What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے July, 2009

منافقت [Hypocrisy] کی عملی جہت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 23 Jul 2009

قبل اسکے کہ میں منافقت کی عملی صورت بیان کروں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو طاقت کے بل بوتے پر اُس کے ارادے اور مرضی کے خلاف کوئی عمل کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو مجبور کئے گئے شخص کو منافق کہنا زیادتی ہو گی ۔

عمل کی بنیاد پر منافقت کو مندرجہ ذیل شاخوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
1 ۔ جس میں منافق کا مالی فایدہ ہو یا نیک نامی یا ناموری یا شہرت ہو جائے اور کسی دوسرے کا نقصان نہ ہو
2 ۔ جس میں منافق کا فایدہ ہو لیکن حقدار کو نقصان ہو
3 ۔ جس میں منافق کسی دوسرے کی بدنامی کر کے نیک نامی یا شہرت حاصل کرے
4 ۔ جس میں منافق بظاہر کسی کی مدد یا کسی سے انصاف کر رہا ہو مگر حقیق میں ایسا نہ ہو
5 ۔ مطلب کی خاطر کسی سے وفا یا نمک حلالی جتانا
6 ۔ انتقام لینے کیلئے یا کینہ کی وجہ سے کسی کو بدنام کرنا یا بدنام کرنے کی کوشش کرنا
7 ۔ وقت خوشی یا لذت یا تفننِ طبع کی خاطر کسی کو بیوقوف بنانا یا بنانے کی کوشش کرنا

اِنتباہ ۔ بغیر سوچے سمجھے ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے عمل کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں جو کہ منافقت کا درجہ رکھتا ہے

میرا اس بلاگ سے مُختلِف انگريزی میں بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر کھولئے اور پڑھيئے تخلیق کے متعلق قرآن اور انجیل کا موازنہ
Reality is Often Bitter – - http://iabhopal.wordpress.com – - حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے

زمرہ : روز و شب, معاشرہ | 3 تبصرے »

دے مارا پاپڑ والے کو

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Jul 2009

پاپڑ والا = جنرل پرویز مشرف جو ریٹائر ہونے کے بعد بھگوڑا ہو چکا ہے

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو دس سال پرانے جھوٹے طیارہ سازش کیس میں متفقہ طور پر بری کرتے ہوئے ان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے ۔ طیارہ سازش کیس کے خلاف نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت ، جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کی ۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ناصر الملک ، جسٹس غلام ربانی ، جسٹس موسی کے لغاری اور جسٹس شیخ حاکم علی شامل تھے ۔

اس مقدمے میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اپریل 2002ء میں انہیں دو بار عمر قید اور نا اہلی کی سزا سنائی تھی ۔ اس فیصلہ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جس کے تین رکنی بنچ نے ایک کے مقابلے میں دو کی اکثریت سے نواز شریف کو عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی

میاں نواز شریف نے ان سزاؤں کیخلاف اپیل دائر کی جن کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت مکمل کرنے کے بعد 18جون کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔ جسٹس ناصرالملک نے پانچ رکنی بنچ کی طرف سے آج اس کا متفقہ اور مختصر فیصلہ سنایا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے نواز شریف کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ کے الزامات ثابت نہیں ہوسکے اور میاں نواز شریف کی اپیل منظور کرتے ہوئے انکے خلاف سزائیں کالعدم قرار دیدیں۔

زمرہ : خبر | 21 تبصرے »

إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Jul 2009

ایک صاحب نے اپنی پریشانی بیان کی تو بلا اختیار میرے مُنہ سے إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ نکل گیا ۔ موصوف نے اس کا بُرا منایا ۔ میں نے وضاحت کی کوشش کی تو یہ کہہ کر چل دیئے “میں ابھی زندہ ہوں اور تم نے إِنَّا لِلہِ کہہ دیا ہے”

میرے ہموطن مسلمانوں کی اکثریت إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ صرف اُس وقت کہتی ہے جب کوئی مسلمان مر جائے یا اس کے مرنے کی خبر ملے ۔ شاید میرے ہموطنوں کی اکثریت یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں اسلئے ہم چھوٹی موٹی سزا کے بعد بخش دیئے جائیں گے اور جنت میں داخل ہو کر مزے لوٹیں گے اور شاید اسی لئے ہماری اکثریت کوشش ہی نہیں کرتی کہ اللہ کے کلام یعنی قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھیں تاکہ معلوم ہو کہ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے

إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ حصہ ہے سورت البقرہ کی آیت 156 کا جو دراصل چار آیات پر مشتمل اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے ایک پیغام کا حصہ ہے

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیات ۔ 153 تا 156
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں [وہ مردہ نہیں] بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے
اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو [اللہ کی خوشنودی کی] بشارت سنا دو
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

چنانچہ کوئی بھی مُشکل یعنی تنگدستی ۔ بیماری ۔ کوئی چیز کھو گئی ہو ۔ راستہ بھول گیا ہو ۔ کوئی پیارا بچھڑ جائے ۔ کوئی مر جائے ۔ یعنی کسی قسم کی بھی پریشانی ہو تو إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ کہا جا سکتا ہے

آجکل جس طرح کے حالات ہیں ہو پاکستانی مسلمان کو چاہیئے کہ
إِنَّا لِلہِ وَإِنَّـا إِلَيْہِ رَاجِعونَ
اور
سورت ۔ 21 ۔ الانبیاء ۔ آیت 87 ۔ کا آخری حصے ۔ لَّا إِلَہَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّی كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے [اور] بےشک میں قصوروار ہوں
کا ورد کرتا رہے

ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن شریف کو سمجھ کر پڑھے اور اس پر عمل کرے ۔ اللہ ہمیں قرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

زمرہ : دین, معاشرہ | 5 تبصرے »

بلاگسپاٹ بلاگز کا مسئلہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Jul 2009

کچھ بلاگسپاٹ پر بنے بلاگز پر تبصرہ لکھ کر جب شائع کرنے کی کوشش کی جائے تو ناکامی ہوتی ہے ۔ اس مشکل کے کئی رُخ ہیں جن میں دو عمومی یہ ہیں
کچھ بلاگ ایسے ہیں جن پر نام اور یو آر ایل کا اختیار نہیں ہے
کچھ بلاگز پر ورڈ ویریفیکیشن لگایا گیا ہے مگر ایک تو خروف پورے نظر نہیں آتے دوسرے وہ خانہ ہی نہیں جس میں ان کو نقل کیا جائے

زمرہ : گذارش | 11 تبصرے »

حکومتی منافقت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 Jul 2009

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں 2010 تک ملک بھر میں 5 لاکھ ڈی ایس ایل کنکشن کا اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لیکن اس حوالہ سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا ہے جبکہ دینی مدارس کو براڈ بینڈ نیٹ ورک میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین اتھارٹی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کمپنیوں سافٹ ویئر ہاؤسز وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام اور یونیورسل سروس فنڈز کے عہدیداروں نے شرکت کی ہے۔ براڈ بینڈ اسٹیک ہولڈرز گروپ (بی ایس جی) کی رپورٹ میں براڈ بینڈ سیکٹر کی ترقی کے چار شعبوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور تجاویز دی گئی ہیں ان میں براڈ بینڈ انفرااسٹرکچر‘ نیٹ جنریشن براڈ بینڈ‘ براڈ بینڈ پالیسی اور ریگولیشن فریم ورک رابطے اور نیٹ ورک کا فروغ دیہی علاقوں میں براڈ بینڈ کی توسیع جیسے امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔

البتہ براڈ بینڈ کو ترقی دینے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ دینی مدارس کو براڈ بینڈ نیٹ ورک میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے حالانکہ ملک بھر میں 12 لاکھ سے زیادہ مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی بات ہر سطح پر کی جارہی ہے

زمرہ : خبر, سیاست, منافقت | 6 تبصرے »