<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: بلاگستان  کا جشنِ تعلیم</title>
	<atom:link href="http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/</link>
	<description>ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Feb 2012 05:36:25 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3</generator>
	<item>
		<title>By: منظرنامہ &#187; ہفتہ بلاگستان ایوارڈ : نامزدگیاں</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/comment-page-1/#comment-19216</link>
		<dc:creator>منظرنامہ &#187; ہفتہ بلاگستان ایوارڈ : نامزدگیاں</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2009 20:21:17 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2603#comment-19216</guid>
		<description>[...] بلاگستان کا جشن تعلیم از افتخار اجمل [...]</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>[...] بلاگستان کا جشن تعلیم از افتخار اجمل [...]</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: افتخار اجمل بھوپال</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/comment-page-1/#comment-18586</link>
		<dc:creator>افتخار اجمل بھوپال</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 19 Aug 2009 03:07:01 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2603#comment-18586</guid>
		<description>جاوید گوندل صاحب
میں نہ صرف بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف ہوں بلک ڈانٹ ڈپٹ کے بھی خلاف ہوں لیکن بعض اوقت ہلکی سزا لازم ہو جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں سکولوں میں جو جسمانی سزا دی جاتی تھی عام طور پر اس کی وجہ متعلقہ بچے کے گھر کا ماحول ہوتی تھی ۔ جس بچے کو گھر میں ہر بات تھپڑوں کے ساتھ سمجھائی گئی ہو وہ سکول میں پیار سے بات کیسے سمجھے گا ؟ 
میں نے چھوٹے بچوں کو فی سبیل اللہ اور بڑوں کو کالجوں میں پڑھایا ہے اور کسی بچے کی پٹائی تو درکنار کبھی کسی کو ڈانٹا بھی نہ تھا کالج میں کچھ لڑکے ایسے تھے کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔ ان میں سوائے ایک کے باقی مالدار باپوں کی اولاد تھے ۔ ایک دن پرنسپل صاحب نے انہیں اُدھم مچاتے ديکھ لیا اور سارا دن بنچ پر کھڑا رکھنے کے بعد ان کا کالج سے داخلہ معطل کر دیا ۔ پہلے تو سفارشیں آئیں ۔ جب بات نہ بنی تو وہ طلباء معافی مانگنے پر تیار ہوئے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جاوید گوندل صاحب<br />
میں نہ صرف بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف ہوں بلک ڈانٹ ڈپٹ کے بھی خلاف ہوں لیکن بعض اوقت ہلکی سزا لازم ہو جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں سکولوں میں جو جسمانی سزا دی جاتی تھی عام طور پر اس کی وجہ متعلقہ بچے کے گھر کا ماحول ہوتی تھی ۔ جس بچے کو گھر میں ہر بات تھپڑوں کے ساتھ سمجھائی گئی ہو وہ سکول میں پیار سے بات کیسے سمجھے گا ؟<br />
میں نے چھوٹے بچوں کو فی سبیل اللہ اور بڑوں کو کالجوں میں پڑھایا ہے اور کسی بچے کی پٹائی تو درکنار کبھی کسی کو ڈانٹا بھی نہ تھا کالج میں کچھ لڑکے ایسے تھے کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔ ان میں سوائے ایک کے باقی مالدار باپوں کی اولاد تھے ۔ ایک دن پرنسپل صاحب نے انہیں اُدھم مچاتے ديکھ لیا اور سارا دن بنچ پر کھڑا رکھنے کے بعد ان کا کالج سے داخلہ معطل کر دیا ۔ پہلے تو سفارشیں آئیں ۔ جب بات نہ بنی تو وہ طلباء معافی مانگنے پر تیار ہوئے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: DuFFeR - ڈفر</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/comment-page-1/#comment-18582</link>
		<dc:creator>DuFFeR - ڈفر</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 18 Aug 2009 14:41:12 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2603#comment-18582</guid>
		<description>استاد تو انکل اب بھی مل ہی جاتے ہیں لیکن مواقع بہت کم ہو گئے ہیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>استاد تو انکل اب بھی مل ہی جاتے ہیں لیکن مواقع بہت کم ہو گئے ہیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/comment-page-1/#comment-18580</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 18 Aug 2009 14:33:33 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2603#comment-18580</guid>
		<description>میں ذاتی طور پہ بچوں کو ڈانٹنے ڈپٹنے یا جیسے ہمارے ہاں اسے فخریہ کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے جسمانی سزا دینے یا تھپڑ ، طمانچہ مارنے کے سخت خلاف ہوں۔ اور اسے ایک ایسا جرم تصور کرتا ہوں جو ایک طاقتور شخص ایک معصوم اور کمزور بچے سے محض اپنا غصہ رفع کرنے لے لئیے کرتا ہے۔جس سے بچے کی ذہنی استعداد میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے بچے کے ذہن پہ خوف مسلط ہوجاتا ہے جو بعض اوقات آگے چل کر اس کی شخصیت میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ بچے بچپن میں کسی بڑے کے تششدد کا یوں شکار ہوئے ہوں، وہ بچے بڑے ہو کر بظاہر نارمل نظر آتے ہیں مگر متشدد طبعیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اور کسی معمولی سے واقعہ سے انکا متشدد رویہ عود کر آتا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہوں گا۔ کہ جو اساتذہ فرض کی لگن پہ توجہ دیتے ہیں یا بچے کو کوشش کر کے محبت اور توجہ سے پڑھاتے ہیں انھیں انکے شاگرد بڑے ہو کر بھی کبھی نہیں بھولتے۔ اور ان کے دلوں میں اپنے اساتذہ اکرام کا احترام ہمیشہ رہتا ہے۔ 

یکساں نصاب اور یکساں تعلیمی نظام کی عدم موجودگی۔تعلیم کے لئے بجٹ میں نہ ہونے کے برابر رقم مختصص کرنا۔ اساتذۃ کی معمولی تنخواہیں اور عدم سہولتیں۔ اور سیاسی مصحلتوں کے تحت بھرتی کئیے گئے نااہل یا کم اہل اساتذہ ۔ اور کچھ دیگر معمولی عوامل وہ وجہات ہیں جس وجہ سے پاکستان میں تعلیمی انقلاب نہیں آسکا اور اگر تعلیمی انقلاب آجائے تو زندگی کے ہر شعبے میں ایک درست انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

جب سے دنیا دنیا ہے کوئی ایک قوم ایسی نہیں بتائی جاسکتی۔ جس کی مچال دی جاسکے ۔ جس نے تعلیم کے بغیر ترقی کی ہو۔ خواہ اسکا تعلق عصری لحاظ سے کسی بھی دور سے ہو۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں ذاتی طور پہ بچوں کو ڈانٹنے ڈپٹنے یا جیسے ہمارے ہاں اسے فخریہ کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے جسمانی سزا دینے یا تھپڑ ، طمانچہ مارنے کے سخت خلاف ہوں۔ اور اسے ایک ایسا جرم تصور کرتا ہوں جو ایک طاقتور شخص ایک معصوم اور کمزور بچے سے محض اپنا غصہ رفع کرنے لے لئیے کرتا ہے۔جس سے بچے کی ذہنی استعداد میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے بچے کے ذہن پہ خوف مسلط ہوجاتا ہے جو بعض اوقات آگے چل کر اس کی شخصیت میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ بچے بچپن میں کسی بڑے کے تششدد کا یوں شکار ہوئے ہوں، وہ بچے بڑے ہو کر بظاہر نارمل نظر آتے ہیں مگر متشدد طبعیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اور کسی معمولی سے واقعہ سے انکا متشدد رویہ عود کر آتا ہے۔</p>
<p>مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہوں گا۔ کہ جو اساتذہ فرض کی لگن پہ توجہ دیتے ہیں یا بچے کو کوشش کر کے محبت اور توجہ سے پڑھاتے ہیں انھیں انکے شاگرد بڑے ہو کر بھی کبھی نہیں بھولتے۔ اور ان کے دلوں میں اپنے اساتذہ اکرام کا احترام ہمیشہ رہتا ہے۔ </p>
<p>یکساں نصاب اور یکساں تعلیمی نظام کی عدم موجودگی۔تعلیم کے لئے بجٹ میں نہ ہونے کے برابر رقم مختصص کرنا۔ اساتذۃ کی معمولی تنخواہیں اور عدم سہولتیں۔ اور سیاسی مصحلتوں کے تحت بھرتی کئیے گئے نااہل یا کم اہل اساتذہ ۔ اور کچھ دیگر معمولی عوامل وہ وجہات ہیں جس وجہ سے پاکستان میں تعلیمی انقلاب نہیں آسکا اور اگر تعلیمی انقلاب آجائے تو زندگی کے ہر شعبے میں ایک درست انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>جب سے دنیا دنیا ہے کوئی ایک قوم ایسی نہیں بتائی جاسکتی۔ جس کی مچال دی جاسکے ۔ جس نے تعلیم کے بغیر ترقی کی ہو۔ خواہ اسکا تعلق عصری لحاظ سے کسی بھی دور سے ہو۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: کنفیوز کامی</title>
		<link>http://www.theajmals.com/blog/2009/08/%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%b4%d9%86%d9%90-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85/comment-page-1/#comment-18575</link>
		<dc:creator>کنفیوز کامی</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 18 Aug 2009 08:39:14 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.theajmals.com/blog/?p=2603#comment-18575</guid>
		<description>استاد کہاں جناب اب تنخواہ پر پرھانے والے کہیں ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>استاد کہاں جناب اب تنخواہ پر پرھانے والے کہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

