مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 30 Oct 2009
”میرا نام احمد نور وزیری ہے ۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں بی اے آنرز کا طالب علم ہوں ۔ اس کے علاوہ میں کیا بتاؤں کہ میں کون ہوں او رکیا ہوں ۔ اس ملک کی ساٹھ سالہ تاریخ کے دوران میں اپنی شناخت کھوچکا ہوں ۔ ان ساٹھ سالوں میں مجھے کیا کیا نام نہیں ملے ۔ کبھی مجھے غیور قبائلی کے نام سے پکارا گیا ۔ کبھی مجھے مجاہد بنا کر غیروں کے ہتھیاروں سے غیروں کے مقاصد کے لئے لڑوایا اور استعمال کیا گیا ۔ کبھی مجھے سمگلر کہا گیا ۔ کبھی مجھے غدار کے لقب ملے جبکہ کبھی مجھے دہشت گرد بنا کر میرے معصوم خون کو کسی اور کیلئے بہایا گیا ۔ میں فاٹا کے ایک پسماندہ علاقہ جنوبی وزیرستان کے وانا نامی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں جسے بعض لوگ علاقہ غیرکہتے ہیں بعض کے نزدیک یہ نومین لینڈ [No-man-land] ہے اور بعض کے نزدیک یہ ایک فیکٹری ہے جہاں کبھی مجاہد اور کبھی دہشت گرد تیار ہوتے ہیں ۔ قانون کی کتابوں میں وزیرستان اور پورا فاٹا پاکستان کا حصہ ہے لیکن وہاں کی فضاؤں میں امریکہ کے ڈرون طیاروں کاراج ہے ۔ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں میزائل فائر کردیتے ہیں
میرے دوستو ۔ آج میں اپنی شناخت کی تلاش میں یہاں آیا ہوں ۔ آج میں ایف سی آر کی ستائی ہوئی غربت کی چکی میں پسی ہوئی وار آن ٹَیرر کی آگ میں لپٹی ہوئی اپنے ہی ملک میں مہاجر بنی ہوئی اور امریکہ کے ڈرون حملوں کے سائے تلے زندگی گزارنے والی پانچ ملین انسانوں پر مشتمل قوم [قبائل] کی طرف سے پیار محبت اور عشق کی سوغات لے کر آیا ہوں ۔ اسے قبول کیجئے ۔ میرے دوستو ۔ اسے قبول کیجئے“
یہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ہونہار طالب علم احمد نور وزیری کے افتتاحی کلمات تھے جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ”یوتھ پارلیمنٹ“ کے افتتاحی اجلاس کے دوران اپنا تعارف کراتے ہوئے ملک بھر سے منتخب طلبہ اور اہم قومی شخصیات کی موجودگی میں ادا کئے
” یہ خط وانا [جنوبی وزیرستان ایجنسی] سے لکھا جارہا ہے۔ وانا میں تقریبا ساڑھے سات سال سے خانہ جنگی جاری ہے اور یہاں زندگی بس صرف سانس کے آنے اور جانے کا نام ہے ۔ ۔ ۔ دسمبر 2001ء میں ایک طرف افغانستان سے طالبان کے اور دوسری طرف پاکستان سے افواج کے دستے وانا آنا شروع ہوگئے۔ 26 جون 2002ء کو وانا کے گاؤں کژہ پنگہ میں پہلا فوجی آپریشن ہوا۔ تب سے لے کر اب تک کشت و خون کا بازار گرم ہے ۔ ہمارے اوپر الزام تھا کہ ہم سب دہشت گرد ہیں چنانچہ سرکار نے پورے وانا سب ڈویژن میں اقتصادی پابندیاں لگادیں۔ اس دوران ہمارے قبائلی مشران میں سے جس نے بھی زبان کھولی اسے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ 2004ء میں ایک اور انتہائی بے رحم آپریشن کیا گیاجس میں ہوائی جہاز بھی استعمال ہوئے ۔ لوگوں نے وانا سے ہجرت کی لیکن کسی شہر کی جانب نہیں بلکہ قرب و جوار کے ویرانوں کی طرف۔ اس دوران گھر مسمار ہوئے ، بازار لٹ گئے ۔ واحد ذریعہ معاش یعنی سیبوں کے باغات برباد ہوگئے۔ اس وقت تک وانا کے لوگ اغواء برائے تاوان کے جرم سے ناآشنا تھے لیکن آئے ہوئے ازبک ، چیچن اور دیگر جابر مہمانوں نے نہ صرف انہیں اس سے آشنا کیا بلکہ قتل و غارت ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور سرکاری سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا بھی روز کا معمول بن گیا۔ اس کے بعد تاحال ہم اس کیفیت سے گزر رہے ہیں ۔ ڈرون حملے ہیں ۔ فوجی کانوائے کا تمام راستوں پر نہ صرف آنا جانا ہے بلکہ اس کے خیریت سے گزرنے کی خبر ہم بطور خوشخبری ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ وانا ڈی آئی خان سڑک بند ہے اور ہم 150روپے فی سواری کی بجائے 1500روپے فی سواری کرایہ دے کر ژوپ بلوچستان کے راستے وانا اور ڈی آئی خان کے مابین سفر کرتے ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول ہے لیکن آپ کے ہاں گھنٹوں کے حساب سے جبکہ ہمارے ہاں مہینوں کے حساب سے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چھ ماہ سے بجلی بند ہے ”
مکمل مضمون یہاں کلِک کر کے پڑھیئے
زمرہ : روز و شب | 3 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Oct 2009
کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان مینا بازار میں ہونیوالے اس دھماکے میں ملوث نہیں ہے
طالبان اورالقاعدہ نے پشاور بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بازاروں اور مساجد میں کبھی بم دھماکے نہیں کرتے
القاعدہ کے بیان کے مطابق وہ بے گناہوں کے قتل عام میں ملوث نہیں ہے
القاعدہ ذرائع کے مطابق پشاور دھماکے میں وہ عناصر ملوث ہیں جو جہاد اور مہاجرین کو بدنام کرنا چاہتے ہیں
القاعدہ کے ذرائع کے مطابق القاعدہ امریکا اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف دنیا بھر میں جہاد جاری رکھے گی
خبر جنگ میں شائع ہوئی
زمرہ : روز و شب | 8 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Oct 2009
پنجابی کی ایک کہاوت ہے
روندی یاراں نوں ناں لَے کے بھراواں دے
اس کا مطلب ہے کہ رو رہی ہے آشنا کی جدائی میں لیکن نام بھائیوں کے لے کر رو رہی ہے

ایسی ہی مثال اس شخص کی ہے جس نے اپنی قومیت چھوڑ کر دوسری قومیت اختیار کر لی اور اس پر پھُولا نہیں سمائے ۔ اور اس کے بعد اپنے آپ کو اُس قوم کا خیرخواہ جتانے کی کوشش کرے جسے اُس نے تج دیا ۔ کیا یہ منافقت نہیں ہے ؟
زمرہ : روز و شب | 17 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 28 Oct 2009
“بس جی ۔ روپیہ ہونا چاہیئے”
“روپے کے بغیر زندگی مشکل ہے”
“روپے کو روپیہ کھینچتا ہے”
“روپیہ ہو تو سب کام ہو جاتے ہیں” ۔ وغیرہ وغیرہ
یہ سب کج فہمی یا کم عقلی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو مالدار ہمیشہ مالدار اور بے مایہ ہمیشہ بے مایہ رہتا
حقیقت يہ ہے کہ طاقت روپیہ نہیں ہے بلکہ اصل طاقت انسان کے اندر ہوتی ہے
روپے سے بہترین بستر تو خریدا جا سکتا ہے مگر نیند نہیں
روپے سے کسی کی زبان تو خریدی جا سکتی ہے مگر دل نہیں
روپے سے جسم تو خریدا جا سکتا ہے مگر محبت نہیں
روپے سے ایئر کنڈیشنر تو خریدا جا سکتا ہے مگر دل کی ٹھنڈک نہیں
روپے سے مقویات تو خریدی جا سکتی ہیں مگر صحت نہیں
ساری دنیا کی دولت لگا کر بھی دل کا اطمینان نہیں خریدا جا سکتا
روپے کا ایک کارِ منصبی ایسا ہے جو انسان کو بہت کچھ دے جاتا ہے
وہ ہے خود غرضی سے باہر نکل کر روپے کا ضروتمندوں پر استعمال
اللہ ہمیں اپنی دولت کے درست استعمال کی توفیق عطا فرمائے
زمرہ : روز و شب, طور طريقہ, پيغام | 11 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 27 Oct 2009
مندرجہ ذیل عبارت میں تھری ملین ڈالر مین [Three Million Dollar Man] کون ہے ؟ بوجھیئے تو جانیں
امریکہ اور برطانیہ میں گزارے گئے ان چند دنوں میں مجھے شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے ۔ غیرملکی امدادکسی مسئلے کا حل نہیں ۔ ہمیں صرف دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف بھی متحد ہونا ہوگا ۔ لندن میں ایک انتہائی قابل اعتماد شخصیت نے مجھے بتایا کہ پچھلے دنوں ایک عرب ملک کی فضائی کمپنی نے پاکستان میں اپنی پروازوں کی تعداد میں اضافے کی کوشش کی ۔ جب کامیابی نہ ہوئی تو مذکورہ فضائی کمپنی نے ایک مقتدر شخصیت کو تین ملین ڈالر دے کر اپنا کام کروا لیا
یہ مقتدر شخصیت صرف خود کھانے کی شوقین ہے اور بدقسمتی سے ڈالر کھانے کی شوقین ہے ۔ اس شخصیت کو نجانے یہ احساس کیوں نہیں ہو پا رہا کہ زیادہ کھانے سے ناصرف بدہضمی ہوجاتی ہے ۔ بلکہ بدنامی بھی ہوتی ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ اس قسم کی بے حس مقتدر شخصیات کو اقتدار کے ایوانوں سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے کیونکہ یہ شخصیات صرف جمہوریت نہیں بلکہ پاکستان کیلئے بھی خطرہ بنتی جارہی ہیں ۔ اور کوئی جانے نہ جانے لیکن جناب نواز شریف اس ”تھری ملین ڈالر مین“ کا نام ضرور جانتے ہیں ۔ ان سے گزارش ہے کہ ”تھری ملین ڈالر مین“ کو بے نقاب کریں اور اسے بھی پرویز مشرف کے پاس لندن بھیج دیں
بشکریہ ۔ جنگ
زمرہ : سیاست, طور طريقہ, منافقت | 6 تبصرے »