اللہ نہیں پوچھے گا
508 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jul 03 2009
اللہ انسان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ
تم کہتے کیا تھے ؟
تمہارے خواب کیا تھے ؟
تم کتنے پڑھے لکھے تھے ؟
تمہارے خیالات کیا تھے ؟
تمہارے منصوبے کیا تھے ؟
تمہارے دعوے کیا تھے ؟
بلکہ اللہ پوچھے گا کہ تم نے بغیر دنیاوی غرض کے
کس کو تعلیم دی ؟
کس کی مدد کی ؟
کس کا سہارا بنے ؟
کس کو کھانا کھلایا ؟
کس کا قصور معاف کیا ؟
کس کی ڈھارس بندھائی ؟
۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں




Jul 03 2009 بوقت 11:39 am
کوئی شک نہیں
Jul 03 2009 بوقت 1:59 pm
بالکل درست لکھا آپ نے۔ پر کسی کے پلے بھی پڑے تو تب ناں۔ سب ایسے مست ہیں جیسے ساری زندگی یہیں رہنا ہے۔ حالانکہ یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے دادا پردادا بھی کل یہیں اس دنیا میں تھے ہم جیسے جوان اور خوبصورت تھے۔ لیکن آج ان کی یاد تو دور کی بات ان کے نام تک بھول چکے ہیں۔ اسی طرح آنے والا کل ہمارے نام و نشان بھی مٹا دے گا۔
Jul 03 2009 بوقت 2:37 pm
بجا فرمایا آپ نے!
صد افسوس کے ہماری ان سوالات کے جواب میںکچھ بھی نہیںہے۔
Jul 03 2009 بوقت 3:37 pm
کوئی شک نہیں۔ لا ریب۔
انسانی زندگی تو ،وقت میں ایک لمحہ ہے۔
Jul 03 2009 بوقت 5:09 pm
ٹھیک کہا آپ نے مگر اس پر اور تفصیل سے لکھا جاسکتا تھا ۔
Jul 03 2009 بوقت 5:24 pm
کامی صاحب
اگر آپ ان پر عمل باقاعدگی سے کر رہے ہیں تو بتایئے ۔ میں ایسی باتیں اللہ کے فضل سے بہت لکھ سکتا ہوں
Jul 03 2009 بوقت 5:58 pm
ان میں سے 90 فیصد تو عمل کرتا ہوں باقی انسان خطاوں کا پتلا ہے ۔
Jul 03 2009 بوقت 7:49 pm
سر بہت درست لکھا ہے ( بلکہ اللہ پوچھے گا کہ تم نے بغیر دنیاوی غرض کے )
کامی بھائی ؛ انسان کیا ہے کیا نہیں پر ہٹ درجے کا نا شکرا جب ہو جاتا ہے ۔۔ تو اس انسانی فترت کو ۔۔ غلطی کا پتلا ہونا لکھ دینا کہا کی جائیز بات ۔۔ اللہ تعالی نے دنیا کو جو آزمائیش بنایا ہے اس میں پاس آوٹ ہونے کے لیے ١٠٠ میں ٣٠ یا ٩٠ پرسنٹ کے گنجائش ہو تو بتاو ۔
Jul 03 2009 بوقت 8:24 pm
کامی صاحب
چلیئے آپ کو 100 میں سے 95 نمبر دے دیتے ہیں لیکن اصل فیصلہ خالق ہی نے کرنا ہے
Jul 03 2009 بوقت 9:44 pm
اجمل انکل لوگ صرف قصور معاف کر دیں تو کیا ہی بات یے
Jul 03 2009 بوقت 10:09 pm
اجمل صاحب دنیاوی پاس کرنے کا شکریہ
ریحان میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائی سب ناشکرے نہیں ہوتے آپ کس کو ناشکرا کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں خطاء کس سے نہیں ہوئی اللہ کے پیارےبندے خطائیں کرتے اور اللہ سے معافی اور ھدایت طلب کرتے رہے ہیں باقی رہی پاس فیل کی بات تو بھیاء اس بد کردار عورت کا قصہ پڑھا ہو گا جس نے ایک پیاسے کتے کو کنویں سے پانی نکال کر اپنی جوتی میں پلایا تھا باقی
Jul 04 2009 بوقت 11:18 am
نینی صاحبہ
یہ بہت آسان کام ہے مگر مشکل بن چکا ہے
Jul 04 2009 بوقت 1:45 pm
جتنے بھی باتیں آپ نے دوسری فہرست میں لکھی ہیں، سب حقوق العباد کے زمرے میں آتی ہیں۔۔۔
آخرت میں تو جنت ملے گی ہی، دنیا بھی سنور جائے گی ان پر عمل کرنے سے۔۔۔
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔۔۔۔
Jul 05 2009 بوقت 12:13 pm
جزاک اللہ ۔
Jul 06 2009 بوقت 9:15 am
مُحترم اجمل انکل جی
السلامُ عليکُم
انکل جی سب سے پہلے تو ہميشہ کی طرح اِتنی اچھی باتوں کا اِعادہ کروانے کا شُکريہ جو ہم لوگ سبھی جانتے تو ہيں ليکِن ہم ميں سے اکثر لوگ يہ بُھول جاتے ہيں کہ اِس دُنياوی چند روزہ زِندگی کی رنگينيوں کو ہی ہم سبھی کُچھ کيُوں سمجھ ليتے ہيں جبکہ يہاں کے اِمتحان،يہاں کی آزمائِيشيں بس يہيں تک ہيں اگلے سوالوں کی تياری والا پرچہ خالی ہے اور ہميں کوئ خوف بھی نہيں يہ سوچ کر ہی جان نِکلتی ہے کہ پلّے کُچھ بھی نہيں ہے پِھر بھی بھروسہ ہے کہ ميرا پيارا ربّ غفُورُالرحيم اور ستارُالعيُوب ہے بس يہی آسرا ہے
دُعاگو ہُوں سب کے لِۓ کہ اللہ تعاليٰ ہماری غلطيوں کو در گُزر فرمائيں اور اپنی امان ميں رکھيں ،آمين