مُشکل شرط

میری تحریر ” Software Piracy اور دین اسلام ” پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے کو ڈفر کہنے والے صاحب نے شرط عائد کی ہے جو عصر حاضر کےجوانوں کے لئے غور طلب ہے

“اگر یہاں‌ یہ شرط رکھ دی جائے کہ صرف وہ لوگ پائریسی کے خلاف بول سکتے ہیں جنہوں ‌نے کمپیوٹر اور دوسرے علوم پائریٹڈ سافٹ وئیر اور نقل شدہ کتابوں سے نہیں سیکھا تو شاید یہاں مکمل سکوت چھا جائے”

میں اس شرط کی کچھ اس طرح وضاہت کروں گا کہ جس نے خود نہ نام نہاد پائریٹڈ سافٹ ویئر استعمال کی ہو اور نہ اصل کے علاوہ کوئی کتاب پڑھی ہو اور نہ براہ راست اصل کتاب سے پڑھنے کی بجائے کسی اور کے تیار کردہ نوٹس [notes] سے پڑھائی کی ہو

This entry was posted in پيغام, ذمہ دارياں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

16 thoughts on “مُشکل شرط

  1. یاسرعمران مرزا

    اگر ہم سب کو اور ہمارے معاشرے کو ایک مسلہ درپیش ہے تو بجائے اس کے ہم اس کا حل ڈھونڈییں ہم ذاتی اختلافات میں الجھ گئے ہیں۔ یہ شرط رکھنا کہاں کی عقل مندی ہے اور اس شرط کے رکھنے کی کیا دلیل ہے

  2. راشد کامران

    اجمل صاحب اس طرز عمل میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور مجھے قوی امید ہے کہ آپ اتفاق کریں گے کہ اگر ہم اجتماعی طور پر ایک برائی میں مبتلا ہیں تو یہ اس سے بڑا مسئلہ ہوگا کہ ہم اس برائی کو برائی کے درجے پر رکھنا چھوڑ دیں۔ اگر یہ کوئی مناظرہ ہے تو بنیادی طور پر سب کی ہار پر ختم ہوگا۔

    پوری زندگی کا دعوی بہت بڑا دعوی ہے لیکن آج کے دن کے حوالے سے میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے پاس تمام کتابیں، تمام سافٹ ویر، تمام میوزک اور ویڈیوز قانونی طریقے سے حاصل کیے گئے ہیں اور اس حوالے سے ان کی اہمیت مفت ہاتھ آئے سے کہیں زیادہ ہے۔ اور سافٹ ویر انڈسٹری میں دس سال کے تجربہ گو کہ قلیل ہے لیکن پوری ذمہ داری سے یقین دلاتا ہوں کہ پائیریسی کا خاتمہ طویل مدت میں پاکستانی معاشرے کے لیے زیادہ مفید ہے۔ اگر کئی سافٹ ویر مہنگے دستیاب ہوں‌ جب ہی لوکل تیار گئ پراڈکٹ کی مارکیٹ بنے گی اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سافٹ ویر انڈسٹری کے حوالے سے ہم لوگ بہت حد تک تیار ہیں اور دنیا میں ہر جگہ مقابلہ بھی کررہے ہیں۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    آپ نے درست کہا ہے ۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ میں ابھی تک بات واضح نہیں کر سکا ۔ اصل مسئلہ پر کوئی بات نہیں کر رہا بلکہ سب بحث نتائج پر ہو رہی ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک قوم کا طرزِ عمل نہیں رکھتے اور جب تک ہم ایک قوم کا طرزِ عمل نہیں اپنائیں گے تب تک چوری اور دوسرے برے فعل عام رہیں گے ۔ ہماری اکثریت بازار میں جاتی ہے تو غیر ملکی اشیاء طلب یا تلاش کرتی ہے ۔ اس کے برعکس میرے جیسے لوگوں کو کوئی غیر ملکی چیز دکھا تو پہلا سوال ہوتا ہے کوئی اچھی پاکستانی دکھاؤ ۔ بہت سی پاکستانی ایسی اشیاء ہیں جو ہمارے لوگ غیرملکی کے نام سے مہنگے داموں خرید کرتے ہیں

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یاسر کامران صاحب
    آپ قابلِ عمل حل تجویز کیجئے میں اسے عام کرنے کی پوری کوشش کروں گا ۔
    رہا شرط لگانا تو جیسے آپ کو اظہارِ خیال کا حق حاصل ہے ویسے ہی سب کو ہے ۔

  5. DuFFeR - ڈفر

    میرا کہنے کا مطلب صرف یہ تھا کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی اصل کتابیں اور سافٹوئیر افورڈ ہی نہیں‌کر سکتی اور نا ہی ہماری اپنی کتابیں اور سافٹوئیر موجود ہیں تو یہ مجبوری ہے۔ فوٹو سٹیٹ کو ہی اگر ہم شامل کر لیں تو ہماری الیٹ کلاس کے علاوہ سب ان پڑھ ٹھہریں گے بلکہ وہ بھی۔ جیسا کہ اجمل انکل نے کہا کہ نوٹس کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے۔
    معذرت کے ساتھ آپ آج کی بات کر رہے ہیں کہ سب کتابین اور سافٹوئیر اصلی اور جینوئن ہیں ‌لیکن میں گزرے کل کی بات کر رہا ہوں۔ کیا آپ اس گزرے کل کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ اصلی سافٹوئیر اور کتابیں افورڈ کر سکتے تھے یا کرتے رہے ہیں۔ اگر نہیں تو یہ مجبوری 99 فیصد سے زیادہ پاکستانیوں‌کی ہے اور اگر ہاں تو پھر بھی بہر حال 99 فیصد پاکستانی مجبور ہیں۔
    میں بھی اب اصلی سافٹوئیر اور کتابیں استعمال کرتا ہوں لیکن یہ جانتا ہوں کہ میرے علم کی بنیادیں اسی جعلی سافٹوئیرز اور نقلی کتابوں پر کھڑی ہیں، میں اس علم کے بغیر آج اصلی نقلی کی بحث میں پڑنے کے قابل بھی نہیں تھا اور میں اس لئے پائریسی کے حق میں بولنے پر مجبور ہوں کہ ہماری طالبعلم برادری علم کے حصول کے معاملے میں مجبور ہے۔ میرے تو خیال میں علم کی کوئی چوری نہیں ہوتی۔
    آپ کی بات درست ہے کہ ہم دنیا بھر میں مقابلہ کر رہے ہیں لیکن میرے تحفظات یہ ہیں کہ پروگرامر، ڈیویلپر کی ہرارکی سے اوپر کتنے پاکستانی معیاری کام کر رہے ہیں؟ اور ان کا تناسب کیا ہے؟ اور یہ بات تو آپ مانیں گے نا کہ صرف پروگرامر کمیونٹی اس مشکل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہو گا جیسا کہ اردو کے لئے انفرادی کوششیں چل رہی ہیں جو ثمر آور تو ہیں لیکن ہمیں ضروری نتائج کے حصول کے لئےاس سے بہت زیادہ محنت اور سپورٹ کی ضرورت ہے۔ وہ محنت جو انفرادی طور پر کسی صورت نہیں ہو سکتی

  6. ریحان

    میں ونڈوز خریدو یہاں ( پاکستان میں ) جتنے کی بھی آئے ۔۔ تو مجھے کیا خریدی ونڈوز کے تمام تر کسٹمر رائیٹ و ٹیکنیکل سپورٹ امریکہ پاکستان میں دیگا ؟ ۔۔ یہی بات تمام تر کمرشل سافٹ وئیرز کے لیے ہے جن کو امریکن بناتے ہیں اور وہی پھر کریک بھی کرتے ہیں ۔

    ایک سسٹمائیز طریقہ وضح کیا جاتا ہے جس کے نیچے پھر قوم سسٹمائیز طریقے سے چلتی ہے ۔ آپ کی تحریر والی شرط ٹھیک ہے ۔۔ پائیرسی غلط ہی ہے پر پائیرسی کو وضح تو کیا جائے پہلے ۔ پائیریسی کو سمجھیں ۔۔۔۔ یہاں سر ہو کوئی پائیریڈٹ سافٹ وئیر پو کام سیکھ کر پھر کہی اوپن سورس کو سمجھتا ہے ۔

    ابنٹو ۔۔ کبنٹو لینکس ۔۔ یہ فری آپریٹنگ سافٹ وئیرز ۔۔ پاکستان کا ان کے سیٹ اپ میں ٹائم و ریجین سیٹنگ میں نام تک شامل کرنا کینونکل والو نے ضروری نہیں سمجھا ۔۔ یہ بحثیت ملک معیار ہے ہمارا

  7. میرا پاکستان

    چونکہ بات ذاتیات کی چھڑی ہے تو پھر تھوڑی تفصیل میں‌جانا پڑے گا اسلیے ہم اپنا نقطہ نظر اپنے بلاگ پر پیش کریں گے۔ مختصر یہ کہنا ہے کہ ہم بھی اس حمام میں‌ننگے ہیں مگر اپنے غلط اقدامات کو ٹھیک ثابت کرنے کیلیے کبھی دلائل نہیں‌دیں گے۔

  8. راشد کامران

    ڈفر معذرت کی تو بات ہی نہیں ہے میں خود چاہتا تھا کہ کوئی یہ نکتہ اٹھائے۔ دیکھیں 90 کی دہائی اور 2000 کے اوائل میں اتنے آپشن نہیں تھے یا انٹرنیٹ کا استعمال اتنا بنیادی تھا کہ مجموعی طور پر اس چیز کا شعور بہت کم تھا۔ لیکن آج مفت آپشن اتنے دستیاب ہیں جن کی ایک لسٹ میں نے آپنے بلاگ پر شائع بھی کی ہے کہ ان چیزوں کا جواز نہیں بنتا۔

    ریحان بھائی مائیکروسافٹ پاکستان سے آپ کو سپورٹ ملے گی۔ نہیں تو آپ فون کے ذریعے بھی سپورٹ حاصل کرسکتے ہیں اب یہ نہ کہیے گا کہ کال بہت مہنگی ہے۔ کیا آپ کے علم میں نہیں کہ پاکستان کا جی ایم ٹی آف سیٹ کتنا ہے جو شہر کا نام بھی درکار ہے اتنا ہی کافی نہیں کہ اوبنٹو جیسا بہترین آپریٹنگ سسٹم مفت دستیاب ہے؟

  9. ریحان

    کامران بھائی اسلام و علیکم ۔۔ تین دن ہو گئے آپ کے بتائے مفت آپریٹنگ سسٹم کے ایک چھوٹے سے سٹارٹر مسئلے کے حل کے لیے میں نے پاکستانی لینکسیوں کے فارم پر سوال رکھا ہوا ہے ۔

    تین دن ۔۔ کوئی مدد نہیں کر رہا ۔۔۔ اور مسئلہ کو کمپئیر کر لیں تو کوئی مسئلہ بھی کوئی‌خاص نہیں ہے وہ ۔۔۔ ایک لینکسی بھائی جان نے وہاں جواب تو دیا ۔۔ پر جواب نہیں۔ ابھی بھی انتظار میں ہو ۔۔ کوئی حل نکلے کچھ ہم بھی مفت کے مفت استعمال میں آئیں ۔

    سر کسٹمر سپورٹ آن دی‌ٹیلیفون ‌!!! کیا میں نے کوئی کنیکشن لیا ہے ڈی ایس ایل کا یا کیا ؟ دس ہزار کی پراڈکٹ کی سپورٹ میں اب فون پر لی جانی چاہیے !! میں نے تو کہی نہیں لکھا مجھے کسٹمر سپورٹ آن دی فون چاہیے یا کسٹمر سپورٹ جیسے نام ہی فون کر کے ہیلو نیڈ ہیلپ کا ہو ۔۔ باہر آپ نے کو پراڈیکٹ خریدی ہو تو آپ باہر والوں سے جانیئے نا کسٹمر سپورٹ کا معیار و جو بھی ۔ یہاں جو آلریڈی کسٹمر سپورٹ مل رہی ہے پراڈیکٹس کی جیسے موبائیل سروسس کی مدد میں ان کا معیار پتا ہی ہوگا آپ کو ۔

    میں اپنے تبصرات میں مزید سوال اٹھا کر تبصرات پڑھنے والوں کو مزید کنفیوز نا ہی کو تو اچھا ہے ۔

  10. DuFFeR - ڈفر

    راشد صاحب آپ کی پوسٹ بہت عمدہ ہے
    لیکن یہ بھی تو سوال ہے کہ اب اگر انٹرنیٹ آسانی کے ساتھ موجود ہے تو اس پر بھی تو زیادہ تر علوم و معلومات چوری شدہ ہی ہیں نا
    وہ کہتے ہیں نا انٹر نیٹ پر چیز آ گئی تو پبلک پراپرٹی بن گئی تو یہ مسئلہ تو انٹرنیٹ کی موجودگی میں مزید سنگین ہو جاتا ہے ;)
    اور یہ بات آپ سے کس نے کہہ دی کہ آج ہمارے ہاں اب اس زیر بحث بات کا شعور بڑھ گیا ہے؟ :mrgreen: اگر یقین نا آئے تو کسی انٹرنیٹ کلب والے سے ہی جا کر بات کر کے دیکھ لیں جو سارا دن کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال کرتا ہے :)

  11. عنیقہ ناز

    ڈفر کی باتوں سے مجحے اتفاق ہے۔ مزید میں یہ کہنا چاہونگی کہ ہر چیز کا مفت آپشن موجود نہیں ہے۔ سرف اس چیز کا مفت آپشن ہوتا ہے جو عوام الناس بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ میرا بنیادی مضمون کیمسٹری ہے۔ اب سے تین سال پہلے میں یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہی تھی۔ اپنی پی ایچ ڈی ٹریننگ کے دوران میں نے بہت ساری چیزیں ایسی استعمال کی تھیں جوکہ کیمسٹری کو ایک دلچسپ اور آسانی سے سمجھ میں آنیوالا مضمون بنادیتی ہیں۔ لیکن اس میں سے ہر ایک پروگرام کی قیمت ایک لاکھ سے کم نہ تھی۔ ڈپارٹمنٹ اس سلسلے میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کوئ مدد نہ کر سکتا تھا۔ اور میں، اپنی محدود تنخواہ کو ان مصارف کے لئے استعمال نہ کر سکتی تھی۔ نتیجتآ میں وہاں جاتی ہوں جہاں سے پی ایچ ڈی کی تھی اوروہاں موجود اپنے دیگر ساتھیوں سے مدد گار پروگرامز کی کاپی بنا لیتی ہوں۔ میرے اسٹوڈنٹس خوش تھے اور میں مطمئن کہ اب وہ پہلے سے بہتر طریقے سے سیکھ رہے ہیں۔ اور انہیں پتہ ہے کہ پاکستان سے باہر کیا ہو رہا ہے۔
    کتابوں کے ضمن میں۔ میں نے کراچی میں سستی ترین بازار چھانے اور کوشش کی کہ فوٹو کاپی کے بجائے اصل اپنے پاس رکھوں کیونکہ اسکی خوشی الگ ہوتی ہے۔ لیکن اکثر سائنسی کتابیں قوت خرید سے اتنی دور ہوتی ہیں کہ بچت کر کے منصوبہ بنانے کے بارے میں بھی نہیں سوچا جا سکتا۔ میرے وہ ساتھی جو بیرون ملک ڈالر میں کما رہے ہیں انکے لئے انہیں خریدنا آسان ہوتا ہے۔ مگر میں جب ڈالروں والی چیز کو روپوں میں خریدنا چاہتی ہوں تو یہ ناممکن ہوتا ہے۔
    مجھ سے زیادہ بد تر حالات میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو اسٹوڈنٹ شپ سے گذر رہے ہوتے ہیں اور اپنے تعلیمی سلسلے کو کچھ والدین کی مدد اور کچھ اپنی محنت سے چلا رہے ہوتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب انسان ایک ایک وقت کا آنے جانے کا کرایہ بھی گن گن کر رکھتا ہے اس طرح کی اخلاقی بلندی دکھانے کا مطلب اپنی موت ہوتا ہے۔ جس کی اس بھری دنیا میں کسی کو ذرا پرواہ نہیں ہوتی۔ بس پھر معاملہ یہاں آکر رکتا ہے کہ کم برائ یا زیادہ برائ، کسے منتخب کریں گے۔
    اگر بات یہ ہے کہ پائریسی ایک غلط چیز ہے یا صحیح۔ تو اسکا اخلاقی جواب ہے کہ غلط ہے۔ اسی طرح جیسے جھوٹ بولنا غلط ہے۔ اگر سوال یہ ہے کہ کرنا چاہءیے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ اسکا بہتر فیصلہ آپ اپنے حالات کو سامنے رکھکر کر سکتے ہیں۔ جھوٹ بولنا بہت غلط بات ہے مگر کبھی کبھی اسکا بڑا ثواب ہوتا ہے۔

  12. راشد کامران

    چلیں اس کا ایک حل یہ بھی ممکن ہے کہ وطن میں موجود لوگ انتظامی معاملات سنبھال لیں اور وطن سے باہر موجود اور وطن میں موجود جو لوگ صاحب حیثیت ہیں وہ مالی معاملات کا حل نکالیں۔ ایک یا دو ضروری کتب خرید کر روانہ کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اتفاق کریں گے اور اپنے ایک آدھ ساتھی کو اس کار خیر کی طرف راغب کرنا بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوگا لیکن فی طالب علم ایک کتاب پھر بھی ممکن نہ ہوگی یا تو اسٹڈی گروپ کی سطح پر کتاب فراہم کرنی ہوگی یا کوئی اور قابل عمل حل۔ کتاب کے استعمال میں‌بھی احتیاط کی جائے اور آٹو گراف نہ دیے جائیں تو کم از کم پانچ سے سات سال تو ایک حوالہ جاتی کتاب نکال ہی جاتی ہے۔ بارہویں جماعت تک کی کتابیں شاید مقامی ہی شائع ہوتی ہیں اور ان کی قیمتیں بھی اتنی زیادہ نہیں‌ہوتیں اصل مسئلہ اعلی تعلیم حاصل کرتے لوگوں کو ہی ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کا خیال ہے؟ طالب علم خواتین و حضرات اگر ضروری کتب شائع کرنے والے پبلشرز سے رابطہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ سستا ایڈیشن کسطرح مل سکتا ہے تاکہ کم از کم طلب سے آگاہ کیا جائے کیونکہ کمپیوٹر کی کتابوں کے انڈین ایڈیشن کا مجھے علم ہے کہ ان کی قیمتیں مقامی اور کافی حد تک برداشت کے قابل تھیں۔

  13. راشد کامران

    ڈفر نے انٹرنیٹ کا بھی اہم معاملہ اٹھایا ہے لیکن انٹرنیٹ پر ہم ہر ایکس وائی زی ڈاٹ کام کی بات نہیں کررہے۔ دراصل اسطرح کے علمی خزانوں کی بات ہورہی ہے۔
    http://ocw.mit.edu/OcwWeb/web/home/home/index.htm
    یہاں کئی مضامین کے آڈیو اور ویڈیو لیکچرز بھی دستیاب ہیں اور ایم آئی ٹی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس میعار کے ہونگے۔ جو قوم اربوں روپے کے ایس ایم ایس بھیج سکت ہے کیا دس ایم بھی کی ویڈیو ڈاؤن لوڈ نہیں کرسکتی؟ :D

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنیقہ ناز صاحبہ
    شکر گذار ہوں کہ آپ نے اپنی عملی زندگی سامنے رکھ دی ۔جو کہ مشکل کام ہوتا ہے ۔ 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آنے سے لیکر 1962ء تک میں نے بہت مشکل وقت گذارا ہے اور یہی حال میرے کئی ساتھی طلباء کا تھا ۔ انجنیئرنگ کالج میں ہم دس طلبا مل کر ایک کتاب خریدتے تھے اور باری باری اسے پڑھ کر اپنے اپنے نوٹس تيار کر لیتے تھے ۔ بعض اوقات ایک کتاب خرید کرنے کیلئے کچھ ماہ ایک وقت کا کھانا کھایا ۔ یہ وہ دور ہے جس میں میرے اندر اللہ کا یقین بہت پختہ ہوا کیونکہ وہ کچھ اللہ کے کرم سے ہوتا رہا جس کی دنیاوی لحاط سے کوئی توقع نہ تھی
    یہ جو کہا جاتا ہے کہ سافٹ ویئر ڈویلوپ کرنے والا اپنی محنت وغیرہ کی قیمت وصول کرنے کا حق رکھتا ہے اس سے انکار نہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ وہ اپنے محنت سے دس گنا سے سو گنا تک وصول کرتا ہے جو تجارت نہیں ظلم ہے ۔ ہم نے بیس سال قبل آئی بی ایم کی سافٹ ویئر ٹھکرا کر اس کے بیس فیصد خرچہ سے دوسری کمپنی سے اس سے بہتر سافٹ ویئر تیار کروائی تھی

  15. جاوید گوندل ، بآرسیلونا ۔ اسپین

    مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے۔ کی یوروپ و امریکہ کی بعض یونیورسٹیز کا سالانہ بجٹ پاکستان کے بعض بڑے شہروں کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔ مگر اس کے باجود یہاں بھی اساتذہ خود اپنے اسٹوڈنٹس کو خرید کی گئی ایک آدھ کتب کی فوٹو کاپی کر دیتے ہیں ۔ یعنی موضوع کی مناسبت سے کتاب کے کچھ اوارق جو آپ کی تحقیق یا تیاری کے لئیے ضروری ہوتے ہیں انکی فوٹو کاپی کر دی جاتی ہے اور باقی لوگ خود آپس میں فوٹو کاپی کر لیتے ہیں۔اور یہ بات اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی ہوری ہے۔جبکہ کچھ نچلی سطح پہ فوٹو کاپی فیشن عام ہے۔اسکے باوجود ناشر اور صاحب کتاب اچھا خاصا منفع کما لیتے ہیں۔ آپ کی دلچسپی کے لئیے ایک بات کرتا چلوں ہسپانیہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے۔ ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ کتب چھپتی ہیں۔ آجکل اسکا نمبر غالبا تیسرا ہے۔ مگر کسی ایک کتاب کو ناشر یا مصنف یا بعض صورتوں میں دونوں کی مرضی اور اجازت کے بغیر چھاپنے کا کوئی تصور نہیں۔

    میرے خیال میں اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کہ ایک محقق اور رائٹر کو نا صرف اسکا جائز مقام دیا جاتا ہے بکہ اسے مالی آسودگی بھی ملتی ہے۔ جس سے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ انڈہ فرائی کرنے سے لیکر کائنات کے سربستہ رازوں پہ معلومات اکٹھی کر کے ہمیں کتاب کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ جسے ہم علم کہتے ہیں ۔ اب اگر صاحب کتاب سے اسکا اعزاز اور اسکی جائز آمدنی چھین لی جائے تو اسکا اور اسکے معاشرے کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ہاں ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق نام کی چیز بہت کم ملتی ہے اگر ہے تو وہ اسقدر معیاری نہیں کہ اس سے کچھ سیکھ کر باقی دنیا کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر سکیں۔

    میری نظر میں پاکستان کے تین مسئلے ہیں۔ ہماری بڑھی آبادی ناخواندہ ہیں۔ اور جو نہیں وہ بھی سطحی اور واجبی سی تعلیم کے حامل ہیں ۔ ہمارے ہاں ایم اے یا ایم ایس سی کو بڑی تعلیم سمجھا جاتا ہے جبکہ میری نظر یہ وہ بنیاد ہے جہاں سےاصل تعلیم شروع ہوتی ہے۔ اسلئیے بڑی آبادی کا ناخواندہ ہونے کی وجہ سے کتب کی طلب نہ ہونا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی اکثریتی آبادی انتہائی غریب ہے۔ اگر کوئی پڑھنے اور کتاب خریدنے کا جنون رکھتا بھی ہو تو سال بھر بھوکا رہ کر بھی کچھ کتابوں کا ایک باب بھی شاید نہیں خرید سکتا۔ تیسرا مسئلہ کتب کے غیر قانونی ایڈیشن اور قومی سطح پہ محقق لوگوں کی کسی قسم کی پزیرائی نہ ہونا اور تحقیق کے لئیے سہولتوں کی عدم موجودگی اور معاشرے میں انھیں انکا جائز مقام نہ دینا بھی شامل ہے ۔ جس وجہ سے بہت سے زرخیز ذہن باہر کے ممالک کی راہ لیتے ہیں جس سے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اس لئیے بھی ہمارے ہاں کتاب پڑھنے کا رواج نہیں ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے کتاب کی طلب میں اضافہ نہ ہونے سے اسکی رسد نہیں بڑھتی اور نتیجا تحقیق کا رحجان اگر ہے تو وہ ختم ہوتا جارہا ہے۔

    محترمہ عنیقہ بی بی! اور محترم اجمل صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تعلیم کی غرض و غایت سے عمدہ تحقیق شدہ کتب اور سوفٹ وئیر پروگرام کی جملہ حقوق پاکستان کی سطح پہ پاکستانی حکومت یا محکمہ تعلیم خریدے اور اسے پاکستانی طلباء کے لئیے وقف کر دے کتاب اور سوفٹ وئیر کی معملومی سی قیمت ہو جو کتاب کی چھپائی وغیرہ اور سوفٹ وئیر سی ڈی وغیرہ کی ہو اور کچھ اسطرح کا معاملہ متعلقہ پاکستانی حکومتی ادارے عام استعمال کے سوفٹ وئیر وغیرہ کے لئیے بھی کر سکتے ہیں جیسے چھوٹے کاروباری افارد کے لئیے حساب کتاب اور بلنگ وغیرہ کے لئیے بنائے گئے سوفٹ وئیر کے حقوق خرید کر اسے عام کر دیں۔ اس نیک کام میں مخیر حضرات اور فلاحی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    جملہ حقوق کی قیمت کچھ اسطرح طے کی جائے کہ وہ سوفٹ وئیر میکر یا صاحب کتاب کی زندگی بنادے تا کہ ایک مثال قائم ہو اور لوگ نہائت کوشش اور دیانتداری سے تحقیق کی طرف راغب ہوں اور مقابلے کی سی فضاء قائم ہو۔
    راشد کامران صاحب کی تجویز بھی عمدہ ہے مگر یہ سرپلس کے طور پہ ہو ۔

    کچھ اسطرح کا معاملہ باقی دنیا سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستانی طلباء اور چھوٹے کاروباری افراد کے لئیے سہولت پیدا کریں تاکہ پئریسی کی مد میں ان اداروں کے نقصان کو تبھی روکا جاسکتا ہے جب انکے پروڈکٹس عام آدمی کی قوتِ خرید میں ہوں۔ کیونکہ بھوک کی صورت میں اناج ہمیشہ چوری ہوتا رہے گا ۔ آپ قوانین خواہ کسقدر سخت بنالیں۔
    اس معاملے کے حل بہت سے ہیں۔ صرف ذمہ دار اداروں کی سطح پہ نیک نیتی اور دیانتداری کی ضرورت ہے۔اور یہ شعور عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ورنہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ جس دن مائکروسوفٹ وغیرہ جیسے اداروں نے اپنے پروگرام اور سوفٹ وئیر وغیرہ کی پائریسی ختم کرنے یہ ناہونے کا کوئی حل یا کلیہ ڈھونڈ لیا پاکستان کے لئیے سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)