کیا واقعی قوم تباہ ہونے کو ہے ؟

میں دکھے دِل اور وزنی ہاتھوں سے لکھ رہا ہوں کہ جس قوم نے قوم کے باپ کی عزت نہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم کا انجام عبرتناک ہوا
اب پڑھیئے اور بیٹھ کے رويئے اپنی قسمت کو

ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریبات میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر ہٹادی گئی ہیں۔دو روز قبل صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے والی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا، اس موقع پر کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے صدرآصف علی زرداری، اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بنوایا۔ اسے موقع پر گروپ فوٹو کے پس منظر میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو اور خود صدر زرداری کی تصاویر دیوار پرلگی ہوئی ہیں اسی طرح جمعے کے روز اسلام آباد میں انٹرن شپ ایوارڈ دینے کی تقریب میں وزیر اعظم مہمان خصوصی ہیں۔ اس موقع پر اسٹیج پر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، صدر زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی تصاویر تو ہیں لیکن بانی پاکستان کی تصویر کہیں نظر نہیں آئی۔ایسی ایک تصویر میں صدر زردرای ڈاکٹر شعیب سڈل سے وفاقی محتسب کے عہدے کا حلف لے رہے ہیں لیکن پس منظر میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر تو آویزاں نظر آرہی ہے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر غائب ہے۔اسی طرح امریکی وفد سے ملاقات کے دوران بھی قائد اعظم کی تصویر کہیں نظر نہیں آرہی۔قانون کے تحت سرکاری افسران اور صدر اور وزیر اعظم کے دفاتر میں قائد اعظم کی تصاویر آویزاں کرنا لازمی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

This entry was posted in خبر, سیاست, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

12 thoughts on “کیا واقعی قوم تباہ ہونے کو ہے ؟

  1. ریحان

    استغفر اللہ ۔۔

    افسوس بہت افسوس ۔۔۔ یہ ہمارے حکمران جن کو ہم نے چنا ۔۔

    مجھے ویسے بھی حالیہ حکومت سے کچھ اچھے کی امید نہیں تھی پر نا سوچا تھا کہ یہ ایسا بھی کرے گی ۔۔ میرا احتجاج ہے اس پر

  2. محمد سعد

    ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ یہ تو دراصل قائدِ اعظم سے محبت ہے کہ اس حکومت کے کرتوت دیکھ کر انہیں زیادہ تکلیف نہ ہو۔ ;)

  3. کنفیوز کامی

    شکر کریں جناب ابھی کچھ غیرت باقی ہے مجھے تو اس دن سے ڈر لگ رہا ہے جب یہ صاحب اپنی فیملی فوٹو کی بجائے اپنے آئیڈیل کی تصویریں لگادیں گئے جیسے بش اوباما کرزئی وغیرہ

  4. حکیم خالد

    انکل اجمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

    حالات اگر یہی رہے تو تباہی لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن قوم کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ حکمرانوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
    ریگ رواں پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟

  5. شاہدہ اکرم

    مُحترم اجمل انکل جی
    السلامُ عليکُم
    اُمّيد ہے آپ بخير ہوں گے حالانکہ مُجھے پتہ ہے آپ يہ سب لِکھنے کے بعد بخير نہيں ہوں گے بڑوں سے ايک مقُولہ سُنا کرتے تھے
    با ادب با نصيب
    بے ادب بے نصيب
    آج ہم بے ادب اور بے نصيب ہو گۓ ،کہ جو قوميں اپنے بڑوں بزُرگوں کی عِزّت نہيں کرتيں اُن پر يُونہی عِزّتوں کے دروازے بند ہو جايا کرتے ہيں اللہ نا کرے کہ ايسا ہو ليکِن جب ہم نے باباۓ قوم يعنی قوم کے باپ کے ساتھ ايسا کيا جِسے لِکھتے ہُوۓ بھی ہاتھ کانپ رہے ہيں تو کل کو اِن کی اپنی اولاد اِن کے ساتھ کيا سلُوک کرے گی ليکِن اِن کےتو شايد باپ بھی اب کوئ اور ہو گۓ ہيں خُدا نخواستہ کہيں اُن کی تصويريں نا لگا ديں جِن کی دِن رات مالا جپتے نہيں تھکتے بہُت کُچھ غلط باتيں مُنہ سے نِکلنے کو بے چين ہو رہی ہيں جِنہيں مُشکِلوں سے دانتوں تلے دبا کر اپنی زبان کو گندا ہونے سے بچا رہی ہُوں اللہ تعاليٰ ہمارے سروں پر مُسلّط ايسے بے پيندے کے آقاؤں سے ہميں نجات دِلاۓ،آمين
    اپنا خيال رکھيۓ گا
    خيرانديش

  6. تانیہ رحمان

    افتخار جی بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں ۔ جن حکمراں ایسے ہوں تو ان سے ملک کیا چلایا جائے گا۔ ایسے لوگوں کو تو دیکھنے کو دل نہیں کرتا ۔ اور وہ بلاول جو عیاش باپ کا عیاش بیٹا کل کو کیا ملک چلائے گا ۔ اس نے بھی بڑے ہو کر پہلے اپنے باپ کا قتل کرنا ہے اگر کسی اور کے ہاتھوں بچ گیا زرداری تو

  7. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ہمیں، ہر مسئلے کی جڑ کو ختم کرنا چاھئیے۔
    مشرف پہ مقدمہ چلایا جانا چاہئیے۔
    جن دنوں (اور یہ کوئی پرانی بات نہیں) ننگ قوم مشرف جس کی اپنی گردن پہ پاکستان اور پاکستان کے آئین سے غداری کا طوق بندھا تھا۔ اس نے کمال ڈھٹائی این آر او نامی معائدے کے ذرئیے پاکستان اور پاکستانی قوم کے لوٹے ہوئے ڈیڑھ سو ارب روپے بھٹو خاندان کو نہ صرف بخش دئیے بلکہ ایک ڈکٹیٹر نے قوم کے مجرموں کو یک جنبش قلم نہ صرف ہر جرم ہر مقدے سے پاک صاف قرار دیا۔ بلکہ ستم ظریفی در ستم ظریفی تو دیکھئے۔ انھیں ہر قسم کے گناھوں سے پاک اور معصوم قرار دیتے ہوئے انہیں ہمارا نیا بادشاہ مقرر کرنے پہ اصرار کیا۔ اور وہ نئے بادشاہ بنا بھی دیے گئے۔

    جو لوگ غریب اور مفلس قوم کا ڈیڑھ سو ارب روپیہ شیر مادر سمجھ کر پی گئے اور ڈکار تک نہ لیا۔ اور اس دوران اس مفلس قوم کے بیٹے اور بیٹیاں بھوک اور عسرت کے ہاتوں اپنے بچوں کے گلے کاٹ کاٹ کر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ مگر ان لوگوں کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی ۔

    قوم کو تبھی اس بات کا نوٹس لے لینا چاھئیے تھا۔ اب ان سے آپ کونسی توقعات رکھتے ہیں۔؟

    مشرف کے آباء کا مال تھا جو اس نے شاہی جوڑے کو بخش دیا۔؟
    شاہی جوڑے کا ذاتی مال تھا جو بغیر ڈکارے پی گئیے۔؟

    گیدڑوں کو خربوزوں کی چوکیداری پہ بٹھا کر یہ امید باندھنی کہ گیدڑ خربوزوں کی حفاظت کریں گے۔ ایسی حرکت بچگانہ خواہش سمجھی جائے گی۔

  8. جعفر

    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔۔۔
    آدھا احسان اتار دیا ہے
    باقی اتارنے کی تیاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)