فرزندکراچی لکھتےہیں

اظہرالحق صاحب کو میں کبھی ملا تو نہیں لیکن انٹرنیٹ کے ذریعہ چار پانچ سال سے جانتا ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ وہ کبھی من گھڑت یا جھوٹے واقعات نہیں لکھتے ۔ اظہرالحق صاحب لکھتے ہیں مؤرخہ 28 اگست 2009ء
————————
آج ایک نئی بحث شروع ہوئی تو اپنے آپ کو روک نہیں سکا لکھنے سے ، میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ جو میں سمجھتا ہوں اسے اپنے ہم وطنوں تک پہنچاؤں ، میں نے اپنا بچپن اور جوانی کراچی میں گذاری ۔ میں کوشش کروں گا اپنے اس مضمون کو مختصر رکھنے کی ، یہ بات ہے کے 1984ء اواخر کی ، ملک میں مارشل لاء تھا مگر عوام کے لئے ایک “مرد مومن“ کی حکومت تھی ، ناظم صلات (نمازوں کو پڑھوانے والے ) کا دور تھا ، ہر طرف فوج کے جلوے تھے ، بین الاقومی سٹیج پر روس بکھر رہا تھا ، امریکہ افغانی مجاہدین کے لئے مدد دے رہا تھا ، اور پاکستان “اخوت اسلامی“ کے ریکارڈ توڑتے ہوئے لاکھوں “بے سہارا“ افغانوں کی مدد سے کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر میں خود کفیل ہو رہا تھا ۔ ایسے میں کراچی کے کالجوں میں ابھرتی ہوئی ایک تنظیم جو کراچی میں ہجرت کر کے آنے والوں کی اس نسل میں سے تھی جس نے اپنی آنکھ ہی اس آزاد ملک میں کھولی تھی ، جسے اس شہر میں ہی نہیں اس ملک میں ایک پڑھی لکھی اور سمجھدار قوم سمجھا جاتا تھا ، جس میں حکیم سعید جیسے سپوت تھے ، جس میں سلیم الزماں صدیقی جیسے سائینسدان تھے جس میں رئیس امروہی جیسا شاعر اور بجیا اور حسینہ معین جیسی لکھاری تھیں ۔ ۔ ۔ اسی قوم کے جوانوں کی ایک تنظیم تھی اے پی ایم ایس او یعنی آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنازئیزشن ، اور یہ کوئی خاص بات نہ تھی کہ اسی شہر کے کالجوں میں اور یونیورسٹیز میں پی ایس اے (پنجابی اسٹوڈنٹ ایسوی ایشن) اور پختون اسٹوڈنٹ فیڈریشن ، کشمیر اسٹوڈنٹ فیڈریشن جیسی تنظیمیں موجود تھیں تو کسی کو ایک اور “قومی“ تنظیم پر اعتراض کی وجہ نہیں بنتی تھی ، اور پھر ان سب سے بڑھ کر کراچی کے کالجوں میں جمعیت اور پیپلز اسٹوڈنڈنٹس جیسی سیاسی طفیلیے بھی موجود تھیں اور لسانی تنظیمیں بھی تھیں جن میں سرائیکی اور سندھی تنظیمیں تھیں

یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مہاجر اسٹوڈنڈنٹس کا ابھرنا کوئی خاص بات نہ تھی ، یہ بھی یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب طلباء تنظیموں پر پابندی تھی مگر در پردہ انکی آبیاری بھی کی جاتی تھی ، اے پی ایم ایس او سے بھی پہلے جمیعت کے جھگڑے مشہور تھے اور کالجوں میں سب سے زیادہ اسلحہ بھی اسی تنظیم کے پاس تھا ، کیونکہ شہری حکومت بھی جماعت اسلامی کی تھی اس لئے اسکی ذیلی تنظیموں پاسبان اور جمیعت کی اجارہ داری تھی ، میں ان لوگوں کو کنفیوز لوگ سمجھتا تھا اور ہوں کیونکہ یہ لوگ نہ تو مذہبی بن سکتے ہیں اور نہ ہی سیکولر ، اس وجہ سے انکے نظریے میں ہمیشہ ایک خلا رہتا ہے ، جبکہ انکے مقابلے میں آنے والی تنظیم نظریاتی طور پر مستحکم تھی اور اسکی سمت معین تھی ،

یہ ٨1980ء کے عشرے کا درمیانی وقت تھا ، ہمارے افغانی “اسلامی“ بھائی سارے ملک میں منشیات اور اسلحہ پھیلا چکے تھے ، اور ہمارے حکمران افغانستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے ایسے میں کراچی جو ایک چھوٹا پاکستان تھا جس میں پنجابی سندھی بلوچی پٹھان اور کشمیری اپنے اردو سپیکنگ ہم وطنوں کے ساتھ رہ رہے تھے ، اس پر سازش رچی گئی اور سازش کے لئے ہراول دستہ بنا ایم کیو ایم ، جو ایک فلاحی تنظیم کے طور پر ابھری تھی اور اسکی بنیاد تھی اسکی طلبہ تنظیم ، جنہوں نے بچت بازار لگائے تھے اور پھر مختلف اداروں میں اپنا نظریہ پھیلا دیا ،

کوئی بھی جماعت یا تنظیم اس وقت ہی مقبولیت حاصل کر لیتی ہے جب اسے مظلوم ثابت کر دیا جائے ، ایسا ہی ہوا ایم کیو ایم کے ساتھ ، اسے ہمارے حکمرانوں نے کندھا دیا اور کراچی “جئے مہاجر“ کے نعروں سے گونجنے لگا ، اور لوگوں کو ایک مسیحا نظر آیا “الطاف حسین“ ، جو عوام کے اندر سے اٹھا ، عام سا آدمی جو کسی بڑی گاڑی کے بجائے ایک ہنڈا ففٹی میں اپنی سیاست کرتا ، وہ عام لوگوں میں مل جل جاتا اور عوام اسے اپنے میں سے ہی سمجھتے ، پھر جسے اپنا سمجھتے اسکا حکم بھی مانتے ، اور پھر ہنڈا ففٹی ایک مقدس چیز بن گئی ، شاید بہت لوگوں کے علم میں ہو گا کہ کراچی کے ایک بڑے جلسے میں لوگوں نے اس ہنڈا ففٹی کو چوم چوم کر چمکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان کی بدقسمتی کہیئے یا پھر قانون قدرت کہ جو بار بار یہ سمجھاتا ہے کہ اقتدار کے طالب ایک دن ذلت کی موت مرتے ہیں ، ایسے ہی ہوا ۔ ١1988ء میں جب مرد مومن “شہید اسلام“ بن گیا ، اسلام کے اس سپاہی نے جو کارنامے انجام دئیے انکا شاخسانہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں ، منشیات اور کلاشنکوف سے لیکر لسانی سیاست تک سب اسی دور کے پھل ہیں ، مگر اس کے بعد جو اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوئی تو اگلے دس سال تک ایک میوزیکل چئیر کھیلا جانے لگا ، ایسے میں ہی کراچی کے “قائد عوام“ نے ان سب چیزوں کا فائدہ اٹھایا اور کراچی میں نو گو ایریا [No-go Areas] بن گئے ، قائد کے غداروں کو بوری میں بند کیا جانے لگا ، اخبارات میں انسانوں کی مڑی تڑی لاشوں کی تصویریں چھپنے لگیں ۔۔ ۔ اور پھر ہم بے حس ہو گئے ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ بن گئی ، جو ہر آنے والی حکومت کو بلیک میل کرتی ،

پتہ نہیں لوگ کیوں بھول گئے کہ جب الطاف بھائی کی تصویریں آسمان سے لیکر پتے پتے پر جم رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ جب فوج کے سپاہی عزیز آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو پتھروں اور گولیوں سے انکا استقبال ہوتا ، لوگ کھجی گراؤنڈ کو کیوں بھول گئے پتہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھر شہر کے اندر یہ ہولی کھیلی جا رہی تھی ادھر شہر کے مضافات میں اسلحے اور منشیات کے ڈیلر اپنے اڈے مضبوط کر رہے تھے ، انہوں نے سہراب گوٹھ سے لیکر ناتھا خان کے پُل کے نیچے تک اپنے گاہک پیدا کر لئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔

ضیاء الحق کے بعد تو کراچی میں وحشت کا راج ہو گیا تھا (میں نے جان بوجھ کہ وحشت لکھا ہے دھشت میں انسان صرف خوف کا شکار ہوتا ہے مگر ان دنوں کراچی کے لوگ وحشی بن چکے تھے ) جن لوگوں نے گولیمار اور سہراب گوٹھ کے واقعات کی وڈیوز دیکھی ہیں وہ جان سکتے ہیں کہ میں نے وحشی کیوں کہا ، مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے جب شاہ فیصل کالونی میں فساد ہوا تھا ، گرین ٹاؤن گولڈن ٹاؤن اور الفلاح سوسائٹی میں لوگ بازار جلا رہے تھے اور پھر رات ایک بجے کے قریب ہمیں شاہ فیصل کالونی کی جانب سے گولیوں کی آوازیں سنائیں دیں اور ان آوازوں سے بلند عورتوں اور بچوں کی چیخیں تھیں ، جو ایک عرصہ تک میرے کانوں میں گونجتی رہیں ۔ ۔

وہ شخص وحشی ہی تھا نا جس نے شیر خوار بچوں کو چیر دیا تھا ۔ ۔ ۔ وہ آدمی کیسا تھا کہ جسکی لاش کے ساتھ یہ لکھا ملا کہ قائد کے غداروں کا یہ ہی انجام ہوتا ھے ۔ ۔ ۔ کیا ہماری لائبریریوں میں اس وقت کے اخبار موجود نہیں ؟ جن میں سب جھوٹ تھا مگر کیا ایک سچ بھی نہیں مل سکتا ۔ ۔ ۔ جذبات بہت ہیں مگر کیا کہوں کہ انسان کو جلتے دیکھا ہے جلاتے بھی دیکھا ہے ، بندوقوں سے بچوں کو بہلاتے بھی دیکھا ہے

خیرکرفیو لگا ، انتخابات ہوئے ، یہ کیسے انتخابات تھے ، کہ کراچی میں رجسٹرڈ ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ ڈلے ، یہ کیسے انتخابات تھے کہ جن میں جیتنے والے اور ہارنے والوں کے درمیان لاکھوں کا فرق تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر کراچی میں آگ لگتی چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایم کیو ایم نے چولے بدلنے شروع کئے ، انہیں پتہ لگ گیا تھا کہ حکومت میں رہنے کا گُر کیا ہے ، کسی کی بھی حکومت آئے ، ایم کیو ایم اسکے ساتھ رہے گی ،

ایم کیو ایم کو کیا چاہیئے تھا ، حکومت اور شہید ، دونوں اسے ملتے رہے ، اور ابھی تک مل رہے ہیں ۔ ۔ ۔ ایم کیو ایم نے ساحر لدھیانوی کے اس شعر کو سچ کر دیکھایا ہے کہ
برسوں سے رہا ہے یہ شیوہ سیاست
جب جواں ہو بچے ہو جائیں قتل

یہ سلسلہ چل پڑا ہے اور چلتا ہی رہے گا ، اس جماعت کی بنیاد ایک لسانی تنظیم تھی اور آج تک ہے ، الطاف حسین ایک ایسی مچھلی ہے جس نے اپنی قوم کے تالاب کو اتنا گندہ کر دیا ہے جسے صاف کرنے میں شاید ایک صدی لگے ۔ ۔ ۔ الطاف حسین کو اپنی قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ، وہ اس کمزور عورت (بے نظیر بھٹو) سے بھی کمزور ہے جو سب جاننے کے باوجود واپس آئی ، اور اپنی جان تک قربان کر دی ، مگر شاید الطاف حسین جو دوسروں کو چوڑیاں پہننے کا اکثر مشورہ دیتے ہیں ، خود چوڑیاں پہن کہ بیٹھے ہیں ۔ ۔ ورنہ ۔ ۔ ۔ بقول شاعر ،
قوم پڑی ہے مشکل میں اور مشکل کشا لندن میں ۔ ۔

بات کہاں کی کہاں نکل گئی ، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں ، الگ ریاست کا خواب ایم کیو ایم کا اس وقت کا خواب ہے جب وہ مہاجر قومی موومنٹ تھی ، اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ 1984ء سے پہلے کراچی کے تمام اداروں میں اردو سپیکنگ نہ صرف اچھی سروسز اور پوزیشنز پر موجود تھے بلکہ بہت اچھی شہرت بھی رکھتے تھے ، کراچی کے “بھیئے“ سب قوموں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ، انکی آپس میں رشتے داریاں تھیں ۔ ۔ ۔ دوستیاں تھیں ۔ ۔ ۔ یہ ایم کیو ایم نے ہنستے کھیلتے کراچی کو کیا بنا دیا ۔ ۔؟؟؟

ٹھیک ہے انہیں استعمال کیا گیا مگر جب وہ لوگ اقتدار میں آئے تو انہیں خود کو بدلنا چاہیئے تھا ، یہ شاید 1990ء کے بعد کی بات ہے جب میری ملاقات ہوئی تھی ایڈمینسٹریٹر کراچی فاروق ستار سے ، میں سوچتا تھا کہ یار یہ بندہ تو بہت اچھا ہے ، جو عام لوگوں میں گھل مل جاتا ہے ، ان دنوں جب ٹارگٹ کلنگ عام تھی فاروق ستار جب بھی کہیں جاتے تو وہ آگے چلتے اور اتنا تیز چلتے کہ دوسرے لوگ انکا ساتھ نہیں دے پاتے ۔ ۔ ۔ اور اگر وہ ایم کیو ایم کو بہتر وقت دے سکتے مگر شاید وہ اپنی جماعت کے پابند تھے ۔ ۔ اور اسی وجہ سے انکے بعد جماعت اسلامی نے کراچی کو “فتح“ کیا ۔ ۔ ۔ اور اپنے مئیر کو لا سکی ۔ ۔ ۔ اور جماعت اسلامی نے وہ ہی غلطیاں کیں جو اقتدار کے لالچی لوگ کرتے ہیں ، اور ان سے حکومت چھن گئی ۔ ۔ ۔ گو انکے منصوبے اچھے بنے تھے مگر انکا افتتاح کسی اور نے کیا ۔ ۔ ۔

مختصر یہ کہ ایم کیو ایم ایک پریشر گروپ سے ایک قومی جماعت بنی ، اس جماعت کا اور منشور اپنی جگہ مگر ایک شق لازمی ہے ، وہ ہے فوج کی کردار کُشی ۔ ۔ ۔ اور یہ پہلے دن سے یہ ہی چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ اور ابھی تک چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید چلتا رہے گا ۔۔ کیونکہ “قائد“ لندن میں رہیں گے اور قوم ٹیلی فونک خطاب سنتی رہے گی

This entry was posted in تاریخ, سیاست, مزاح on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

33 thoughts on “فرزندکراچی لکھتےہیں

  1. عبداللہ

    افتخاراور اظہر کو میرا بس ایک مشورہ ہے کہ اللہ کی لاٹھی بڑی بے اواز ہوتی ہے اور جھوٹوں پر اللہ نے اپنی لعنت فرمائی ہے دوسروں کی خاطر جھوٹ سچ ملا کر لکھتے ہوئے اپنی قبر اور وہاں کی جواب دہی کا بھی زہن میں رکھنا ،

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ نے بالکل درست کہا ہے کہ “اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہوتی ہے اور جھوٹوں پر اللہ نے اپنی لعنت فرمائی ہے”۔
    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے یہ صرف ان کیلئے نہیں فرمایا جنہیں آپ بُرا سمجھتے ہیں بلکہ آپ جو اپنا نام عبداللہ لکھتے ہیں آپ کیلئے بھی فرمایا ہے ۔
    اگر آپ مسلمان ہیں تو میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو سیدھی راہ دکھائے اور آپ ہر لمحہ پنجاب اور پنجابیوں کو کوسنے کی بجائے اپنی عاقبت سنوارنے پر توجہ دیں ۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    بلاشُبہ ” اللہ کی لاٹھی بڑی بے اواز ہوتی ہے اور جھوٹوں پر اللہ نے اپنی لعنت فرمائی ہے”۔
    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے یہ صرف میرے اور اظہرالحق صاحب کیلئے نہیں فرمایا بلکہ سب کیلئے فرمایا ہے ۔ ان سب میں آپ جو اپنے آپ کو عبداللہ لکھتے ہیں شامل ہیں ۔
    ہمیں کسی لیڈر نے کچھ نہیں دیا ۔ ساری عمر محنت کی اللہ کے فضل سے کھائی ہے اسلئے ہمیں دوسروں کیلئے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ ٹھیکہ صرف آپ نے لے رکھا ہے جو اپنی ہر بات کو حرفِ آخر اور اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں

  4. احمد

    آپ کی ای میل کا جواب ارسال کردیا ہے

    مجھے شدت سے اس ویب کا لنک درکار ہے

  5. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    یار عبداللہ ” سچ سچ ، تلخ تلخ ۔ آخ تُھو تُھو” کرتےتمھیں کہیں بلڈ پریشر نہ ہوجائے۔ اپنی صحت کا خیال رکھا کرو۔ لسی شسی پیا کرو پیارے۔

    ویسے آپس کی بات ہے اگر تمہاری رفتار یہی رہی تو ایم کیو ایم کو دشمنوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بس تم ہی کافی ہو۔ ماشاءاللہ کیا وژن پایا ہے۔ اور کیا اندازِ بیان ہے۔

    رہ گئی بات اخلاقی اصلیت کی تو وہ پھر کبھی پیارے۔ کہ تم پھر سے تلخ ہو کر تھُو تھُو نہ کرنے لگو

  6. عنیقہ ناز

    اس سارے مضمون کے جانبدار ہونے کے لئے کیا یہ کافی نہیں کہ اس میں علی گڑھ کالونی پر پٹھانوں کے حملے کا تذکرہ نہیں۔ جس کے بعد دراصل لوگوں کو احساس ہوا کہ الطاف حسین بھی کوئ چیز ہے۔ اسکے بعد اسوقت کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اور حکومت وقت نے جس طرح اس واقعے کے ذمہ داران کو پناہ دی اس سے لوگوں کو پتہ چلا کہ انہیں اپنی الگ کوئ تنظیم بنانی چاہئے۔ یہ سب چیزیں چھپا کر آپ کس قسم کی بحث کرنا چاہتے ہیں اسے سمجھنے سے ہم معذور ہیں۔ آپ اس بات کو کیوں نہیں تسلیم کرتے ہیں کہ آپکے مسلسل جانبدار روئیے نے اس تنظیم کو مضبوط کیا ہے۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں ناں کہ کراچی میں بوگس ووٹنگ کی وجہ سے ایم کیو ایم جیت جاتی ہے۔ میں آپکو بتائووں اس بات کی حقیقت بس اتنی ہے کہ اگر وہ بوگس ووٹنگ نہ ہوتوجیتنے کا مارجن پچاس ہزار نہیں پچیس ہزار ہوگا یہ بوگس ووٹنگ بھی نوجوان دل پشوری کے لئے کرتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ڈنڈا چلانے والوں کے آگے کھڑے رہنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ اور چودہ دسمبر انیس سو چھیاسی کو نہتی حالت میں مارے جانے کے بعد لوگوں نے خوداپنے ھاتھ میں ا اسلحہ پکڑنے کے بجائے انکے ھاتھ میں دیدیا ہے۔ آپ اس چیز سے کیوں چشم پوشی کرنا چاہتے ہیں کہ یہ پورا نظام طاقت کے استعمال پر چل رہا ہے۔ آج ببیت اللہ محسود کہتا ہے کہ اسکے پاس حکومت پاکستان سے زیادہ پیسہ ہے آپ سب لوگوں کو اسکے بیانات پر خوشی ہوتی ہے۔ جب وہ طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے تو لوگوں کو بڑا اچھا لگتا ہے۔ اسکی کیا وجہ ہے۔ اور ان دو چیزوں کو کسطرح اور کس اخلاقی حد پر الگ کر کے دیکھا جات ہے اسکے لئے نفسیات کے بہت سے حوالے تلاش کرنے پڑیں گے۔ فی الحال میں اس چکر میں نہیں پڑنا چاہتی کہ بحیثیت قوم ہم کس نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں۔
    جب بے نظیر کا قتل ہوا کراچی میں خوب دل کھول کر دہشت گردی مچائ گئ۔ اس سے اگلی رات ہمیں ائیر پورٹ جانا تھا۔ پورا شہر جلی ہوئ گاڑیوں کا قبرستان بنا ہوا تھا۔ لیکن خیر کسی کو اس دن یہ خیال نہ آیا کہ کراچی میں کیا غنڈہ گردی ہوئ ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں بارہ مئ کا واقعہ ابتک ستاتا ہے ان میں سے کسی نے سوال نہ کیا کہ ستاءیس دسمبر کو کراچی میں کیا ہوا۔ اور اسکے ذمہ داران کو پکڑا جائے اور سزا دی جائے۔ کراچی والے خوش ہوئے کہ بے نظیر کا قتل راولپنڈی میں ہوا اگر کراچی میں ہوتا تو ہمارا کیا ہوتا۔ جب الیکشن کے دن میں نے مختلف لوگوں سے پوچھا کہ وہ ووٹ ڈالنے گئے تو ان میں سے بیشتر لوگ ایسے تھے جنہوں نے پہلے کبھی ووٹ نہیں ڈالا تھا لیکن اس دن گئے انکے بقول ہم نے ستائیس دسمبر کو دیکھ لیا کہ اگر ہم ایم کیو ایم کو ووٹ نہیں ڈالیں گے تو کہیں وہ لوگ نہ آجائیں جنہیں ہم نہیں چاہتے کہ وہ آئیں اور پھر سے ہمارا قتل عام کریں۔ ہمیں احساس ہو گیا کہ اس دفعہ ایک ایک ووٹ قیمتی ہے۔
    ابھی کل پرسوں میں ایک انڈین بلاگ سے گذری جس پر قائد اعظم کے حوالے سے بحث چل رہی تھی۔ اس پر ہندو نیشنلسٹوں نے وہی زبان استعمال کی تھی جیسی آپ لوگ اکثر اس تنظیم اور الطاف حسین کے لئیے استعمال کرتے ہیں۔ اور وہ سب بھی اس چیز کو سمجھنے کے لئیے بلکہ قبول کرنے کے لئیے تیار نہ تھے کہ بقول انکے قائد اعظم کی ہٹ دھرمی اور انکا برٹش ایجنٹ ہونے کےعلاوہ بھی پاکستان کے قیام میں آنے کی کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہم اور آپ انکی عقل پہ ماتم کریں گے۔
    لیکن اس مقام پر پہنچ کر جہاں آپ پنجاب والے ہیں اور میں کراچی والی ہم میں سے کون کس کی عقل پہ ماتم کرے۔

  7. یاسرعمران مرزا

    افتحار اجمل صاحب،
    یہ مضمون میں اردو محفل پر پڑھ چکا ہوں، کافی معلوماتی تحریر ہے ان حضرات کے لیے جو کراچی کے بارے میں کم کم جانتے ہیں، ویسے آپ کو کبھی اتنی سختی سے بات کرتےکبھی دیکھا نہیں، جتنی سختی سے بات آپ اس عبداللہ نامی تبصرہ نگار کے بارے میں کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بات ٹھیک کہا ہے کچھ افراد اپنی بات کو حرف آخر سمجھتےہیں۔
    اللہ بہتر جاننے والے ہے اور وہی سب کو سیدھی راہ دکھائے ، آمین

  8. میرا پاکستان

    عنیقہ صاحبہ آپ نے تبصرے میں اپنا نقطہ نظر خوب پیش کیا مگر بوگس ووٹنگ کا الزام قبول کر کے اپنے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ اب آپ بتائیں آپ کی صفائی میں عبداللہ صاحب کیسے بولیں گے۔

  9. یاسر عمران مرزا

    عنیقہ صاحبہ
    بے نظیر کے قتل پر تمام شہروں میں ہنگامے ہوے تھے، جن میں دارلحکومت بھی شامل ہے
    اور بیت اللہ کے اس بیان پر کسے خوشی ہوئی کہ اسکے پاس پیسہ حکومت سے زیادہ ہے، آپ کس کو مخاطب کر رہی ہیں
    اسکے علاوہ، ڈنڈے ، طاقت، اور بوگس ووٹنگ والہ نظام میں تو نہیں سمجھتا قابل تعریف ہے کسے حالت میں بھی۔لیکن آپ پھر بھی تعریف کر سکتی ہیں جتنی چاہے کریں۔

  10. راشد کامران

    یہ مسئلہ اتنا جذباتی پن کا شکار ہے کہ اچھے خاصے لوگ ٹریک سے ہٹ کر بات کرنے لگتے ہیں۔ اظہر الحق صاحب کی طرح میں بھی کراچی میں پیدا ہوا، بچپن لڑکپن جوانی سب کراچی میں گزری اور کئی واقعات و حالات آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھے ہیں لیکن اظہر صاحب کی کچھ باتوں سے زاویہ نگاہ کا اختلاف رکھتا ہوں جو ثانوی باتیں‌ ہیں اور ان کی تکرار غیر مناسب ہے‌ لیکن کچھ باتیں اصولی نہیں‌ ہیں جنہیں ایک مرتبہ پھر دیکھنا چاہیے۔

    “مہاجر اسٹوڈنڈنٹس کا ابھرنا کوئی خاص بات نہ تھی”
    شاید درست نہیں۔ لفظ مہاجر کے ساتھ اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کا ابھرنا خاص بات تھی کیونکہ اب سے پہلے تک تو آپ “کراچی کے بھیے” اور پناہ گیر کے نام سے ہی جانے جاتے تھے۔

    “اور اسی وجہ سے انکے بعد جماعت اسلامی نے کراچی کو “فتح“ کیا”
    ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سے کسی بھی الیکشن میں کسی بھی جماعت کو کراچی میں اس طرح‌پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جسطرح ایم کیویم کو حاصل ہوئی ہے اور صرف ایم کیو ایم کی عدم موجودگی غط یا درست، بائیکاٹس غلط یا درست کی صورت میں ہی دوسری پارٹیوں کے لیے کراچی سے نشتیں حاصل کرنا ممکن ہوا اور ووٹوں‌ کے فرق — چاہے اسے دھاندلی ہی کہا جائے — سے آپ ووٹ بینک کا فرق سمجھ سکتے ہیں۔ اسے ایک زمینی حقیقت کے طور پر مان لینا چاہیے کہ ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ جماعت ہے — اب یہ بدمعاشی سے ہے، یا خوف سے ہے یا کوئی اور وجہ لیکن جب جب کراچی میں الیکشن ہوئے ہیں ایم کیو ایم نے ہی کراچی سے ووٹ حاصل کیے ہیں

    جو باتیں‌ایم کیو ایم کے ساتھ منسوب کی گئی ہیں ساتھ یہ بیان نہیں کیا گیا کہ آیا پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتیں ان تمام باتوں سے پاک ہیں؟‌ اسطرح‌ تقابلی جائزہ نہیں ہوا بلکہ ایک طرح کی فیشن کے طور پر بیشنگ ہی کی گئی ہے۔ جو باتیں ایم کیو ایم سے منسوب کی جاتی ہیں کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں اپنے حلقہ اثر میں ان ہی حرکات میں ملوث ہیں چناچہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کو ایک استثنائی صورت میں‌ پیش کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیے۔

    سب سے اہم بات کی طرف توجہ نہیں دی جاتی کہ ایم کیو ایم میں اگلی پیڑی کی قیادت میں کوئی بلاول الطاف، کوئی مونس الطاف، کوئی حمزہ الطاف اور کوئی فاطمہ الطاف موجود نہیں۔ ایم کیو یم کی سیاست سے اختلاف اپنی جگہ جو گاہے گاہے میں خود بھی کرتا رہا ہوں لیکن اس بات کا جائزہ کیوں نہیں‌ لیا جاتا کہ آئندہ ایک دہائی میں صرف ایم کیو ایم ایک واحد جماعت ہے جہاں سے عوامی قیادت ابھرنے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔ موجودہ قیادت ساری زندگی تو قائد تحریک بنی نہیں بیٹھی رہے گی اور اس کے بعد جو بھی قیادت آئے گی اول تو عوامی ہوگی، دوم پڑھی لکھی ہوگی اور آکسفورڈ نہیں بلکہ کراچی یونیورسٹی کی پڑھی لکھی ہوگی ۔۔ سارا زور اس بات پر نہ لگائیں کہ ایم کیو ایم کیا تھی۔ یہ بھی دیکھیں کہ جماعت کی کیا سمت ہے اور کیا ممکن ہے اور ساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا جائزہ بھی لیں اور ان کے اندر موجود ملوکیت اور ایم کیو ایم کی عوامیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور اس بات کی تکرار سے کچھ حاصل نہیں کہ یہ ایجنسیوں کی بنائی جماعت ہے سوال یہ ہے کہ کونسی جماعت ایجنسیوں نے نہیں‌بنائی یا کس کو فوج نے استعمال نہیں‌کیا؟

    “کراچی کے “بھیئے“ سب قوموں کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے ، انکی آپس میں رشتے داریاں تھیں ۔ ۔ ۔ دوستیاں تھیں”
    کراچی کے بھیے سب قوموں کے ساتھ اب بھی مل کر رہتے ہیں، اب بھی آپس میں رشتہ داریاں ہیں‌ لیکن اب لوگ انہیں مہاجر کی شناخت سے جانتے ہیں — اب کوئی مہاجر کے لغوی معنوں میں پھر لے کر نہ بیٹھ جائے یہ صرف شناخت ہے —

  11. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    صرف ایم کیو ایم ایک واحد جماعت ہے جہاں سے عوامی قیادت ابھرنے کا سب سے زیادہ امکان ہے۔ موجودہ قیادت ساری زندگی تو قائد تحریک بنی نہیں بیٹھی رہے گی اور اس کے بعد جو بھی قیادت آئے گی اول تو عوامی ہوگی، دوم پڑھی لکھی ہوگی اور آکسفورڈ نہیں بلکہ کراچی یونیورسٹی کی پڑھی لکھی ہوگی

    محترم!

    میری ذاتی رائے میں موجودہ قیادت کے منظر سے ہٹتے ہی کراچی کے باشندے آزاد ہوجائیں گے اور ایم کیو ایم اپنی موجودہ صورت میں برقرار نہیں رہے گی۔ کیونکہ کہ موجودہ قیادت کی دھونس دھاندلی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لوگ خوف و ھراس کی فضاء میں اتنے عرصے سے جی رہے کہ اب انکا دم گھٹتا ہے۔

    ابھی تو حقیقی اور اصلی والی کا معاملہ ہی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ موجودہ قیادت کے خیر باد ہوتے ہی ایم کیو ایم سے کوئی نئی اور ستھری جماعت شئے برآمد نہیں ہوگی۔ جسے تمام مہاجر آزادی سے اپنا نمائیندہ سمجھیں گے-

    مافیاکی طرز پہ چلائی گئی کارٹیل اسٹائل ایک دن ایسا پھٹے گا کہ آج ایم کیو ایم، ایم کیو کرنے والے خیرہ ہو کر رہ جائیں گے۔

    وہ کوئی نمائیندگی نہیں ہوتی جسکا خمیر ہیرا پھیری، سستی بدمعاشی ، بھتہ خوری اور قسم قسم کے لے پالک اور غنڈے حرفِ عام میں ¨ لڑکے¨ بغل میں ٹی ٹی پستول دبائے ”قائد کا جو غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے“ کے نعرے لگاتے ہر اس شخص کو جو ان سے اختلاف کرے اسے۔ اس کے جواں سال بیٹوں کو یا معصوم بچوں تک کو بھی سنگدلی سے قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس کسی کو کوئی غرض نہیں کہ مقتول کون تھا۔ مہاجر تھا یا غیر مہاجر تھا۔ ایم کیو ایم کے قاتلوں کے نزدیک سو کال قائد کے فلسفے سے اختلاف ہی موت کا پروانی جاری کرنے کا پیمانہ ہے۔

    اتنے مہاجر تو ان آپریشنوں میں میں نہیں مارے گئے ہونگے جن کا کامیاب پروپگنڈہ کرنے میں ایم کیو ایم کے زر خرید صبحُ شام تان ملاتے ہیں ، جتنا مہاجروں نے آپس میں مہاجروں کو قتل کیا ہے۔

    کراچی شہر ہے یا چڑیا گھر کہ انسان گھروں میں محبوس ہیں۔ نو گو ایریاز ہیں۔ ایک طرح کے مہاجر دوسری طرح کے مہاجروں کے علاقوں میں نہیں جاسکتے۔ کبھی پٹھانوں کا ڈر کبھی پنجابیوں کا خوف۔ کہیں پنجابیوں کو مہاجروں کا اور کہیں پٹھانوں کا صرف اپنے علاقوں تک محدود رہنا۔ سندھی بلوچ الگ پریشان۔ کیا شہر تھا اور کیا بنا ڈالا ہے ان سو کال قائدوں نے ۔ پھر ڈھٹائی دیکھو نعرہ بھی انھی مہاجروں کے حقوق کا جنہیں ان سے اختلاف تک کرنے کی آزادی نہیں۔ مرد حضرات تو دور کی بات ہے کو معمولی معمولی سے اختلاف پہ بھائی کا ایک تیسرے درجے کا چمچہ میزوں پہ چڑھ کر پتلون کے بیلٹ سے اپنی ہی رکن اور ورکر مہاجر خواتین کو مار مار کے لہو لہان کردیتا ہے ۔ اوروہاں موجود ٹی وی کا کیمرہ کی ریکارڈنگ بھی اس کا ہاتھ نہیں روک سکتی۔

    یہ تو وہ تہذیب نہیں جو مہاجروں سے منسوب تھی۔ جو بات کرتے تھے تو نثر میں بھی شاعری کا گمان ہوتا تھا۔ اس نام نہاد قیادت کی وجہ سے پورا شہر جیل بن چکا ہے۔ جنہیں نمائیندگی کا دعواہ ہوتا ہے وہ دھیمے لہجے کو اپناتے ہیں ۔ اپنے لوگوں کے لئیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ دوسری قوموں یا قومیتوں میں اپنے لئیے نرم گوشے پیدا کرتے ہیں۔ یہاں تو پیرلنڈن کو جب دیکھو ہل ہل کر مرژیہ خوانوں کی طرح کبھی پنجاب کو لعن طعن کر رہے ہوتے ہیں ۔ کبھی پٹھانوں کو ملعون قرار دے رہے ہوتے ہیں ۔ مقصد صرف ایک ہوتا ہے ۔ کہ کراچی میں آگ بھڑکے اور موصوف کی دکانداری چلتی رہی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے جن کی نمائیندگی کا ؐوصوف دعواہ کرتے ہیں وہ تو کراچی میں محبوس ہوں اور موصوف محض اپنی جان کے خوف سے برطانیہ کی گود میں بیٹھے ہوں۔ اور طرف تماشہ ہے کہ وہاں سے بجائے دھیمہ لہجہ اپنانے کے معملات کو بہتر بنانے کے ہر اس طبقے کو چیلنج جس پتہ بھی نہیں ہوگا کہ ایم کیو ایم کیا ہے اور موصوف اور سو کال قیادت کس باغ کی مولی ہیں۔ مقصد ؑظیم صرف خون خرابہ کروانا اور جب دوسری قومیتوں کے صبر کا پیمانہ لبیر ہوجائے تو پھر ناحق مارے گئے مہاجروں کے لئیے گریہ زاری اور مگر مچھ کے آنسو بہا بہا کر اپنی مظلومیت کیش کروانا۔ ۔ کبھی موصوف بھارت کے گراؤنڈ پہ کھیلتے ہوئے پاکستان کی تقسیم کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھوں شہیدوں اور کروڑوں مہاجروں کا ٹھٹھا اڑاتے نظر آتے ہیں ۔

    موصوف بھارت گئے اور بیٹھے بٹھائے بغیر کسی پروگرام کے مرثیہ خوانی شروع کر دی کہ بھارت مہاجروں کو واپس بھارت آنے کی اجازت دے ۔ مہاجروں کو واپس بھارت آنے کی اجازت دینے کی بھونڈی درخواست کرتے ہوئے وہ گریہ زاری کی کہ ہندؤ بھی حیران ہو گئے کہ کیا اس شخص کا دماغ تو نہیں چل گیا ۔ جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسقدر قابل صد احترام مہاجروں کی آبادی نہ تو واپس بھارت جانے کی آرزو رکھتی ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔لیکن مہاجروں کا زبردستی نمائیندہ کہلوانے کی وجہ سے اگلے دن مہاجر بغیر کسی وجہ سے شرمندہ ہوئے پھر رہے تھے جب کوئی غیر مہاجر کوئی سوال کرتا وہ بیچارے کوئی جواب نہ دے پاتے کیا قائد لوگ ہیں اور کیا تحریک ہے ۔ کہ وہ مہاجر جنہیں سارے پاکستان میں پڑھی لکھی ، باشعور ، اور قابل احترام سمجھا جاتا تھا ۔ انھیں اچھوت بنانے میں اس قیادت نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔ کیا رہنماء اسطرح ہوتے ہیں ۔ کیا ایسے لوگ نمائیندہ کہلانے کے حقدار ہیں ، جن کے گندے کپڑے کراچی میں رہنے والے قابل احترام عام مہاجرین کو دھونا پڑیں۔؟

    شہر کی ترقی جس کا ڈھنڈورا صبح و شام پیٹا جاتا ہے اسکا عالم یہ ہے کہ زرا زور سے ھوا چلے تو ہورڈنگز گرنے سے۔ بجلی کے تار توٹنے سے سینکڑوں افراد یا لقمہ اجل بن جاتے ہیں یا معذور ہوجاتے ہیں۔ ایک دن زور سے بارش ہو تو غریب کی کٹیا تو غریب کی ٹہری اچھے خاصے پوش علاقوں میں خریدے گئے کروڑ کروڑ ڈھیڑ کروڑ کے گھر پانی میں غرقاب ہوجاتے ہیں ۔ بجی ہفتہ غائب ہوجاتی ہے۔ آدھے کراچی میں پانی کھڑا ہوجاتا ہے ۔ تین تین دنوں تک عام عوام کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

    واللہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو اس ظلم کے خلاف ڈٹ جانا چاہئیے تھا ۔ وہ اسقدر خوٖزدہ ہیں کہ کھل کر اپنی رائے دیتے بھی ڈرتے ہیں۔

    مہاجر ، اہل زبان یا اردو اسپیکنگ ۔ یا جو بھی کہہ لیں ۔ ہمارے دلوں میں ان کے لئیے بے پناہ احترام ہے۔ وہ آزادی سے اپنا سیاسی پلیٹ فارم بنائیں ۔ باقی قومیتوں کی طرح یہ انکا بنیادی حق ہے ۔ کہاں تو وہ پورے ملک کو لیڈ کرتے تھے اور کہاں اس خود غرض قیادت نے انہیں دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ ایک موضوع ختم نہیں ہوتا قیادت ایک نیا جھگڑا پال لیتی ہے۔ اس سارے ٹنٹنے میں کراچی میں مہاجروں کا نقصان بھی اتنا ہی جتنا کسی دوسری قومیت کا ہو سکتا ہے۔

    آجکل ہر طرف کراچی میں ناحق ہوئے آپریشن آپریشن کا شور ہے۔ ماضی میں کراچی میں ہوئے ہوئے تما آپریشنوں اور بارہ مئی جیسے قتل و غارت نیز مظلوم لوگوں کو جنہیں ”قائد کا جو غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے“ پالیسی کے تحت صحفہ ہستی سے ہی مٹا دیا گیا ۔اور بوری میں بند لاشوں کے بھائی کے ٹریڈ مارک سمیت قتل و غارت کے تمام واقعات کا آزادانہ طور پہ عدلیہ سے تحقیقات ہونا ضروری ہیں۔ تا کہ اصل حقائق سامنے آسکیں ۔ جب حقائق سامنے آئیں خواہ اس میں ایجنسیوں کے ذمہ داران ملوث تھے یا ” بھائی ” کے چمچے ملوث تھے ۔ جو بھی زمہ دار تھے انہیں قانونی کاروائی پوری کر کے پھانسی پہ لٹکا دیا جان چاہئیے ۔ تا کہ عام مخلوق خدا سکون اور سکھ کا سانس لے۔

  12. راشد کامران

    جاوید صاحب۔ بدقسمتی سے آپ پھر وہی بات کررہے ہیں جس کی تکرار یہاں مقصود نہیں۔ پاکستان میں‌ عدلیہ آزاد ہے آپ تمام الزامات ثابت کریں اور سزا دلادیں۔ آپ اس بات کو موضوع بحث نہیں بنا رہے کہ ایم کیو ایم کے علاوہ اور کس جماعت سے عوامی قیادت ابھرنے کے امکانات ہیں؟ میں نے عرض کی کہ میں‌ ایم کیو ایم کی قیادت کی موجودہ سیاست کا بھر پور مخالف ہوں لیکن پاکستان میں اس واقت واحد عوامی جماعت اگر کسی کو کہلانے کا حق ہے تو وہ ایم کیو یم ہی ہے یا پھر کسی حد تک جماعت اسلامی ورنہ آپ کوئی مثال لادیں۔

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ياسر عمران مرزا صاحب
    یہ عبداللہ صاحب جو کچھ لکھتے رہتے ہیں اگر میں حذف نہ کروں تو شاید آپ پریشان ہو جائیں ۔ یہ صاحب نہ صرف پنجاب ۔ پنجابیوں اور پاکستان کی فوج کے خلاف انتہاء پسند ہندوؤں سے زیادہ خطرناک لکھتے ہیں بلکہ عام طور پر مجھ پر ذاتی ناپاک حملے بھی کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ پاکستان کی سالمیت کے خلاف لکھتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ۔ اب بھی تین تبصرے تھے ۔ ان میں سے ایک کا جواب دینا مناسب خیال کیا ۔ دو گھٹیا اور ذاتی قسم کے تھے

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    آپ کی بات کافی حد تک درست ہے ۔ اسی حوالے سے کہ کراچی مین ایم کیو ایم کی چلتی ہے تو اسے چاہیئے کہ دوسروں کے پہیئے مین ہاتھ یا ناک نہ ڈالے ۔ دوسری بات کہ جو کچھ پروپیگنڈہ پچھلے ماہ سے شروع ہوا ہے اس میں سچ بہت کم ہے اور سب سے بڑی بات کہ اسے 17 سال بعد اُچھالنے کا خیال کیوں آیا ؟
    اگر اظہرالحق صاحب کی تحریر اردو سیارہ پر آ جاتی تو میں اسے اپنے بلاگ پر نقل نہ کرتا ۔ میں نے اس میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا

  15. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    آپ ساری خرابیاں دوسروں پر ڈالتے ہوئے بھول گئیں کہ آپ بات کس سے کر رہی ہیں اور کہہ کیا رہی ہیں ۔ اتنا غصہ سر پر چڑھا کہ آپ کو احساس نہ رہا کہ یہ تحریر میری نہیں بلکہ آپ کی طرح ایک مہاجر کے بیٹے کی ہے جو کراچی میں پيدا ہوا اور وہیں جوان ہوا ۔ مناسب تھا کہ آپ یہ سب کچھ مصنف کے بلاگ پر لکھتیں جس کا ربط میں نے دیا ہوا تھا

    پروپیگنڈہ آپ لوگ نواز شریف کے خلاف کر رہے اور واقعات سارے آپ پیپلز پارٹی کے لکھ رہی ہیں ۔

    اور سب سے بڑھ کر بیت اللہ محسود کا طعنہ ۔ آپ نے خود سے ایک کہانی گھڑ لی ہے کہ بیت اللہ محسود کو میں اچھا سمجھتا ہوں یا لوگ اچھا سمجھتے ہیں ۔ اللہ نے اگر عقل دی ہے تو اسے استعمال بھی کر لیا کریں ۔ میری پچھلی تحاریر آپ نے پڑھی ہوتیں تو آپ کو یہ زحمت نہ کرنا پڑتی مگر ایسا آپ کیوں کریں ۔ آپ کا تو نعرہ ہے “قائد [الطاف حسین} صرف ایک اور قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے”۔ یاد رکھیں یہ اندھی تقلید آپ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی

    آپ یہ تو بتایئے کہ 1986ء میں آپ کی عمر کیا تھی کہ اس وقت کے واقعات آپ نہائت وثوق سے لکھ رہی ہیں ؟

    آپ کراچی میں پیدا ہوئیں مگر میں 1947ء میں بھارت سے [مشرقی پنجاب سے نہیں] نیکر قمیض اور چپلی کے ساتھ اپنا سب کچھ اور اپنے کچھ پیاروں کی لاشیں چھوڑ کر پاکستان پہنچا تھا ۔ کیا اس لئے کہ پاکستان کے سب سے بڑے اور بین الاقوامی شہر میں پیدا ہونے والے پاکستان کے مالک بن بيٹھیں اور مجھے دھتکار دیں ؟ کیا کیا ہے آپ نے پاکستان کیلئے جو اس کی مالک بن بیٹھے ہیں ؟

    میں نہ پنجابی ہوں ۔ نہ پنجاب کی کسی حکومت سے میرا کوئی تعلق رہا ہے اور نہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت سے میرا تعلق رہا ہے ۔ ہمارے خاندان نے جب بھی ووٹ ڈالا ہے اُمیدوار کا ماضی دیکھ کر ڈالا ہے یہ نہیں کہ یہ الطاف حسین کا چیلا ہے یا فلاں کا چیلا ہے اسلئے اسے ووٹ دینا ہے

    اگر کسی جگہ رہنے سے آدمی وہاں کا ہو جاتا ہے جیسا کہ آپ اپنے آپ کو کراچی کا مالک سمجھتی ہیں تو آپ لوگ کراچی حیدرآباد اور سکھر وغیرہ میں ان لوگوں کو وہاں کا ہونے کا حق کیوں نہیں دیتے جو آپ کی پیدائش سے پہلے کے وہاں رہ رہے ہیں اور اُنہیں پنجابی یا پٹھان یا بلوچ کہہ کر دھتکارتے ہیں ۔ کیا یہی انصاف ہے جو آپ دوسرے سے اپنے لئے مانگتے ہیں ؟

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی آپ کو عقلِ سلیم استعمال کرنے کا حوصلہ دے

  16. عنیقہ ناز

    راشد کامران صاھب آپکا شکریہ کہ آپ نے اس بحث کو صحیح رخ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ۔جاوید صاھب آپ بہت معصوم ہیں اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے منظر سے ہٹنے کے بعد یہ ہوگا۔
    آپ اسپین میں ہیں اور میں کراچی میں۔ میں روزانہ مختلف لوگوں سے ملتی ہوں۔ گھر میں بند نہیں رہتی۔ تو یہ باتیں میں کسی ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر نہیں کہتی نہ ہی کسی سیاسی جانبداری کے نتیجے میں۔ آپ اس چیز کی حقیقت کو ماننے میں معترض ہیں۔ لیکن خود سوچیں کہ اگر وہ ہٹ جائیں تو کیا لوگ پی پی، مسلم لیگ یا جماعت کو ووٹ دیں گے۔ ایسا ہونے کے امکانات نہیں۔ آپ نے حقیقی کی بات کی تو کبھی یہاں آکر دیکھئیے گا اس جماعت کا وجود کراچی کے ایک بہت مختصر ترین علاقے میں جناب نواز شریف کے اس جماعت کو سپورٹ کی وجہ سے قائم ہے۔ ان صاحب نے پاکستان کے ہر انسٹی ٹیوٹ کے اندر تقسیم کی بنیادیں ڈالنے کی کوشش کی چاہے وہ فوج ہو، عدلیہ ہو یا دیگر سیاسی جماعتیں۔ اسی طرح انہوں نے اس جماعت کی تخلیق کی۔ لیکن افسوس اس جماعت کے اندر مجرمانہ سوچ رکھنے والے عناصر کے علاوہ کسی ایک پڑھے لکھے شخص نے بھی شمولیت اختیار نہ کی۔ اور اب وہ وہی کرتے ہیں جو کہ بمبئ کی انڈر ورلڈ کرتی ہے۔
    میرا پاکستان، میں نے بوگس ووٹنگ کو نوجوانوں کی ایسی حرکات سے تشبیہہ دی ہے جو وہ بس یونیہی دل بہلانے کو کرتے ہیں جیسے کترینہ کیف کے لئے دس لوگوں کا بیٹھ کر آہیں بھرنا۔ کیا اس سے کترینہ کیف کو یا انکو کوئ فرق پڑتا ہے۔ نہیں سوائے اسکے کہ کترینہ اپنے مداحوں کے جنون پر ایک ہلکا سا تبسم دیتی ہیں اور یہ مداح اس طرح اپنا وقت گذارتے ہیں۔ اس کے نتاءئج سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ میرے ارد گرد کے ماحول میں میلوں دور تک کوئ انہیں دہشت کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں جاتا۔ سب اس چیز کو بہت انجوائے کرتے ہیں کہ ہمارا امیدوار سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ توڑے گا۔ پاکستان میں جہاں نوجوانوں کو کوئ اور سرگرمی حاصل نہیں یہی انکو مصروف رکھتی ہے۔ تو آپ اپنے اس خول سے باہر آکر دیکھیں جو مسلسل اپنے آپ سے بول کر آپ نے اپنے گرد قائم کر لیا ہے۔ اس طرح سے آپ سب لوگ ایک پیداواری سوچ کا حصہ بن سکیں گے۔
    اجمل صاحب، اگرچہ کہ میں اظہر صاحب کے اس یک طرفہ مضمون پر وقت نہیں لگانا چاہتی تھی۔ مگر محض آپکے اسے اپنے بلاگ پر ڈالنے کے سبب اس پر ایک نظر ڈالنی پڑی۔ یہ پہلے ڈفر نے بھی جعفر کے بلاگ پر ڈالا تھا۔ لیکن ایسی چیزیں جن میں پہلے سے پتہ ہو کہ کس نکتہء نظر سے اور کتنی جانبدار ہو کر لکھی گئ ہیں۔ کوئ ایسا لطف مجھے نہیں آتا۔ میں یہ بات پہلے بھی بارہا کہہ ہو چکی ہوں کہ میں کراچی کے اس عہد کی پیداوار ہوں۔ مسسل اس شہر میں رہی ہوں اور یہاں سے آگے میرے لئے یا تو سمندر ہے یا کسی اور ملک کی شہریت جو اہلیت رکھنے کے باوجود میں نے ابھی تک حاصل نہیں کی۔ اس لئے اس قسم کی باتوں پر کسی کو بھی وقت لگانے کا شوق ہو تو وہ حقائق کو سامنے رکھ کر بات کرے۔ محض نفرت کے اظہار کے لئے نہیں۔

  17. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    بلاشُبہ آپ کراچی میں رہتی ہیں اور گھومتی پھرتی بھی ہیں لیکن اندر کھاتے ایسی باتیں ہوتی ہیں جو اتفاق سے پتہ چل جائیں تو الگ بات ہے ورنہ پتہ نہیں چلتیں ۔
    ایم کیو ایم کہلانے والے تمام لوگوں کا جائزہ لیا جائے تو اکثریت عام لوگ ہیں ۔ يہی حال پورے پاکستان کے لوگوں کا ہے ۔ ہر جگہ کچھ لوگ ہیں جو بظاہر کچھ اور اندر سے کچھ اور ہیں ۔ یہی لوگ باقی لوگوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ ان کو اگر کسی وجہ سے جماعت کے رہنماؤں کی حمائت حاصل ہو یا رہنما ان کے خلاف کاروائی نہ کریں تو پوری جماعت بدنام ہو جاتی ہے ۔
    دوسری بات ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ “اگر یہ حلوہ میرا ہے تو اِتنا کم اور اگر بھائی کا ہے تو اتنا زیادہ”۔
    تیسری بات یہ ہے کہ اپنی ہر خامی کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہرانے کی بجائے اپنی خامیاں دور کرنا چاہئیں ۔

  18. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    لیکن خود سوچیں کہ اگر وہ ہٹ جائیں تو کیا لوگ پی پی، مسلم لیگ یا جماعت کو ووٹ دیں گے۔۔ عنیقہ ناز

    بی بی!

    آپ سے بحث نہیں۔ آپ کو ہمیشہ یہ گلہ رہتا ہے کہ آپ کی کھی بات کو غور سے نہیں پڑھا جاتا۔ جبکہ طرف تماشہ یہ ہے کہ آپ بہت سی باتیں پڑھے بغیر یا جان بوجھ کر کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔آپ کے مندرجہ بالا الفاظ کا میری رائے میں کہیں بھی ذکر نہیں۔ یہ بات آپ نے خود سے گھڑ لی ہے یا تصور کر لی ہے اور اب اس پہ آپ نے اپنی سوچ میں ¨حسین دلائل¨ کی عمارت کھڑی کرتے ہوئے اپنی توانائی ناحق استعمال کی ہے۔ جبکہ میرا مندرجہ بالا تبصرہ پھر غور سے پڑھئیے گا آپ کو وہاں پہ ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت کے منظر سے ہٹ جانے( جن کا منظر سے ہٹنا فی الحال تو ناممکن نظر آتا ہے) کے بعد کے بارے میں میرے یہ الفاظ لکھے ملیں گے ۔۔۔ایم کیو ایم سے کوئی نئی اور ستھری جماعت شئے برآمد نہیں ہوگی۔ جسے تمام مہاجر آزادی سے اپنا نمائیندہ سمجھیں گے-۔۔۔ اب آپ نے کیسے تصور کر لیا کہ مہاجر پی پی پی مسلم لیگ یا جماعت کو ووٹ دیں گے۔؟۔ وہ مہاجروں کی مہاجر شناخت کے ساتھ کوئی بھی کسی بھی نام سے کوئی آزاد جمائت ہوسکتی ہے۔ جس سب ہی خوش آمدید کہیں گے ۔ جس میں آزاد انسان سیاست کر سکیں گے۔

    آپ سے ایک سوال ہے کہ پیرِ لنڈن کے منظر پہ چھانے سے پہلے کراچی کے مہاجر کسے ووٹ دیتے تھے۔؟

    میں پہلے بھیی عرض کر چکا ہوں کراچی افریقہ کے کسی دوردارز جنگل میں واقع کسی دشوار گزار گھاٹے کا نام نہیں کہ اسکا پتہ صرف آپ ہی کو ہو۔

    بی بی!

    آپ کو چاھئیے تھا مہاجر اور علمی تحقیق کے ناطے آپ کچھ ہماری معلمات میں اضافہ کرتیں ، جو اعتراضات میں نے بھائی کے حوالے سے اٹھائے ہیں اگر وہ جھوٹے ہیں تو ان پہ بحث کرتیں مگر پتہ یہ چلا ہے کہ آپ کے پاس بھی بغیر کسی دلیل کے بھائی اور ان کے چیلوں کے کی مدح سرائی کے سوا کوئی دلیل نہیں ۔ یہ تو ہم بھی سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کی بھی مجبوری ہو سکتی ہے ، کہ آخر کو آپ نے بھی کراچی میں رہنا ہے ، کہ ¨ ”قائد کا جو غدار ہے، وہ موت کا حقدار ہے¨ کا نعرہ لگا کر بدترین قسم کی بر بریت کا مظاہرہ کرنے والے بھائی کے بالک بھی کراچی میں ابھی فُلی آپریشنل ہیں۔

  19. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    راشد کامران صاحب!

    آپ پہلے بھی کہیں ایم کیو ایم سے مڈل کلاس لوگوں کی قیادت ابھرنے کی بات کہیں لکھی ہے جو میں نے بھی پڑھی اب پھر وہی موضوع ہے اب آپ نے ساتھ جمائت اسلامی کا تذکرہ بھی کر دیا ہے اور آپ ہمیشہ تقابلی جائزہ پہ زور دیتے ہیں ۔ آئیں دونوں جماعتوں کا مختصرا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔
    عرض ہے کہ جماعت اسلامی کا اپنا ایک مخصوص طریقہ کار ہے ۔ وہ شاید پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے اندر ہر لیول پہ ہمیشہ انتخابات ہوتے ہیں اور چناؤ سے ان کے نمائیندے مقرر ہوتے ہیں اور اسمیں غریب امیر کی تخصیص نہیں مگر یہ عنصر ایم کیو ایم میں مفقود ہے ۔ جبکہ جماعت اسلامی نہ صرف پاکستان کے سبھی علاقوں میں اپنا وجود رکھتی ہے بلکہ وہ تاریخی طور پہ بھی پاکستان میں سب سے پرانی جماعت ہے جسکا وجود بھارت اور بنگہ دیش میں بھی ہے۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کے سو اسٹیک ہولڈرز کبھی نہیں چاھئیں گے کہ جمائت اسلامی پاکستان میں ایک پریشر گروپ کے کردار سے آگے بڑھ کر عوام کی حمایت سے ایک عوامی جماعت میں تبدیل ہو اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے لئیے خطرہ بنے ۔ اور نہ عالمی فنکار یہ ہونے دیں گے یہ الگ بحث ہے کہ اگر مشیت ایزدی کو کچھ اور منظور ہو تو جماعت اسلامی عوام کی تائید سے کامیاب ہوسکتی ہے۔ جبکہ یہ تمام خصوصیات ایم کیو ایم میں مفقود ہیں ۔ ایم کیو ایم محض لسانی بنیادوں پہ زور دھونس اور دھاندلی سے کراچی اور کسی حد تک حیدرآباد سے تو جب تک مقتدرہ طاقتوں کو منظور ہے ۔ اسمبلیوں میں پہنچتی رہے گی۔ مگر اس میں سے اوسط کلاس لوگوں کی قیدت ابھرے گی اور پورے پاکستان کے لوگ ان کے پیچھے چل پڑیں گے ۔ ایں خواب گراں است۔ سیاسی لحاظ سے یہ ناممکنات میں سے ہے۔ اسلئیے ایم کیو ایم کو جبکہ اس نے اپنے ارکان کو ہی یرغمال بنا رکھا ہے کے موجودہ پس منظر جب تک بھائی اپنے موجودہ ساتھیوں سمیت ایم کیو ایم کو اسی طرز پہ چلائیے جائیں گے۔ ہر دوسرے دن ایک متنازع بیان دے دین گے۔ کبھی پنجابیوں کو لعن طعن کبھی سندھیوں کو ملعون کبھی پٹھانوں کو مطعون ۔ کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیان داغنے۔

    کیا یہ پورے پاکستان میں ایم کیو ایم کو پاپولر کرنے کا سنہری نسخہ ہے -؟

    یقین مانیں جتنا کوئی قیادت پاپولر ہونے کی کوشش کرتی ہے ۔ بھائی صاحب اتنا ہی زور اپنے بارے میں نفرت اور شکوک پھیلانے پہ لگاتے ہیں۔ اسلئیے ایم کیو ایم سے پاکستان بھر میں پاکستان بھر کے لئیے مڈل کلاس قیادت تو کجاء پاکستان کے عام شہری تو پیر لنڈن کے محض ان ٹوپی ڈراموں کی وجہ سے ایم کیو یم کو جانتے ہیں۔ پھر کونسی قیادت کا ذکر آپ کرتے رہتے ہیں،؟

  20. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    آپ کراچی میں پیدا ہوئیں مگر میں 1947ء میں بھارت سے [مشرقی پنجاب سے نہیں] نیکر قمیض اور چپلی کے ساتھ اپنا سب کچھ اور اپنے کچھ پیاروں کی لاشیں چھوڑ کر پاکستان پہنچا تھا ۔۔

    ًمحترم اجل صاحب!

    آپکے الفاظ نے مجھے چونکا دیا ہے کیا آپ کی نظر میں یا جنہیں آپ نے مخاطب کر کے لکھا ہے ، انکی نظروں میں مشرقی پنجاب کے مہاجر جن کے محلوں کے محلے اور پورے پورے گاؤں ایک منظم پروگرام کے تحت سکھوں کے اکالی دل جتھوں نے جلا ڈالے جن لیاقت علی خان کے دور میں انڈو پاک کا ایک مشترکہ کمیشن بنا تھا جسمیں مغوی عورتوں پا پتہ چلا کر ان کے اپنے ملکوں میں واپس لانا تھا ، جس میں ایک محتاظ رپورٹ کے مطابق پچاس سے پچپن ہزار مسلمان خواتین نے مشرقی پنجاب سے پاکستان آنے سے محض اسلئیے انکار کر دیا تھا کہ سکھوں نے انکے بطن سے بچے پیدا کردئیے تھے اور اب وہ کس منہ سے پاکستان اپنوں کے پاس آتیں ۔ سکھوں نے منظم حلے کئیے ۔ بچوں کو نیزوں پہ اچھالا ۔ حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کردئیے ۔ بستیوں کے کوئیں مسلمان خواتین کی خود کشیوں سے بھر کئے ۔ جو بچ گئےجنہوں نے پیدل پاکستان کا سفر کیا اور ہر کچھ کلومیٹر کے بعد سکھوں کے جتھوں نے ان سے خون کی ہولی کھیلی طلم و تسدد کی وہ داستانیں ہیں کہ پڑھتے اور سنتے ہوئے روح کانپ جاتی ہے۔

    آپ نے چونکہ مشرقی پنجاب کا حوالہ دیا ہے میرا سوال صرف اتنا سا ہے کیا مشرقی پنجاب کا مہاجر ہونا دوسرے مہاجروں سے کم تر ہے ، یا انکی قربانیاں محض اس لئیے قربانیاں نہیں ۔ پاکستان کے لئیے مہاجر کہلانے اور اور اسکا کریڈٹ پانے کے لئیے اردو اسپیکنگ ہونا ضروری ہے ۔؟

  21. اظہرالحق

    دوستو ، چونکہ اس بحث کا محرک میری تحریر ہے اسلئے میں اسکا جواب دینے کا پابند ہوں

    سب سے پہلے انکل اجمل کا شکریہ کہ انہوں نے میری تحریر کو اپنے بلاگ میں جگہ دی ، اور مجھ پر اتنے اعتماد کا اظہار کیا ۔ ۔ میں نے جو کچھ لکھا وہ میری آنکھوں دیکھا ہے ، سو مجھے اسکے لئے کسی سے بھی ثبوت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر آپ دوستوں کے تبصروں نے مجھے پھر ایک تفصیلی تحریر لکھنے پر مجور کیا ہے ، وہ میں اپنے بلاگ پر لکھوں گا مگر پہلے فرداَ فرداَ جواب دینا چاہوں گا ۔ ۔ ۔

    عبداللہ – اے اللہ کے بندے میں نے جو جھوٹ لکھا ہے اسے اپنے سچ سے کاٹ دالیے ، آپکو اجمل انکل نے اچھا جواب دیا ہے سو میرا کچھ کہنا ضروری نہیں

    جاوید گوندل بھائی – آپ کی تحریر کو میں ہمیشہ اہمیت دیتا ہوں ، آپ ہمیشہ دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں اور آپ کے مطالعے کا معترف ہوں ، اللہ آپ کو خوش رکھے ، یہ ہمارے دیس کے لوگوں کی بدنصیبی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دیار غیر میں رہنے والے وطن کو نہیں جانتے ، میں سمجھتا ہوں ہم وہاں کے رہنے والوں سے زیادہ جانتے ہیں ، کیونکہ ہماری نظر وائیڈ ہوتی ہے جبکہ وہاں رہنے والے زیادہ تر اپنے ہی ماحول کو بیان کر پاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور ہمارے حکمران نظر بندی کے تو ماہر ٹہرے ۔ ۔۔ ۔

    عنیقہ ناز – علی گڑھ کالونی کی وڈیو میں خود دیکھی ہے آپ میری کسی پرانی تحریر میں اسکی تفصیل دیکھ سکتیں ہیں ، مگر ایک بات یاد رکھیں کہ اختلاف رائے اچھی چیز ہے مگر کسی پر الزام دینے سے پہلے اسے جان لینا ضروری ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مہربانی فرما کر میرے بلاگ کی تحریروں کو فرصت کے اوقات میں پڑھیں ، آپکی آراء کا منتظر رہوں گا

    یاسر مراز – جی ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو حرف آخر سمجھتے ہیں ، مگر کیا کیا جائے ، ہمارے معاشرے میں میلان یا رجحان کسی منطق یا نظریہ کے مطابق نہیں ہوتا ، ہم جب کسی کو قبلہ و کعبہ بنا لیتے ہیں تو پھر ۔ ۔ ۔ کسی اور طرف نہیں دیکھنا چاہتے اور اختلاف رائے کو ہم دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ جو ہماری قوم کی بدقسمتی ہے ۔

    راشد کامران – آپکے اختلاف رائے کا شکریہ ، میں نے مہاجر اسٹوڈنٹ تنظیم کے ابھرنے کو خاص نہ کہنے کی وجہ بھی بتائی تھی ، اور دوسری بات جماعت اسلامی کے کراچی “فتح“ کرنے کے میں لفظ فتح کو کوٹڈ کرنا اصل میں ایک طنز تھا جماعت اسلامی کے بیان پر کہ انہوں نے کراچی فتح کیا تھا جبکہ مخالف موجود ہی نہیں تھا ۔ ۔۔ اور پاکستان کی دوسری جماعتیں کسی بھی طرح ان باتوں سے پاک نہیں ہیں ، اسی لئے میں لکھا تھا کہ کراچی میں اسلحہ پہلے جماعت اسلامی نے ہی لایا تھا ، ایم کیو ایم کو دوسری جماعتوں سے مختلف اسلئے کہا کہ اسکی بنیاد اقتدار کی سیاست نہیں تھی بلکہ لسانی سیاست تھی ، سندو دیش تحریک کی طرح ، میں آپکی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم مڈل کلاس کی نمائیدہ ہے مگر ۔ ۔ ۔ مڈل کلاس کے مسائل کے حل کے لئے اسکے پاس وہ کام ہے جو دوسری سیاسی جماعتوں کے پاس ، کراچی کے شہر کو ایم کیو ایم جنت بنا سکتی ہے آج بھی ، اگر اکڑ چھوڑ کر سب کو ساتھ لے کر چلے ۔ ۔ ۔ رہی بات ایجنسیوں کی تو بھائی اس پر میرے بلاگ پر ایک الگ مضمون موجود ہے اسے ضرور دیکھیے گا

    باقی ان تبصروں کے مزید جواب میرے بلاگ کی نئی تحریر میں موجود ہیں ، آپکی آراء کا منتظر رہوں گا ۔۔۔۔۔

  22. نعمان

    جاوید گوندل فرام اسپین۔ آپ ماشاءاللہ کراچی کے بارے میں ہم سب سے زیادہ جانتے ہیں، افتخار بھی جو لاہور میں رہتے ہیں، اور اظہر بھی جو فی الحال کسی خلیجی ملک میں ہیں۔

    عنیقہ، راشد اور میں ہم سب کراچی کی پیداوار ہیں اور آپ جس ایم کیو ایم کا ذکر کرتے ہیں ہم اس سے ناواقف ہیں۔ ہمیں کراچی کی مقامی سیاست کا کچھ علم نہیں۔ اور جیسے راشد نے کہا اللہ آپ کے علم میں اضافے کرے اور آپ کی عمر دراز کرے۔ آمین

  23. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    محترم اظہر الحق صاحب! کی طرف سے عزت افزائی پہ ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    محترم راشد کامران صاحب! و محترم نعمان صاحب۔

    صاحبان!
    ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں۔ کہ میں نہ تو بطورِ خاص کسی سیاسی پارٹی سے دلچسپی رکھتا ہوں اور نہ ہی مستقبل میں کچھ ایسا ارادہ ہے۔ یوں بھی نہیں کہ مجھے ایم کیو ایم کے علاوہ دوسری سیاسی پارٹیز مثلا مسلم لیگ ق اور نون دونوں اور پی پی پی یا پاکستان کے طول و عرض میں پہلی درجنوں سیاسی پارٹیز میں سے کسی ایک سے دلچسپی ہو یا اچھی لگتی ہو۔ یہ بات بھی نہیں۔ یا پھر ایم کیو ایم سے کوئی خاص ضد ہو ایسی بھی کوئی بات نہیں۔

    میں ایک عام پاکستانی کی طرح سوچتا ہوں جسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی مہاجر ، پٹھان ، سندھی، پنجابی ، بلوچ ، سرائکی ، مکرانی ، ہندکو یا کشمیری ہے۔ یا کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہے ۔ مسلمان ہے یا غیر مسلم پاکستانی ہے۔ میری نظر میں، پاکستانی ہونے کے ناطے سبھی قومیتیں قابل احترام ہیں۔ مسئلہ ہی ہے کہ جب بھی پاکستان کا کوئی گروہ ، کوئی جماعت یا کوئی دینی مسلک اپنے مسلک یا زبان اور علاقے کو بنیاد بنا کر سیاست کرے گا تو اس سے مجھے اور میرے جیسے بہت سے پاکستانیوں کو اعتراض ہوگا۔

    وجہ اسکی یہ ہے اور میری ذاتی رائے میں پاکستان کا مخصوص پس منظر ، موجودہ حالات ۔ اور پاکستانی عوام کی معاملات کو سمجھنے کے لئیے تعلیمی و شعوری سطح اس بات کی متقاضی ہے کہ ایسے معاملات کو سرے سے ہی نہ چھیڑا جائے جن سے دلوں میں نفرتیں اور کدورتیں پیدا ہوں ۔ اور قوم تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جائے۔ پہلے ہی یہ ستم کیا کم ہے کہ لوگ برادریوں اور گروپوں میں تقسیم ہیں کہ پشتو ، پنجابی ، بلوچی ، سندھی یا اردو کو بنیاد بنا کر مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے ایک نئی تقسیم کا آغاز کر دیں ۔ اس سے کل کو کوئی اور طالع آزماء صرف اپنے کسی صوبے یا علاقے بلکہ اپنے شہر کو بنیاد بناتے ہوئے سیاست شروع کر دے اور اسمیں تشدد کا عنصر شامل کر دے تو میرے خیال میں ہمیں بیرونی دشمنوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی

    اتنی سی تو بات تو سبھی سمجھتے ہیں کہ سیاست ہونی چاہئیے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کراچی میں اہل اردو بہت بڑی اکثریت ہے۔ اور مہاجر یا مہاجروں کی اولاد ہونے کو ایک شناخت مانتے ہوئے ایک یا ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں کراچی کی ترقی کو تیز کر سکتی ہیں۔ مگر اس کے لئیے ضروری ہے کہ سیاست پُر امن ہو اور جو لوگ اختلاف رائے کریں ۔ جس کا انھیں حق حاصل ہے ۔ تو ان کی رائے کا بھی احترام کیا جائے۔ نہ کہ دھونس اور جبر سے انھیں مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی آواز بند کر لیں ورنہ۔۔۔

    آپ دونوں صاحبان ماشاءاللہ سمجھدار ہیں۔ ذرا تصور کی جئیے کہ کال کلاں کو کوئی لاہوری اٹھ کر لاہوری نام کی جماعت بنالے اسی طرح پاکستان کے دیگر شہر ہیں وہاں بھی ایسے ہو اور اسمیں تشدد کا عنصر اسقدر ہو کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو صحفہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔ تو ایسے میں آپ کے ملک کا جو انجام ہوگا وہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ ہم سب اسقدر بے حس ہوجائیں کہ جو کسی دوسر پہ گزرے وہ اسکی سردردی گنی جائے کراچی والے جانے اور انک معاملات اور لاہور پشاور اور کالا شاہ کاکو والے جانیں اور ان کے معاملات ۔ ہمیں کسی سے کیا لینا دینا۔ تقسیم تو ایک ایسا عمل ہے کہ جو شروع ہوجائے تو اسکا ہر جواب پہلی قدر سے کم ہوتا ہے۔

    ایم کیو ایم بے شک سیاست کرے اور ڈنکے کی چوٹ پہ کرے ۔ کم از کم مجھے اس پہ کوئی اعتراض نہیں ۔ اگر اختلاف ہے تو اس بات سے کہ وہ اپنے ساتھ سب اہل کراچی کو لے کر چلے جس میں غیر مہاجروں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد کراچی کے مستقل باشندوں کی حیثیت سے کراچی کی باسی ہے۔ جس سے کراچی کو چار چاند لگ سکتے ہیں اور واقعی کراچی ایک عالمی معیار کا شہر بن سکتا ہے جس کے سامنے دوبئی کی ترقی ماند پڑسکتی ہے ۔ اور یہ اہلیت اہل کراچی میں ہے ۔ نیز ایم کیو ایم اپنی قیادت سے اختلاف رائے رکھنے والوں کی رائے کا احترام کرے اور بزور بازو انھیں دبانے کی پالیسی ترک کر دے۔

    میری ذاتی رائے میں ایسا کرنے سے خود مہاجروں یا اہل اردو کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور انھیں پورے ملک میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور عین ممکن ہے جس مڈل کلاس قیادت کا خواب دیکھا گیا ہے وہ پورا ہو۔ اور عام پاکستانی بھی خواہ وہ کہیں کا ہو متوسط طبقے سے جنم لینے والی ایم کیو ایم یا اس سے ملتی جلتی کسی جماعت سے اپنے ملک کے لئیے نیک امیدیں رکھ سکے اور پاکستان میں غریب اور متوسط پسے ہوئے طبقے کو ایک دن حقیقی معنوں میں پاکستان میں اسکا مقام اور اقتدار مل سکے۔

    ایک بات کی وضاحت کردوں کہ کل کو اگر پنجاب کی کوئی سیاسی جماعت بھی اپنے علاقے یا صرف اپنی زبان کی سیاست کی بات بزرو بازو اور بندوق کی نالی سے کرے گی تو انشاءاللہ میں اسکی بھی اسی طرح مخالفت کرؤنگا۔

    امید ہے اس سے آپ صاحبان کی مجھ ناچیز کے بارے میں غلط فہمی میں کچھ کمی ہوئی ہوگی۔

    آخر میں ۔ دونوں محترمین کا مشکور ہوں کہ انہوں نے دعاؤں سے نوازا ۔ اور اگر یہ طنز ہے تو بھی میں دونوں کا مشکور ہوں۔

  24. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاوید گوندل صاحب
    حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا ۔ میں نے بات اس پیرائے میں کی تھی کہ مجھ پر ہر بار الزام لگتا ہے کہ میں پنجابی ہوں اسلئے پنجاب کی حمائت کرتا ہوں حالانکہ میں پنجاب کی حمائت نہیں کر رہا ہوتا بلکہ حقائق بیان کر رہا ہوتا ہوں ۔ جموں کے شہداء کو بھول جائیں تو سب سے زیادہ ظُلم امرتسر میں ہوا تھا ۔ صرف معلومات کیلئے عرض ہے کہ میرے کئی رشتہ دار امرتسر سے لٹے پُٹے آئے اور کچھ فروزپور سے ۔ مہاجر دراصل یہی لوگ تھے جو 1947ء میں گھروں سے نکالے گئے تھے ۔ مگر مہاجر وہ بن بیٹھے جو 1951ء کے بعد اپنی مرضی سے اور اطمینان کے ساتھ پاکستان آئے

  25. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    محترم افتخار اجمل صاحب!

    آپکی تحاریر کا قاری ہونے کے ناطے اور آپ کے مزاج کو سمجھتے ہوئے ، میرا فہم یہ کہتا تھا کہ آپ مشرقی پنجاب کے مہاجروں کا ذکر سے محض اسلئیے در گزر کر رہے ہیں کہ اردو بول چال والے دوستوں کو آپ پہ پنجابی یا پنجاب نواز سمجھتے ہوئے یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ¨چلیں جی آپ تو ہے ہی پنجابی ہیں آپ سے اب کیا مکالمہ¨ اور بات ختم۔اسلئیے آپ کے اس بارے میں وہ الفاظ جن پہ میں نے محض اس لئیے آپ سے وضاحت مانگی تھی۔ تانکہ اگر مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والوں یا انکی آل سے کسی نے آجکل آپکا بلاگ پڑھنا شروع کیا ہو تو اسے اس تفریق سے دکھ محسوس نہ ہو۔ یا عام قاری یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ آپ صرف اردو اسپیکنگ مہاجروں کو ہی مہاجر سمجھتے ہیں اور مشرقی پنجاب والوں کو مہاجر نہیں سمجھتے۔ مجھے امید تھی کہ آپ کی وضاحت سے کسی کے ذہن میں اس بارے کوئی غلط فہمی جنم نہیں لے گی۔
    اسلئیے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ وضاحت فرما دیں۔

    بہرحال آپ کی وضاحت سے اس بارے میں آپکا نقظہ نظر سب پہ واضح ہوگیا ہے۔

  26. راسخ كشميری

    حکمرانوں‌ کو کوسنا طعنہ دینا تو ایک عام سی بات ہے لیکن ہم کریں ‌بھی کیا کہ انہی کے ستائے ہوئے ہیں۔‌ الطاف حسین کے بارے میں میں‌تو اتنا ہی جانتا ہوں اگر وہ محب وطن شخص ہے تو 19 سال سے‌انگلینڈ‌کی نیشنلٹی لیکر وہاں کیا کر رہا ہے؟ ہم لوگ کچھ عرصہ تک پاکستان نہ جائیں تو ہمارے وجود میں درد شروع ہوجاتا ہے اور اس درد کی دوا صرف اور صرف وطن کی ہوا ہی ہوتی ہے۔۔۔۔‌ الطاف صاحب میں‌اگر ذرہ برابر بھی حب الوطنی ہے تو اپنے کئے دھرے کا مقابلہ بنفس نفیس پاکستان تشریف لاکر کریں۔۔۔ مسلم لیگ ن انہیں سیکیورٹی تحفظ ٹکٹ رہن سہن کا خرچہ دینے کے‌ لئے حامی بھر رہی ہے جیسا کہ صدیق الفاروق کہہ چکے‌ ہیں۔۔۔

  27. عبداللہ

    راسخ صاحب آپنے یہ تبصرہ اجمل کی پوسٹ پر فرمایا ہے کیا آپ واقعی اتنے بھولے ہیں یا بننے کی کوشش فرمارہے ہیں،آپکا کیا خیال ہے کہ ان کی دعوت مکڑی کی دعوت نہیں یہ جو آج بھی اردو بولنے والوں اور متحدہ کے دشمنوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں،یہ بار بار اسے یہاں کیوں بلوانا چاہتے ہین جب کہ ایک بار وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر یہاں سے نکلا ہے اور اس کے نہ آنے سے یہاں کے کوب سے کام رکے پرے ہیں اگر مقدمہ چلانا ہے تو بڑے شوق سے چلائیں اس کے لیئے اس کا یہاں آنا چنداں ضروری نہیں

  28. Beenai

    افتخار اجمل صا حب،
    بندی کر اچی کی پیدا ئش اور مکین ہے۔
    عر ض یہ ہے کہ اس بحث سے ان کا کچھ نہیں ہونے والا جو دماغ کا بلب بجھا کے سو چکے ہیں۔
    لندن سے آنے والے لایعنی خطاب کے علاوہ کچھ اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    ہم تو کہیں گے :
    پاکستان زندہ باد ۔۔۔پاکستان کی سالمیت زندہ باد
    کراچی پاکستان رہے گا ۔۔۔پاکستان کرا چی رہے گا ہمیشہ ۔ آمین
    کراچی کو توڑ نے والوں کا منہ کالا۔۔۔( یا اور زیادہ کالا)
    ان کی خد مت میں عر ض ہے:
    پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
    مردِ ناداں پہ کلام ِ نر م و نازک بے اثر 8)

  29. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بینائی صاحبہ
    آپ نے اتنا کچھ لکھ دیا. لندن پیر کو پتہ چل گیا تو. . . اب پہلی بار جمہوری دور میں ان کا حساب کتاب شروع ہوا ہے تو کچھ دوسرے پنڈاروں کا بھی پول کھلنا شروع ہوا. نتیجہ یہ کہ صوبائی حکومت نے راستے میں پتھر رکھ دیئے ہیں
    میں نے ای میل کے ساتھ ایک طوطے کی وڈیو بھیجی تھی. نامعلوم آپ نے دیکھی یا نہیں

  30. Beenai

    افتخار اجمل صا حب،
    جی ہاں۔ بندی نے میل وصو ل پائی اور انتہائی حیرت انگیز طوطے سے ملاقات بھی کی۔
    سبحان اللہ۔
    وڈیو شیئر کر نے کا شکریہ۔ :)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)