ اپنا پاندان اٹھا ہی لیں۔ آپ اتنے زبردست وسائل کے مالک ہونے کے باوجود، جبر اور دھونس کے بل بوتے پہ ساری دنیا کے مطلق العنان بادشاہ ہوتے ہوئے ، اتنی ساری دنیا کی تیز ترین ٹیکنالوجی کے مالک و موجد ہوتے ہوئے بھی، مہاراج آپ کی افواج قاہرہ دنیا بھر کی نیٹو افواج کے ساتھ ملکر افغناستان کے بے سروسامان کوہستانیوں کو مطیع و فرمانبردار بنانے کی بجائے اس لعنتی جنگ کو ختم کرانے کے لئیے آپ افغانستانیوں سے منت سماجت پہ اتر آئے ہیں ۔ آپکے اتحادیوں کے حالات یہ ہیں کہ اطالوی فوجوں نے افغان طالبان کو اپنی افواج کی جان کی امان کے لئیے نقد رقم دی جبکہ یہ دستے وہاں انھی طالبان سے جنگ لڑنے گئے تھے۔ تو امریکہ مہاراج جب آپ کے حالات یہ ہیں تو آپ کیوں ہم غریبوں کے سر کی بّلی لینا چاہتے ہیں۔کی اسی شتر بے مہار جنگ میں ہم اپنی قومی ترجیجات قربان کر چکے ہیں نہ کوئی منصوبہ ہمارے پاس ہے نہ مسائل کے حل پہ ھماری توجہ ہے۔ عوام روٹی روزی کو ترس گئے ہیں۔پانی ہے ڈیم نہیں، کھمبے ہیں بجلی نہیں، گندم ہے آٹا نہیں،گنا ہے چینی نہیں، پولیس ہے امن نہیں، سیاستدان ہیں مگر سیاسی بصریت سے عاری، حکمران ہیں مگر آپ کے طفیل این آر او زدہ، اپوزیشن ہے مگر مہاراج کی ہدایات پہ فرینڈلی، ہمارے ادارے تباہ ۔ تعلیمی نظام بند، امن و امان ختم، پوری قوم بے یقینی کا شکار ، گھر سے نکلو تو واپس زندہ آنے کا بھروسہ ختم،امریکہ مہاراج آپ کے اتنے کرم ہیں کہ ہماری قوم آنکھیں بند کئیے مایوسی کی گود میں جا بیٹھی ہے۔ آپ نے اتنے لوگ عراق ، افغانستان کی جنگ میں نہیں مروائے جو ہم ایک ہی ہلے میں مروا رہے ہیں۔ آپ کی وہ شرمناک امداد اس نقصان کا عشرِ عشیر بھی نہیں جو آپ کی اس مقرر کردہ، پاکستان پہ مسلط کردہ آپ کی لعنتی جنگ میں روزانہ کے حساب سے کروا رہے ہیں۔ ہماری معشیت تباہ، صنعتیں بند، کاروبار سمٹا ہوا، بیرونی سرمایہ اگر کبھی تھا تو واپس وہیں پہنچ گیا جہاں سے آیا تھا۔آپ کی چوری اور سینہ زوری سے ہم عاجز ہیں۔ آپ کی جنگ ہم لڑیں اور آپکے عہدو پیمان بھارت سے ۔ تو مہاراج آپ ہر دفع ایک نیا بھیس بدل کر آن موجود ہوتے ہیں اپنی پچھلی بے وفائیوں پہ نادم ہوئے بغیر انکا واویلا کرتے ہوئے ایک نیا دام لے کر ہمیں پھانسو لگانے آجاتے ہیں ۔۔ مگر مہاراج ہم پاکستان بھی کیا کریں، آپکی بات درست ہے آپ نے افغانستان میں ایک کرزئی تخلیق کیا تھا جو غیرت کھا کر اب بھی کبھی کبھار آپ کو انکھیں نکال لیتا ہے۔ جبکہ آپ کو حمیت سے عاری بنئے بنائے کئی پرویز،حقانی، ملک، زرداری گھر بیٹھے مل گئے، ہر چوتھے دن آپکے درشن لینے کو بے تاب ہوتے ہیں۔ جہاں آپ کا پسینہ گرے یہ خون بہانے کو بے چین نظر آتے ہیں، ایسے میں آپ سے یہ ساری عرضداشت کون کرے۔؟؟؟ ہم بھولے لوگ۔۔۔۔

  3. احمد

    ایک گھسی پٹی کہانی بلکہ فیس میکنگ کی کوشش والا کالم

    اصل تو یہ ہے کہ
    1۔ امریکہ نے سالوں پہلے سے بنائے گئے پلان پر ڈرامہ رچایا
    2۔مشرف کو اسی پلان پر پیلے سے اپنی پوسٹ پر لایا گیا، یہ اہم مہرہ تھا
    3۔ اصل ہدف افغانستان کی اسلامی حکومت کا خاتمہ تھا جس کیلیئے ایران کی خاص خاص مدد شامل تھی جیس کا اعتراف خود بھی کیا
    4۔مشرف قادیانی نے اپنے ارد گرد شیعہ اور ہم مزہب جمع کیئے ۔ شیعہ اور سابقہ جماعتی موجودہ کالم ناگاروں نے فیس میکنگ کی اور ماحول بنایا
    5۔کیموفلاج کرنے کو پاکستان کے نام کے ساتھ ایران اور کوریا کا نام ڈالا ، اس کی تشہیر جماعتی کالم ناگاروں نے خوب کی
    6۔مشرف کی جگہ دوسرے شیعہ زرداری اور اسکی ٹیم کو اپنے اگلے پلان پر آگے کیا
    7-اس دوران عرب نوجوانوں کو گمراہ کرنے کیلئے اسرائیل حزب اللہ کا کھیل کھیلا گیا جس کا نتیجہ کافی اچھا رہا کہ بے شمار عرب نوجوان شیعت کی مائل ہوئے
    8۔اسلام سے متنفر کرنے کیلئے اور افغانستان کے مسلمانوں کے اکیلا کرنے کو طالبان یعنی ہم نام لوگ کھڑے کیئے گئے اور پھر خود فساد کرکے انکے نام سے بات آگے بڑھائی گئی تاکہ فاساد اور ارتداد کو اسلام اور اسلام کو فساد دکھایا جاسکے
    9-اب 2015 سے 2020 میں پاکستان کا خاتمہ اور باقی مسلمان ممالک پرقبضہ
    ہوگا، ارتداد والے ممالک کو ان کی اجرت دی جائے گی
    10-ساری دنیا پر انکا قبضہ ہوگا، بھولے لوگاں کو سمجھ آئے گی، باتین کرنے والے اور کمزور مسلمان اور خاص کر گمراہ لوگ اسلام سے نکل کر دجال کی پناہ مانگیں گے
    پھر وہی ہوگا جو احادیث سے ثابت ہے

  4. یاسر عمران مرزا

    سب سے پہلے تو اس بات کا تعین کر لینا بھی ضروری ہے کہ نائن الیون ایک حادثہ تھا یا ایک پہلے سے تیار کردہ منصوبہ۔ بہت سارے مقالہ نگار اس پر بہت کچھ کہہ چکے ہیں، میں نے ڈاکٹر صفدر محمود یا کسی اور کالم نگار کی یہ بات پڑھی جو مجھے بھولی نہیں۔
    کسی ہوائی جہاز کو بغیر سیٹلائٹ کی مدد کے کسی شہر تک لے کر جانا یا کسی خاص عمارت کو نشانہ بنانا ایک ناممکن عمل ہے، دہشت گردوں نے کسی جہاز کو اغوا کیا اور اسے صرف پائلٹ کی مدد سے ٹوین ٹاورز تک لے گئے ایسا سوچنا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ یا تو یہ ہو سکتا ہے کہ دہشت گردوں نے سیٹلائٹ کو بھی اغوا کر لیا ہو، یا پھر یہ عمل سیٹلائٹ والوں کی ذاتی مرضی سے ہوا، اور یہ سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے۔

  5. راشد کامران

    “آخر پاکستان کیلئے بدشگونی پر مبنی امریکی ایجنڈا ہے کیا؟ امریکی فوج کے جریدے میں ’’بلڈ بارڈوز‘‘ کے عنوان سے چند سال قبل ایک مضمون شائع ہوا تھا”

    اگر یہ بلڈ بارڈرز کی طرف اشارہ ہے تو میرا نہیں خیال کہ یہ امریکی فوج کے کسی آفیشل جریدے میں شائع ہوا تھا جیسا کہ اس میں تاثر ملتا ہے
    http://www.armedforcesjournal.com/2006/06/1833899

    یہ شاید آرمی ٹائمز کا جریدہ ہے اور اس میں شائع شدہ مواد امریکی حکومت کی پالیسی یا فوج کی پالیسی کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ تھنک ٹینک کی طرح‌ کی بات ہے جو ہر تجزیہ کی طرح ایک تجزیہ ہی ہوتا ہے۔ اگر یہ کسی دوسرے مضمون کی طرف اشارہ ہے تو اس کا ریفرینس پوری صورتحال سمجھنے میں بڑی آسانی پیدا کرے گا۔

    طالبان کے لیے تو بس یہی عرض ہے کہ آپ جب تک انہیں افغانی اور پاکستانی میں‌ بانٹتے رہیں گے مسئلہ حل ہونے کا نہیں۔ نا معلوم اتنے سارے غدار کہاں سے امریکا کو میسر آجاتے ہیں کہ پوری فوج ہمارے لوگوں کی ہی تخلیق کردیتا ہے۔۔ لیکن ہم یہ ماننے سے انکاری ہیں کہ ہمارے اپنے مذہبی شدت پسندوں نے جو بیج بوئے تھے ان کی فصل کاٹنے کا وقت آگیا ہے تحریک طالبان پاکستان کی شکل میں۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یاسر عمران مرزا صاحب
    بات درست ہے جس نے بھی لکھی ۔ سادہ الفاظ میں جو ہوائی جہاز استعمال ہوئے وہ پائلٹ کی مرضی سے نہیں اُڑتے بلکہ ان کے دو طریقے ہیں
    ایک ۔ زمیں پر ایوی ایشن والے اس کی رہنمائی کرتے ہیں
    دو ۔ سیٹیلائیٹ کے ذریعہ آنے والے پیغامات کی مدد سے ہوئی جہاز چلتا ہے اور ان پیغامات کو زمین پر بیٹھے ایوی ایشن والے بھیجتے ہیں
    سو ہر دو صورتوں میں کنٹرول حکومت کے پاس ہوتا ہے ۔ ٹوِن ٹاورز کا حادثہ ایک بہت بڑا فراڈ ڈرامہ تھا جو کہ اپنے مذموم ظالمانہ مقاصد کو پورا کرنے کیلئے امریکی حکومت نے کھیلا تاکہ دنیا کی حمائت حاصل کی جائے

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    جناب ۔ ایسی خبریں جنہیں فِیلر کہا جاتا ہے نیم سرکاری تو کیا غیرسرکاری ابلاغ کے ذریعہ بھی چھوڑی جاتی ہیں ۔ جس جریدے کا نام آپ نے لیا ہے اُسے نیم سرکاری ہی کہا جائے گا اور اس مین چھپے مضامین وقعت رکھتے ہیں کیونکہ یہ رسالہ نہ تو اخبار جہاں ہے نہ اخبار خواتین جن میں من گھڑت کہانیاں اور افسانے چھپتے ہیں
    دوسری بات امریکا کا مقصد کیا ہے ؟ اگر ابھی تک مقصد مُبہم ہے تو اس کی تفصیل میرے بس کا روگ نظر نہیں آتا
    تیسری بات طالبان ۔ طالبان کی کوئی تقسیم نہیں ہے ۔ جن کام طالبان افغانستان کے عوام نے رکھا تھا صرف وہ طالبان ہیں باقی فراڈیئے ہیں جنہیں تحریک طالبان پاکستان کا نام دیا گیا ہے ۔ اگر ٹی ٹی پی کو ہی طالبان سمجھا جائے تو چند ہفتے قبل ایک کالے شیشوں والی گاڑی کو قبائلی علاقہ سے اسلام آباد آتے ہوئے ایک چیک پوسٹ پر روک لیا گیا ۔ اس میں اسلحہ بردار داڑھیوں والے گورے رنگ کے جوان بیٹھے تھے جو نہ پاکستانی تھے اور نہ افغانی بلکہ امریکی تھے یا اسرائیلی ۔ قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے انہیں بند کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان مین سے ایک نے فوراً کہیں ٹیلیفون کیا ۔ اور پھر اوپر سے اُنہیں چھوڑنے کا حکم ملا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیلیفون امریکی سفیر کو کیا گیا تھا جس نے اسی وقت وزیرِ داخلہ کو ٹیلیفون کیا ۔ یہ اُن واقعات میں سے ایک ہے جو ملک میں آئے دن ہو رہے ہیں ۔ ایسے ہی کچھ واقعات نے فوج کے سربراہ کو مشتعل کیا
    اب مذہبی انتہاء پسندی ۔ کوئی مذہب انتہاء پسندی یا دہشتگردی نہیں سکھاتا ۔ لیکن اسرائیلی یا امریکی دہشتگردی کریں تو اُن کا حق ہوتا ہے اور اگر مسلمان داڑھی ہی رکھ لے تو انتہاء پسند یا دہشتگرد کہلاتا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ جو لوگ پاکستان میں تباہی پھیلا رہے ہیں ان کا کوئی مذہب نہیں اور یہ لوگ تین قسم کے ہیں ۔ ایک ۔ دولت جن کا ایمان ہے ۔ دو ۔ جرائم پیشہ سزا یافتہ جن کے خاندان کی حفاظت اور پرورش کا ذمہ لے کر اور کچھ دولت انہیں بھی دے کر ان سے کام لیا جاتا ہے ۔ تین ۔ پاکستان سے ہی اُٹھائے ہوئے یا لاوارث یا بے سہارا بچے پرورش کی خاطر لالچی بدکردار وکیلوں اور کچھ دوسرے بدکردار لوگوں کی مدد سے پچھلے 20 سال میں گورے پاکستان سے باہر لے کر گئے ۔ انہین کھلا کر اور تربیت کے ذریعہ طاقتور بنایا اور اُن کی برین واشنگ کی ۔
    آپ میری باتیں مانیں گے نہيں لیکن یہ حقائق کا خلاصہ ہے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکمران بةی اس گھناؤنے کھیل میں ملوث ہیں

  8. راشد کامران

    نہیں اجمل صاحب بات ماننے یا ماننے والا مسئلہ نہیں۔۔ دراصل پوائنٹ نمبر 2 اور 3 میرے لیے حیران کن تھا کہ اس آرٹیکل جس کا ریفرنس دیا گیا ہے اس سے اخذ کرنا کافی مشکل ہے۔ بالواسطہ بھی اس طرح کی کسی چیز کا ذکر نہیں دیا گیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے عراق جنگ کے دوران اس مجوزہ پلان پر جب کہ عراق کو تین حصوں‌میں‌ تقسیم کرنے کی بات چلی تھی یہاں تک کہ موجودہ نائب صدر بھی اس کے حق میں‌تھے یہ کام نہیں کیا گیا۔ یہ بات درست ہے کہ طالبان کے حوالے سے میں اور آپ دو انتہائی متضاد رائے رکھتے ہیں لیکن کسی آرٹیکل کو کم از کم ہم معروضی طور پر جانچ کر اس چیز پر تو متفق ہوسکتے ہیں کہ اس میں براہ راست اور بالواسطہ کن چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    میں نے اس سمیت پچھلے دنوں مین جو مضامین نقل کئے ہیں وہ اسلئے کہ پڑھے لکھے مضمون نگاروں کے خیالات سے واقفیت ہو جائے ۔
    میں یہ لکھنا بھول گیا تھا کہ اُن گوروں کا حُلیہ بالکل طالبان والا تھا يعنی وہی کپڑے وہی پگڑی

  10. احمد

    جی گڈ مڈ تو ایک ہی بات ہوئی ہوگی اب وہ اتنی چھپی بھی نہیں :D

    ہم آ پ کے مربیوں کو کلین چٹ دے دیتے ہیں اگر آپ کسی طرح تاریخ میں ان کی لاتعداد غداریوں کو مٹا دیں اور جس بناء بن پر قادیانی کافر قرار دیئے گئے تھے وہ بھی ان سے بھی ختم کرا دیں ارو کم از کم قرآن کے اسلی اور صحیح ہونے پر ان کو ایمان لانے کا کہ دیں اور یہ مان بھی لیں

    ہماری کچھ مشائخ سے آپ کے مسئلے پر بات ہوئی انہوں نے فرمایا یہ فتنہ دجال تک جائے گا، انٹر نیٹ پر یہ جو کہتے لکھتے رہیں کچھھ فرق نہیں پڑتا بس اپنے جیسوں کو ہی گمراہی میں رکھتے ہیں، مسلمان کو ایک دوسرے پر محنت کرنی ہے اپنی زات، اپنا وقت اور اپنا مال لگا کر کہ مسلمان جب اللہ کے راستے پر آئیں گے تو اللہ فتنہ والوں کو اور ان کے حمایتوں کو مٹا دیں گے
    بس ان سے اتنی عرض کی کہ ان لوگوں کی گمراہ تحریروں اور مرتدوں کی حمایت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے اور یہ سارے مگر مچھ کے آنسو مگر مچھ سے بھی زیدہ بہاتے ہیں تو اور رنج ہوتا ہے اسی لیئے انٹر نیٹ پر انکا چہرہ سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں
    وہ ہنس کر فرمانے لگے، کہ کون یہ نہیں جانتا؟ ساری مخلوق کو انکا کردار معلوم ہے۔ مگر ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ صحابہ کے راستے پر چلتے ہوئے دین کو زندہ کریں

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    احمد صاحب
    آپ کے مشائخ نے درست مشورہ دیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے راست پر چلتے ہوئے دین کی تروج کریں ۔ خیال رہے دین مردہ نہیں ہو سکتا ۔ دین ہمیسہ کیلئے زندہ ہے ۔۔ اس لئے اسے زندہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے

  12. احمد

    دین اپنی زندگی مین لانے کا کبھی کبھار بامحاروہ زندہ کرنے کہ دیا جاتا ہے کہ زندگی میں دین لایا جائے
    اور جتنا ہوسکتا ہے اسی کی کوشش کرتے ہیں اسی لیئے ایسے لوگ ان بلاگز پر کم ھی آتے ہونگے اور آتے بھی ہون گے تو آکر گزر جاتے ہیں مگر سب میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ رافضیت کےقصیدے سنیں اور مسلمانوں پر تعزیت بھی
    کوئی نہ کوئی یادہانی کر وا دیتا ہے۔ رافضیت پر بات کرنا ہولوکاسٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے گالیوں کی برسات ہوتی ہے اور نفرت بھی اور بہت سے دل سے آرزو کرتے ہونگے کہ جو رافضیت کو واضح کرے ایک بم وہاں بھی گرا دو، علماء کو تو شہید کر ہی دیا جاتا ہے مگر۔۔۔

    خون جگر دیکر نکھاریں گے رخ برگ گلاب
    ہم گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

  13. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    اور ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے عراق جنگ کے دوران اس مجوزہ پلان پر جب کہ عراق کو تین حصوں‌میں‌ تقسیم کرنے کی بات چلی تھی یہاں تک کہ موجودہ نائب صدر بھی اس کے حق میں‌تھے یہ کام نہیں کیا گیا۔۔۔۔ راشد کامران

    محترم راشد کامران صاحب!
    اسطرح کے پلان اور پروگرام بنانا کہ اقوامِ متحدہ کی رکن ریاستوں خاص کر مسلمان ملکوں کو محض اپنے مفادات کی خاطر تقسیم کر دینا۔ یا کسی ملک کے تخڑے کر دینا کس حد تک جائز ہے۔؟ ایسے پلان جس میں امریکہ کے صدر تک کے عہدیدار شامل ہوں۔ کیا یہ انتہائی شرمانک نہیں۔ راشد کامران صاحب! ہمیں خوشی ہوتی اگر آپ اس بارے میں اپنے قیمتی رائے دیتے کہ یہ کس حد تک جائز ہے۔؟ خواہ ایسے پلان مسلمان مخالف قوتیں اور خاصکر امریکہ ہو تو۔ کیونکہ آپ گاہے گاھے ہر الزام مسلمانوں کو دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اور مندرجہ بالا الفاظ بھی آپ ہی کی تحریر سے ہیں ۔ اس لئیے آپ کی اپنی رائے بھی ہم اس بارے میں جاننا چاہئیں گے۔ ہم سے مراد سب قارئین اکرام۔

  14. راشد کامران

    جاوید صاحب۔۔ میں نے نا یہاں کسی پلان کی حمایت کی کی ہے اور نا کسی کی مخالفت۔۔ صرف یہ بات زیر بحث آئی تھی کہ جس آرٹیکل کا ریفرنس دیا گیا ہے اس میں‌ یہ پلان بتایا گیا تھا یہ خدانخواستہ میرا پلان ہے اور نا میں‌اس کے حق میں ہوں۔۔ آپ شاید اسے کسی اور چیز سے کنفیوز کر گئے ہیں۔۔ امید ہے نظر ثانی کریں گے۔۔

  15. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    محترم راشد کامران صاحب!

    واللہ۔ کم از کم مجھے ذاتی طور پہ آپکی اس وضاحت سے خوشی ہوئی ہے اور آپ پہ اعتماد بھی بڑھا ہے کہ آپ نے کسی معاملے میں تو امریکہ کو حق بجانب نہیں سمجھا۔ اور انکے کسی پلان سے اختلاف کیا ہے۔ ہم اسے آپ کی غیر جانداری کی مثال کے طور پہ محفوط کئیے لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)