گاہے گاہے باز خواں

میری تحریر “امریکا نے میری سالگرہ کیسے منائی” پر کچھ تبصرے آئے ہیں جو عصر حاضر کےجوانوں کے لئے غور طلب ہیں

پاکستان سے محمد سعد صاحب نے لکھا
بہرحال، پاکستان کے موجودہ حالات میں میں لوگوں سے اس بات پر زیادہ توجہ دینے کی گزارش کروں گا کہ جاپانیوں نے جس ہمت کے ساتھ اس تباہی کا ازالہ کیا، اس سے ہمیں بھی کچھ سیکھنا چاہيئے۔

ہسپانیہ سے جاوید گوندل صاحب نے لکھا
ویسے عجب اتفاق ہے جنگل کے اس قانون میں امریکہ کا نام ہمیشہ ہی سب سے اوپر رہا ہے ۔ اور امریکہ اپنے آپ کو اشرف اقوام اور انتہائی تہذیب یافتہ کہلوانے پہ بھی سب سے زیادہ زور دیتا ہے ۔ طرف تماشہ یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جاپان ہتھیار پھینکنا چاہ رہا ہے اور اس بات کا ٹرومین کو علم تھا]کیونکہ جاپانیوں نے باقاعدہ طور پر ہتھیار پھینکے کا پیغام ٹرومین کو بھیجا تھا ۔ ٹرومین کو جوہری بم کی انسانیت سوز ہلاکت کا بھی علم تھا ۔ اس بم سے ہیروشیما پر پہلے حملے کے بعد پتہ چل گیا تھا کہ ایٹمی بم نے کس قدر تباہی مچائی ہے مگر اس کے باوجود ٹرومین نے تیسرے دن ناگا ساکی پہ اٹیمی بم حملے کا حکم دیا ۔ ایٹمی حملے میں جو مر جاتے ہیں وہ خوش قسمت ہوتے ہیں جو اس حملے میں زندہ رہ جاتے ہیں وہ مردوں سے برتر ہوتے ہیں اور مرنے کی التجائیں کرتے ہیں

امریکا سے ڈاکٹر وھاج الدین احمد صاحب نے لکھا
اگرچہ ٹرومن کا حکم تھا لیکن اتحادی فوجوں کے سب کمانڈر اس میں ملوث ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس اقدام کو تمام قومیں اچھا قرار دیتی ہیں اس لئے کہ اس کی وجہ سے جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا ۔ مغربی اقوام کی دور اندیشی بھی ملاحظہ ہو کہ یورپ اور امریکہ سے اتنی دور یہ بم پھینکے گئے ۔ ابھی آپ نے عراق میں جو بم استعمال ہوئے ہیں کے متعلق ساری کہانیاں اور تصویریں نہیں دیکھیں اور یہ مہذب قومیں ہیں شاید کبھی ایسی تصویریں شائع کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ عراق میں ایسی بیماریاں کہاں سے آئیں؟

This entry was posted in ذمہ دارياں, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “گاہے گاہے باز خواں

  1. لالے کی جان

    ڈاکٹر وہاج الدین احمد صاحب کی بات میرے دل کو لگی ہے۔۔

    ہیروشیما پر پہلے حملے کے بعد پتہ چل گیا تھا کہ ایٹمی بم نے کس قدر تباہی مچائی ہے مگر اس کے باوجود ٹرومین نے تیسرے دن ناگا ساکی پہ اٹیمی بم حملے کا حکم دیا ۔ ایٹمی حملے میں جو مر جاتے ہیں وہ خوش قسمت ہوتے ہیں جو اس حملے میں زندہ رہ جاتے ہیں وہ مردوں سے برتر ہوتے ہیں اور مرنے کی التجائیں کرتے ہیں

  2. احمد

    سلام

    آپ سے درخواست ہے وہ لنک مجھے عنائیت کردیں جس سے اردو لکھنا آسان بن گیا تھا، آپ نے میری خاطر پوسٹ بھی لکھی تھی

    شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)