روندی یاراں نوں

پنجابی کی ایک کہاوت ہے
روندی یاراں نوں ناں لَے کے بھراواں دے
اس کا مطلب ہے کہ رو رہی ہے آشنا کی جدائی میں لیکن نام بھائیوں کے لے کر رو رہی ہے

altafhussainbritishpassport2

ایسی ہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اپنی قومیت چھوڑ کر دوسری قومیت اختیار کر لی اور اس پر پھُولا نہیں سمائے ۔ اور اس کے بعد اپنے آپ کو اُس قوم کا خیرخواہ جتانے کی کوشش کرے جسے اُس نے تج دیا ۔ کیا یہ منافقت نہیں ہے ؟

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

17 thoughts on “روندی یاراں نوں

  1. arifkarim

    آج ملک میں رہنے والے نام نہاد لیڈران اپنے ملک سے کھرے نہیں ‌ہیں‌ تو یہ تو پھر ملک سے باہر ہے :)

  2. احمد

    کیا شاندار تصویر ہے غریب ممالک کی عوام لہ زبردست عکاس

    منافقت کوئی ایسی ویسی
    مگر آپ منافق کیوں کہ رہے ہو اسکو؟ بری بات
    اپنی بات یاد کریں، کیا سمجھے!

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فرحان دانش صاحب
    مجھے کسی سے ذاتی بیر یا دشمنی نہیں ہے ۔ لین ان لیڈروں کی اصلیت کو ظاہر کرنا ضروری ہے جو ہمیں کچھ کہتے ہیں اور اندر سے کچھ اور ہوتے ہیں

  4. فارغ

    اس طرح تو سارے بیرون ملک پاکستانی جو دوسری قومیت لے لیں ان پر منافقت کا الزام لگ سکتا ہے-

  5. احمد

    وہ فرماتے ہیں
    “مجھے کسی سے ذاتی بیر یا دشمنی نہیں ہے ۔ لین ان لیڈروں کی اصلیت کو ظاہر کرنا ضروری ہے جو ہمیں کچھ کہتے ہیں اور اندر سے کچھ اور ہوتے ہیں”

    ہم عرض کرتے ہیں
    اصل مسئلہ امریکہ برطانیہ نہیں بلکہ وہ منافقین ہیں جو اسلام کو مانتے بھی نہیں اور روز اول سے اسلام کہ مٹانے پر لگے ہیں۔ ان کی اصلیت کو سب کے سامنے لانا کیسے جرم بن گیا؟

    وہ فرماتے ہیں
    سب کی بات کرو مگر پیارے شیعوں کی بات نہ کرو۔ کیڑے مت نکالو۔ کیا تم سے اچھے ہو بس؟

    ہم درخواست کرتے ہیں
    ان کا کفر اور منافقت تو قرآن بھی اور امام ابو حنیفہ سے لیکر سب ھی بنا کرتے ہیں۔ بلکہ انکے کفر میں شک کو بھی کفر کہتے ہیں۔ اب بولو!

    وہ گسے میں آجاتے ہیں بہت گسے میں
    تبصرہ مٹا دیتے ہیں۔۔۔۔۔
    فون اٹھا لیتے ہیں ۔۔۔۔ اے دل جاناں ۔۔۔۔۔ 2 بم اس پر بھی گرا جانا ۔۔۔۔۔۔ بے نقاب کرنے پر تل گئے ہیں یہ لوگ!!!!

    مگر ہم؟
    ان کی بربادی کی اور ان کی آبادی کی دعا کردیتے ہیں

  6. تانیہ رحمان

    افتخار جی ویسے یہ بات میری سمجھ میں آج تک نہیں آئی کہ لوگوں کو یہ لال رنگ کا رہاہشی نامہ مل جاتا ہے ۔ اس میں فخر والی کون سی بات ہے شکل سے عادات سے پاکستانی لگتے ہو ۔ ایک سرخ رنگ کا پاسپورٹ لینے سے کیا ملکہ کے گھر میں جگہ پا لو گے ۔۔۔

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فارغ صاحب
    عام پاکستانی جو کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرتے ہیں وہ کسی پاکستانی سیاسی جماعت کے رہنما نہیں ہوتے ۔ سیاسی جماعت کا رہنما لوگوں کو پاکستان سے وفا کا یقین دلاتا ہے جبکہ اس نے پاکستان کی بجائے کسی اور ملک سے وفاداری کا حلف لیا ہوتا ہے ۔ اس طرح اس کا عمل منافقت بن جاتا ہے

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    تانیہ رحمان صاحب
    میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ امریکہ میں ان امریکیوں کو جو افریقہ سے لائے گئے لوگوں کی اولاد ہیں یا پرانے امریکی ہیں آج بھی وہ مقام نہیں ملا جو گورے امریکیوں کو حاصل ہے جو دراصل اُن غاصبوں کی اولاد ہیں جو یورپ سے آکر طلم و ستم کے ذریعہ امریکا پر قابض ہوئے

  9. راشد کامران

    اقتباس
    میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ امریکہ میں ان امریکیوں کو جو افریقہ سے لائے گئے لوگوں کی اولاد ہیں یا پرانے امریکی ہیں آج بھی وہ مقام نہیں ملا جو گورے امریکیوں کو حاصل ہے جو دراصل اُن غاصبوں کی اولاد ہیں جو یورپ سے آکر طلم و ستم کے ذریعہ امریکا پر قابض ہوئے

    اجمل صاحب۔۔ انہیں افریقیوں کی اولاد میں سے آج ایک امریکہ کا صدر ہے۔ اٹارنی جرنل خود افریقی نژاد ہے۔‌ریپبلکن پارٹی کا ڈمی ہی سہی سربراہ ایک افریقی نژاد ہے؛‌ہالی ووڈ کے کئی مایہ ناز اداکار، کھلاڑی، ٹی وی اور ریڈیو کی شخصیات سیاہ فام ہیں اور کیا مقام چاہیے؟‌ اونچ نیچ ہر معاشرے کا حصہ ہے لیکن مجموعی صورت حال اتنی خراب بھی نہیں جتنی ہمارے یہاں اقلیتی لوگوں کے لیے ہے یا غریب طبقات کے لیے ہے۔ دوسرا یہ کہ غاصب کا بیٹا بھی غاصب کہلائے والی بات انصاف پر مبنی نہیں ہر ایک کو اسے عمل کے حساب سے دیکھا جانا چاہیے۔ نا کہ اس کے والدین کے عمل کے مطابق۔

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    جب اس طرح کی بات کی جاتی ہے تو ذہن میں چند چمکدار ستارے نہیں ہوتے بلکہ عام عادمی ہوتے ہیں ۔ بارک حسین اوباما کے صدر بننے کے بعد اُمید کی جا رہی تھی کہ بہت فرق پڑے گا ۔جو فی الحال اُمید ہی ہے

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    شاہدہ اکرم صاحبہ
    میں نے آپ کے دونوں تبصرے سپیم میں سے نکالے ہیں ۔
    آپ پریشان بھی ہوئیں اور ہنسی بھی ۔ یہ تو شہزادی کی کہانی والی بات ہو گئی ۔ اب اکرم صقاحب سے کہتے ہیں کہ آپ سے پوچھیں “آپ پریشان کیوں ہوئیں اور ہنسی کیوں؟”

  12. راشد کامران

    جناب سسٹم بہتری کی طرف ہوتا ہے جبھی تو اقلیت کے عام آدمی چمکدار ستارے بنتے ہیں۔۔ اسی لیے میں نے عرض کی کہ مجموعی صورت حال اتنی بری نہیں جتنی دکھائی جاتی ہے خاص کر ریس کارڈ کھیلنے والوں کی آنکھ سے۔۔ تعلیم یافتہ اقلیت تو کم از کم یہاں بہت بہتر میعار زندگی برقرار رکھے ہوئے ہے جس میں جنوبی ایشائی، ایشیائی اور افریقی باشندے شامل ہیں۔۔ اس کا کریڈٹ تو آپ امریکہ کو دے ہی دیں۔۔ (:

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    آپ کا تبصرہ میری جس تحریر کے نیچے ہے اس سے میل نہیں کھا رہا ۔ یا پھر میری سمجھ میں کوئی خامی ہے ۔ آپ نے لکھا ہے
    علیم یافتہ اقلیت تو کم از کم یہاں بہت بہتر میعار زندگی برقرار رکھے ہوئے ہے جس میں جنوبی ایشائی، ایشیائی اور افریقی باشندے شامل ہیں۔۔ اس کا کریڈٹ تو آپ امریکہ کو دے ہی دیں
    جناب ۔ اگر اس کا اُلٹ کہیں کہ امریکا کو اس عروج پر ان درمیانے طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیمیافتہ ںیرملکی افراد کی محنت نے پہنچایا ہے تو کیا درست نہ ہو گا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)