سرکار ۔ اذيّت کار

جن ممالک میں شناختی کارڈ رائج ہیں وہاں صرف غیر مُلکیوں کو جاری کردہ شناختی کارڈ محدود مدت کیلئے ہوتے ہیں اور مدت پوری ہونے پر تجدید کروانا پڑتی ہے لیکن اپنے لوگوں کیلئے ایک ہی بار شناختی کارڈ کا اجراء کیا جاتا ہے جو عمر بھر کیلئے کافی ہوتا ہے ۔ کچھ ممالک میں جن میں لبیا بھی شامل ہے بچے کے پیدا ہوتے ہی اُسے ایک شناختی نمبر دے دیا جاتا ہے ۔ یہ نمبر درسگاہ میں داخلہ سے لے کر علاج ، ملازمت اور پاسپورٹ حاصل کرنے وغیرہ کیلئے استعمال ہوتا ہے

وطنِ عزیز میں بھی شناختی کارڈ کا ایک بار ہی عمر بھر کیلئے اجراء ہوا کرتا تھا اور بآسانی مل بھی جایا کرتا تھا ۔ 2001ء میں حکومتی لال بجھکڑوں کو نمعلوم کیا سوجھی کہ ایک نئی قسم کا سلسلہ شروع کیا اور اس کیلئے جو سانچہ اور سافٹ ویئر خریدے گئے وہ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں لبیا میں ڈرائیونگ لائسنس کے لئے استعمال ہوتے تھے اور 1980ء سے قبل ہی مسترد کر دیئے گئے تھے ۔ ڈرائیونگ لائسنس تو سمجھ میں آتا ہے کہ محدود مدت کیلئے ہونا چاہیئے لیکن قومی شناختی کارڈ کیوں ؟ مجھے لبیا میں جو ڈرائیونگ لائسنس 1976ء میں ملا اس کی معیاد 3 سال تھی ۔ 1979ء تک میرا کوئی چلان نہ ہوا تھا سو مجھے جو ڈرائیونگ لائسنس 1979ء میں دیا گیا اُس کی معیاد 10 سال تھی اور اس کا سانچہ اور سافٹ ویئر بدل چکی تھی ۔ اس کی خوبیوں میں سے ایک یہ تھی کہ اس کی نقل نہیں بنائی جا سکتی تھی

نادرا کا کمال یہ ہے کہ ابھی تک یعنی 8 سال گذرنے کے بعد بھی تمام بالغ پاکستانیوں کو شناختی کارڈ کا اجراء نہیں ہو سکا اور ايسے ہزاروں یا لاکھوں شناختی کارڈ جاری کئے گئے ہیں جن میں متعلقہ لوگوں کے کوائف درست نہیں لکھے گئے ۔ اس پر طرّہ یہ کہ جن شناختی کارڈوں کی صلاحیت 7 سال رکھی گئی تھی وہ قابلِ تجدید يعنی دوسرے لفظوں میں ناکارہ ہو چکے ہیں اور ان کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے

بطور نمونہ ملاحظہ ہو میرے خاندان کی صورتِ حال
ہم نے دسمبر 2001 میں 6 افراد کی درخوستیں جمع کرائیں
ہمیں 6 مارچ 2002ء کے اجراء کے ساتھ یہ شناختی کارڈ مارچ 2002ء کے آخر میں ملے
ان میں سے ايک کی مدت صلاحیت 28 فروری 2010ء کو ختم ہو گی
ايک کی 2011ء میں
ایک کی 2013ء میں
ايک کی 2014ء میں
اور 2 کی 2015ء میں
اپنے خاندان کے ساتویں فرد کا شناختی کارڈ 12 اگست 2003ء کو بنا تھا اور اس کی صلاحیت 31 جولائی 2010ء تک ہے
اس گورکھدندھے کی کیا منطق ہے وہ آج تک نادرا سمیت کسی کے علم میں نہیں ہے ۔ میں نے کچھ سال قبل نادرا کے ایک اعلٰی عہدیدار سے پوچھا تو اس نے جواب دیا “کچھ سال بعد لوگوں کی شکلیں بدل جاتی ہیں ۔ اسلئے تجدید ضروری ہے”
ميرا دوسرا سوال تھا کہ “آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ میری شکل 8 سال بعد بدلے گی جبکہ میرے خاندان کے ایک فرد کی شکل 9 سال ، ایک کی 11 سال ، ایک کی 12 سال اور دو کی 13 سال بعد شکل بدلے گی؟”
اس سوال پر وہ پریشان تو ہوئے مگر خاموش رہے

موجودہ شناختی کارڈ سے قبل جو شناختی کارڈ تھا اس میں میرے گھرانے کا ايک ہی خاندان نمبر تھا
اب میرا ، میری بیوی کا ، بیٹی کا اور چھوٹے بیٹے کا خاندان نمبر ايک ہے
بڑے بیٹے اور اس کی بیوی کا خاندان نمبر کچھ اور ہے
اور چھوٹے بیٹے کی بیوی کا خاندان نمبر کچھ اور
اس کا عملی پہلو یہ ہے کہ نادرا سے قبل جو رجسٹریشن کا دفتر تھا وہاں جا کر اپنے خاندان میں سے صرف ایک کے شناختی کارڈ کا نمبر بتائیں تو وہ پورے خاندان کا احوال بتا دیتے تھے ۔ اب اگر نادرا والوں کو کسی خاندان کے تمام افراد کی فہرست چاہیئے ہو تو کئی دن یا ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں

شناختی کارڈ کی تجدید کا مسئلہ ملک بھر میں اس سال کے شروع ہونے کے ساتھ ہی عوام کے لئے شدید مشکلات اور ناقابل بیان دردسری کا سبب بنا ہوا ہے کیونکہ جن شہریوں کو اپنے شناختی کارڈوں کی تجدید کے لئے نادرا کے دفاتر جانا پڑتا ہے شدید گرمی اور لُو کے موسم میں انہیں اپنی باری کا صرف ٹوکن لینے کے لئے ہی کئی گھنٹے باہر دھوپ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور جب وہ ٹوکن لے کر نادرا کے متعلقہ اہلکاروں کے پاس پہنچتے ہیں یا تو کھانے وغیرہ کا وقفہ ہو چکا ہوتا ہے یا بجلی بند ہونے یا کسی دوسری وجہ سے کمپیوٹر کام نہیں کر رہے ہوتے ۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو جائے تو پھر تجدید کے لئے بھی اعتراضات لگا کر لوگوں کو نئی تاریخ دے دی جاتی ہے

جب شناختی کارڈ شروع ہی میں پوری تصدیق اور تائید کے بعد بنائے جاتے ہیں تو ہر چند سال کے بعد ان کی تجدید کا ڈرامہ رچا کر لوگوں کو بلاوجہ پریشان کیوں کیا جاتا ہے ؟ اگر تجدید کا عمل بھی امریکی امداد کا حصہ ہے کہ مُلک کا حاکمِ اعلٰی بھی جس کی نفی کرنے سے قاصر ہے تو شناختی کارڈ اور کمپیوٹر میں موجود ڈاٹا میں کوئی فرق نہ ہونے کی صورت میں نادرا کی موبائل ٹیمیں شہریوں کے گھروں پربھجوا کر ان کی رہائش اور ضروری کوائف کی تصدیق کر کے انہیں موقع پر تجدید شدہ شناختی کارڈ فراہم کیا جا نا چاہیئے

۔سب سے زیادہ بہتر اور اصولی طریقہ ایک ہی ہے کہ جب ایک مرتبہ تفتیش اور تصدیق کے بعد کسی پاکستانی شہری کو شناختی کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے تو پوری عمر اس کی تجدید کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حُکمران عوام کو کسی نہ کسی بہانے سرکاری دفتروں کے سامنے قطاروں میں کھڑا کرکے ان کی بے بسی اور پریشانی کا نظارہ کرنے کی بے حد شوقین ہیں اور جب تک وہ عام شہریوں کو کسی نہ کسی اذیت یا مصیبت میں مبتلا نہ کر لیں انہیں چین نہیں آتا

This entry was posted in تجزیہ, خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

20 thoughts on “سرکار ۔ اذيّت کار

  1. بدتمیز

    آپ نے پہلے بھی ایسی ایک تحریر کی تھی اور میں نے تب بھی آپ کی تصحیح کی تھی۔
    شناختی کارڈ ایکساپئر ہوتے ہیں اور ان کی تجدید کروائی جاتی ہے۔ امریکہ میں ڈرائیونگ لائسنس ہی شناختی کارڈ ہوتا ہے۔ اگر آپ ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنواتے تو صرف شناختی کارڈ بھی بنا کر دے دیتے ہیں جس پر واضح لکھا ہوتا ہے کہ کار چلانے کا اہل نہیں۔ یہ کارڈ یعنی شناختی کارڈ بھی ایکسپائر ہو جاتا ہے۔ اس کی مدت پکا یاد نہیں لیکن میرے خیال سے 2 سے 8 سال تک ہوتی ہے۔ اگر ایکسپائرڈ کارڈ ہو تو کسی بھی جگہ وہ قبول کرنے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
    ہر دفعہ گھر کی تبدیلی کی اطلاع دینا بھی ضروری ہے۔ پہلی دفعہ فون پر پتہ تبدیل کروا سکتے ہیں۔ اس کے بعم کچھ عرصہ میں‌ پھر ایسا ہو تو بنفس نفیس جانا پڑتا ہے۔
    یہ سسٹم اصل میں مغربی سسٹم ہے۔ جس میں خاندان میاں بیوی اور غیر شادی شدہ بچوں‌ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر شادی شدہ بچہ ایک الگ یونٹ تصور ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر میں کوئی غلط حرکت کروں تو میرے بھائی پر اس حوالے سے کوئی حرف نہیں۔

  2. مسٹر کنفیوز

    ادھر یو اے ای میں بھی کارڈ بنائے جاتے ہیں جو شازو ناظر ہی استعمال ہوتے ہیں مگر ان کارڈوں کی مد میں بھاری رقم وصول کی جاتی ہے
    1۔لیبر کارڈ 2۔ہیلتھ کارڈ دو مین کارڈ ہیں لیبرکارڈ کی فیس 1500 درھم اور ہیلتھ کارڈ 500 درھم دونوں کی مدت 3 سال ہے فائدہ صفر ۔بیمار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر ڈھنکنا کی فیس 30 درھم اور اصلی ڈاکٹر 100 سے سٹارٹ پکڑتے ہیں باقی رہ گئیں میڈیسن جو یہاں ایک ایک گولی کی شکل میں نہیں ملتی پوری ڈبی خرید فرمانی پڑتی ہے جو 30 سے 50 کم از کم اور 100 سے اوپر بھی ہو سکتی ہے یہ حساب کتاب ایک غریب آدمی کا ہے لینڈلارڈ کا نہیں جو اپنے ایک بچے کی ڈلیوری کا 5000 درھم ادا کرتا ہے ۔لگتا ہے ان پر بھی نعرہ اللہ اکبر لگنا چاہیے۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    باتمیز صاحب
    بات یہ نہیں ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس شناختی کارڈ ہوتا ہے بلکہ یہ ہے کہ امریکہ اور کئی دوسرے ممالک میں شناختی کارڈ کا سسٹم نہیں ہے ۔ ان ممالک میں پاسپورٹ یا ڈرائيونگ لائسنس کو شناخت کیلئے کافی سمجھا جاتا ہے ۔
    جناب ۔ پاکستان میں بھی قانون تو موجود ہے کہ اگر آپ رہائش تبدیل کریں تو مطلع کریں ۔ گمان غالب ہے کہ یہ قانون ہر ملک میں ہے ۔
    آپ نے انگریز یا امريکن خاندان کی وضاحت کی ہے تو پھر یہ بھی بتا دیجئے کہ میرے چھوٹے بیٹے اور اس کی بیوی کے خاندان فرق کیوں لکھے گئے ہیں جبکہ اسکي بیوی کا شناختی کارڈ شادی کے بعد بنوايا گیا اور درخواست پر خاوند کے تمام کوائف مع خاندان نمبر لکھے تھے ؟
    یہ جو آپ نے فرمایا ہے
    اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر میں کوئی غلط حرکت کروں تو میرے بھائی پر اس حوالے سے کوئی حرف نہیں۔
    مسلم خاندان کے لحاظ سے بھی باپ صرف نابالغ بچوں کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ہر بالغ اپنا خود ذمہ دار ہوتا ہے اور یہی قانون پاکستان میں رائج ہے ۔ ویسے ملی طور پر امریکہ میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ خاندان کے ایک بالغ فرد کے جرم کی وجہ سے اس کے بھائی کو پکڑ کر لے گئے یا اسے تنگ کیا

  4. زیک

    دو تین ماہ پہلے تک بیرون ملک پاکستانی نادرا کے ویب سائٹ پر آن لائن تمام انفارمیشن جمع کرا کر شناختی کارڈ کے لئے اپلائ کر سکتے تھے مگر اب یہ سہولت بھی ختم کر دی گئ ہے اور قونصل‌خانے کو درخواست بھیجنی پڑتی ہے۔

  5. زیک

    جب کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ شروع کئے گئے اور ان کی ایک میعاد رکھی گئ تو یہ ایک اچھا آئیڈیا تھا کہ مختلف لوگوں کے کارڈ مختلف اوقات میں ایکسپائر ہوں تاکہ رینیو کرانے میں رش نہ ہو مگر یہ کام خاندانوں کی بنیاد پر ہونا چاہیئے تھا کہ ایک گھرانے کے کارڈ اکٹھے ایکسپائر ہوں کہ انہیں رینیو کرانے میں آسانی ہو۔

    بدتمیز: امریکہ میں کوئ شناختی کارڈ سسٹم نہیں ہے۔ فوٹو آئ‌ڈی کو شناختی کارڈ کہنا غلط ہے۔ شناختی کارڈ ایسے ہے جیسے فوٹو آئ‌ڈی (یا لائسنس) اور سوشل سیکورٹی کارڈ کا مرکب۔ یاد رہے کہ لائسنس اکثر ریاستوں میں اب 10 سال کے لئے ہوتا ہے جبکہ سوشل سیکورٹی کارڈ کبھی ایکسپائر نہیں ہوتا۔

    برطانیہ نے ابھی آئ‌ڈی کارڈ سسٹم شروع کیا ہے۔ کیا کسی کو علم ہے کہ ان کا کارڈ کسی خاص مدت کے لئے ہوتا ہے یا ہمیشہ کے لئے؟

  6. حجاب

    اب تو اتنی مشکل کردی ہے نادرا والوں نے جا کر لائن لگاؤ لائن نہیں لگانا تو 1000 روپے دو مگر ہاتھ کی اسکینگ کے لیئے جانا تو ہر صورت پڑتا ہے ۔

  7. بدتمیز

    زیک: آئی ڈی شناختی کارڈ نہیں ہوتا؟ ورجینیا میں پولیس والا راہ چلتے ہوئے پیدل بندے سے بھی آئی ڈی طلب کر سکتا ہے۔ مجھے یہاں نیویارک میں ایک پولیس والے نے کہا تھا کہ اس کوany form of identification. چاہئے۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    زکریا بیٹے
    مجھے تو پرویز مشرف کے زمانے کا کیا ہوا کوئی کام درست نظر نہیں آتا سوائے ایک کے مگر وہ صوبائی ہے اور پرویز الٰہی کی حکومت نے کیا تھا ۔ وہ ہے پنجاب میں 1122 ایمرجنسی سکواڈ انہیں ریسکیو اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی گئی ہے اور بہت جانفشانی سے کام کرتے ہیں

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    باتمیز صاحب
    شناخت اور قومی شناختی کارڈ سسٹم دو فرق چیزیں ہیں ۔ پاکستان میں کئی اور بھی شناختی کارڈ ہیں ۔ میرے پاس بھی ایک ایسا شناختی کارڈ ہے جو میری شناخت کیلئے کافی ہے اور مانا بھی جاتا ہے مگر قومی شناختی کارڈ کا نعم البدل نہیں ہے حالانکہ کچھ اور کوائف کے علاوہ اس پر وہ سب کچھ موجود ہے جو قومی شناختی کارڈ پر ہے

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    حجاب صاحبہ
    آپ نے درست کہا ۔ ارجنٹ فیس دے کر بھی دھکے کھانے پڑتے ہیں اور کئی لوگوں کو ارجنٹ فیس دینے کے باوجود ماہ دو ماہ بعد قومی شناختی کارڈ جاری کیا گیا ۔
    مجھے تو نادرا کا مقصد صرف پیسے بٹورنا ہی لگتا ہے ۔

  11. عبدالقدوس

    میرے خیال سے 7 یا 10 برس بعد اگر کسی شخص کی شکل نہیں بدلتی تو یقینی طور پر وہ کوئی عجوبہ ہی ہوگا۔۔۔ حضرت یقین جانیے آجکل کی کریموں نے انسان کو حسین بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے مائیکل جیکسن ہی کو دیکھ لیں‌ اگر آپ اس کو 10 برس قبل دیکھ تو میرا نہیں خیال کہ پہچان سکیں

    دیگر یہ کہ نادرہ دفاتر صبح 8 بجے اپنا کام شروع کرتے ہیں اور بنا کسی رکاوٹ کے دوپہر 3 بجے تک کام کرتے رہتے ہیں خواہ
    بجلی بند ہو یا آرہی ہو ہر دفتر میں جنریٹر کی سہولت میسر ہے ہاں البتہ نادرہ کو چاہیے کہ کم از کم اپنے سٹاف کے لئے پانی پینے کا بندوبست کررکھے اور پنکھے مہیا کرے۔
    جس دفتر میں فدوی کام کرتا ہے یقین جانئے ہمارے اپنے بیٹھنے کے لیے کوئی انتظام نہیں اور ہم پسینہ میں ایسے شرابور ہوتے ہیں جیسے ابھی غسل کیا ہو اور کپڑے اتارنا بھول گئے

    جہاں تک رہا قطاروں کا معاملہ تو جناب یہ کہ نادرہ نے ایک نیا ٹوکن متعارف کروایا ہے جس کی فیس 1000 روپے ہے جس کو ایگزیکٹو کا نام دیا گیا ہے اگر کوئی یہ ٹوکن حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں اور سنٹر کے اندر بھی 10 سے 15 منٹ میں کام مکمل ہوجائے گا دیگر نارمل و ارجنٹ ٹوکنز کے حامل افراد کو بھی دفتر میں اتنا ہی وقت صرف ہوتا ہے لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ ترتیب۔

    اگر آپ کو نادرہ ملازمین کی انتھک محنت کے نتیجہ میں‌ملنے والے پھل کے بارے میں معلوم ہو جائے تو یقین جانیے آپ کبھی نادرہ ملازمین پر تنقید نا کریں ایک ڈیٹا انٹری آپریٹر کو صرف 6500 روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے اور کام میں‌اسے 1 لاکھ روپے ماھانہ کے برابر کام کرنا پڑتا ہے ایک DEO دن میں اگر 100 انٹریز کرتا ہے تو ممکنات میں سے ہے کہ 1 آدھ انٹری میں غلطی ہوجائے لیکن اس کے باوجود نادرہ کے DEO میں غلطی کی شرح 0 اعشاریہ 01 فیصد ہے اور علاوہ یہ کہ جو فارم صارف کو تصدیق کے لیے دیا جاتا ہے اس کو جانچناصارف کا کام ہے نا کہ نادرہ کا۔ یوں غلطی ہونے کی ذمہ داری نادرہ پر نہیں بلکہ براہ راست صارف پر جاتی ہے۔۔

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالقدوس صاحب
    آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے نادرا کے دفتر کے اندر کے اُن حقائق سے آگاہ کیا جو آپ کی دسترس میں ہیں ۔ جو گڑبڑ ہو رہی ہے اس میں ڈاٹا نٹری آپریٹر کا حصہ بہت کم ہے ۔
    میں صرف اپنے بیوی بچوں کی بات بتاتا ہوں ۔ميرے بیٹے کا نام زے سے زکریا ہے اور فارم میں زکریا ہی تھا جب کارڈ بن کر آیا تو ذال سے ذکریا لکھا تھا ۔ میرے دوسرے بیٹے اور اس کی بیوی کا خاندان نمبر فرق فرق لکھا گیا ہے ۔ میرا بھائی جو اعلٰي سرکاری عہدیدار ہے کا کارڈ درخواست دینے کے ڈھائی سال بنا کر دیا گیا اس دوران بھای دس بارہ دفعہ نادرا کے دفتر گیا اور ہر دفعہ اسے بتایا گیا کہ کچھ دنوں میں شناختی کارد جاری کر دیا جائے گا

    آپ نے ايک ہزار روپے فی کس فیس کو سہولت قرار دیا ہے ۔ میرے پاس حرام کا مال نہیں ہے کہ اس طرح پھینک دوں ۔ اس شناختی کارڈ کے بدلے میں مجھے سوائے دھکوں کے اور کیا ملتا ہے ۔ بجلی ۔ گیس اور ٹیلیفون کے بلوں میں بھی حکومت مجھ سے دوسرے ٹیکسوں کے علاوہ انکم ٹیکس بھی لیتی ہے جب کہ میری آمدن ٹیکس کے قابل بھی نہیں ہے ۔ ان سب ٹیکسوں کے بدلے مجھے نہ تو متواتر بجلی ملتی ہے اور نہ صاف پينے کا پانی

  13. عبدالقدوس

    سب سے پہلے تو یہ واضع کرتا چلوں کے جو ڈیٹا نادرہ کے سافٹ وئیر میں محفوظ ہوتا ہے وہی فارم پر پرنٹ ہوتا ہے
    دوسرے نمبر پر یہ بھی واضع رہے کہ کارڈ بناتے وقت اگر کسی اور خونی رشتہ دار کا کارڈ نمبر نا ڈالا جائے تو نیا بننے والے کارڈ کا نمبر دیگر خاندان کے افراد سے مختلف ہوگا لیکن اگر نمبر دیا گیا تھا تو کمپیوٹر کسی بھی صورت نمبر کو رد نہیں کرتا ماسوائے نمبر کے غلط ہونے کے۔ اور اگر نمبر غلط ہو تو کارڈ پر بلاکیج آتی ہے اور صارف کی درخواست تب تلک پراسس نہیں ہوتی جب تک اس کو درست نا کیا جائے۔

    اس کے بعد عر ض یہ ہے کہ فدوی نے یہ کب کہا کہ آپ کے پاس حرام کی کمائی ہے؟؟؟ جو آپ اتنا لال پیلا ہورہے ہیں کم از کم مجھے تو یہ 1000 فیس والا ٹوکن بہت اچھا لگا کہ اس سے اجنٹ مافیہ اور سفارشی کلچر پر 98 فیصدی کنٹرول پایا جاچکا ہے

    ایک دوستانہ مشورہ ان کے لیے جن کے خاندان کے نمبر مختلف ہیں کے لیے کہ اپنے خاندان نمبرز ایک کروا لیں وگرنہ کل کو سسٹم انڈیپنٹ کا رونا رونا پڑے گا

  14. عبدالقدوس

    بہرحال آپ کی 1000 والی بات سے یہ لگا کہ جیسے پاکستان کی شہریت کا حصول حرام ہے

    غصہ آنے کی صورت میں ٹھنڈا پانی پی لیں یا اعوذ باللہ کا ورد کریں

  15. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالقدوس صاحب
    بُرائی کو مٹانے کا اچھا طریقہ دریافت کیا ہے ۔ جب نادرا معرضِ وجود میں نہیں آيا تھا تو کسی کو کسی ایجنٹ یا ٹاؤٹ کی ضروت نہیں پڑی تھي ۔ یہ سب کچھ نادرا نے ہی پیدا کیا اور اب اسی کے بہانے 1000 روپیہ فی کس بٹورنے کا راستہ نکالا
    بہرحال سب کچھ سمجھانے کا بہت شکریہ ۔ اتفاق سے میں بھی دو جماعتیں پڑھا ہوا ہوں ۔ آپ کمپیوٹر کے ماہر ہیں شاید جانتے ہوں گے کہ یہ کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے
    GIGO = Garbage in garbage out
    برخوردار ۔ گرمی اپنے برابر کے آدمی پر کھائی جاتی ہے ۔ آپ تو عمر میں میرے بچوں سے بھی چھوٹے ہیں
    جو سسٹم نادرا میں چل رہا ہے اگر یہ ایسے ہی چلتا رہا تو پندرہ بیس سال تک ایسی کچھڑی پکے گی کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا ۔ اس وقت تک میں تو شاید نہیں ہوں گا آپ کو اللہ زندگی و تندرستی دے آپ دیکھنے کو موجود ہوں گے

  16. عبدالقدوس

    ھاھاھا :P

    چچا جان آپ نے بجا ارشاد فرمایا بس میں نے اپنا حق ادا کردیا نادرہ نہیں تو کم از کم اپنے دفتر کے حالات سے آگاہ کر کے

  17. DuFFeR - ڈفر

    میرے خیال میں تو شناختی کارڈ کا ہمارا موجودہ نظام بہت بہتر اور اچھا ہے۔ ہاں اس بات سے میں متفق ہوں کہ شناختی کارڈ کے اجرا، تصحیح‌اور دوسری خدمات کا نظام آسان اور موثر بنایا جانا چاہئے

  18. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالقدوس صاحب
    حقائق سے پردہ اُٹھايئے نا تاکہ ہم بھی مستفید ہو سکیں ۔ البتہ نادرا کا پہلا معرکہ یہ تھا کہ جن لوگوں نے پہلے چھ ماہ میں درخواستیں جمع کرائی تھیں وہ نجانے کہاں چلی گئی تھیں چنانچہ نادرا نے اُن سب کو دوبارہ درخواستیں جمع کرانے کا کہا ۔ بعد میں یہ ہوا کہ اُن میں سے بہت سوں کی درخواستوں پر ڈُپلِیکیشن بار لگ گئی اور دو دو سال تک وہ نادرا کے چکر لگاتے رہے ۔ سُنا تھا ۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)