روپیہ سب کچھ ہے

“بس جی ۔ روپیہ ہونا چاہیئے”
“روپے کے بغیر زندگی مشکل ہے”
“روپے کو روپیہ کھینچتا ہے”
“روپیہ ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں” ۔ وغیرہ وغیرہ

یہ سب کج فہمی یا کم عقلی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو مالدار ہمیشہ مالدار اور بے مایہ ہمیشہ بے مایہ رہتا

حقیقت يہ ہے کہ طاقت روپیہ نہیں ہے بلکہ اصل طاقت انسان کے اندر ہوتی ہے

روپے سے بہترین بستر تو خریدا جا سکتا ہے مگر نیند نہیں
روپے سے کسی کی زبان تو خریدی جا سکتی ہے مگر دل نہیں
روپے سے جسم تو خریدا جا سکتا ہے مگر محبت نہیں
روپے سے ایئر کنڈیشنر تو خریدا جا سکتا ہے مگر دل کی ٹھنڈک نہیں
روپے سے مقویات تو خریدی جا سکتی ہیں مگر صحت نہیں
ساری دنیا کی دولت لگا کر بھی دل کا اطمینان نہیں خریدا جا سکتا

روپے کا ایک کارِ منصبی ایسا ہے جو انسان کو بہت کچھ دے جاتا ہے
وہ ہے خود غرضی سے باہر نکل کر روپے کا ضروتمندوں پر استعمال

اللہ ہمیں اپنی دولت کے درست استعمال کی توفیق عطا فرمائے

This entry was posted in پيغام, روز و شب, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

11 thoughts on “روپیہ سب کچھ ہے

  1. اسماءپيرس

    مجھے آپکی تحرير سے اختلاف ہے جو باتيں آپ نےلکھی ہيں افسانوں کی حد تک اچھی لگتی ہيں يا خواتين ڈائجسٹ اخبار جہاں وغيرہ ميں حقيقت يہ ہے کہ روپے سے دنيا کی ہر چيز ہر خوشی صحت حتی کہ محبت تک خريدی جا سکتی ہے اپنے اردگرد دولت والوں کی آسودگی ديکھ ليں اور يہ جو گلی کوچوں بازاروں ميں پھٹ رہے ہيں ان کو ديکھ ليں؛

  2. فارغ

    میں آپ کی باتوں‌ سے کلی متفق ھوں روپیہ ہاتھ کا میل ہے آپ اگر اس میل سے جان چھڑانا چاہیں تو میں آپ کو اپنا بنک اکاؤنٹ دے سکتا ہوں :D

  3. عنیقہ ناز

    یہ سب باتیں سننے میں تو اچھی لگتی ہیں لیکن جسکے پاس نہیں ہوتا اس سے پوچھئے۔ لوگ اسکے لئے اپنے بچوں کو بیچ دیتے ہیں۔ اپنے گردے بیچتے ہیں، اپنا جسم بیچتے ہیں اور اپنا ایمان بھی۔ دراصل پیسے کی ایک باعزت مقدار ہر انسان کے لئے ضروری ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ بس پیسے کی ہوس نہیں کرنا چاہئیے اور جو پیسہ مل رہا ہے اس میں سے اپنے رشتے داروں اور معاشرے کے دیگر لوگوں کا حصہ جو بنتا ہو اسے ادا کرتے رہنا چاہئیے۔ اسکو محض اپنی عیاشیوں پہ خرچ کرنا صحیح نہیں ہے۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فارغ صاحب
    میں نے روپے کو ہاتھ کا میل نہیں کہا ۔ میں اپنی کمائی میں سے آپ کو دے سکتا ہوں مگر اس کی شرط ہے کہ آپ زکوات یا خیرات کے حقدار ہوں اور جو حقدار آپ کی نسبت مجھ سے زیادہ قریب ہیں انہیں دینے کے بعد کچھ بچ جائے

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ صاحبہ
    دولت کی باعزت مقدار باعزت طریقہ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ جو باتیں اسکے بعد آپ نے لکھی ہیں وہ انسان ہونے کی نشانی ہیں ۔ بے غیرتی کے رزق کیلئے ہر روز مرنے سے بہتر ہے کہ انسان بھوکا مر جائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی غیرت کو بحال رکھنے والا شخص میں نے اپنی پوری زندگی میں بھوکا مرتے نہيں دیکھا ۔ جو رازق کیڑے کو زمین کی تہہ میں اور مچھلی کو سمندر کی تہہ میں رزق مہیاء کرتا ہے وہ اس پر بھروسہ کرنے والے انسان کو نہیں دے گا ؟
    باتیں تو دوسرے لوگ مجھ سے زیادہ اچھی کر لیتے ہیں لیکن مجھ پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مہربانی ہے کہ میرے منہ سے یا قلم سے وہی بات نکلتی ہے جس پر میں عمل کرتا ہوں

  6. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    میری رائے میں پیسہ کسی نہ کسی صورت میں ہر دور میں رائج رہا ہے۔ خواہ وہ جنس کے بدلے جنس ہو یا یا کسی دوسرے طریقے سے بنیادی انسانی ضروریات اور دوسرے روزمرہ کا کاروبار زندگی کے لئیے ضروری لوازمات ہوں۔

    ہر دور کی طرح زندگی گزارنے کے لئیے آج بھی “ضروری لوازمات” اتنے ہی ناگزیر ہیں جتنے کبھی ماضی میں تھے۔ ان ” ضروری لوازمات” کے حصول کے لئیے پیسہ ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ یعنی دوسرے معانی ضروری لوازمات کے حصول کا نام لیتے ہیں ذہن کے پردہ میں پیسہ کا تصور ابھرتا ہے۔ اسلئیے جائز ضرورتیں پورا کرنے کے لئیے جائز اور دیانتدارانہ تگ و دور سے حلال کمایا گیا پیسہ جتنا بھی ہو۔ اسمیں کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ ایک جب آمدن کے ذرائع جائز اور دیانتدارانہ ہونگے تو لازما ایسی آمدن یا پیسہ نیک کاموں میں مصرف ہوگا۔ اور اسلام میں ایک مالدار مومن کی حوصلہ افزائی محض اسلئیے کی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔ اسلئیے نیک ذرائع سے دینتدارانہ طریقے سے حلال کا پیسہ کمانا بھی ثواب کا کام ہے۔کیونکہ اس پیسہ سے زکوٰاہ وغیرہ دینے کے بعد بھی انسانی فلاح کے کام ہوتے ہیں یا کسی نہ کسی صورت میں وہ عام مسلامن کے بھی کام آتا ہے

    آپ کہتے ہیں۔۔۔ لیکن مجھ پر اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مہربانی ہے کہ میرے منہ سے یا قلم سے وہی بات نکلتی ہے جس پر میں عمل کرتا ہوں۔۔۔۔۔آپ کا یہ فرمان قابل قدر ہے۔ اور بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرتا ہے۔

  7. arifkarim

    روپیے کا حصول شیطانی عمل ہے۔ کیونکہ جب آپ لوگوں کو یہ پتا ہی نہیں کہ روپیہ کیسے بنتا ہے تو اسکا حصول بے معنی ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)