مہنگائی کیوں ؟

بچپن میں یعنی چار دہائیاں قبل تک ہم سُنا کرتے تھے کہ رزق کی قدر کرنا چاہیئے یعنی اسے ضائع نہیں کرنا چاہيۓ ۔ پانی ضائع کرنے پر بھی سرزنش ہوتی تھی گو اس زمانہ میں آج کی طرح پانی کی قلت نہ تھی ۔ عام دعوت ہوتی یا شادی کی دعوت ، لوگ اس طرح کھاتے کہ پلیٹ یا پیالے میں کچھ باقی نہ چھوڑتے کئی لوگ پلیٹ کو بھی اچھی طرح صاف کر لیتے جیسے اس میں کچھ ڈالا ہی نہ گیا تھا ۔ ہڈی پر کوئی گوشت کا ریشہ نہ چھوڑتا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس زمانہ میں تھوڑے میں بھی بہت برکت ہوتی تھی اور لوگ خوشحال نظر آتے تھے

دورِ حاضر میں کسی دعوت کے بعد پلیٹوں میں گوشت ۔ چاول یا روٹی اتنی زیادہ پڑی پائی جاتی ہے کہ انہیں اکٹھا کرنا دوبھر ہو جاتا ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تھوڑا کھانا ہو تو زیادہ ڈالا ہی کیوں جاتا ہے ۔ اگر اپنے پیٹ کا ہی اندازہ نہیں تو پہلے تھوڑا لیا جائے پھر اگر مزید بھوک ہو تو اور ڈال لے لیا جائے

عام سی بات ہے کہ جس کی عزت یا احترام نہ کیا جائے وہ دُور ہو جاتا ہے ۔ یہی حال اناج کا ہے ۔ آجکل اس کی قدر نہیں کی جاتی اسلئے یہ عوام سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔ پانی کی بات کریں تو اس کی بہت قلت ہے لیکن جہاں پینے کا صاف پانی ہے وہاں سڑکوں پر بہتا نظر آتا ہے

بجائے اپنے آپ کو سُدھارنے کے دھواں دار تقاریر معمول بن چکا ہے ۔ ہر دم دوسروں احتساب کرنے والے کب اپنا احتساب کر کے اپنے اندر موجود برائیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہوں گے ؟

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “مہنگائی کیوں ؟

  1. وھاج الدین احمد

    میں سمجھتا تھا کہ یہ “بیماری” یعنی پلیٹ میں چھوڑنا امریکہ میں ھی ھے یہ سن کر افسوس ھوئا کہ وطن عزیز میں بھی ایسا ھے
    لیکن میری ابھی تک وھی پرانی عادت ھے جو ھمارے والدین نے سکھائی تھی
    میں سمجھتا ھوں کہ یہاں رہتے ھوئے امریکنوں کو سکھانا چاہئے وہ باتیں جو ھماری تہذیب میں اچھی ھیں (اور ان کی اچھی باتیں سیکھنی خود سیکھنی چاہیئں) اپنے بچوں کواس ملک میں حتی الوسع ھم نے یہی تعلیم دی ھے

  2. یاسر عمران مرزا

    آپ نےمجھے ایک اچھا نقطہ دیا، میں یقینن اس پر سوچوں گا، اصل میں میں نے آج سے ان سب باتوں کو سوچنا شروع کر دیا ہے جن کی وجہ سے آج میری قوم بہت پیچھے رہتی جا رہی ہے، اللہ پاک شایہ کچھ زیادہ ہی ناراض ہیں ، اسی لیے کبھی عذاب بری حکومت کی صورت میں آتا ہے کبھی زلزلوں کی تباہیوں کی صورتوں میں، کبھی سیلابوں، کبھی رزق کی کمی کی صورت میں، کبھی بین الاقوامی سازشوں کی صورت میں،
    کیا یہ سوچنے کی بات نہیں، کہ ہمارے ساتھ ہی آزادی پانے والی کئی اقوام آج ہم سے بہت آگے جا چکی ہیں، آخر ہم میں کچھ تو خامیاں ہیں جن کی بدولت یہ سب ہو رہا ہے

  3. DuFFeR - ڈفر

    حرص ، لالچ اور دوسرے کا مال سمجھ کر کھانے کی سوچ ان عادتوں اور حرکتوں کا سبب بنتی ہے۔ اور بعد میں‌اگر کبھی ان لوگوں کے درمیان بیٹھنے کا اتفاق ‌ہوا تو پھر ان کا فخریہ اپنے یہ قصے بیان کرنا آپ کو مزید تپا دے گا
    لوگوں کو دوبارہ زندہ کئے جانے پر یقین ہو تو کوئی برائی ہو ہی کیوں؟

  4. ظفری

    میری بات کا محترم افتخار اجمل صاحب کے اس موضوع سے براہ راست تعلق تو نہیں ہے مگر اس تحریر سے ایک تاثر ذہن میں ابھرا ہے ۔
    یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ جس قوم کو یومِ آخرت کی پرواہ نہیں ۔ جس کو اس بات کا یقین ہے کہ زندگی بس یہی ہے ۔ مرگئے تو کوئی حساب کتاب نہیں ۔ زندگی ایک لطف ہے ۔ بس موجیں کرو ، عیاشیاں کرو ۔ مزے کرو ۔ جس قوم میں ایسا تصور پایا جاتا ہے ۔ وہ قوم کم نہیں‌ تولتی ، جھوٹ نہیں بولتی ، ذخیرہ اندوزی نہیں کرتی ،ملاوٹ نہیں کرتی ، رشوت نہیں لیتی ، معاشرے کا نظم تاراج نہیں کرتی ، دھوکہ نہیں دیتی ، آئین نہیں توڑتی ، انصاف کی دھجیاں نہیں اُڑاتی ، جہاں ایک عام پولیس والا گورنر کو اسپیڈنگ پر ٹکٹ ( چالان) دیدتا ہے ۔ گورنر شرمندگی سے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئندہ غلطی نہ کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے ہرجانہ بھر دیتا ہے ۔
    اس کے برعکس ایک ایسا معاشرہ ، جہاں کی قدریں عظیم گردانی جاتیں ہیں ، جہاں روایتیں ، رواداری اور تہذیب سے منسلک سمجھیں جاتیں ہیں ۔ جہاں یومِ حساب کا تصور ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے ، جہاں اپنے ہر ایک اعمال کی پوچھ گچھ کا خوف ہر شخص پر غالب ہے ، جہاں دلوں میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیئے جانے کا ایمان پنہاں ہے ، جہاں جنت اور دوزخ کا تصور دنیا کی حقیقتوں کی طرح سامنے ہے ۔ جہاں روزِ قیامت اللہ کے سامنے شرمندگی اور فخر سے پیش ہونے کا احساس موجود ہے ۔ وہاں لوگ کم تولتے ہیں ، ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ، آئین اور قانون کی پاسداری سے محروم ہیں ، سڑکوں پر بنی سیدھی قطاروں میں اپنی گاڑیاں چلانے سے قاصر ہیں ، ملاوٹ کرتے ہیں ، زہریلا دودھ بیچتے ہیں ، رشوت لیتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں ، کم تولتے ہیں ، دھوکہ دیتے ہیں ، حق غصب کرتے ہیں ۔
    تو میں شش و پنج میں ‌ہوں کہ اس تاثر میں موجود اس تضاد کو کیا نام دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ظفری صاحب
    میں آپ کی تحریر کے پہلے بند سے کسی حد تک متفق ہوں ۔ یوں کہہ لیجئے کہ 50 فیصد سے زیادہ متفق ہوں لیکن دوسرے بند سے متفق نہیں ہوں ۔ ہموطنوں میں اگر اکثریت کو احساس ہوتا کہ یوم حساب ہو گا تو قوم کا وہ حال نہ ہوتا جو آپ نے بیان کیا ہے ۔ میں اس مسئلے پر لکھنے کا سوچ رہا ہوں اور اِن شآء اللہ جلد لکھوں گا

  6. ظفری

    محترم افتخار اجمل صاحب ! میں مشکور ہوں کہ آپ میری تحریر کے کچھ جُزیات سے متفق ہوئے ۔ میں نے بنیادی طور سے دو قوموں کے درمیان ایک عمومی رویئے کی نشان دہی کی کوشش کی ہے ۔امریکہ میں میری جاب کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ میں ایک اسٹیٹ سے دوسری اسٹیٹ کا سفرکرتا رہتا ہوں ۔ جہاں شہروں کے علاوہ دیہات اور چھوٹے چھوٹے قصبوں سے نہ صرف میرا گذر ہوتا ہے بلکہ وہاں کے باسیوں کے درمیان وقت گذارنے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے ( اس سلسلے میں میں ایک سفرنامہ لکھنے کی کوشش کررہا ہوں ) ۔ میرے مشاہدات اور تجربات گذشتہ دو سالوں میں جس نہج پر پہنچے ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ایک تاثر قائم ہوا جس کا میں نے ذکر کردیا ۔ اگر ہم ہالی ووڈ کی موویز اور امریکہ کے پالیسی سازوں کا امیج ایک طرف رکھیں تو امریکہ میں بسی قوم کے بارے میں ایک بہت اچھا تاثر ابھرتا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ یہاں مجھ سے 50 فیصد تو متفق ہیں ۔

    دوسری بند سے متفق نہ ہونا ، میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا حق ہے اور جیسا کہ آپ نے کہا کہ اس پر آپ لکھیں گے تو یہ بہت اچھا ہوگا کہ ہمیں کچھ سیکھنے اور سمجھنے کاموقع ملے گا ۔ مگر جیسا کہ آپ نے کہا کہ “” ہموطنوں میں اگر اکثریت کو احساس ہوتا کہ یوم حساب ہو گا تو قوم کا وہ حال نہ ہوتا جو آپ نے بیان کیا ہے “” ۔ یہاں میں ‌نفسیاتی طور پر آپ کے اس جملے سے اختلاف کرنے کی جسارت کروں گا ۔ اُمید ہے آپ کو معیوب نہیں لگے گا ۔ کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کی کثیر مسلم آبادی کے 95 فیصد ( اکثریت ) مسلمانوں میں بحیثتِ قوم ، یہ احساس موجود نہیں ہے کہ انہیں ایک دن یومِ حساب کا سامنا کرنا ہے ۔ آپ باہر نکل جائیں کسی رکشہ والے ، کسی ریڑھی والے ، کسی ڈاکٹر ، کسی استاد ، کسی دیہاتی غرض زندگی کے کسی بھی شعبے ہائے سے تعلق رکھنے والے شخص کا انٹرویو کرلیں تو وہ آپ کو یہ بتائے گا کہ اس کو نہ صرف ان باتوں کا علم ہے بلکہ ان پر اس کا ایمان بھی ہے ۔ کیونکہ میں‌ نے نفسیاتی حوالے سے آپ سے اختلاف کیا ہے اس لیئے کہنا چاہوں گا کہ یہ احساس پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت میں موجود ہے کہ ان کو ایک دن اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا مگر ۔۔۔۔ اس احساس میں وہ شدت موجود نہیں ہے جو اس احساس کو ایک ارادے کی شکل دیکر اس احساس کو اتنا پختہ کردے کہ وہ اپنے طرزِ عمل اور رویئوں پر نظر ثانی کرسکے ۔ یا یوں کہہ لیں کہ وہ اپنا محاسبہ کرنے کے قابل ہوجائے ۔ ایک ایسا رویہ ، جو کسی کے عقائد اور مذہبی تعلیمات کے بلکل برخلاف ہے ۔ وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسے رویئے کے حامل شخص کی تربیت میں کہیں کمی رہ گئی ہے ۔ اور یہ کمی تعلیم کی بنیادی ضرورت کے خلاء سے پیدا ہوئی ہے ۔ مذہبی تعلیم آپ میں اخلاقیات کے جواز پیدا کرتی ہے ۔ اور دنیاوی تعلیم دنیا میں آپ کے اس حاصل کردہ اخلاق کے اطلاق کے مواقع فراہم کرتی ہے ( مذہبی تعلیم سے میری یہاں‌ مراد صرف قرآن کے ناظرے سے نہیں بلکہ اس اخلاقی قدر سے ہے ۔ جو دنیا کے تمام مذاہب ، خصوصاً الہلامی مذاہب میں ایک بنیادی جُز قرار دی جاتی ہے ) ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں کہیں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ہماری اخلاقی تربیت کا سلسلہ موقوف ہوکر رہ گیا ۔ اور ہم ان اخلاقی قدروں و ذمہ داریوں سے اس قدر بے نیاز ہوگئے ہیں کہ اذان کی آواز سن کر بھی تاش کھیلنا ، کرکٹ کھیلنا وغیرہ ترک نہیں‌ کرتے۔ حالانکہ یہ جانتے ہیں کہ نماز اور دیگر اخلاقی ومذہبی ذمہ داریوں کو ان تمام عارضی تفریحات پر فوقیت حاصل ہے ۔یعنی احساس موجود ہے مگر اس کو متحرک رکھنے کے تمام ذرائع سو چکے ہیں ۔ جنہیں اگر بیدار کردیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ جو بات ہم پہلے سے جانتے ہیں ۔ اس کی اہمیت کی اصل روح کو اسلام کی پہلی دو صدیوں کی طرح پھر سے سمجھنے لگیں ۔
    والسلام

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ظفری صاحب
    مووی فلمیں ہالی ووڈ کی ہوں یا لاہور کی ان میں گلَیمر ہوتا ہے حقیقت نہیں ہوتی ۔ جہاں تک ذاتی بزنس کا تعلق ہے عام طور پر امریکی ستھرا تعلق رکھتے ہیں ۔
    آپ کا اُن امریکیوں کے متعلق کیا خیال ہے جنہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے ۔ افریقہ اور جنوبی امریکا میں یلغاریں کرنے میں کسی طرح کا بھی حصہ لیا اور جو پچھلے 19 سال سے عراق میں ۔ پونے 8 سال سے افغانستان میں اور 5 سال سے پاکستان کے قبائلی علاقہ میں بے قصور بوڑھوں ۔ بچوں ۔ مردوں اور عورتوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں ۔ کیا یہ اچھے کردار کا حصہ ہے ؟

    آپ نے فرمایا ہے کہ ہر پاکستانی یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے حساب دینا ہے ۔ جس شخص نے میٹرک کا امتحان دینا ہو وہ اس کی تیاری کرتا ہے ۔ یہ سب لوگ جو منہ سے کہتے ہیں کیا اس پر عمل بھی کرتے ہیں ؟
    بات نفسیات کی ہے تو کیا ایسے لوگوں کی نفسیات یہ نہيں ہے کہ ابھی عیاشی کر لو بعد میں حج کر لیں گے تو پاکباز بن جائیں گے ؟
    یہاں تو ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو زبانی زبانی روزہ فرض سمجھتے ہیں ماہِ رمضان کا احترام کرتے ہیں ۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ روزہ نہ رکھنے پر روزِ قیامت پکڑ ہو گی ۔ مگر روزہ نہیں رکھتے ۔ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں نماز کسی حال میں معاف نہیں لیکن نماز نہیں پڑھتے ۔ ایک وہ قسم بھی ہے کہ نماز اور روزہ کی پابند ہے لیکن دھوکہ ۔ فریب ۔ چھوٹ پر عمل پیرا ہے ۔ کیا اللہ کا فرمان نہیں ہے کہ نماز فواحش اور برائی سے بچاتی ہے ؟ بات یہ ہے کہ ایسی نماز کسی دنیاوی فائدہ کیلئے تو ہو سکتی ہے دینی فائدہ کیلئے نہیں ۔
    احساس اس جیز کا نام ہے جو عمل پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ کہنا کچھ اور کرنا کچھ احساس کی موت کی نشان دہی کرتا ہے ۔
    علامہ محمد اقبال صاحب نے ایسے ہی نہیں کہا تھا
    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے

    زباں سے کہہ بھی دیا لا اِلہ تو کیا حاصل
    دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں

    انسان کہے کچھ اور کرے کچھ ۔ اسے منافقت کہا جاتا ہے

    جو بات آپ نے ادارے اور خلاء کی لکھی ہے ۔ ادارہ موجود ہے قرآن و سُنت ۔ اور اللہ کے فضل سے اکیسویں صدی میں جتنی انہیں پڑھنے اور سمجھنے کی سہولت موجود ہے پہلے کبھی نہ تھی صرف ارادے اور محنت کی ضرورت ہے جو فضولیات کیلئے تو وافر مہیاء کیا جاتا ہے لیکن اس کے لئے کہا جاتا ہے وقت نہیں ملتا ۔ کپیوٹر چالو کر کے لوگ گھنٹوں ننگی تصویریں اور مووی فلمیں تو دیکھتے ہیں لیکن اسی کمپیوٹر پر ایک یا دو کلک کر کے قرآن شریف مع ترجمہ پڑنے کیلئے انہیں آدھا گھنٹہ نہیں ملتا ۔
    بات ترجیہات کی ہوتی ہے جب ترجیح اچھا انسان بننے کی بجائے مالدار بننا ہو تو مذہب کا ورد صرف زبان پر ہی ہو سکتا ہے اسے دل مین اترنے کا راستہ نہیں دیا جاتا ۔
    ہاں کچھ لوگ ہیں اپنے ہموطن جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں اور شاید یہ ملک انہی کی وجہ سے ابھی تک بچا ہوا ہے

    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمارے ہموطنوں کو حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)